Khoj Novel by Zeeshan Ul Hassan Usmani – Episode 10

0

کھوج از ذیشان الحسن عثمانی – قسط نمبر 10

–**–**–


عبدﷲ کی TDL پر اگلا ہدف ﷲ کا ذکر تھا۔ ﷲ کے ذکر کو محورِ زندگی بنانا تھا اور باقی تمام چیزیں اس کے گرد لپیٹنی تھیں۔ عبدﷲ نے اپنا تمام تر فوکس اپنی نئی کمپنی کی جانب مرکوز کردیا۔ بزنس پلان، مارکیٹنگ ٹیم کی استعداد اور جو کام ملے وہ پوری دیانتداری اور لگن سے کرنا۔ جوں جوں کام بڑھتا گیا، عبدﷲ کو ملک کے نئے نئے رنگ نظر آتے چلے گئے، ہر روز کوئی مسئلہ، ہر روز کوئی جھوٹ، کینہ پروری، حسد اور نجانے کیا کیا۔
عبدﷲ نہ چاہتے ہوئے بھی پاکستان سے خائف رہنے لگا، وہ راتوں کو اٹھ کر رو رو کے ملک کے لئے دعائیں کرتا اور دن بھر وہی لوگ اسے ذہنی اذیت دیتے جن کے لئے اس نے رات دعا کی تھی۔ ہمارے ملک میں لوگ پنج وقتہ حاسد ہوتے ہیں، جنہیں اپنے مرنے سے زیادہ لوگوں کے جینے کا غم ہوتا ہے، شراب اور سگریٹ پینے کی طرح ظلم کرنا بھی ایک عادت ہے۔ دھیرے دھیرے اگر ایک بار یہ پختہ ہوجائے تو پھر چھٹتی نہیں، یہاں تک کہ بندہ ظلم کرتے کرتے مرجاتا ہے۔ عادی ظالموں کے اِس ملک میں ہر شخص ایک بار صرف ایک بار یہ سوچ لے کہ ایک دن مرنا ہے اور اس دن ساری عادتوں کا جواب دینا پڑے گا تو شاید کبھی اپنے گریبان میں جھانکیں اور پوچھیں کہ کیا کر رہے ہیں۔
کبھی اپنے دل کے اندر جو دیکھتے تو رکتے
تیرے کاخِ بے مکیں کا یہ طواف کرنے والے
ہم اپنے بچوں کو فخر کی غذا دیتے ہیں، رعونت سکھاتے ہیں، محنت نہیں، ادب نہیں، قدرت خیرات نہیں دیتی، مگر محنت کرنے والوں کا ساتھ ضرور دیتی ہے، ویسے تو اللہ کی مرضی ہے جب چاہے جسے چاہے دے دے۔ اس کا کسی سے لگا تھوڑا ہی ہے مگر کلیہ یہی بنتا ہے۔
ہمارے ملک میں لوگ ترقی سے اور ترقی کرنے والے سے حسد رکھتے ہیں۔ دشمنی پال لیتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ کسی طرح بس اسے زوال آجائے حالانکہ اس کا سیدھا حل ہے، حسد انفارمیشن پر پلتا ہے، اسے اگر انفارمیشن نہ ملے تو یہ بھوکا مرجائے۔ اگر آپ کو حسد کنٹرول کرنا ہے تو کچھ دنوں کے لیے سوائے اپنے سب لوگوں کی فکر اور ٹوہ میں رہنا چھوڑ دیں۔ حسد بے چارہ بھوک سے مرجائے گا۔
حسد ہوتا بھی اپنی ہی فیلڈ کے لوگوں سے ہے، اب بھلا کمپیوٹر سائنٹسٹ کو رنگریز سے حسد کیوں ہونے لگا؟ انسان کو چاہئیے کہ جن لوگوں سے حسد کرتا ہے ان کے لیے نماز میں دعا مانگا کرے کہ اللہ انہیں اور دے، اس سے بھی حسد جاتا رہتا ہے۔
*۔۔۔*۔۔۔*
آج عبداللہ بہت پُرجوش تھا، وہ صوبائی حکومت کے ایک اعلیٰ عہدیدار سے ملنے لاہور جا رہا تھا اپنے سافٹ وئیر کی Presentation کے لئے۔ میٹنگ کے بعد وہ اعلیٰ عہدیدار مخاطب ہوئے، عبداللہ آپ کا کام بہت شاندار ہے، ہم چاہتے ہیں کہ آپ ملک و قوم کے کام آئیں۔ جی میں بھی یہی چاہتا ہوں، آپ بتائیے کب سے کام شروع کریں؟ عبداللہ نے کہا۔ مگر میں ایک بات بتانا چاہتا ہوں۔ عہدیدار صاحب گویا ہوئے، وہ یہ کہ کام فی سبیل اللہ کرنا ہوگا۔ پیسے کوئی نہیں ملیں گے، حب الوطنی کا جذبہ یہی تقاضا کرتا ہے۔ عبداللہ نے بات سنی اور ہنستے ہوئے کہنے لگا کہ جناب میں اپنا ہوم ورک کرکے آتا ہوں، الل ٹپ کوئی بات نہیں کرتا۔ آپ کے پاس 40 کروڑ کا بجٹ ہے اس ادارے کے لیے، 22 بندے آپکے پرسنل اسٹاف میں ہیں، ایک گھر اور 2 گاڑیاں اور اچھی خاصی تنخواہ۔ اسی سافٹ ویئر کے لئے آپ کینیڈین کمپنی کو 3 ملین ڈالر سالانہ دینے کو تیار ہیں مگر جب بات آئی اپنے لوگوں کی، ملکی استعداد کی تو آپ بن گئے عبدالستار ایدھی۔
اگر آپ ایدھی ہوتے تو میں مفت میں کام کرلیتا، جناب والا حبّ الوطنی اور غلامی میں فرق ہے۔ میں غلام نہیں آزاد آدمی ہوں۔ عہدیدار صاحب سے آج تک کسی نے اس لہجے میں بات نہ کی تھی وہ سیخ پا ہوگئے۔ کہنے لگے اگر آپ نے لالچ کا مظاہرہ کرنا ہے اور پیسے ہی کمانے ہیں تو دفع ہوجائیے اس ملک سے، یہ اللہ کے نام پر بنا ہے اور اللہ ہی اس کا نگہبان ہے، یہ میرا ملک ہے، (عبد اللہ گرجا )حب الوطنی میرے خون میں ہے، میں کیوں کسی کو ثابت کروں کہ میں کتنا حب الوطن ہوں۔ میں ادھر ہی ہوں۔ کیونکہ آپ بوڑھے ہیں، کچھ سالوں میں ریٹائر ہوجائیں گے پھر کچھ سالوں میں مرجائیں گے، میں انتظار کروں گا اس دن کا تاکہ ملک اس ڈگر پہ چل سکے جہاں چلنا چاہئے اور تب تک میں وہ نسل تیار کروں گا جو آپ کی انا کو چیلنج کرتی رہے۔
عبداللہ کی بات مکمل ہوئی اور مغلّظات کا اک طوفان جناب والا کی زبان سے جاری ہوا اور عبداللہ کو دھکے دے کر نکال دیا گیا۔
عبداللہ گاڑی میں بیٹھ کر واپس چلا گیا۔ بلّو نے بڑا دلاسہ دیا اور کہا کوئی بات نہیں، آئندہ ایسا نہیں ہوگا، تمہیں زیادہ نہیں بولنا چاہیئے تھا، مگر بِّلو انہیں تو گالی دینے تک کا ذوق نہیں تھا۔ کمینہ اس شخص کو کہتے ہیں جس سے کسی کو فائدہ نہ پہنچ سکے۔ خبیث اسے کہتے ہیں جس میں شیطانی صفات ہوں۔ گالی کسی کو اشتہا دلانے کے لیے دی جاتی ہے میں تو محظوظ ہوتا رہا۔ مرزا غالب کہتے ہیں بچے کو ماں کی گالی، جوان کو بیوی کی اور بوڑھے کو بیٹی کی گالی دینی چاہئیے۔ اتنی اردو تو آتی نہیں جناب والا کو، پتہ نہیں اتنے بڑے افسر کیونکر بنے۔ نہ کوئی سمجھ، نہ ذوق، نہ اٹکل، نہ طنز، نہ استعارہ بس لشتم پشتم آفیسری ہوگئی۔ بالکل ہی اکل کھرے تھے وہ، بِلّو ہمیشہ کی طرح ہنس کے خاموش ہوگئی۔
اُوپر تلے ایسے بہت سے واقعات ہوتے چلے گئے، کبھی کسی نے کام کروا کر پیسے نہ دیئے تو کبھی بلاوجہ contract کینسل کردیا، کبھی contract کو اپنے کسی رشتہ دار کو جاب دینے سے مشروط کردیا تو کبھی بیٹی یا بیوی کے لئے لیپ ٹاپ کی فرمائش کردی اور سب سے زیادہ دکھ جب کوئی سیکیورٹی رسک قرار دے کہ عبداللہ امریکہ سے پڑھا ہے۔ عبداللہ ایک دن بِلّو سے کہنے لگا کہ با ضمیر شخص کو مارنے کے لیے گولی کی ضرورت تھوڑا ہی ہوتی ہے، ہمارے معاشرے میں وہ روز مرتا ہے، اور با ضمیر وہ ہوتا ہے جسکی آنکھ دل بن جائے اور دل آنکھ۔، نہ ہی وقت کوئی زخم بھرتا ہے، نہ ہی کوئی اذیت بھلائی جاتی ہے، ہاں اگر کسی کی یا داشت کمزور پڑجائے تو اور بات ہے۔ بِلّو تو دیکھنا یہ سب لوگ ایک دن آئیں گے میرا سافٹ وئیر خریدنے۔ اللہ مظلومیت کے نشانات کو باقی رکھتا ہے۔ آج تک ظہر و عصر میں قرآن کی تلاوت آہستہ آواز میں ہوتی ہے۔ آج تک صفا و مروہ کے بیچ میں لوگ بھاگتے ہیں۔ ان لوگوں کو میرا صبر پڑجائے گا۔
ملکی حالات و معاملات سے دلبرداشتہ ہوکر عبد اللہ نے انٹرنیشنل consulting شروع کردی۔ آئیڈیا یہ تھا کہ سال میں 3 ماہ باہر کام کرے گا اوسطاََ اور باقی 9 ماہ ملک میں جو چاہے کرے۔ باہر پیسہ اچھا ملتا ہے تو 3 ماہ میں پورے سال کا بندوبست ہوجائے گا۔ آج عبد اللہ اپنے پہلے بڑے contract پہ کام کرنے لتھونیا روانہ ہوا۔ Vilnius بڑا خوبصورت شہر ہے۔ عبداللہ نے گیسٹ ہاؤس میں سامان رکھا اور باہر گروسری اسٹور سے کھانے کا سامان خریدنے چلا گیا۔ کچھ فروٹ، موبائل کی سم، پانی وغیرہ لے کے جب cash counter پر پہنچا تو معلوم ہوا کہ ان کی کریڈٹ کارڈ کی مشین خراب ہے۔ عبد اللہ نے یورو نکال کے دئیے تو معلوم ہوا کہ لیتھونیا یورپی یونین میں تو ہے مگر یورو یہاں نہیں چلتے، اب عبداللہ بڑا پریشان ایک آدھا فروٹ وہ کھا چکا تھا۔ سم موبائل میں ڈال چکا تھا اور پانی کی بوتل بھی کھول چکا تھا۔
اسے پریشان دیکھ کے ایک اور لتھونین شخص آیا، اسے انگریزی بالکل نہیں آتی تھی۔ اس نے پیسے ادا کئے اور عبد اللہ کو ہاتھ پکڑ کے باہر لے گیا۔ اشاروں سے پوچھا کچھ اور چاہئیے؟ عبداللہ نے کاغذ پہ STARBUCKS لکھ دیا اور وہ کافی ہاؤس پہنچ گئے، پھر اس نے اسے گیسٹ ہاؤس چھوڑ دیا۔ پیسے کوئی نہیں لئے۔ عبداللہ نے گیسٹ ہاؤس کی مالکہ سے کہا کہ اسے فون کرکے پوچھے کہ کیا ہوا ہے؟ لتھونین زبان میں، مالکن نے پوچھا تو اس شخص نے جواب دیا۔ آج زندگی میں پہلی بار کسی داڑھی والے اور مسلمان سے ملا، پاکستانی بھی پہلی بار ملا، میں نے سوچا ملک میں پہلی بار آیا ہے کیا تاثر لے کر جائے گا تو کچھ مہمان نوازی کردی۔ گھر جا کر بچوں کو بتایا وہ کل اسکول میں بتائیں گے، میں کل آفس میں یہ قصہ سناؤں گا، بیوی محلے والوں کو بتائے گی تو سوسائٹی میں خیر پھیلے گی اور یہ جب اپنے ملک واپس جائے گا تو ہمارے ملک کی تعریف کرے گا، یہاں اور سیاح آئیں گے۔
آج عبداللہ کو معلوم ہوا کہ انسان کسے کہتے ہیں۔ وہ عرصے سے انسان ڈھونڈ رہا تھا۔ اسے ہمیشہ شکوہ رہتا ہے کہ انسان نے پرندوں کی طرح ہوا میں اڑنا سیکھ لیا۔ مچھلی کی طرح دریا میں تیرنا سیکھ لیا، مگر اسے انسانوں کی طرح زمین پر چلنا نہیں آیا۔
ایک ایسا انسان جس سے کسی کو دکھ نہ پہنچے، جو نفع بخش ہو، نفع خور نہیں۔ جو درخت کی طرح کم لے اور زیادہ دے، اسے بھی چھاؤں دے جو اسے کاٹنے آئے۔ وہ ہیرا ہو جو سب کو چمک دے اسے بھی جو اسے پتھر کہے۔ وہ انسان جسے انسانیت کا غم ہو، جو اوروں کے لیے روئے، جو مرکب ہو ہمت اور محبت کا، جس کو مکمل قابو ہو نفس، غصے اور عقل پر۔ جس کو زندگی نہ بھگائے بلکہ زندگی کی کمانیں جس کے ہاتھ میں ہوں۔
عبداللہ کو یہاں کا معاشرہ بہت پسند آیا، ہر گھر میں گھوڑا رکھنے کا رواج اور ہر شخص نشانہ بازی سیکھنے کا شوقین، عبداللہ شہر کی کتابوں کی دکان پر گیا اور قرآن طلب کیا، کیا ہی خوبصورت قرآنِ پاک تھا، لتھونین ترجمے کے ساتھ 50 پاؤنڈز کا۔ عبداللہ نے پوچھا اتنا مہنگا کیوں؟ تو دکاندار نے بتایا کہ جب مارکیٹ میں آیا تو 2 پاؤنڈ کا تھا، طلب بڑھ گئی تو پبلشر نے50 کا کر دیا ہے۔ اب کوئی نہیں لیتا۔ عبداللہ کو اپنا وجود زمیں میں گڑتا ہوا محسوس ہوا۔ اگلے دن عبداللہ شہر کے مشہور میوزیم میں گیا تو شو کیس میں ٹوپی، قرآن، جائے نماز اور تسبیح اور وضو کا لوٹا دیکھا۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ جب vilnius پر کچھ سو سال پہلے حملہ ہوا تو انہوں نے عرب فوجوں کو یہاں بلایا تھا دفاع کے لئے یہ انکی باقیات ہیں۔ عبداللہ کو جستجو ہوئی کہ وہ لوگ آئیں ہونگے تو رہے ہونگے، شادیاں کی ہونگی، آخر ڈھونڈتے ڈھانڈتے وہ ایک قریبی شہر پہنچ گیا جو ان عرب مجاہدوں کی ذرّیات میں سے تھا، وہاں لوگوں کو اسلام تک کا پتہ نہیں تھا۔ ایک بوڑھی عورت کے ہاتھ میں تسبیح دیکھ کر عبداللہ نے پوچھا یہ کیا ہے؟ تو کہنے لگی کہ جب دعا مانگنی ہوتی ہے تو اس پر لِلّٰہ ( lillah) پڑھتی ہوں۔ یہ لفظ کیا ہے وہ اسے معلوم نہ تھا۔
عبداللہ کو اپنے آپ پر بڑا غصہ آیا کہ ایک خدائی ہے جو دین سننے کے لئے بے تاب ہے مگر ہم انہیں کافر کہتے نہیں تھکتے۔ اپنے بچوں کو ڈاکٹر انجنئیر بنا دیں گے مگر عالم نہیں جو یہاں آکر ان کی زبان میں انکو اللہ کا پیغام پہنچا سکے۔ مسلمان گیس اسٹیشن کھول لے گا، ریسٹورنٹ چلائے گا، گاڑیاں دھو لے گا، ویٹر بن جائے گا مگر اپنے بچوں کو اچھا عالم نہیں بنائے گا۔ مدرسوں میں زکوٰۃ کا پیسہ دیتے ہیں اور اب تو زکوٰۃ بھی حلال مال کی نہیں رہی۔ زکوٰۃ میل ہوتی ہے وہ بھی حرام کا۔ سینکڑوں بچے کسمپرسی میں پل بڑھ کے، جھوٹا کھا کے بھی اگر قرآن حفظ کرجائیں تو سلام ہے ان کی عظمت کو، اور ہم پڑھے لکھے، پیسے والے سوائے بغض وعناد کے مولوی سے کچھ نہیں رکھتے، کیوں نہ ایک اسکول یا مدرسہ بنایا جائے جہاں پوری کھیپ تیار ہو ایسے بچوں کی جن کا کام ہی دنیا کے ملکوں میں جا کے وہاں دین کا کام پھیلانا ہو، ان کی اپنی زبان میں۔
مغرب کے پاس سب کچھ ہے سوائے ایمان کے، اگر مشرق یہ نعمت ان تک پہنچا دے تو کیا کہنے! مغرب ایک ایسا بچہ ہے جو بنا ماں باپ کے ہی بڑا ہوگیا ہے۔ اسلام وہ تمیز وہ مزاج، وہ رنگ ہے جو اسے بہترین بنا دے۔ سیرتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآل وسلم میں آج بھی اتنی جان باقی ہے کہ وہ ایک نئی امت تشکیل دے سکے۔ عبداللہ کی سوچ کا دھارا کہیں اور ہی چل نکلا۔
*۔۔۔*۔۔۔*
عبد اللہ نے لتھونیا میں اپنا کام بہترین طور پر مکمل کیا کہ وہ لوگ بھی ایک پاکستانی کی تعریف کرنے پر مجبور ہوگئے اور پھر عبد اللہ لتھونیا سے Estonia, Latvia Poland اور Finland کی سیاحت پر نکل گیا۔ Latvia اور Estonia کی سرحد پر اس کا قیام ایک مدرسے نما ہوٹل میں ہوا جس کے نچلے دو فلور ہوٹل تھے اور اوپر کے دو یہودیوں کے اسکول۔ ہوٹل سے ہونیوالی کمائی سے اسکول چلتا تھا۔ عبداللہ کو یہ آئیڈیا بڑا پسند آیا۔ عبداللہ نے اس سفر میں بہت کچھ سیکھا، خوب پیسہ کمایا اور خوب سیاحت کی۔ واپسی میں تُرکی بھی رُکا اور دو ہفتوں میں تُرکی ایک کونے سے دوسرے کونے تک گھوم لیا ۔
عبداللہ سوچ رہا تھا کہ اگر زیادہ نہیں صرف 10 مسلمان مِل جائیں تو وہ لتھونیا جیسے ملک کو، 10 سال میں مسلمان کرسکتے ہیں اور یورپ میں دین کی داغ بیل ڈال سکتے ہیں۔ عبداللہ نے آس پاس نظر دوڑائی مگر مسلمان ہیں کہاں؟ جنہیں خود ذکرِ الٰہی پہ یقین نہ ہو، کلمۂ حق پہ اعتبار نہ ہو، اللہ کے رب ہونے پر یقین نہ ہو، نمازوں کی اہمیت بھول گئی ہو، دعا کی طاقت سے نا آشنا ہو، درد کی لذت سے ناواقف ہوں، رت جگوں کی عادت نہ رہی ہو، وہ کس کو اور کیسے ایمان کی دعوت دیں گے۔
آج عبداللہ کو شدت سے اہلِ دل کی کمی محسوس ہورہی تھی۔ وہ سوچ رہا تھا کہ ہمارا المیہ یہ نہیں کہ ہم آلات و مصنوعات کے مُوجد نہ بناسکے، المیہ تو یہ ہے کہ ہم نیک اِرادوں کے، خالص نیت کے، اعلیٰ مقاصد کے اور اخلاص کے مُوجد بھی نہ بناسکے۔
آج عبداللہ پھر اپنی حالت پہ رو رہا تھا کہ زندگی عبث کاموں میں ضائع کردی۔ کاش اتنا وقت اپنے آپ پر لگایا ہوتا تو ملکوں پر بھاری ہوتا۔ جتنی ترقی اِنسان کے اِردگرد موجود ماحول نے کی ہے اتنی ہی اگر اِنسان خود کرجاتا تو کیا بات تھی اورعبداللہ خود بھی تو آلات بنانے کا ایک پُرزہ ہی تو تھا۔
*۔۔۔*۔۔۔*
عبدا للہ کی گنگناہٹ کو ساتھ بیٹھے مسافر نے توڑا وہ ایمسٹرڈیم سے پاکستان جا رہے تھے اور پاکستانی ہی تھے، کہنے لگے، مسٹر آپ نے داڑھی رکھی ہے۔ آپ پیدائشی مسلمان ہیں، اصل مزہ تو جب ہے جب آپ کھلے دل سے غیر مسلم ہوجائیں۔ ادیان اسلام کا مطالعہ کریں پھر سوچ سمجھ کے عقل کے مطابق کوئی دین کا انتخاب کریں۔ یہ جو اسلام آپ نے لیا ہوا ہے یہ تو تلواروں کے زور پر آیا تھا۔ عبد اللہ نے عقل کی شوخیاں پہلے ہی دیکھ رکھی تھیں، مسکراتے ہوئے کہنے لگا کہ کہاں ہے وہ تلوار، وہ لا دیں مجھے، میں اس کا منہ چوم لوں۔ اسی کے زور سے یہ بندہ مسلمان تو ہوا جہنم کی آگ سے تو بچا۔ ان صاحب سے کوئی جواب نہ بن پڑا تو خاموش ہو رہے۔
*۔۔۔*۔۔۔*
آج جمعہ کا دن تھا۔ عبداللہ کو بچوں کے اسکول جانا تھا کسی کام سے ۔اس نے سوچا نماز وہیں قریب کی مسجد میں پڑھ لوں گا، اب شامت یہ آئی کہ عبداللہ نے youtube کی t-shirt پہن رکھی تھی جو وہ اپنے سابقہ دورۂ امریکہ میں بڑے شوق سے خرید کر لایا تھا اور آج مولوی صاحب کا بیان youtube کے ہی خلاف تھا۔ مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے لیے جو ویڈیو وہاں اپ لوڈ کی گئی تھی پورے عالمِ اسلام میں ایک آگ برپا تھی۔ مولوی صاحب نے اپنے دل کی بھڑاس نکال لی تو کہا کہ یہ پڑھے لکھے لوگ دلیلیں مانگتے ہیں بحث کرتے ہیں۔ جس نے قرآن میں بحث کی یا دلیل مانگی وہ کافر، سب لوگ ہاتھ اٹھائیں اور کہیں کہ وہ کافر۔ عبداللہ نے ہاتھ اٹھانا تھا نہ اٹھایا۔ چپ چاپ نماز پڑھی اور فرض کے بعد نکل آیا۔ اسے بار بار سورۃ فرقان کی 73 ویں آیت یاد آرہی تھی۔
’’اور وہ کہ جب انکو پروردگار کی باتیں سمجھائی جاتی ہیں تو ان پر اندھے بہرے ہو کر نہیں گرتے (بلکہ غور سے سنتے ہیں)‘‘۔
عبداللہ سوچنے لگا کہ کچھ لوگوں کو دین کا ہیضہ ہوجاتا ہے اور اس کے بعد وہ پورے معاشرے کے لیے وبال بن جاتے ہیں اور کچھ لوگوں کو ولی اللہ ہونے کی غلط فہمی ہوجاتی ہے اور وہ اسی غلط فہمی میں دو چار لوگوں کو مرید بنا لیتے ہیں اور پھر ان تمام لوگوں میں ایک میں بچ جاتا ہوں، سیاہ کار اور سوچ کا کافر۔
سلمان رُشدی کو Satanic Verses لکھے ہوئے 26 سال ہوگئے مگر 44 اسلامی ملکوں سے کوئی اس کا جواب اسکی زبان میں نہ لکھ سکا۔ ڈنمارک کے خلاف مظاہرے ہوئے تو بینرز پہ ڈنمارک کے اسپیلنگ تک غلط لکھے تھے۔ اسرائیل کو لعن طعن میں سب سے آگے مگر اس کے میزائل ڈیفنس سسٹم Iron dome کی الف ب بھی نہیں پتہ۔ دنیا اسباب کی دنیا ہے، ایسا ہو نہیں سکتا کہ تیراکی نہ سیکھیں اور سمندر میں کود پڑیں۔ ہم اسلام کو ہر اس جگہ استعمال کرتے ہیں جہاں کام نہ کرنا پڑے۔
اللہ کے نام پر تقریریں کرنا سب چاہتے ہیں۔ ہجوم کے دلوں کو گرمانے کا منکہ سب کے پاس ہے، لوگوں کو جنت و جہنم کے حقدار ثابت کرتے رہیں گے، اور صبح و شام فتویٰ بھی لگاتے رہیں گے، مگر اتنی شرم نہیں آتی کہ جس اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا نام درمیان میں لاتے ہیں اسی کی کوئی لاج رکھ لیں۔ بے شک اللہ کا نام بڑا ہے، ہر عیب سے پاک ہے، برکت والا ہے۔
مگر اللہ کے نام پہ کوئی کمپیوٹر سائنس نہیں پڑھتا انگریزی ہی پڑھ لو، فرنچ سیکھ لو، کتابیں ہی پڑھ ڈالو۔ ارے بھئی دعا مانگنا ہی سیکھ لو۔ اگر دعا مانگنا ہی آجائے تو آپ کسی دور جنگل میں بیٹھ جائیں ایک پگڈنڈی خود بخود چلتی ہوئی آپ کے گھر تک پہنچ جائے گی اور ایک مخلوق کا تانتا بندھ جائے گا۔ مگر من حیث القوم جب سب گذارہ کرنے لگ جائیں تو صلاحیتوں کو سستی کی دیمک تو چاٹ ہی لے گی ناں، ہوا کرتے تھے ایسے لوگ جو گذارہ نہیں کرتے تھے وہ حوالہ بن جاتے تھے۔ آج کل مسلمان تو حاشیوں میں بھی نہیں ملتے۔ عبد اللہ نے دکھی دل کے ساتھ آج پھر ہاتھ اُٹھائے۔
’’اے اللہ میری مثال ایسے اندھے کی سی ہے جو بیچ چوک پہ کھڑا ہوجائے کہیں جانے کے لئے، اب جو کوئی بھی اس کی منزل کی طرف آواز لگائے یہ اس کے پیچھے چل پڑتا ہے۔ آگے جا کر پتہ لگتا ہے کہ یہ تو کھوٹی راہ ہے، پھر واپس آتا ہے، پھر چوراہے پہ کھڑا ہوجاتا ہے اور پھر کسی اور کے پیچھے چل پڑتا ہے۔ اے میرے اللہ تو مجھے کن لوگوں کے حوالے کردیتا ہے۔ یہ ساری بے راہ رویاں، یہ ساری دربدری تیرے ہی ٹھکانے کے لیے ہے۔ تیری ہی جستجو ہے۔ میں جب راہ سے ہٹا تیرے لیے۔ جب راہ پہ آیا تیرے لیے۔ تو تو جانتا ہے۔ مجھے معاف کردے، مجھے اپنا لے، مجھے واپس نہ کر، میرے سارے راستے اپنی ہی جانب موڑ دے۔ تو تو بے نیاز ہے اس سے کہ منزل میں مقید ہو۔ اے میرے حاضر و ناظر اللہ مجھے مل جا‘‘۔
آج عبداللہ پھر مفتی صاحب کے پاس بیٹھا تھا، مفتی صاحب، قیامت کا ISO standard کیا ہے؟
ایمان، جو شخص ایمان سلامت لے کے آگیا اس کا بیڑہ پار ہے۔
اور زندگی کی TDL کیا ہونی چاہئیے؟
ہر کام سنت کے مطابق ہو، زندگی خود بخود ٹھیک ہوتی چلی جاتی ہے۔
نفس کو قابو میں کیسے کریں؟
ضرورت ہی کیا ہے۔ جب نفس برائی کا کہے تو نہ کرو۔ نیکی سے روکے تو کرلو۔ اتنی سی بات ہے۔ نفس کی کُشتی زندگی بھر چلتی ہے، اس کا بس چلے تو آدمی کو فرعون بنا کے چھوڑے۔ کبھی کبھی نفس ضد پہ آجاتا ہے برائی کی، پھر عمر بھر مجاہدہ کرنا پڑتا ہے۔
اللہ کے پاس پہنچنے کا شارٹ کٹ کیا ہے؟
پہلا پاؤں نفس کی گردن پہ دوسرا، اللہ کے صحن میں۔
یہ جو لوگ جادو ٹونے کی کاٹ کے لیے اُلٹے سیدھے عاملوں کے پاس جاتے ہیں کیا یہ ٹھیک ہے؟
اللہ پاک کے نبی محمد صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے جو دعائیں بتائی ہیں وہ مانگیں اور پھر بھی اگر افاقہ نہ ہو تو بھلے مرجائے یہ اچھا ہے مگرعامل کے پاس نہ جائے۔
ہمت کیا ہے؟
ہمت کنویں کا پانی ہے جو اندر سے نکلتا ہے، باہر سے فائر بریگیڈ نہیں ڈالتی۔ انسان دو ہی چیزوں کا تو نام ہے ہمت اور محبت۔ اللہ کی توفیق منتظر رہتی ہے اس بات کی کہ بندہ ہمت کرے۔ آدمی ہمت کرتا ہے تو اللہ توفیق دے دیتا ہے اور مدد بھی کرتا ہے۔
حضرت حسنؓ سے روایت ہے کہ اللہ پسند کرتا ہے بڑے کاموں کو اور خدا کو بُری لگتی ہے سستی ان بڑے کاموں میں۔
اور ہمت اور شوق کے پَر برابر ہونے چاہئیں ورنہ اُڑا نہیں جاسکتا۔
*۔۔۔*۔۔۔*

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  The Mystery Of Death Novel by Janaa Mubeen – Episode 6

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: