Khoj Novel by Zeeshan Ul Hassan Usmani – Episode 13

0

کھوج از ذیشان الحسن عثمانی – قسط نمبر 13

–**–**–


آج عبدﷲ پھر اپنے سوالات کے ساتھ مفتی صاحب کے سامنے بیٹھا ہوا تھا، مفتی صاحب ملک سے باہر جارہا ہوں، چاہتا ہوں لوگوں کو اسلام کی طرف بلاؤں، کوئی مشورہ؟
جو شخص ﷲ کی طرف بلائے اُس پر فرض ہے کہ ﷲ کا ذکر کثرت سے کرے، یہ نہ کرے کہ تقریریں بہت کرے اور تنہائی میں ﷲ کو یاد نہ کرے۔ ﷲ سے نسبت قوی کرے، لوگوں پر اس کا اثر بھی پڑے گا، یادرکھنا! ﷲ کی معرفت حرام ہے اس شخص پر جس کی تنہائی پاک نہیں۔ خلوت میں عبادت کا شوق اخلاص کی نشانی ہے۔
یہ انسان بڑی عجیب چیز ہے، ماننے کو آئے تو اپنے جیسے کو خدا مان لے اور نہ ماننے پر آئے تو سیدھی سادھی بات نہ مانے۔
حضرت عمرؓ فرماتے تھے کہ تم جوانی میں کوئی کام ایسا نہ کرنا کہ جب بڑھاپے میں لوگوں کو ﷲ کے دین کی طرف بلاؤ تو وہ جوانی کے کارنامے گنوائیں۔ جوانی کو ہمشہ بے داغ رکھو، کسی سے اتنی محبت نہ کرو کہ ٹوک نہ سکو، نہ اتنی نفرت کہ ضرورت پڑنے پر شرم کے مارے جا نہ سکو۔
کس چیز سے بچوں؟
زندگی کی سب سے بڑی گمراہی یہ ہے کہ شیطان دین کی گمراہی کے کام کو اچھا کرکے دکھاتا ہے، جب گمراہی دین کے رنگ میں آتی ہے، تواضع کِبر کے رنگ میں آتی ہے۔ غرور عاجزی سے پیدا ہوتا ہے اور فقر میں انا آجاتی ہے تو ﷲ سے پناہ مانگو۔ بے شک ﷲ کی پناہ بڑی چیز ہے۔
چوری کیا ہے؟
بد ترین چور وہ ہے جو نماز میں چوری کرتا ہے، توحید ﷲ کی غیرت کا نام ہے۔ نماز میں ایک بار ﷲ کی طرف دھیان فرض ہے۔
ﷲ کے دوست کون ہوتے ہیں؟
ﷲ نے کہا ہے کہ میرے دوست جن پر رشک کیا جائے وہ ایسے ہیں کہ کم مال چھوڑتے ہیں۔ کم بیویاں چھوڑتے ہیں۔ شہر سے دور رہتے ہیں۔ محلے میں کوئی دعوتوں میں نہیں بلاتا اور میں اسے نماز میں بڑا حصہ دیتا ہوں اور ان کے دل ہدایت کے روشن چراغ ہوتے ہیں اور جب اِن کا وقت آتا ہے تو نقد چل پڑتے ہیں۔
تصوف میں روزہ نہیں رکھا جاتا، پتہ کیسے لگے کہ اثر ہورہا ہے، کچھ نہ کچھ تو ملے نہ،
تو مگر پھر بھی نہ مجھ کو مل سکا
(سیدّمبارک شاہ)
بچہ بڑا ہو رہا ہو تو اسے پتہ نہیں لگتا۔ آہستہ آہستہ کچھ سالوں میں پتہ لگتا ہے۔
صبر کیا ہے؟
جب شکایت کا رخ ﷲ کی طرف ہوجائے، صبر کے معنی ہیں جسِ مشن پر چلا ہے اِس میں جو مصیبتیں اور مشکلات آتی ہیں ان سے نپٹے اور جما رہے۔ ہار ماننا تو شکست ہے۔
آزمائش اور سزا میں کیا فرق ہے؟
ﷲ کی طرف سے گناہوں کی سزا اور اچھے اعمال کی آزمائش ایک جیسی ہی ہوتی ہے۔ جب سزا آتی ہے تو دل کا سکون چِھن جاتا ہے۔ جب آزمائش آتی ہے تو دل پُر سکون رہتا ہے۔
آئیڈیل کسے بناؤں؟
ﷲ کے نبی محمد صَلی ﷲ علیہ وآلہ وسلّم کے علاوہ کسی کو بھی آئیڈیل بناؤ گے تو frustate ہوجاؤ گے۔
بہت ڈرتا ہوں اعمال کی وجہ سے۔
بہت اچھی بات ہے، بے خوف ہوجانا بُری بات ہے، خوفزدہ رہنا ایمان کی دلیل ہے۔
صالح آدمی کون ہوتا ہے؟
جسے اپنے غصہ، جنس اور عقل پر کنٹرول ہو۔
ذلّت کیا ہے؟
ذلّت آرزؤں کی کثرت کا نام ہے، باطن کی صفائی سے آرزوئیں محدود ہوجاتی ہیں۔
جوانی اور بڑھاپا کیا ہے؟
جب جسم نفس سے گناہ کا کہے تو سمجھو جوان ہے، جب نفس جسم سے کہے تو سمجھو بوڑھا ہوگیا ہے۔
اچھا مفتی صاحب میں اذان دینے جارہا ہوں دعا کرنا۔
ﷲ برکت دے۔
عبدﷲ مفتی صاحب سے مل کر مسجد سے نکلا تو فقیر نے صدا لگائی۔
صاحب جی کچھ دیتے جاؤ، یقین کرو میرا ﷲ کے سواکوئی نہیں۔
ارے، مبارک ہو، بھنگڑا ڈالو، خوشیاں مناؤ، شکرانے کے نفل پڑھو۔ جسے ﷲ مل گیا اسے اور کیا چاہیے؟
اچھا ایسا کرو میرا بٹوہ تم لے لو اپنا ﷲ مجھے دے دو۔
عبدﷲ فقیر کو سکتے میں چھوڑ کر اپنی نئی assignment پر ملک سے باہر جانے کے لئے نکل کھڑا ہوا۔
ایک بار پھر سوالات کی یلغار اس کے دماغ میں تھی۔ ﷲ کہتے ہیں کہ ان کی سنّت تبدیل نہیں ہوتی تو وہ سنت آخر ہے کیا؟
اور عبدﷲ کا قلم اس کی ڈائری میں چلنا شروع ہوگیا۔
ائیر پورٹ پر بلّو نے کہا، عبدﷲ دیکھو اِس بار کڑوا نہ بولنا وہاں کسی سے، بلّو لوگ تو کہی ہوئی باتیں کچھ منٹوں یا دنوں میں بھلا دیتے ہیں، اپنے ساتھ تو زندگی گذارنی ہے، جھوٹ کیسے بولوں؟
*۔۔۔*۔۔۔
عبداللہ آج کے دن کا بڑا انتظار کر رہا تھا، آج سلیکون ویلی کی ایک بڑی کانفرنس میں اُس کی تقریر تھی۔ عبداللہ نے رات بھر تیاری کی کہ اس کا سامنا اب دُنیا کے بہترین دِماغوں سے تھا۔
عبداللہ نے اپنی کمپنی کے وِژن اور سافٹ ویئر کے بارے میں بات کی اور ہجوم سے خوب داد وصول کی۔ تقریر کے بعد کئی ایک لوگ آگے بڑھے اور عبداللہ کو اپنے وزٹنگ کارڈ پکڑاتے ہوئے انوسٹمنٹ کی آفر کی، سب سے اچھی آفر ایک وی سی فنڈنگ کی بڑی کمپنی نے کی۔ آفر 3 ملین ڈالر کی تھی اور جواب میں صرف کمپنی کا 15 فیصد حصہ مانگا گیا تھا۔
دو روز بعد ملاقات کا وقت طے ہوا، عبداللہ دو دنوں تک پلان بناتا رہا کہ ان پیسوں سے کیا کرے گا، کون سی ٹیم ہائر کرے گا اور کون کون سی پراڈکٹس کتنے عرصے میں بنائے گا۔
ملاقات کے دن انویسٹر صاحب نے کہا۔ عبداللہ ہم چاہتے ہیں کہ تم یہاں امریکہ میں آجاؤ، یہیں ٹیم ہائر کرو اور خوب محنت کرو، ہمیں کامیابی کا 100 فیصد یقین ہے۔
جی بہتر، مگر ٹیم تو میں پاکستان میں ہائر کروں گا، ہمارے ملک میں بہت ٹیلنٹ ہے۔
عبداللہ، دیکھو یہ ممکن نہیں، پاکستان میں آئے دن دنگے فسادات، خودکش حملے اور پتہ نہیں کیا کچھ چلتا رہتا ہے۔ وہاں پیسہ لگانا رِسک ہے جو ہم نہیں لے سکتے۔ سال بھر میں پراڈکٹ بنا کے کمپنی کسی اور کو بیچ دیں گے، پھر تم جو چاہے کرنا پیسوں سے۔
’’ہاں مگر کمپنی سال میں نہ بکی تو؟‘‘
’’تو کیا ہوا دو سال میں چارسال میں۔ ہمیں کوئی جلدی نہیں۔‘‘
انویسٹرصاحب نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔
’’مگر ہم کمپنی بیچیں ہی کیوں، کیوں نہ ہم اِسے ایپل یا مائیکروسافٹ بنا دیں؟‘‘ عبداللہ کے سوالوں کی پوٹلی پھر کُھل گئی۔
’’نہیں عبداللہ جو سرمایہ لگاتے ہیں وہ اِتنا اِنتظار نہیں کرسکتے۔‘‘
عبداللہ گویا ہوا ’’سر ٹیم پاکستان میں ہائر ہوگی، آپ کو اعتبار نہیں تو میں آپ کے پاس رہ جاؤں گا بطورِ تاوان، ورنہ مجھے منظور نہیں۔‘‘
اور انویسٹرصاحب اُٹھ کر چلے گئے۔
عبداللہ کافی دیر تک سوچتا رہا کہ ایسے تو مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ کچھ سوچنا پڑے گا، عبداللہ نے قیام کو کچھ طویل کیا اور کوئی 25 سے اُوپر سرمایہ کاروں اور کمپنی کھولنے میں معاونت کرنے والوں سے ملا قاتیں کیں۔
کسی نے اُسے شاندار جاب کی آفر کی تو کسی نے اس کے آئیڈیاز کو بے کار قرار دیا، حتیٰ کہ پاکستانی تک پاکستانی کمپنی میں انویسٹ کرنا نہیں چاہتے۔
عبداللہ بڑا دلبرداشتہ ہوا۔
اُس نے سوچا کہ اگر معمولی سی فنڈنگ مُلک سے ہی مِل جائے تو بھی کام چل سکتا ہے، وہاں بھی تو اِتنے اِدارے موجود ہیں، غیر سے پیسہ لیں ہی کیوں؟ یہ سوچ کے اُسے بڑا اطمینان ہوا۔
اُس نے باقی ماندہ دِن کنسلٹنگ کے گن کر پورے کئے اور واپس پاکستان چلا گیا۔
پاکستان پہنچ کر پتہ لگا کہ اس کی کمپنی اسٹارٹ اپ ورلڈ کپ میں شارٹ لسٹ ہوگئی ہے اور وہ آرمینیا پہنچ گیا اور ایک بار پھر پہلی پوزیشن لے کر پہلا ورلڈ کپ جیت لیا۔ اِس سے اسے کافی حوصلہ مِلا۔ عبداللہ نے سب کچھ بھلا کے پھر سے کام کرنے کا سوچا۔
اگلے چند ماہ گرانٹ پرپوزل لکھتا رہا، اسے پوری اُمید تھی کہ جن ٹیکنالوجیز پر وہ کام کر رہا ہے ان سے پاکستان کو کسی حد تک دہشت گردی سے نجات مِل جائے گی۔ ڈیٹا سائنس کی ہر جگہ دھوم تھی اور عبداللہ کا اِس سے متعلق تمام چھوٹی بڑی اِصلاحات پر ہاتھ صاف تھا۔ کسی کتاب میں اُس نے پڑھا تھا کہ کسی بھی فیلڈ میں مہارت قائم کرنی ہو تو زندگی کے 10 ہزار گھنٹے اِس میں لگا دو۔ عبداللہ کوئی سترہ ہزارسے اُوپر گھنٹے اِس فیلڈ میں لگا چکا تھا۔
ایک دن اُمید بر آئی اور اُسے ایک کروڑ کی گرانٹ کے لیے منتخب کرلیا گیا۔ صوبائی حکومت ویسے بھی بڑے اچھے کام کر رہی تھی اور یہ تو ویسے بھی وہ پیسے تھے جو انھیں انٹرنیشنل ڈویلوپمنٹ فنڈ سے ایسے ہی کاموں کے لیے ملے تھے۔
عبداللہ مہینہ بھر سے آنے والے چیک کا انتظار کرتا رہا مگر وہ نہ آیا۔ اُس نے بارہا کال کی مگر ہر بار ’’صاحب‘‘ کسی دورے پر ہوتے، اُس نے یہاں تک کہہ دیا کہ بھائی نہیں دینے پیسے تو بتا دو۔ کوئی جواب تو دو مگر اعلیٰ عہدیداروں کی صرف آنکھیں ہوتی ہیں کان نہیں یا شاید حواسِ خمسہ ہوتے ہیں مگر دل نہیں۔ وہ متعدد بار ان کے آفس بھی گیا مگر وہ عبداللہ جیسے چھوٹے بندوں سے مِل لیتے تو ’’صاحب‘‘ کہلاتے ہی کیوں؟
عبداللہ کو آج ایک حدیث یاد آ رہی تھی کہ جو حکمران ضرورت مندوں اور غریب لوگوں کی شکایت سننے کے بجائے اپنے دروازے بند رکھے گا تو پھر اِس حکمران کو جب خود مدد کی ضرورت ہوگی تو اللہ تعالیٰ بھی اپنے دروازے اِس کے لئے بند کردے گا۔
عبداللہ نے کوشش جاری رکھی، ’’صاحب‘‘ کا تبادلہ ہوگیا۔ نئے صاحب آگئے۔ نئے صاحب حج پر چلے گئے اور پھر مُلک میں الیکشن آگئے، پھر سب بجٹ بنانے میں لگ گئے، پھر صوبائی بجٹ بنانے میں لگ گئے اور پھر نئے صاحب کا بھی تبادلہ ہوگیا اور نئے سے نئے صاحب ابھی آئے نہیں۔
عبداللہ نے وفاقی سطح پر قائم اِداروں کو پروپوزل دیئے۔ اِس نے انہیں بتایا کہ جن پراڈکٹس پر آپ ملین ڈالرز لائسنس کی مد میں دیتے ہیں وہ ہم خود لاکھ ڈالر میں بناسکتے ہیں پھر آپ دوسرے ممالک سے زر مبادلہ کمانا۔
پھر سے ایک دور شروع ہوا۔ ملاقاتوں کا گفتگو کا، پرپوزل جمع کروانے کا مگر نتیجہ ندارد۔ آخر میں کہا گیا کہ آپ کے Technical پرپوزل میں جان نہیں۔ عبداللہ نے بہت سٹپٹایا کہ جنابِ والا آپ کے مُلک میں کوئی دوسرا ہے ہی نہیں جو انھیں صحیح طرح سمجھ سکے۔
بڑی مشکلوں سے ایک صاحب سے بالمشافہ ملاقات کروائی گئی۔ جنھوں نے پروپوزل پڑھا تھا، انہوں نے فرمایا، ڈاکٹر عبداللہ ہم نے آپ کو ایک Tv پروگرام میں دیکھا تھا جو باتیں آپ کرتے ہیں وہ ہمیں پسند نہیں۔
عبداللہ نے لاکھ سمجھایا کہ جس پروگرام کی آپ بات کررہے ہیں وہاں میں زندگی میں بھی نہیں گیا اور اس پروگرام کا میرے پرپوزل کے معیارسے کیا تعلق؟
مگر ان صاحب نے جو بات کہہ دی سو کہہ دی، جس ملک میں نام کے ساتھ لگا عہدہ عقل کا تعین کرے وہاں ایسے نادرالوقوع حادثات روز ہوتے ہیں۔
میٹنگ سے واپسی پر عبداللہ کو اپنے بچپن کی کہانیاں بڑی یاد آ رہی تھیں جہاں بونے صرف پستہ قد والے ہی ہوتے تھے۔
سارے ذرائع کو آزمانے کے بعد صرف ایک حکومتی اِدارہ بچا جہاں سے عبداللہ کو پوری اُمید تھی کہ کام بن جائے گا۔ آج اُن سے ملاقات تھی۔ عبداللہ رات بھر دُعا مانگتا رہا کہ یااللہ یہ آخری در ہے اِس دُنیا میں، یہاں سے ضرور کچھ کروا دے۔ سارے معاملات طے پا گئے تو ’’صاحب‘‘ نے فرمایا،
’’بھئی عبداللہ، مبارک ہو اِتنا بڑا پراجیکٹ ملنے والا ہے، بس کچھ ہی دنوں میں کام شروع کرتے ہیں مگر ہمارا کیا خیال کرو گے؟‘‘
’’جی میں کچھ سمجھا نہیں۔‘‘
’’ارے بھائی، ہم نے جو اِتنی محنت کی اِسے منظور کروانے میں، 30 فیصد جو پیسے آئیں گے ان میں سے ہم رکھ کر باقی آپ کو دے دیں گے۔ میرا سیکرٹری آپ کو 3 پروفائلز دے گا۔ آپ تینوں کو رکھ لیں لاکھ روپے مہینہ پر، اور اب کے باہر جائیں تو دو نئے والے آئی فونز لیتے آیئے گا۔
عبداللہ کا غصہ اس کے چہرے پر آ کر ثبت ہوگیا، اس نے بڑی مشکل سے کہا،
’’سر، آپ کے پاس تو اللہ کا دیا سب کچھ ہے، اِن پیسوں کی تو کوئی اوقات ہی نہیں ہے، میرا پراجیکٹ آپ کی شرائط کے بعد آدھا بھی نہیں ہوگا‘‘۔
اب غصہ کی باری صاحب کی تھی، تو کیا آپ نے ہمیں اپنا چپڑاسی سمجھ لیا ہے جو ہم آپ کے لیے فون کرتے پھریں، عبداللہ یہاں تم جیسے درجنوں روز جوتیاں چٹخاتے ہوئے ملاقات کا وقت لینے آتے ہیں اور ذلیل ہوکر چلے جاتے ہیں، ہماری ملاقات ختم۔
عبداللہ نے واپسی کی راہ لی۔ وہ سوچ رہا تھا کہ کچھ لوگ زندگی بھر اَنا کی پرورش کرتے ہیں، اور گھمنڈ کو پالتے ہیں اور پھر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ وہ اور اُن کا گھمنڈ اکیلے رہ جاتے ہیں۔ باقی سب ساتھ چھوڑ جاتے ہیں۔ عبداللہ نے آج پھر اللہ سائیں کو خط لکھا،
’’اے اللہ!
ہمیں خیر کی خبر سنا اور ہمیں خیر ہی پر مطلع فرما اور اے اللہ ہمیں عافیت نصیب فرما اور ہمیں ہمیشہ ہمیشہ عافیت سے رکھ۔، اے اللہ، ہمارے دِلوں کو تقویٰ کے کاموں پر جمع فرما دے اور ہمیں اِن اعمال کی توفیق دے جن سے تو راضی اور خوش ہوا۔ اے ہمارے پروردگار، ہم پر گرفت نہ فرما جب ہم بھول چوک جائیں، مالک ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جو تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالے تھے۔ اے پروردگار، ہم سے وہ بوجھ نہ اُٹھوا، جس کو اُٹھانے کی ہم میں طاقت نہیں ہے۔ ہمارے ساتھ نرمی برت، ہم سے درگزر فرما، ہم پر رحم کر، تو ہی ہمارا کارساز ہے، سو ہمیں کافروں پر غالب کر‘‘۔
عبداللہ نے ملک سے کسی فنڈنگ کا آئیڈیا ہمیشہ کے لئے دل و دماغ سے نکال دیا، یہاں کسی کو اپنی پراڈکٹ کے بارے میں سمجھانا پراڈکٹ بنانے سے زیادہ مشکل کام ہے۔
بِلّو اِس سے کہتی، عبداللہ دال روٹی چل رہی ہے، گھر ہے، گاڑی ہے، بچے اسکول جا رہے ہیں، کمپنی میں 20 سے اُوپر ملازم ہیں۔ تو کیوں پریشان رہتا ہے؟
عبداللہ اِسے کہتا کہ اگر وہ 2 ہزار لوگوں کو ملازمت دے سکتا ہے تو 20 لوگوں پر اکتفا کیوں کرے؟ دیکھ بِلّو، عبداللہ گویا ہوا۔
اِس وقت اُمت کو سب سے زیادہ ضرورت پیسوں کی ہے، کئی ثاقب الذہن لوگ موجود ہیں مگر وسائل ان کے پاس نہیں ہیں۔ دیکھ میں نے کتنے دھکے کھائے مگر دھیلہ نہیں مِلا۔ یہ مُلک مسجدوں پر، مدرسوں پر، اسپتالوں پر، حتیٰ کہ کھیل کے میدانوں پر، بھوکوں کو روٹی کھلانے پر، زلزلے کے متاثرین کو، بیواؤں کو، یتیموں کو سب کو چندہ دے دیتا ہے مگر بزنس کے لئے نہیں، جو بھیک مانگنا سکھاتے ہیں انہیں پیسے مِل جاتے ہیں، جو کشکول توڑنے کا ہنر جانیں انہیں نہیں۔
زندگی میں کوئی اُمنگ نہ ہو، آرزو نہ ہو، پلان نہ ہو، چاہ نہ ہو تو زندگی موت بن جاتی ہے۔ عبداللہ جیتے جیتے مرنا نہیں چاہتا تھا۔ اُسے کچھ ماہ بعد آنے والے رمضان کا انتظار تھا کہ وہ پھر مفتی صاحب کے ساتھ اعتکاف میں بیٹھ سکے اور مسجد ہی وہ جگہ تھی جہاں عبداللہ کو قرار آتا تھا، ویسے تو وہ بے قرار ہی رہتا تھا۔
آج کل عبداللہ کے کمپنی کے تھوڑے بہت کاموں کے علاوہ صرف دو کام تھے۔ کتابیں پڑھنا اور فیس بک، وہ ہزار صفحات روزانہ کی رفتار پر پہنچ چکا تھا۔ ایک دن اِس سے کسی نے پوچھا کہ حافظہ تیز کیسے ہو کہ آدمی اِتنا پڑھ بھی لے اور ذہن میں رہ بھی جائے۔
عبداللہ نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ہم کبھی گندی پلیٹ میں کھانا نہیں ڈالتے۔ علم کی آنر شپ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے پاس ہے، اگر ذہن صاف نہ ہوگا تو وہ بھی نہیں آئے گا۔ آنکھوں کی حفاظت کریں تو حافظہ تیز ہوجاتا ہے، جس ذہن میں ناچ گانے، فحاشی اور بے ہودہ لطیفے بھریں ہوں وہاں علم کہاں سے آئے گا؟
عبداللہ روز فیس بک پر کچھ نہ کچھ ایسا لکھ دیتا کہ لوگ چڑ جاتے اور اُسے خوب سناتے۔ وہ اِن سب باتوں پہ خاموش رہتا۔ اُسے ٹھنڈا مزاج پسند تھا۔ وہ بِلّو سے کہتا کہ بے وقوف آدمی یا تو عقل سیکھنے کی کوشش کرتا رہے اور عقلمندوں کی مجلس میں بیٹھ کر ان کی گفتگو سنے اور اُن کے اعمال کی علت سمجھنے کی کوشش کرے، یا پھر اپنے آپ کو کسی عقلمند کے حوالے کر دے اور یا پھر خاموشی سے موت کا اِنتظار کرے۔
اُسے بہت تعجب ہوتا جب وہ فیس بک پر ایسی تصویریں دیکھتا کہ بیوی تو مکمل شرعی پردے اور حجاب میں ہیں اور شوہر صاحب نے گھٹنوں تک شارٹس اور بغیر آستینوں والی ٹی شرٹس پہنی ہوئی ہے جیسے کہ فیشن کا حق صرف مرد کو حاصل ہے۔
اسے نہ تو شارٹس اور ٹی شرٹس سے کوئی بیر تھا نہ بُرقعے سے۔ وہ محظوظ یہ سوچ کہ ہوتا کہ کاش کوئی ایسی بھی تصویر نظر آئے، جس میں بیوی ماڈرن لباس میں ہو اور شوہرعبا پہنے، پگڑی باندھے، ہاتھ میں تسبیح اور یہ لمبی داڑھی کے ساتھ کھڑا ہو۔
جو معاشرہ پہلی تصویر پر کچھ نہیں کہتا اُسے دوسری تصویر پر بھی کچھ کہنے کا حق نہیں ہے۔ عبداللہ سوچتا کہ پاکستان میں مرد عورتیں ہیں اور عورتیں مرد اگر پیمانہ صبروبرداشت ہو۔
فیس بک پر اسے اب تک منافقت کی اِتنی سندیں مِل چکی تھیں کہ اگر کریڈٹ ٹرانسفر کا کوئی اِدارہ ہوتا تو وہ پی ایچ ڈی کر چکا ہوتا۔
اور کچھ نہیں تو آئے روز کوئی نہ کوئی دوست میسج بھیج دیتا کہ آپ کے بچوں نے فرنگی لباس پہنے ہوئے ہیں۔ آپ کے ہاتھ میں گلاس تھا فلاں تصویر میں تو وہ لال رنگ کا مشروب کیا تھا؟ تو کبھی آپ کی اہلیہ بُرقع نہیں کرتیں؟ وہ بھی جہنمی اور آپ بھی کہ انہیں کہتے نہیں ہیں۔ ہمارے گھر میں یوں ہوجائے تو ہم کشتوں کے پُشتے لگا دیں۔
عبداللہ ایسی باتوں پہ بڑا حیران ہوتا کہ یہ لوگ آخر چاہتے کیا ہیں؟ یہی کہ کسی غریب کا گھر برباد ہوجائے؟ بلاوجہ اپنی پاکیزگی کا ڈھنڈورا پیٹتے رہتے ہیں۔ یہ نہیں دیکھتے کہ سامنے والے کی عمر کیا ہے؟ کن مسائل سے گذر رہا ہے؟ کن سوچوں میں مگن ہے؟ کون سی جنگ ہے جو ہار کے لوٹا ہے؟ کون سا محاذ ہے جس پر جانا باقی ہے؟
آخر تنگ آکر اُس نے ایسے سارے نام نہاد ریڈی میڈ فتویٰ دینے والے ’’دوستوں‘‘ سے جان چھڑا لی، فتویٰ نہ ہوا ٹیپ ہوگئی جہاں چاہو چپکا دو۔
صحابہ کرامؓ کے دور میں کُل 142 مرد تھے جو فتویٰ دیتے تھے اور 20 عورتیں۔ اِتنے افراد تو صرف ہمارے محلے میں نکل آئیں گے۔
عورت کو پاؤں کی جوتی بنا کر رکھو۔ کیوں بھائی؟ لے کر ہی کیوں آتے ہو کسی غریب کو اگر ایسے ہی اِرادے ہیں؟
مرد پیسہ لاتا ہے، کماتا ہے، تو۔ کیا وہ مالک ہوگیا۔ جسم کا، سوچ کا، اِرادوں کا، رُوح کا، گماں کا، اِمکان کا؟
مرد پیسے لاتا ہے مگر بچے پیسے نہیں کھاتے۔
مرد پیسے لاتا ہے مگر بچے پیسوں پہ نہیں سوتے۔
مرد پیسے لاتا ہے مگر پیسوں سے راحت نہیں ملتی، نہ خوشی ملتی ہے، نہ اطمینان۔
اِن پیسوں کو کھانا عورت بناتی ہے، اِن پیسوں کو گھر، خوشی، اطمینان، سکون اور بستر عورت بناتی ہے۔
آپ کا نام نہاد ’’مرد‘‘ تو روز آفس سے گالیاں، غیبت، بہتان، جھوٹ، ظلم اور حسد کھا کے آتا ہے، یہ عورت ہی ہے جو اُسے تسکین دیتی ہے۔ کھانا کھلاتی ہے۔ دوبارہ سے جوڑتی ہے اور صبح مرد بنا کر بھیجتی ہے۔ جس اِسلام نے عورت کے اِستحصال کے درجنوں طریقے ختم کرکے اُسے نکاح کی حفاظت میں دیا۔ ہم مسلمان ایسے گئے گذرے کہ اسے جانور کے حقوق بھی نہ دیں۔ تف ہے ایسی مردانگی پر۔
عبداللہ کو بِلّو سے بہت محبت تھی۔ زندگی میں کچھ لوگ اعراب کی مانند ہوتے ہیں۔ کوئی کومہ، تو کوئی سیمی کولون، خوش نصیب ہوتے ہیں وہ جن کے پاس کوئی فل اسٹاپ ہو کہ اِس کے آجانے سے زندگی رُک جائے، تھوڑی دیر کو ہی سہی۔
*۔۔۔*۔۔۔*
آج کراچی سے عبداللہ کے دوست ماہر فاروقی آئے تھے۔ بڑے ہی بُردبار قسم کے معصوم سے آدمی تھے۔ ایم بی اے بھی کیا تھا اور مسجد کے اِمام بھی تھے۔ یعنی ایک تو شریف، اُوپر سے مولوی۔ بڑی مشکل سے ایسے لوگ ملتے ہیں۔
ماہر بھائی خاموش لاؤڈ اسپیکر ہیں، زبان خاموش رہتی ہے مگر پورا جسم بول رہا ہوتا ہے۔ آنکھیں تو چپ ہی نہیں ہوتیں۔ عبداللہ اِن کی موجودگی میں بہت لطف اُٹھاتا۔ وہ جتنے شرمیلی طبع کے تھے عبداللہ انھیں اِتنا ہی زِچ کرتا۔
ماہر بھائی سے عبداللہ نے کچھ حالات ڈِسکس کئے تو انھوں نے اسے سمجھایا کہ کراچی میں اُن کے شیخ ہیں کوئی مولانا صاحب، اُن سے ملاقات کرلو۔
عبداللہ نے سوچا لو جی ایک اور آیا، پھر مریدوں کا جمگھٹّا، پھر لائن میں اِنتظار اور پھر وعدے وعیدیں۔ عبداللہ نے ماہر بھائی کو صاف منع کردیا کہ وہ نہیں کرے گا بات۔ ماہربھائی بضد رہے۔ آخر پہلے فون پر بات کرنے کی حامی بھری۔ ماہر بھائی نے فون لگا کر عبداللہ کے ہاتھ میں دے دیا۔
’’السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ‘‘
عبداللہ کو ایک مدھم، ٹھہری ہوئی محبت بھری آواز سنائی دی۔
عبداللہ نے دِل میں سوچا یہ تو بڑے ماہر ہیں اب دام سے کون نکلے، اُس نے بے چارے مولوی صاحب کو خوب سنائی کہ اُس کی زندگی کا امچور ان کے بھائی بندوں کی وجہ سے بنا ہے۔ مولوی صاحب بارہا کہتے رہے کہ آپ غلطی سے ڈاکٹر سمجھ کر کمپاؤنڈر سے ملتے رہے ہو۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ بھئی آ کیوں نہیں جاتے ملنے اگر اِتنے ہی مسائل ہیں۔
یہ کاری وار تھا۔
عبداللہ نے پینترا بدلا کہ آپ حضرت ٹائم ہی نہیں دیں گے، اب میں 25 ہزار کا ٹکٹ آپ کے دیدار کے لیے تو خریدوں گا نہیں۔
مگر مولوی صاحب نے بالمشافہ ملاقات کا وعدہ کرلیا اور کہا جتنا ٹائم چاہیئے ملے گا اور فون بند۔
عبداللہ کو یہ بھلے لگے، مفتی صاحب کے ادب کی وجہ سے اور ان کی مصروفیات کو دیکھتے ہوئے عبداللہ ان سے بے تکلفی سے بات نہیں کر پاتا تھا کہ مبادًا وہ ناراض ہوکر ملنا ہی نہ چھوڑ دیں۔ اُس نے ایک دو بار مفتی صاحب کو کسی سے سخت لہجے میں بات کرتے ہوئے سن لیا تھا اور وہ سوچتا تھا کہ اگر اس سے کبھی ایسے بات کرلی تو وہ تو مر ہی جائے گا۔
عبداللہ نے سوچا یہ نئے مولوی صاحب سے اگر بن گئی تو اچھا ہے کہ کوئی متبادل بھی ہاتھ آجائے گا اور شاید وہ اِن سے بے تکلفی سے بات کرسکے، انہوں نے اکیلے میں ٹائم دے کر عبداللہ کا دل آدھا تو جیت ہی لیا تھا۔
عبداللہ اگلے ہی روز مولوی صاحب کے پاس کراچی پہنچ گیا۔ وہ راستے بھر سوچتا رہا کہ ملک کا ہر شخص اُمت کے واسطے کام کرنا چاہتا ہے اور اِنفرادی لوگوں کے لئے کسی کے پاس وقت نہیں ہے۔ وہ کہاں جا کے رہے جو کہیں کا نہ رہے؟
مولوی صاحب بہت خوش مزاج، ہنستے بولتے شخص تھے۔ عبداللہ کو مسکرانے والے مولوی بہت پسند ہیں۔ یہ تو شکل سے بھی بچوں کی طرح معصوم تھے اور تھے بھی غریب عام سی 100 روپے والی چپل، 20 روپے گز والے کپڑے کا جوڑا اور عام سی ٹوپی۔ عبداللہ کو ماہر بھائی کی تمام باتیں اِن صاحب کے بارے میں مبالغہ آرائی لگی کہ عقیدت مند، مرید ایسے ہی بڑھا چڑھا کے بولتے ہیں کہ ہمارے حضرت کہ یہ پراجیکٹس اور فلاں فلاں۔
خیر مولوی صاحب نے عبداللہ کو دوپہر کا کھانا کھلایا جس میں بکرے کی کلیجی تھی۔ عبداللہ کو کلیجی بہت پسند ہے۔ اِس نے بلا تکلف پیٹ بھر کے کھانا کھایا اور کہنے لگا، مولوی صاحب! آپ واحد مولوی ہیں جو کلیجہ کھلاتے ہیں، باقی سب تو کھاتے ہیں۔
مولوی صاحب نے عبداللہ کو ساتھ لیا اور ایک فیکٹری میں لیکچر دینے چل پڑے۔ لیکچر کے دوران عبداللہ سوچتا رہا کہ بڑی نپی تلی بات کرتے ہیں اور باتونی لوگوں سے بہت مختلف ہیں۔ بیان کے بعد کھانا لگا تو مولوی صاحب کھانا کھائے بغیر واپس آ گئے۔ فیکٹری کے مالک نے بمشکل تمام ہاتھ میں کوئی چھوٹا سا تھیلا پکڑا دیا۔
عبداللہ نے سوچا کھانا کھا لینا چاہئے تھا اور لیکچر دینے کے پیسے بھی لینے چاہیئے تھے۔ خیر گاڑی میں بیٹھتے ہی مولوی صاحب نے ملنے والا تحفہ عبداللہ کے ہاتھ میں پکڑا دیا۔ اُس میں ایک انتہائی قیمتی عطر تھا۔ عبداللہ نے کہا یہ توآپ کی مزدوری ہے ۔اِتنی محنت سے لیکچر دیا اور آپ نے ایک نظر دیکھا بھی نہیں ملنے والے تحفے کو؟
انھوں نے کچھ نہیں کہا اور کہا رکھ لو عبداللہ۔
عبداللہ خدا حافظ کہہ کر دوبارہ ملنے کا وعدہ کرکے چلا آیا، مگر سوچتا رہا کہ کچھ لوگ آج بھی موجود ہیں جو صرف اللہ کے لئے کام کرتے ہیں بغیر کسی غرض، بغیر کسی فائدے کے۔ عبداللہ نے اپنی تمام توجہ ایک نئے سافٹ ویئر بنانے پر لگا دی، نہ کوئی دوست آتا نہ ہی عبداللہ کہیں جاتا، ہفتوں ہفتوں اپنے کمرے میں بیٹھا کوڈ لکھتا رہتا۔
جب بھی کسی سے بات کرنے کا دِل چاہتا تو گھر کے قریب موجود پیپل کے گھنے درخت کے نیچے بیٹھ جاتا اور اسی سے بغض کرنے لگتا۔
اُسے یہ پیپل کا درخت بڑا پسند تھا۔ عبداللہ اُسے پیپل بھائی کہہ کر مخاطب کرتا، آج عبداللہ پچھلے دو گھنٹوں سے درخت کوگھُور رہا تھا۔ کبھی اس کی شاخوں پہ ہاتھ پھیرتا تو کبھی تنے سے گلے لگ جاتا۔ کبھی پتوں پر پڑی شبنم دیکھتا تو کبھی اس کے اُوپر بیٹھ جانے والے پرندوں سے محظوظ ہوتا۔ وہ درخت کو ایسے پیار کرتا جیسے کوئی اپنے بچوں کو پیار کر رہا ہو۔ عبداللہ سوچنے لگا کہ اُس کی زندگی اِس پیپل کے درخت سے کتنی مشابہ ہے۔ عرصہ پہلے لوگوں نے زمین میں ایک بیج دبایا ہوگا اور بھول گئے ہوں گے۔ زمین، سورج، ہوا، پانی، حشرات الارض، سب نے مِل کے اُسے سینچا ہوگا۔ بیج میں سے زندگی نکلی ہوگی، کونپل آئی ہوگی اور پھر اس نازک سی کونپل نے زمین کا سینہ پھاڑ کے اپنے وجود کا اعلان کیا ہوگا، پھر وہ بڑھتی چلی گئی ہوگی۔ آس پاس کی ہواؤں کے زور اور تھپیڑے سہنے کے لئے اس کا تنا طاقتور ہوتا چلا گیا ہوگا اور پھر شاخیں، پھر پھول اور پھل۔ اسی کا نام تو زندگی ہے۔
عبداللہ سوچنے لگا کہ اس کے ملک کے لوگوں نے اِسے بھی زمین میں دبا دیا۔ یہ تو اُن کو معلوم ہی نہیں تھا کہ وہ بیج ہے، اللہ کی قدرت نے اِسے سینچا اور وہ زمین کا سینہ توڑ کر باہر نکل گیا۔ معترضین اور حاسدین کے حسد سے بچنے کے لئے اس کا بھی تنا موٹا ہوگیا، گر جانے کے خوف سے اس نے بھی اپنی جڑیں زمین سے چپکا لیں اور وہ بھی آج اِس پیپل کے درخت کی طرح کھڑا حالات کا مقابلہ کر رہا ہے۔
عبداللہ نے باٹنی میں پڑھا تھا کہ یہ درخت بھی دیکھتے ہیں۔ الٹرا وائلٹ لائٹ سے انہیں بھی پتہ چلتا ہے کہ بندے نے کپڑے کس رنگ کے پہنے ہیں، اگر کوئی اور پودا اِن کی روشنی روک لے تو یہ مخالف سمت میں بڑھنا شروع کردیتے ہیں۔ پانی کم ہو تو جڑیں دُور دُور تک پھیلا دیتے ہیں۔
عبداللہ کو لگتا کہ درختوں کی میموری بھی ضرور ہوتی ہوگی۔ بھلا پانی دینے والوں کو بھی کوئی بھولتا ہے؟ انہیں خوف بھی آتا ہوگا، جب ایک پودے پر وائرس حملہ کردیں تو آس پاس والے پودے خود بخود اس وائرس سے بچنے کے لئے کیمیکل بنانا شروع کردیتے ہیں۔
عبداللہ سوچتا یہ درخت بھی ذِکر کرتے ہوں گے اور دُعا مانگتے ہوں گے، مجھے اِن کی دُعاؤں میں ضرور شامِل ہونا چاہیئے۔ وہ سوچنے لگا کہ اِسے درختوں سے سیکھنا چاہیئے، باقی مخلوق کے برعکس یہ اپنے حالات اور ماحول تبدیل نہیں کرسکتے۔
حالات سازگار نہ ہوں تو پرندے کُوچ کرجاتے ہیں۔ انسان نقل مکانی کرجاتے ہیں، مگر درخت۔ یہ تو کہیں نہیں جاتے، انہیں تو ہمیشہ اُسی جگہ پر ثابت قدم رہنا ہوتا ہے اور مرتے دم تک حالات کا مقابلہ کرنا ہوتا ہے۔ انسان کو صبر درختوں سے سیکھنا چاہیئے۔
آہ! یہ درخت بھی اِنسانوں سے بازی لے گئے، عبداللہ نے بھیگی آنکھوں سے درخت کو بوسہ دیا جو اسے بھی سایہ دیتا ہے جو اِسے کاٹ رہا ہو اور گھر واپس روانہ ہوگیا۔
ــــــــ

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: