Khoj Novel by Zeeshan Ul Hassan Usmani – Episode 15

0

کھوج از ذیشان الحسن عثمانی – قسط نمبر 15

–**–**–


آج عبداللہ کی خوشی دیدنی تھی۔ اس کی کمپنی امریکہ میں رجسٹرڈ ہوگئی تھی، اسے فیملی سمیت ایکسٹرا اورڈنری ویزہ مِل گیا تھا اور ڈیٹا سائنسز کے ایک آن لائن کورس میں وہ دنیا میں ٹاپ ٹین میں آگیا تھا۔
عبداللہ نے پڑھائی اور بڑھادی اور امریکہ واپس شفٹ ہونے کی پلاننگ کرنے لگا۔ وہ چاہتا تھا کہ جانے سے پہلے ایک بار اور اعتکاف میں بیٹھ جائے مفتی صاحب کے ساتھ۔ ابھی عبداللہ امریکہ میں کمپنی کی پلاننگ ہی کر رہا تھا کہ اسے امریکہ کی ہی ایک بڑی کمپنی سے جاب کی آفر آگئی۔ تنخواہ اور مراعات اتنی زیادہ کہ عبداللہ شاید زندگی بھر میں اپنی کمپنی سے اتنے پیسے نہ کماسکے۔ عبداللہ کو بڑی حیرت ہوئی کیونکہ تنخواہ اس کی مارکیٹ ویلیو سے کم از کم 4 گناہ زیادہ تھی۔
عبداللہ نے کچھ ریسرچ کرنے کا سوچا۔ ہفتے بھر کی محنت رنگ لائی۔ اُس نے دیکھا کہ جس کمپنی نے اُسے جاب دی ہے اُس پوزیشن پر وہاں کوئی سال سے زیادہ نہیں ٹکا اور تمام لوگ جنہوں نے وہاں سروس کی وہ سارے مسلمان ممالک سے ہی تھے۔ بڑی عجیب بات تھی کہ ایک امریکی کمپنی میں 10 سالوں سے بھی زائد عرصے میں کوئی امریکن جاب کے لیے نہیں مِلا۔ عبداللہ نے ڈھونڈ ڈھانڈ کے 3 لوگ ایسے نکال ہی لئے جنہوں نے ملتی جلتی پوزیشن پر کام کیا تھا۔
عبداللہ نے باری باری سب سے بات کرنے کی ٹھانی۔ بات کرنے کے بعد جو حقیقت سامنے آئی وہ انتہائی تلخ تھی۔ یہ تمام لوگ اپنے اپنے ملکوں کے دماغ تھے۔ ان سب کو 4 سے دس 10 گنا زیادہ کی جاب دی گئی۔ یہ سب بیوی بچوں کے ساتھ امریکہ شفٹ ہوگئے۔
زیادہ پیسہ زندگی میں ایک نیا لائف اِسٹائل لایا۔ بیویاں ماڈرن ہوگئیں، بچوں کو بڑے آرام دہ گھروں، موبائل فونز اور مہنگے کمپیوٹرز کی عادت پڑگئی اور پھر اچانک بغیر کسی وجہ کے انہیں نوکریوں سے نکال دیا گیا۔ اب نہ مہنگے گھروں کی اقساط دے پائے۔ نہ بیوی بچوں کا لائف اسٹائل، اتنی بڑی تنخواہ سے فارغ ہوئے اور مارکیٹ میں کوئی 10 فیصد تنخواہ بھی آفر نہ کرے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ گھر بینک لے گیا۔ کار شو روم لے گیا۔ بیوی میکے چلی گئی۔ ننھیال بچے لے گیا اور پیچھے بچا یہ شخص اپنی کامیابیوں کے قصے سناتے اور حالتِ زار کا نوحہ کرتے۔
کیا زبردست آئیڈیا، کچھ لاکھ ڈالرز کے عوض کسی ملک سے اس کا بل گیٹس چھین لیا تو کسی سے اُس کا محمد علی جناح، کسی سے مدر ٹریسا اُٹھالی تو کسی سے نیلسن منڈیلا اور سال بھر میں انہیں ذہنی مریض بنا کر چھوڑ دیا۔ ہر چمکنے والی چیز سونا نہیں ہوتی۔ یہ کہاوت عبداللہ کو آج سمجھ آئی۔ عبداللہ نے نہایت شائستگی سے آفر کو ٹھکرادیا۔
*۔۔۔*۔۔۔*
آج عبداللہ اپنے ایک دوست کے ساتھ پشاور گیا۔ وہاں یونیورسٹی میں اسے لیکچر دینا تھا۔ مگر معلوم ہوا کہ طلبہ نے فیس بک پر کچھ پیجز کی جانب سے توہین رسالت کے سبب ہڑتال کی ہوئی ہے اور مطالبہ کیا جارہا ہے کہ فیس بک پر پابندی عائد کی جائے۔
عبداللہ نے پوری کوشش کی کہ تعلیم خراب نہ کرو۔ علم ضروری ہے، علم بندے کی جہالت کا تعین کرتا ہے۔ علم شعور و انسانیت سکھاتا ہے، مگر طالبِ علموں کا اصرار تھا کہ جاہل رہ جائیں گے لیکن فیس بک اور یوٹیوب بند کروا کر ہی دم لیں گے۔ ایک طالبِ علم آگے بڑھا اور نعرہ مارا، ہم اُمی نبی کے اُمی پیروکار ہیں، کیا ہوا اگر جاہل رہ گئے۔ عبداللہ کے کانوں میں تو جیسے کسی نے پگھلا ہوا سیسہ ہی ڈال دیا ہو۔ شدتِ غم سے وہ زمین پہ بیٹھ گیا۔ زبان خاموش ہوگئی اور آنکھوں نے بولنا شروع کردیا۔ دوست نے جلدی سے گاڑی میں ڈالا اور واپسی کی راہ لی۔ اسے ڈر تھا کہ عبداللہ نے اگر پھر کچھ بول دیا تو لڑکے زندہ نہیں چھوڑیں گے۔ عبداللہ راستے بھر سوچتا رہا اور روتا رہا کہ اُمی کے معنی جاہل، اَن پڑھ یا غافل کیسے ہوگئے؟
قرآن میں وادئ مکہ کے لیے ’’اُمّ القریٰ‘‘ کے الفاظ 2 بار آئے ہیں تو مطلب ہوا اُمی کا، مکہ کا رہنے والا۔ اُمی ہر اُس چیز کو بھی کہتے ہیں جو دوسروں کی تربیت کرسکے۔ ماں کو اُم کہتے ہیں۔ رسالتِ پناہ صلی اللہ علیہ وآل وسلم پوری کائنات کے مصلح و مربی بنے۔ اور ہم کیا کہہ رہے ہیں۔ اللہ نے محمدﷺ کو پوری دنیا کے لئے ہدایت کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ اب اگر کسی شخص کو ان کے تلقین کردہ فرمودات سے بھی ہدایت و یقین نہ ملے تو اُسے بے یقین ہی مرجانا چاہیئے۔
وہ سوچنے لگا کہ آج کل کے دورِ فِتن میں اسلام کو سب سے زیادہ خطرہ مسلمانوں سے ہے۔ غلامی رسول میں موت بھی قبول ہے، کا نعرہ لگانے والے یہ کیوں نہیں کہتے کہ غلامی رسول میں علم قبول ہے۔ جھوٹ سے نفرت ہے۔ اب کیا ٹریفک لائٹ پر رُکنے کے لیے بھی اِسلامی مملکت کا اِنتظار ہے یا لائن بنانے کے لیے بھی امیر المومنین کی ضرورت ہے؟
مسلسل خواب کی تعبیر کیا ہو
تمہارے جاگنے پر بات ہوگی
*۔۔۔*۔۔۔*
آج اعتکاف کا پہلا دن تھا اس بار عبداللہ کے کوئی سوال نہیں تھے۔ وہ جب مفتی صاحب کے سامنے جاتا تو سوال خود بخود غائب ہوجاتے۔ پچھلے سال اور اِس سال کے عبداللہ میں بڑا فرق تھا۔
مفتی صاحب کہہ رہے تھے کہ حضرت حسن بصریؒ نے کہا کہ فقیہہ وہ شخص ہوتا ہے جس کا دل دُنیا کی محبت سے پاک ہو۔ اپنے دین اور مسلک سے صحیح معنوں میں باخبر ہو اور ہمیشہ اپنے پروردگار کی عبادت میں لگا رہے۔ عبداللہ خاموشی سے عبادت میں لگا رہا، بہت بہترین لوگ تھے، بہت عمدہ ماحول۔ عبداللہ کے ساتھ ایک نابینا شخص اعتکاف میں بیٹھے تھے، عبداللہ کی اُن سے خوب بنی۔ وہ ہر وقت پوچھتا رہتا کہ آپ اپنے احساسات سے دنیا کو کیسے دیکھتے ہیں؟
عبداللہ فجر کے بعد بھی کافی دیر سے سویا اور جب آنکھ کھلی تو نچلی منزل سے اقامت کی آواز آ رہی تھی، بھاگم بھاگ جاکر نماز میں شامِل ہوا، اور بڑا افسوس ہوا دیر سے پہنچنے کا۔ کہیں میں وقت سے پہلے بھی جایا کرتا تھا آج اعتکاف کا نواں دن تھا۔ دن کب گذرے پتہ ہی نہ چلا۔ عبداللہ کچھ پریشان تھا سوچ رہا تھا اگر معافی نہ ملی تو ساری محنت اکارت جائے گی۔
اس نے سوچا کہ کسی سخی کے دروازے پہ کوئی بیٹھ جائے 10 دن تک تو اسے بھی بھیک مل جاتی ہوگی۔ وہ بھی در پہ پڑا ہے۔ انشا اللہ معافی لے کر ہی جائے گا۔ ان شاء اللہ شک کے بدلے، ثبوت کے طور پر بولا جائے تو دُعا کی تاثیر بدل جاتی ہے۔ انہیں سوچوں میں جماعت کھڑی ہوگئی۔ عبداللہ تیزی سے دسترخوان پھلانگتے ہوئے چلا گیا اور جماعت میں شامل ہوگیا۔ اُسے بعد میں اپنی حرکت کا بڑا دُکھ ہوا کہ دسترخوان پھلانگنا نہیں چاہیئے تھا۔
اگلے روز مفتی صاحب نے اسے بلا بھیجا فجر کے بعد اور کہنے لگے، ’’کیا آپ کو بھی بتانا پڑے گا کہ دسترخوان نہیں پھلانگتے۔‘‘
عبداللہ کے منہ سے کچھ نہیں نکلا۔ وہ سوچنے لگا کہ یااللہ میں کب کب کہاں کہاں کون سی حدیں پھلانگتا ہوں۔ انہیں کیا پتہ لیکن آج کے بعد شاید کچھ بھی نہ پھلانگ سکوں کہ ان کا یہ جملہ یاد آئے گا۔ اعتکاف ختم ہونے میں کچھ ہی گھنٹے رہ گئے تھے۔ عبداللہ نے دُعا کے لئے ہاتھ اُٹھائے۔
اے اللہ! میں تیرے ہر عیب سے پاک ہونے کے ساتھ ساتھ تیری حمد و ثنا بیان کرتا ہوں اور ایسی پاکیزگی و حمد و ثنا جس کی تعداد تیری مخلوق کے برابر ہو اور ایسی پاکیزگی و حمد و ثناء جس سے تو خوش ہوجائے اور ایسی پاکیزگی و حمد و ثناء جو اپنے وزن میں عرش کے وزن کے مساوی ہو اور ایسی حمد و ثناء جسے لکھنے کے لئے اتنی ہی روشنائی درکار ہو جتنی روشنائی تیری تعریف کے جملوں کو لکھنے کے لئے مطلوب ہے۔
اے اللہ معاف فرما دے۔ اعتکاف قبول کرلیں۔ پروردگار لوگ بھول گئے ہیں۔ تو تو نہیں بھولا۔ اللہ دل پتہ نہیں کس کس کی عبادت میں گرفتار ہے، مجھے سب سے چھڑا کر صرف اپنا بنالے۔
اے اللہ، سفر درپیش ہے۔ اذان کی نیت ہے۔ میرے اللہ کمپنی چلا دے پیسوں میں سے تیری راہ پہ بھی لگاؤں گا اِنشاء اللہ۔ اللہ دعویٰ دلیل مانگتا ہے، مجھے میرے وعدے پہ قائم رکھیو۔
اللہ کبر سے بچا، تیرا نام لے لے کر اپنی تعریفیں کرنے سے بچا، تیرے ذمہ کوئی جھوٹ لگاؤں اِس سے بچا، تقویٰ کی تشہیر سے بچا، محبت کے چھٹ جانے سے بچا۔ نعمتوں کے چھن جانے سے بچا۔ تو مولا ہے، میں تیرا بندہ، تجھ سے نہ کہوں تو کدھر جاؤں۔ اللہ پورے ملک میں کوئی تمیز کا اسکول باقی نہیں بچا۔ اللہ تیاری کرنی ہے۔ مالک جب نوکر کو سبزی لینے بھیجتا ہے تو پیسے دے کر بھیجتا ہے، مجھے بھی پیسے دے، فضل کر، برکت ڈال میرے وقت میں میرے مولا۔ صرف تیرے در پہ بھیک مانگتا ہوں۔
اللہ سائیں، میں ایک ہوٹل میں گیا تو پتہ لگا کہ سالن آپ کوئی سا بھی لے لو روٹی ساتھ میں مفت گریوی میں۔ اے اللہ تو مجھے اپنی معرفت دے۔ اپنی صفتِ علم سے میری ٹریننگ فرما، مجھے اِخلاص دے، مجھے اُمت کا درد دے، مجھے اپنے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وآل وسلم کی محبت دے، اور گریوی میں دُنیا بھی دے دے میرے مالک۔
اللہ تیری ہی طرف ہجرت کر رہا ہوں تجھے تو پتہ ہے۔ تو قبول فرما۔
آمین ثم آمین!
عبداللہ اپنے بیوی بچوں کے ساتھ ہوائی جہاز میں بیٹھا تھا اور اُس کا قلم پھر چل رہا تھا۔
یہ گوانتانا موبے سے چھٹنے والا ہر قیدی مولوی کیسے بن جاتا ہے کہ دُنیا گھوم گھوم کے لیکچرز دیتا ہے؟
یہ امریکہ کی مسجدوں میں جو درس دیتے ہیں کہ سوائے اپنے بیوی بچوں کے علاوہ کچھ نہ سوچو تو اِنہیں اِمام منتخب ہی کون کرتا ہے؟ (ایسے لوگ جو اپنی ذات سے ایک اِنچ آگے نہ سوچ سکیں انھیں امامت ملنی ہی نہیں چاہیئے)
ایسا کیوں ہوتا ہے کہ بار بار نماز کی تلقین کرنے کے باوجود نماز نہ پڑھنے والا بچہ، بغیر یاد دہانی کے اسکول کا ہوم ورک کر لیتا ہے؟
یہ تکبر کی کون سی قسم ہے جس میں بندہ کہتا ہے کہ ’’نہیں نہیں، میں اِس قابل کہاں، میں تو ایک گناہگار شخص ہوں؟‘‘
جو زندگی غفلت میں گذر جائے اس کی سزا کیا ہو؟
جسے اللہ نہیں ملتا اُسے کون ملتا ہے؟
جسے اللہ مِل جائے اُسے کیا نہیں چاہئیے ہوتا؟
کیسے ہوتے ہیں وہ لوگ جن سے اللہ راضی ہوجاتے ہیں؟
وہ گناہ جو اللہ کے خوف سے ادھورے رہ گئے ان کا زیادہ ثواب ہے یا وہ نیکیاں جو دِکھاوے میں پوری ہوگئیں؟
اللہ سے اللہ کو کیسے مانگتے ہیں؟
پائلٹ نے جہاز جان ایف کینڈی ایئرپورٹ پر اُترنے کی اناؤنسمنٹ کی۔
*۔۔۔*۔۔۔*
نیا ملک، نئے لوگ، نئی مصروفیات، نئی زندگی، ان تمام نئی چیزوں میں صرف عبداللہ پرانا لگتا تھا۔ امریکہ پہنچ کر گھر لینے، سامان شفٹ کرنے، ڈرائیونگ لائسنس بنوانے، بینک اکاؤنٹ کھولنے، بچوں کے اسکول میں داخلے سے لے کر درجنوں ایسی چیزیں اور اہم کام تھے کہ 3 ماہ کہاں گئے پتہ ہی نہیں لگا۔
عبداللہ جلد از جلد ان تمام کاموں سے فارغ ہوکر اپنی نئی کمپنی پر توجہ دینا چاہتا تھا مگر روز مرہ کے کاموں کی مصروفیت اور خانگی کام اسے فرصت ہی نہ لینے دیتے۔ اُسے جب وقت ملتا وہ کوشش کرتا کہ اپنے کمرے میں بیٹھ کر اپنے آپ کو سنے، اندر کی خاموشی کا شور سب سے زیادہ ہوتا ہے اور عبداللہ کی زندگی آج کل اسی شور میں گذر رہی تھی۔
ٹونی اور مارتھا اور بہت سے لوگ اپنے تئیں ہر ممکن کوششیں کر رہے تھے کہ عبداللہ اور اس کی فیملی کو کہیں کوئی مشکل پیش نہ آئے اور اس کی نئے ملک میں سیٹنگ آرام سے ہوجائے۔ مگر عبداللہ کے ذہن میں اٹھنے والے سوالات اسے چین سے بیٹھنے ہی نہ دیتے۔ وہ سوچتا رہتا کہ کہیں وہ پھر کسی گرداب میں تو نہیں پھسنے جارہا، کہیں وہ پھر سے کسی اَن دیکھی TDL کا حصہ تو نہیں بن رہا، کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ دین کا سوچتے سوچتے وہ ایک بار پھر دنیا کے جال میں پھنس گیا ہے۔
جب وہ گھر میں اچھی طرح سے سیٹل ہوگیا، گاڑی مل گئی، کمپنی رجسٹرڈ ہوگئی اور آفس مل گیا تو اس نے سوچا کہ اللہ سائیں کو خط لکھ دے کہ نیت کی گواہی باقی رہے۔
آج عبداللہ نے آفس سے چھٹی لی اور پورا دن کمرے سے باہر ہی نہیں نکلا۔ پتہ نہیں کیا کچھ سوچتا رہا۔ اُسے رہ رہ کر اپنی بے مائیگی کا احساس ہوتا کہ وہ جس کام کو کرنے جا رہا ہے اُس میں اُس کو کیا کمال حاصل ہے۔ صرف اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذات پر کامل یقین اور کچھ نہیں۔ عبداللہ نے لرزتے ہاتھوں اور پُرنم آنکھوں سے لکھنا شروع کیا۔
’’اے اللہ سائیں!
کافی عرصہ ہوا، آپ کو خط ہی نہیں لکھا، معافی چاہتا ہوں، میں ٹھیک ہوں، شاید نہیں، پتہ نہیں، میں چاہتا ہوں تیرا بندہ بن کر رہوں، تیرا بن کر رہوں، تیرے لئے جیوں، صرف تجھ سے باتیں کروں اور کچھ نہ کروں، مگر فیملی اور معاش کے دھندے ایسا ہونے نہیں دیتے۔ بے شک یہ سارے تو نے ہی عطا فرمائے ہیں اور ان پر لگنے والا ٹائم بھی نیکی میں شمار ہوگا۔ تو میری کمی کوتاہی معاف کردینا میرے مالک۔میرے تھوڑے سے اعمال کو بہت کرلینا، میری چھوٹی نیکیوں کو بھاری کردینا، وہ فارسی میں کہتے ہیں نا ’’بہ قامت کہتر، بہ قیمت بہتر‘‘۔ بس ایسے ہی میرے اللہ میرا خیال رکھ لینا۔
اے اللہ، تُو جانتا ہے میں اس ملک میں خوشی سے نہیں آیا، میں تو یہاں کبھی رہنا ہی نہیں چاہتا تھا، کس کو گوارا تھا کہ پھپھی سے اتنی دور ہوکر رہوں، مفتی صاحب کا ساتھ چھوڑوں، اپنے لوگوں سے دور جاؤں۔ میرے طالب علم بہت اچھے تھے انہیں پڑھا کر سکون ملتا تھا۔ تھوڑے زیادہ جو بھی پیسے ملتے تھے گذارہ ہو جاتا تھا مگر میرے اللہ، تو جانتا ہے کہ کیا ہوا۔ میرے لوگ مجھے جینے ہی نہیں دیتے، نہ مرنے دیتے ہیں، نہ کچھ کرنے دیتے ہیں۔ جملے کستے ہیں، حسد کرتے ہیں، طنز کرتے ہیں، کامیابی پہ جلن کا شکار ہوجاتے ہیں اور ناکامی پہ تمسخر اُڑاتے ہیں، اور جان سے مارنے کی دھمکیاں الگ، وہاں رہتا تو زندگی پریشانی میں گذر جاتی۔ خوف، ناکامی اور غربت دماغی صلاحیتوں کو دیمک کی طرح چاٹ جاتی ہیں۔
یہاں اس لئے آگیا ہوں کہ سکون سے کام کرسکوں، دل لگا کے یکسوئی کے ساتھ، میں پیسہ دیکھ کے نہیں آیا نہ ہی ملک کی ترقی و چکا چوند دیکھ کر، تُو تو جانتا ہے میرے اللہ میں تو دو دو ہفتے گھر سے باہر نہیں نکلتا، پیسہ دیکھ کر آتا تو حشر میں کیا جواب دیتا کہ غریب طالب علموں کو اس لئے چھوڑ دیا کہ امیروں کو پڑھا سکوں، نہیں میرے مالک، تُو تو دلوں کو خوب جانتا ہے، میں انہیں ای میل پر Skype پر پڑھا لوں گا۔
اے اللہ، میں تو اذان کی نیت سے آیا ہوں کہ اپنے کردار اور عمل سے دین کی تبلیغ کرسکوں۔ جہاں دنیا داڑھی والوں کو دہشتگرد اور ہر مسلمان کو متشدد سمجھتی ہے وہاں ایک مثال پیش کرسکوں جو شاید کسی کو ایک بار ٹھنڈے دل سے سوچنے کا موقع دے سکے۔
اے اللہ، میں جانتا ہوں، میں ایک ہوں اور یہاں 320 ملین لوگ بستے ہیں۔ میں کیا اور میرا شمار کیا۔ مگر پھر سوچتا ہوں میں ایک ہوں کس کا، تیرا میرے اللہ، تیرا نام لیوا، تیرا ہی تو دم بھرتا ہوں تیرے ہی سے دوستی کی اُمید ہے، مجھے معلوم ہے تو تنہا نہیں چھوڑتا، تو بھولتا نہیں ہے۔
اے نوح ؑ کی کشتی کو پار لگانے والے، اے ابراہیم ؑ کو آگ سے بچانے والے، اسماعیل ؑ کے لئے زم زم نکالنے والے، اے یوسف ؑ کی کنویں اور جیل میں مدد کرنے والے، اے موسی ؑ کی فرعون کے مقابلے میں مدد کرنے والے، اے ایوب ؑ کی بیماری میں خبرگیری کرنے والے، اے یونس ؑ کی مچھلی کے پیٹ میں مدد کرنے والے، اے چادر والے کی محبت کی قسم کھانے والے، اے بدر کے 313 کے رکھوالے، اے اصحاب صُفّہ کے خُدا، اے میرے اللہ مجھے بھی تنہا نہ چھوڑیو، میں نے ہر ایک سے یہی سُنا ہے کہ تُو خالی ہاتھ نہیں لوٹاتا، میری بھی مدد کرنا۔
میرا نفس، میری نیتوں کا قاتل ہے، مجھے اس کے شر سے بچا مجھ کو مجھ سے بچا میرے اللہ۔ مجھ کو اپنا بنا میرے اللہ۔ اے اللہ، کمپنی بنوا دے پھر اسے فروخت بھی کروا دے۔ اے اللہ مفتی صاحب کی مسجد میں چھوٹے چھوٹے معصوم بچے ہیں، ملک میں بے گھر و بے آسرا بچے ہیں، تو جانتا ہے نا، میری دوست کو، وہ بے گھر بچوں کیلئے کام کرتی ہے، اے اللہ ایسی یونیورسٹی بنانا چاہتا ہوں جہاں انسان تیار ہوں جہاں ساری سہولتیں موجود ہوں۔ جہاں فیس نہ دینی پڑے اور ملک بھر سے بہترین بچوں کا انتخاب کرکے دنیا کو کچھ ایسے انسان دیئے جاسکیں جو نفع بخش ہوں، نفع خور نہیں۔
اور میرے اللہ کچھ اتنا پیسہ بچ جائے کہ بِلو کو دے سکوں اور وہ اس کے لئے اور بچوں کے لئے زندگی بھر کو کافی ہوجائے تاکہ میں سکون سے پڑھ سکوں، تیرا ذکر کرسکوں، کچھ لکھ سکوں۔
بڑی ضرورت ہے دنیا کو دین کی، ان کی اپنی زبان میں، اس بات کی کہ اسلام پر لگائے جانے والے فضول الزامات کا تحقیق کے ساتھ ان ہی کی زبان میں جواب دیا جاسکے۔
میں بالکل فارغ ہوں میرے اللہ، جاب لیس ہوں، تُو Recruit کرلے اتنی بڑی دنیا میں ایک آدھ آسامی تو خالی ہوگی ہی نا موذن کی، تو اُس پر رکھ لے۔ دل سے اذان دوں گا میرے مالک، روح سے اذان دوں گا، جان سے اذان دوں گا، اپنے خون سے اذان دوں گا، تو ہائر کرلے، تو تربیت کردے، تو اذان سکھا دے اور اس کی آواز کو چار سو پھیلا دے۔
تو میری لکھائی کو قبولیت بخش، میرے بولنے میں اثر دے، میرے دل میں ذکر دے، میری آنکھ میں حیاء دے، میری شخصیت میں وزن دے کر جب میں اسلام کی بات کروں، تیرے دین کی، تیرے محبوب صلی اللہ علیہ وآل وسلم کی تو دنیا رد نہ کرسکے، یہ نہ کہہ سکے کہ کہنے والے کا تو کوئی معیار ہی نہیں ہے۔
بات میری نہیں میرے اللہ، میں جن کا ذکر کرنے جا رہا ہوں اُن کی ہی ہے، وہ تو تیرے ہیں۔ میں بھی تو تیرا ہوں، تو وزن ڈال میرے اللہ میرے پلڑے میں، کہ ایک طرف میں ہوں تو پورے ملک پر بھاری پڑ جاؤں۔
اے آسمانوں و زمین کے مالک اللہ، اے وہ اللہ جس کا ذکر سب سے بھاری ہے، کُل کائنات میں واحد ذات جس کے لئے اذان دی جاتی ہے، مجھے وزن دے میری اذان کو دوام بخش اس موذن کی رہنمائی کر، جھوٹ زندگی سے نکال دے کہ تیرا نام لینے جا رہا ہوں، لوگ جھوٹا نہ بولیں، امہات المومنینؓ پر کتاب لکھنے جا رہا ہوں، اس امتی کو اس قابل کر کہ ماؤں پر کچھ لکھ سکوں۔ یہ خط تیرے نام، یہ آواز تیرے نام، یہ قلم کتاب تیرے نام، عبداللہ تیرے نام۔
آج امریکہ میں Halloween ہیلو وین کا تہوار تھا۔ مذہبی حیثیت تو اسکی بالکل ہی ختم ہوگئی تھی اگر کبھی کوئی تھی بھی تو فی الحال تو یہ صرف بچوں کا ایک کھیل بن کر رہ گیا تھا جس میں وہ گھر گھر جا کر ٹافیاں جمع کرتے تھے اور ڈراؤنے کرداروں مثلاً ڈریکولا کے کپڑے پہن کر میک اپ کرتے تھے۔
عبداللہ نے سوچا اچھا موقع ہے پڑوسیوں سے ملنے کا، ویسے بھی عبداللہ کی فیملی اس پورے محلے میں واحد مسلمان اور پاکستانی فیملی تھی کہ یہ بہت امیروں کا علاقہ تھا اور کوئی کوئی ہی یہاں رہنا افورڈ کرسکتا تھا۔ مگر یوٹیوب اور فیس بک بھرے پڑے تھے ان بیانات سے کہ ہیلووین منانا شیطان کو ماننے کے مترادف ہے اور کفر و الحاد کے فتوے الگ۔
عبداللہ نے بہت سوچا کہ گھر پر بچے آئیں گے، پہلی بار کسی مسلمان سے سابقہ پڑے گا، خالی ہاتھ بھیجنا مناسب نہیں، وہ بہت ساری ٹافیاں لے آیا، اس کے اپنے بیوی بچے ٹافیاں لینے چلے گئے اور وہ لگا ٹافیاں بانٹنے۔
جو بھی گھر آیا وہ ٹافیوں کے سائز اور مقدار پر حیران ہوا کہ عبداللہ دل کھول کر بانٹ رہا تھا، کچھ نے تو کہہ بھی دیا کہ انہیں اس گھر سے کچھ ملنے کی اُمید ہی نہیں تھی، عبداللہ نے بچوں کے ساتھ آئے والدین کو بھی سلام کیا اور خیریت پوچھی۔ اس بہانے اس کا پورے محلے سے تعارف ہوگیا اور محلے والوں پر بھی مسلمانوں کا شاید کوئی نیوٹرل امیج بن سکا ہو۔
عبداللہ کو سمجھ نہ آتی تھی کہ صرف کفر و الحاد کے فتوے لگا کر اور غیرمسلموں کی ہر چیز کو بُرا بھلا کہہ کر آپ کیونکر تبلیغ کر سکتے ہیں۔ داعی کی صرف نظر میں ہی وسعت نہیں ہونی چائیے بلکہ دل بھی بڑا ہونا چاہیے جو اُن چھوٹی باتوں کو نظرانداز کرکے منزل کو دیکھ سکے۔ عبداللہ آج کی رات سونے لیٹا تو اسے ایک خیال آیا، اُس نے جمع ہونے والی ساری ٹافیاں نکال کر بستر پر ڈھیر کردیں اور لکھنے لگا کہ کس گھر والے نے کون سی اور کس قسم کی ٹافیاں دی ہیں۔ جلد ہی وہ ایک پروگرام لکھنے کے قابل ہوگیا، کمپیوٹر میں جس سے وہ ملنے والی ٹافیوں کو ان کے گھروں سے لنک کرسکتا تھا، پھر اس نے درجنوں کے حساب سے آن لائن پبلک ڈیٹا سیٹس کو کھنگالا اور وہ ٹافیوں کی مدد سے یہاں تک معلوم کرلیا کہ دینے والوں کی سالانہ تنخواہ، آمدنی کتنی ہے، گھر میں کوئی بچی، بیٹی بھی ہے یا نہیں اور گذشتہ الیکشن میں انہوں نے ووٹ کس کو دیا تھا۔ عبداللہ نے صبح ہونے سے پہلے پہلے ایک مفصل مضمون لکھ کر انٹرنیٹ پر ڈال دیا، اور اس کے بعد زیادہ دیر نہیں لگی کہ اس کے شہر میں اس کا چرچا ہونے لگا، بہت سے دوست بنے، بہت سے ملنے کے لئے آئے اور عبداللہ خندہ پیشانی سے ان کے سوالات کے جوابات دیتا رہا۔
عبداللہ کو اس اجنبی ماحول میں یہ مانوسیت بڑی بھلی لگی۔ ابھی اس تہوار کو گزرے کچھ ہی دن ہوئے ہوں گے کہ عبداللہ کو اپنے ملک سے ایک دوست کی بڑی کڑا کے دار ای میل موصول ہوئی۔
ڈاکٹر عبداللہ!
آپ کے لئے دل میں بڑا احترام تھا اور ایک باطل خیال تھا کہ آپ مسلمان ہیں، مگر آپ کی ہیلو وین کی حالیہ ’’عیاشیاں‘‘ دیکھ کر اور آپ کے اس تہوار میں جوش و خروش کو دیکھ کر آپ کی دینی بے غیرتی کا احساس ہوا۔ تمہیں پتہ ہے عبداللہ کہ تم اتنے ذلیل و خوار کیوں ہو؟
اس لئے کہ تم سوچتے بہت ہو، لعنت ہو تم پر کہ بھگوڑے کی طرح بھاگ کر منہ چھپائے امریکہ میں بیٹھے ہو، تمہارے ان منحوس سوالات کی وجہ سے تم عبدالستار ایدھی نہ بن سکے، نہ ہی ٹاٹا کی طرح کوئی کمپنی ہی بنا سکے۔ جس دینی بے غیرتی کا مظاہرہ آپ نے کیا ہے اس کی اُمید تو مجھے غیرمسلموں سے بھی نہ تھی، خیر ملکی غدار اور غیر ملک کے ٹکڑوں پر پلنے والے ایجنٹس کیسے ہوتے ہیں، آج پتہ لگا۔
’’خدا آپ کو جہنم واصل کرے‘‘۔
عبداللہ کے لئے نہ اِس قسم کی ای میلز نئی تھیں اور نہ طنز و طعنے میں ڈوبی تحریریں کوئی اچنبھے کی بات تھی کہ ملک کے طبقہ اشرافیہ سے اس زبان میں گفتگو ہوگی نہ ہی ملال اس بات کا کہ جہنم کا ایک پروانہ اور ملا۔
عبداللہ پریشان اس بات پر تھا کہ یہ آخر دینی غیرت کہتے کسے ہیں؟ یہ دینی غیرت ہوتی کیا ہے؟ اور اس غیرت کے ہونے نا ہونے سے فرق کیا پڑتا ہے؟ کیا دینی غیرت صرف اس بات کا نام ہے کہ آدمی شلوار قمیض پہن لے؟ سر پر ٹوپی رکھ لے؟ اور دنیا کی ہر ہر چیز کا بائیکاٹ کردے؟ یا اس بات کا کہ غیر مسلموں سے بات چیت ختم کرے؟ اُن سے اُن کے ملکوں سے، انکی ہر چیز سے نفرت کرے؟ اور پھر بھی دینی غیرت کے الاؤ کی آگ ٹھنڈی نہ پڑے تو چھری اپنے مسلمان بھائیوں پر چلائے، فرقوں میں بانٹے کفر و الحاد کے فتوے جاری کرے، یہ دھارا یونہی بہتی رہی تو ایک دن دنیا میں کوئی بھی غیرت مند نہ بچے گا۔
یہ دینی غیرت کہاں چلی جاتی ہے جب پوری قوم کشکول لئے IMF کے سامنے بھیک مانگتی ہے، یہ دینی غیرت کہاں چلی جاتی ہے جب ورلڈ بینک قسط روک لیتا ہے اور ملک میں بجلی سے لے کر پٹرول تک اور چینی سے لے کر آٹے تک کا قحط پڑجاتا ہے۔ یہ دینی غیرت اُس قوم میں نظر کیوں نہیں آتی جو اپنے ایک انچ رقبے کے لئے تو ملک سے لڑجاتی ہے مگر پورے مستقبل کی پلاننگ کسی اور سے کرواتی ہے۔ یہ دینی غیرت کہاں چلی جاتی ہے جب عقلیں گروی رکھوا دی جاتی ہیں۔ ملکی باشندوں کو بیچ دیا جاتا ہے۔ غیر ملکی اپنے ہی ملک میں گھس کر میزائل داغ کر چلے جاتے ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا، یہ دینی غیرت کہاں سو رہی ہوتی ہے جب 12 ہزار لوگ سالانہ ملک میں بھوک سے مرجاتے ہیں۔ 1500 سے اجتماعی زیادتی ہوجاتی ہے۔ سینکڑوں کا ریپ ہوجاتا ہے، چرچوں اور مسجدوں میں دھماکے ہوجاتے ہیں۔ عبداللہ سوچنے لگا کہ ان دینی غیرت کے دعویداروں کا گریبان نہیں دامن پکڑنا چاہیئے۔ پاؤں پکڑنے چاہئیں کہ حضرت خدا کے واسطے رحم کریں۔ خود بھی کام کریں دوسروں کو بھی کرنے دیں۔ جتنی زندگی میں آپ نے گالیاں اور طعنے دیئے ہیں اتنی دعائیں ہی دے دی ہوتیں تو شاید ایک آدھ دینی غیرت مند آپ کے خاندان سے ہی نکل گیا ہوتا۔
عبداللہ سوچنے لگا کہ جب شخصیت پختہ ہو تو آدمی بھوک اور افلاس کی پرواہ کئے بغیر نظریئے پر کام کرتا ہے۔ نظریہ تمام فطری تقاضوں کی طرح ایک ازلی بھوک اور طلب ہے۔ جب شخصیت پختہ نہ ہو تو آدمی کو چاہیئے کہ آرام و سکون سے ضروریات زندگی پر توّجہ دے اور جب معاشی بے فکری ہوجائے تو وژن کی بات کرے۔ تحریکوں پر پلی ہوئی قوم جس کا حافظہ آدھے گھنٹے کا نہ ہو سوائے تنقید کے کر بھی کیا سکتی ہے؟

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Nakhreeli Mohabbatain by Seema Shahid – Episode 2

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: