Khoj Novel by Zeeshan Ul Hassan Usmani – Episode 3

0

کھوج از ذیشان الحسن عثمانی – قسط نمبر 3

–**–**–


(گزشتہ سے پیوستہ)
اس شہر کو ایک بڑا گاؤں کہا جائے تو بہتر ہوگا، جو سہولیات بڑے شہروں میں ہوتی ہیں وہ یہاں عنقا تھیں، مگر فضلو کو کام خوب مل جاتا تھا۔ گاؤں کا مشقتی جسم تھا 16 گھنٹے کام کرتا تو بھی نہ تھکتا تھا اور اوپر سے ایمان دار، یہ دونوں ہی باتیں شہری لوگوں میں مفقود تھیں۔
کچھ دن توعبداللہ شہری زندگی میں مٹر گشت کرتا رہا پھر ایک دن فضلو سے پوچھا،
ابا! اب کیا کروں؟
فضلو: بیٹا میری تو سات نسلوں میں کسی نے میٹرک نہیں کیا، مجھے کیا پتہ میٹرک کے بعد کیا کرتے ہیں توایسا کر ڈاکیہ لگ جا، ایڈریس/ پتہ تو پڑھ لے گا ناں؟ ہاں ہاں بابا تو فکر نہ کر، اور یوں عبداللہ ڈاکیہ بننے کی فکر میں لگ گیا۔ اسے خواب میں بھی یہی دکھتا کہ وہ ڈاکیے کی ’’سرکاری نوکری‘‘ کررہا ہے اور لوگوں کو خط، ٹیلی گرام اورمنی آرڈر پہنچارہا ہے۔
کچھ دن بعد عبداللہ جنرل پوسٹ آفس کے سامنے انٹرویو کی لائن میں کھڑا تھا، ایک آسامی اور کوئی 200 بندے کھڑے تھے، 20 سال سے60 سال تک کے، عبداللہ تو فقط 15 سال کا ہی ہوگا۔ خیر انٹرویومیں یہ کہہ کرمنع کردیا کہ عمر بہت کم ہے، ذاتی سائیکل نہیں ہے کہ ڈاک جاکر ڈال سکے اور تجربہ نہیں ہے۔ عبداللہ نے بڑی کوشش کی کہ بات بن جائے مگرعبداللہ کی زندگی میں کوئی کام اتنا آسانی سے بھلا کب ہوا ہے اور یوں عبداللہ بے نیل و مرام گھر واپس آگیا۔
ابا اب کیا کروں؟ اسی سوال کے ساتھ صبح عبداللہ پھر فضلو کے سامنے کھڑا تھا۔
فضلو نے آس پاس کچھ لوگوں سے مشورہ کیا، کسی نے کہا کلرک لگوا دے تو کسی نے پائلٹ بننے کامشورہ دیا، کسی نے فوج کی نوکری کو زندگی کا حاصل قرار دیا توکسی نے مزید پڑھائی کومقصدِ حیات۔ الغرض فضلو نے تمام معلومات عبداللہ کے گوش گذار کردیں۔ جب کچھ نہ سمجھ آیا تو گورنمنٹ کالج میں پری انجینئرنگ میں داخلہ لے لیا کہ ریاضی میں عبداللہ کے ہمیشہ پورے نمبر آتے تھے۔ فضلو نے سختی سے منع کردیا تھا کہ کتابوں کے پیسے نہیں ہیں مگرعبداللہ نے سوچا کہ کسی سے مانگ کے کام چلا لے گا۔
پھوپھی کے گاؤں میں کوئی کالج تھا ہی نہیں ورنہ عبداللہ کب کا وہاں جاچکا ہوتا۔ عبداللہ کی شہرت کچھ کلاسوں بعد ہی ہوگئی۔ ایک ہی تو تھا جو صبح سے لے کر رات تک یا تو لیکچر ہال میں ہوتا یا لائبریری میں، عبداللہ آنکھ بچا کر کالج کے ردی کے ڈبے سے آدھی استعمال کی ہوئی کاپیاں اورپین پینسل بھی اٹھا لیا کرتا تھا۔ عبداللہ اپنے نوٹس شاپنگ بیگ میں لایا کرتا تھا اور یوں کالج بھر کو طنز کرنے کے لیے ایک کھلونا مل گیا تھا، مگر عبداللہ نے تو جیسے نہ سننے اور نہ بولنے کی قسم کھائی ہوئی تھی جو دل چاہے جو مرضی بولتا رہے، عبداللہ نے صرف پڑھنا تھا اور بس۔
کچھ ہفتوں بعد کالج میں ریاضی کے نئے استاد آئے، عبداللہ کو یہ مضمون بہت پسند تھا مگر استاد کو اس کے سوالات چبھتے تھے۔ فیثاغورث ہو یا ٹرگنو میٹری، کوآرڈک ایکویشن ہو یا الجبرا، عبداللہ کو اگر روز مرہ زندگی میں ان کا اطلاق سمجھ نہ آئے تو نہ وہ خود چین سے بیٹھتا اورنہ ہی ٹیچر کو بیٹھنے دیتا۔ روز روز کی اس تکرار کا نتیجہ یہ نکلا کہ ٹیچر کلاس میں آتے ہی سب سے پہلےعبداللہ کو باہر نکال دیتا۔
کچھ دن عبداللہ نے برداشت کیا مگر پھر کالج آنے کا فائدہ ہی کیا جب کلاس ہی اٹنیڈ نہ کرسکتا ہو۔ آج عبداللہ ٹیچرکے کہنے کے باوجود کمرے سے باہر نہیں گیا،
میں کیوں جاؤں میں غلط سوال نہیں پوچھتا، نہ ہی نیت آپ کو تنگ کرنے کی ہے، مگرآپ بلاوجہ جب چاہے مجھے سب کے سامنے ذلیل کرتے ہیں اور کوئی دکھ نہ ہو، اگر اس کے بدلے کچھ سیکھنے کو مل جائے، آپ ظلم کرتے ہیں، اللہ پوچھے گا!
یہ سننا تھا کہ ٹیچر نے کلاس ختم کرنے کا اعلان کیا اور ڈسپلنری کمیٹی میں عبداللہ کے خلاف درخواست دے دی۔ کالج پرنسپل نے عبداللہ کو اپنے والدین کو لانے کا کہا، مگر عبداللہ جانتا تھا کہ اس کا باپ کبھی کالج نہیں آئے گا اور اگر اسے کسی ممکنہ جھگڑے کی بھنک بھی پڑی تو، وہ اپنے ہاتھ سے ہی عبداللہ کو مار ڈالے گا اور یوں کالج پرنسپل نے عبداللہ کی بات سنے بغیر یک طرفہ فیصلہ دے دیا اور عبداللہ کو کالج سے خارج کردیا گیا۔ آج تو جیسے عبداللہ کی دنیا ہی ختم ہوگئی، وہ خواب جو دیکھے تھے، انجینئر بننے کے، کچھ کر دکھانے کے، بڑا آدمی بننے کے، سب چور ہوگئے۔
سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ گھر پہ کیا بتائے، کس منہ سے جائے گا، خیر اسی سوچ بچار میں جب گھر پہنچا تو فضلو بہت خوش نظرآیا، دیکھتے ہی کہنے لگا عبداللہ میں نے مزدوری چھوڑ دی ہے اور کرایہ پہ ایک ٹھیہ لے لیا ہے برتنوں کا، اب میں برتنوں کا کام کروں گا آرام سے بیٹھ کر اس دن تک، جب تک تو انجینئر نہیں بن جاتا، اب شاید ہم بھی خوش ہوسکیں گے۔
ابا! آج مجھے کالج سے نکال دیا گیا ہے، برے کردار (Bad Character) کی وجہ سے، اب کہیں اور داخلہ بھی نہیں ملے گا، فضلو کو اپنے بیٹے پر پورا یقین تھا کہ کچھ بھی ہو، اس کا کردار بے داغ ہے، عبداللہ 10 انگلیوں میں 10 چراغ تھا۔ ویسے بھی جب بھوک کی بیماری بدن سے چمٹی ہو ناں تو، خواہشوں کی ملکہ کوسوں دور رہتی ہے۔
فضلو نے اداس لہجے میں کہا، عبداللہ مجھے لگتا ہے کہ تجھے مولوی کی بد دعا لگ گئی ہے تو شاید ’’بے نام‘‘ ہی رہ جائے، تو فکر چھوڑ اور میرے ساتھ ٹھیے پر بیٹھا کر، اور یوں عبداللہ نے ٹھیے پر بیٹھنا شروع کردیا۔ ساتھ میں وہ کوئی نہ کوئی کتاب ساتھ لے جاتا پڑھنے کو، آج کل زیادہ تر زور اسلامی کتابوں اورانگریزی سیکھنے پر تھا۔ عبداللہ شہر کی لائبریری سے روز نئی کتابیں لے آتا۔ اثر نعمانی، عزیز اثری، وحیدہ نسیم، قدرت اللہ شہاب، جبار توقیر، سعید لخت، کمال احمد رضوی، نسیم حجازی، سعادت حسین منٹو، علیم الحق حقی، ناصر کاظمی، یاس یگانہ، لطیف فاروقی، علامہ راشد الخیری، عشرت رحمانی، حسینہ معین، انتظار حسین، شوکت تھانوی اور کرشن چندر۔ وہ کون سا ایسا مصنف تھا جو عبداللہ نے چھوڑ دیا ہو۔
ایک دن ایک گاہگ دکان پر آیا اسے لالٹین چاہئے تھی۔ فضلو نے ایک لالٹین اس کے سامنے رکھ دی اور کہا یہ 100 روپے کی ہے۔ بڑی اچھی ہے پائیدار، لیک بھی نہیں ہوتی، اس کا شیشہ بھی دستیاب ہے وغیرہ وغیرہ، کچھ ہی دنوں میں فضلو ایک گھاگ سیلزمین بن چکاتھا۔ مگر مجھے تو ولایتی چاہئے، گاہک نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔
فضلو نے ایک اور لالٹین نکال کے رکھ دی اور قیمت 300 روپے بتا کر زمین و آسمان کے قلابے ملانے لگا، اس کی خصوصیات کے بارے میں۔ تھوڑی سی تکرار کے بعد گاہک نے ولایتی لالٹین 250 میں خرید لی جب کہ لوکل وہ 50 میں بھی خریدنے پر آمادہ نہیں ہوا۔
جب وہ چلا گیا تو فضلو نے قہقہہ لگایا اور کہا، یہ شہری لوگ اپنے آ پ کوبہت عقلمند سمجھتے ہیں، دونوں لالٹین ایک ہی جگہ کی بنی ہوئی ہیں صرف پیکنگ کا فرق ہے۔ عبداللہ کو یہ بات سخت ناگوار گذری اس نے باپ سے کہا، ابا تو، تو بدل گیا ہے، شہری ہوا تجھے راس نہیں آئی، اب کیا توجھوٹ بھی بولے گا؟ نہیں عبداللہ! یہ یہاں کا عرف ہے، ایسا ہر کام میں ہوتا ہے، شروع میں کئی ہفتوں میں سیدھی سچی بات کرتا رہا مگر کچھ نہ حاصل ہوا، اب دیکھ کام دھندہ کیسا چمک رہا ہے۔
مگرابا، جان دینی ہے اللہ پوچھے گا۔ ہاں بیٹا، کہتا تو، تو ٹھیک ہی ہے چل وعدہ آئندہ ایسا نہیں کروں گا۔
اگر تیرا اور تیری ماں کا بھوکوں مرنے کا خیال نہ ہوتا تو کبھی یوں نہ کرتا۔
چھوڑ ابا، مجھے تو نہ ڈرا، اب مرنے سے، مرنا ہوتا تو کب کا مرگیا ہوتا۔ بھوکا مرنا لکھا ہے تو ایسے ہی سہی، پر جھوٹ نہ بولیں گے۔ کچھ روز بعد اخبارمیں ایک نئے کالج کا اشتہار آیا جو کسی این جی او نے غریب اور یتیم بچوں کے لئے کھولا تھا مگر وہاں انجینئرنگ کی تعلیم نہیں دی جاتی تھی۔ انہوں نے پری میڈیکل سے شروع کیا تھا اور کلاسیں بھی شام کو ہوتی تھی۔ عبداللہ اسی شام کالج پہنچ گیا اور ایڈمیشن فارم جمع کروا دیا۔
انٹرویو کے وقت تمام ماجرا سچ سچ کہہ سنایا کہ پچھلے کالج سے Bad Character کا سرٹیفکیٹ کیونکر حاصل ہوا۔ ایڈمشن کمیٹی کواس بات کا پورا احساس تھا کہ یہ پوزیشن ہولڈر بچہ ہے اور اگر آگیا تو اس کا نام مارکیٹنگ اور فنڈز کے حصول میں پوری طرح استعمال کرسکتے ہیں۔ مگرعبداللہ کی اس قدر صاف گوئی انہیں بالکل نہ بھائی، پرنسپل صاحب کہنے لگے برخوردار، تمہارے میٹرک میں نمبر ضرور اچھے ہیں مگرساتھ ساتھ تم تھوڑے سے بے وقوفِ اور بدعقل بھی ہو۔
نہیں پرنسپل صاحب، عبداللہ نے ان کی بات کو بیچ میں سے اچکتے ہوئے کہا، میں بے عقل ہوسکتا ہوں مگر بدعقل اور بے وقوف نہیں۔ سب ہنسنے لگے اور کہا کہ بے وقوف یہ تو ایک ہی بات ہے، بھلا بتاؤ اس میں فرق کیا ہے؟
جناب! بے عقل وہ ہوتا ہے جسے اللہ نے عقل دی ہی نہ ہو، اس بارے میں کوئی دعویٰ فی الوقت نہیں کرتا، آپ پڑھائیں گے تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا۔ بدعقل وہ ہوتا ہے جس کے پاس عقل تو ہو مگر وہ اسے غلط کاموں میں استعمال کرے، میں ایسا کچھ نہیں کرتا۔ بے وقوف، وقوف سے نکلا ہے، جیسے کہ وقوف عرفہ، ٹھہرنے کو کہتے ہیں، ایسا شخص جو ٹھہرکے، ٹک کے کچھ نہ کرسکے وہ ہوا بے وقوف اور میرے میں یہ خصوصیت بھی نہیں پائی جاتی۔
ایڈمیشن کمیٹی نے مزید کچھ کہے بغیر فُل اسکالر شپ کے ساتھ اس کے فارم پر دستخط کر دئیے، اور یوں عبداللہ ڈاکٹر بننے کے خواب دیکھنے لگا اور وقت کا پہیہ اپنی رفتارسے گھومتا رہا۔ کالج میں یوں توسب معمول کے مطابق چل رہا تھا، عبداللہ کی ذہانت کا ڈنکا ہر سُو بج رہا تھا کوئی تقریری مقابلہ ہو یا بیت بازی کا، کوئی ڈرامہ ہو یا مضمون نِگاری، عبداللہ کا نام ہی اس بات کی ضمانت تھا کہ کالج کی پہلی پوزیشن آنی ہے۔ عبداللہ نے بارہا اس کالج کے بچوں کو ہرایا جہاں سے وہ نکالا گیا تھا۔ ایک استاد ایسے تھے جوعبداللہ کو بے حد پسند کرتے تھے ان کا نام تھا عبدالرحمن۔ وہ درسِ نظامی سے فارغ التحصیل تھے، پرانے زمانے کے انڈیا سے پڑھے ہوئے تھے اور کالج میں اردو، اسلامیات اور مطالعۂ پاکستان پڑھاتے تھے۔
عبداللہ نے کورس کی ساری کتابیں ازبر کی ہوئی تھیں، کیمسٹری کے Periodic Tables ہوں یا فزکس کے ایکیویشن اور Laws، بائیولوجی کے Zoological Names ہوں یا باٹنی کے پودوں کی Classification، اسلامیات کی کتاب کی احادیث ہوں یا اردو کی غزلیں، عبداللہ سب یاد کرکے 2،3 ماہ میں ہی فارغ ہوجاتا، شاید یہ بچپن کا اثر تھا کہ مانگی گئی کتابیں کچھ دنوں میں واپس کرنی ہوتی تھیں کہ اس کا دماغ اسی طرح یاد کرنے کا عادی ہوگیا تھا، اور حافظہ بہت تیز تر ہوتا چلا جارہا تھا۔ عبدالرحمن صاحب وہ واحد استاد تھے جن کے پاس اپنے مضامین میں عبداللہ کے ہر سوال کا جواب ہوتا تھا۔ عبدالرحمن صاحب عبداللہ کو روز کوئی نئی دعا سکھاتے اور اللہ پہ توکل کا درس دیتے، وہ کہا کرتے یہ ساری محبتیں اللہ کی محبت کے سامنے ہیچ ہیں۔ ایک دن کہنے لگے، یہ آنکھ بڑی عجیب شے ہے جب تک بند نہ ہو کھلتی ہی نہیں ہے۔ ایک دن دعا مانگی کہ،
’’اے اللہ! تو جانتا ہے کہ تو، تو ہے، میں، میں ہوں‘‘
انہوں نے دو دعائیں توعبداللہ کو ازبر کرا دی تھیں اور کہا تھا کہ روز بلا ناغہ مانگا کرو۔ ایک سیدنا موسیٰ ؑعلیہ االسلام کی دعا،
سورۃ القصص۸۲:۴۲
’’ الٰہی! میں اس کا محتاج ہوں کہ تو مجھ پر اپنی نعمت نازل فرمائے‘‘
اور ایک یہ دعا کہ ،
’’اے اللہ !سب ایمان والوں کو معاف کردے۔‘‘
اور عبداللہ تواتر سے یہ دعائیں مانگے چلا جاتا۔ ایک عادت انہوں نے اور ڈالی عبداللہ کو، وہ تھی اللہ میاں کوخط لکھنے کی، وہ کہتے تھے جب کوئی بات ہوجائے، جب کوئی خوشی دیکھو یا غم آئے تو اللہ کو خط لکھو، اسے سناؤ اپنی کہانی، اس سے کہو اپنی کتھا، اور کسی سے کچھ نہ مانگو،
ہرحد سے ماوراء تھی سخاوت میں اس کی ذات
ہم آخری سوال سے آگے نہ جاسکے
عبدالرحمن صاحب نے عبداللہ کی طبیعت کو دیکھتے ہوئے اسے ایک بد دعا بھی دی تھی کہ اللہ تجھے اتنا مصروف رکھے کہ تیرے پاس گناہ کی فرصت نہ ہو اور عبداللہ ہمیشہ اس بات پر ہنسا کرتا، خیر انٹر کے امتحانات ہوئے اورعبداللہ نے پورے کالج میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ 200 میل کی مسافت پر ایک شہر تھا، جہاں میڈیکل کالج میں داخلہ مل گیا، اور یوں عبداللہ ’’ڈاکٹرصاحب‘‘ بننے کی جستجو میں لگ گیا۔
میڈیکل کالج جاتے ہوئے اس نے ماں باپ اور سر عبدالرحمن کی خوب دعائیں لیں۔
مگر شاید زندگی کو کچھ اور ہی منظور تھا، وہاں درجن بھر سیاسی پارٹیوں کی تنظیمیں تھیں جو عبداللہ کی صلاحیتوں کو اپنے اپنے پولیٹکل ایجنڈے کی تقویت میں استعمال کرنا چاہتی تھیں مگر عبداللہ کو بھلا، ان الجھنوں سے کیا مطلب، نتیجہ یہ نکلا کہ گفتگو اور مہذب دعوت، گستاخیوں اور بدتمیزوں پر چلی گئی اور آخر کار ایک دن ایک پارٹی کے لڑکوں نے عبداللہ کوخوب مارا، کپڑے پھاڑ دئیے اورکتابیں تک جلادیں۔
اور اُسے اٹھا کر تمام اساتذہ، پولیس سب کے سامنے کالج سے باہر پھینک دیا، پولیس والوں نے اُسے کہا کہا اگر اب نظر آیا تو کالج میں ہیروئن رکھنے کے جرم میں زندگی بھر جیل میں سڑا دیں گے، اور عبداللہ ’’ڈاکٹر صاحب کے خواب‘‘ کی لاش اُٹھائے واپس آگیا۔
ستارے کچھ بتاتے ہیں، نتیجہ کچھ نکلتا ہے
بڑی حیرت میں ہے میرا مقدر دیکھنے والا
عبداللہ اپنے ازلی سوال کے ساتھ آج پھر فضلو کے سامنے کھڑا تھا، مجھے کیا پتہ، تیرے پہ مولوی کی بد دعا ہے، تو منحوس ہوگیا ہے، جہاں جاتا ہے پِٹ کر واپس آجاتا ہے، کوئی کام تیرا بنتا نہیں ہے، مجھے نہیں پتہ، نہ مجھ سے پوچھ نہ مجھے بتا اور یہ کہہ کر فضلو اپنے آنے والے گاہک کے ساتھ مصروف ہوگیا۔ مشوروں اور ملاقاتوں کا ایک سلسلہ پھر شروع ہوا، کسی نے کہا بی فارمیسی کر لو تو کسی نے ایسوسی ایٹ ڈپلومہ کرنے کو کہا، کسی نے بزنس ایڈمنسٹریشن کی راہ دِکھائی تو کوئی کمپیوٹر سائنس کا شیدائی۔
آج ٹی وی پر ہالی وڈ کی کوئی فلم چل رہی تھی جو عبداللہ نے دکان کے ساتھ والے چائے کی ڈھابے پر دیکھی، خوب صورت اور نوجوان لوگ سفید رنگ کے ایپرن پہنے، شیشے کی بوتلوں میں رنگ برنگے محلول گھماتے پتہ نہیں کیا ایجاد کررہے تھے، کسی نے کہا کہ یہ دوائیاں بنارہے ہیں تو کسی نے انگریزی نہ سمجھتے ہوئے مووی کو کیمیائی ہتھیاروں سے جوڑ دیا۔ خیر، آج رات خواب میں عبداللہ نے دیکھا کہ وہ وائٹ کوٹ پہنے دنیا کی بیماریوں کی کھوج لگارہا ہے۔ وہ صبح اُٹھا تو مسکرا رہا تھا، اسے اپنی زندگی کا مقصد مل گیا تھا اور وہ تھا بیِ فارمیسی۔
بی فارمیسی کے لیے شہر کی بڑی یونیورسٹی میں داخلہ فارم جمع کروادیا گیا، فضلولاکھ سمجھاتا رہا کہ فیس کے پیسے کہاں سے لائیں گے؟ رہے گا کہاں؟ کھائے گا کہاں سے؟ مگر عبداللہ ہمیشہ جواب دیتا کہ ابا میں 313 کے فارمولے پرچلتا ہوں، جو کام میں کرسکتا ہوں وہ کرتا ہوں، جو کر نہیں سکتا اس کے بارے میں پریشان بھی نہیں ہوتا۔ غزوۂ بدر میں 313 صحابہ کرام کے پاس جو بھی تھا وہ لے کے پہنچ گئے، فتح جس کا مقدر ہوجائے تو سبیل خود ہی ہوجایا کرتی ہے۔
خیر وہی ہوا جس کا فضلو کو ڈر تھا، ایڈمیشن لسٹ لگی مگرعبداللہ کا نام نہیں تھا لسٹ میں، عبداللہ سیدھا رجسٹرار کے پاس گیا اور کہا کہ ’’سر رات بھر سے یونیورسٹی گیٹ پربیٹھا ہوں کہ رہنے کی جگہ نہیں ہے، ضرور کوئی غلطی ہوئی ہے، میرا نام لسٹ میں نہیں ہے۔ رجسٹرار صاحب نے پوچھا کہ تمہارا ڈومیسائل کہاں کا ہے، ہمارے پاس کوٹہ سسٹم ہے، میں چیک کرتا ہوں۔ جناب ڈومیسائل تو اندرونِ سندھ کے ایک گاؤں کا ہے۔ ہاں، اس ضلع کی صرف ایک سیٹ ہے۔ جیِ بالکل، وہ ایک سیٹ میری ہے، میرے سے زیادہ نمبر ضلع میں کسی کے بھی نہیں۔ ہاں! مگر آپ کے ضلع سے منتخب ہونے والے قومی اسمبلی کے ممبر ایجوکیشن منسٹرہیں۔ ہاں تو؟ عبداللہ نے بے قراری سے پوچھا۔ تو برخوردار، آئینی طور پر چانسلر کی ایک سیٹ ہوتی ہے اور اس پر ان کا بھانجا تمہارے ہی گاؤں کے ڈومیسائل سے منتخب ہوچکا ہے، 53 فیصد مارکس لینے کے باوجود، اورعب داللہ کو اپنا وجود دھڑام سے فرش بوس ہوتا نظر آیا۔
’’مقصدِ زندگی‘‘ شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہوگیا، وہ دوائیاں، وہ خواب، وہ پراجیکٹس سب خاک میں مل گیا۔ اب کس منہ سے جائے گا واپس۔
*۔۔۔*۔۔۔*
اباّ اب میں کیا کروں؟
عبداللہ آج پھر اپنے بے بس باپ کے سامنے کھڑا پوچھ رہا تھا۔
کچھ دنوں بعد اخبار میں اشتہار آیا کہ پاس والے شہر میں کمپیوٹر سائنس کا بیچلرز پروگرام شروع ہورہا ہے۔ عبداللہ نے پھر صرف یہ سوچ کر فارم جمع کروایا کہ کچھ کرنا نہ کرنے سے بہتر ہے، ورنہ نہ تو اسے کمپیوٹر سائنس کی کوئی سمجھ تھی نہ شوق، پھر وہی 313 کا فارمولا۔ اس بار داخلہ تو مل گیا مگر اسکالر شپ نہ ملی کہ پہلی بار یہ پروگرام شروع ہو رہا تھا اور ایک خلقت تھی جو داخلہ چاہتی تھی، ایسے میں یونیورسٹی کو کیا سوجھی تھی کہ وہ مفت میں داخلے دیتی پھرے۔ 1 ہزار روپے ماہانہ فیس تھی مگر فضلو کے لیے ہزار روپے ماہانہ دینا نا ممکنات میں سے تھا، بہت سمجھایا مگر عبداللہ بس دعائیں ہی مانگتا رہتا۔
’’اے اللہ! تو محتاج نہیں چھوٹے بڑے لوگوں کا، تو جب چاہے جیسے چاہے دے دے، تجھے کوئی بجٹ تھوڑا ہی پاس کرانا ہوتا ہے، اسمبلی سے، تو مجھے ایسے ہی دے دے، دیتا چلا جا، بس دیتا ہی رہے۔ اے اللہ، اے میرے مالک، اے میرے رب، تو مجھے اپنی قدرت کا مظہر بنادے، لوگ مجھے دیکھ کر کہیں کہ جب اللہ کسی کو دینے پر آتا ہے ناں تو وہ ایسے ہی دیتا ہے، جب کسی کو بلاوجہ نوازتا ہے ناں تو وہ ایسا ہی ہوتا ہے، اے میرے اللہ! تو وجہ کا محتاج نہیں تو مجھے بلاوجہ ہی دے دے۔ آمین۔‘‘
*۔۔۔*۔۔۔*
اسکالر شِپ تو نہ ملنی تھی نہ ملی مگر عبداللہ کو شام میں نوکری مل گئی، یونیورسٹی کے ساتھ قائم دھوبی گھاٹ پر۔ دن بھر پڑھنا اور رات بھر کپڑے دھونا، اتنے پیسے مل جاتے کہ عبداللہ فیس جمع کروا دیتا، اور ایک آدھ وقت کچھ کھا بھی لیتا۔
کم کھانے کی عادت تو گُھٹّی سے ملی تھی لہٰذا اگر ایک وقت بھی کھانا مل جائے تو غنیمت تھا۔ پہلا سمسٹر ختم ہوا اور عبداللہ کی 4 میں سے 4 جی پی اے آئی تو سب کو پتہ چلا ’’گُڈری کا لعل‘‘ کسے کہتے ہیں۔ جہاں کچھ دوست بنے وہاں بہت سے دشمن بھی۔
دیکھ، تو پوزیشن مت لایا کر، ایک روز ایک بڑے باپ کی اولاد نے راستہ روک کے عبداللہ سے کہا۔ اس کے باپ کو سب پیر صاحب کے نام سے جانتے تھے اور ان کی یونیورسٹی اور معاشرے میں ’’خداترسی‘‘ کی وجہ سے بڑی شہرت تھی۔ عبداللہ نے مسکراتے ہوئے پوچھا کیوں؟ کیونکہ تو مزارع کی اولاد ہے اور ہم پیر زادے ہیں، گھر والے مذاق اڑاتے ہیں کہ مزارع کا بچہ ٹاپ کررہا ہے اور تم لوگ فیل ہورہے ہو، اب اگر تیری پوزیشن آئی تو ٹانگیں توڑ دیں گے۔
عبداللہ نے پورا عزم کرلیا کہ اگلے سمسٹر میں پوزیشن نہیں لے گا، کیونکہ اگر اس بار پِٹا تو یہاں سے بھی باہر ہوگا اور ابا تو مار ہی ڈالے گا۔ فضلو نے تو اب پیسے بھی مانگنا شروع کر دئیے تھےعبداللہ سے، کہ اکلوتے بیٹے سے نہ مانگے گا تو کس سے مانگے؟ مگر عبداللہ کا تو اپنا گزارہ مشکل سے ہوتا تھا، مانگے کی کتابوں سے تو بھلا وہ گھر پیسے کیسے بھیجتا؟
خیر اگلے امتحانات آئے، عبداللہ نے جانتے بوجھتے ہوئے صرف آدھے سوال حل کیے، حالانکہ اسے پورا پیپر آتا تھا تا کہ پوزیشن نہ آئے صرف پاس ہوجاؤں۔
مگراللہ کا کرنا ایسا کہ باقی کسی سے وہ آدھے سوال بھی حل نہ ہوئے اور بُرے مارکس کے باوجود اس کی پوزیشن آگئی۔ پہلا سمسٹر 4 GPA پہلی پوزیشن، دوسرا سمسٹر 2.8 GPA پہلی پوزیشن، اب بے چارہ کیا کرے اور کہاں جائے؟
پیرصاحب کے بچے اور اس کے دوست جہاں دل چاہتا، عبداللہ کو روک لیتے، کبھی نوٹس پھاڑ دیتے تو کبھی چپل اتروا لیتے۔ عبداللہ صرف ایک درخواست کرتا کہ مجھے عینک سنبھالنے دو، کیونکہ یہ میں Afford نہیں کرسکتا، اب مارو اور یوں پِٹ پِٹ کے دو سال آخر پورے ہونے ہی لگے۔ شاگرد تو شاگرد، عبداللہ اپنے استادوں کے بھی کان کترنے لگا۔ تیسرے سمسٹر میں کمپیوٹر کی مشہور کمپنی نے پروگرامنگ کے مقابلے کروائے، عبداللہ کی پاکستان بھر میں دوسری پوزیشن آگئی۔
*۔۔۔*۔۔۔*
آج عبداللہ کی زندگی کا بڑا اہم دن تھا، آج اس کے بیچلرز پروگرام کا آخری پرچہ تھا، آج کے بعد نہ اس نے کبھی پِٹنا تھا نہ کپڑے دھونے تھے۔ اس کا موڈ تھا کہ پرچہ کرتے ہی وہ سیدھا پھوپھی کے گاؤں چلے جائے گا اور نتیجہ نکلتے ہی شہر میں کوئی نوکری کرلے گا۔ پرچے بھی اس نے آخری سمسٹر میں پورے کیے تھے کہ رزلٹ کے بعد کسی سے ملنے کا موقع کہاں آنا تھا؟
عبداللہ پورے انہماک سے پرچہ کررہا تھا، پرچہ خاصا مشکل تھا مگر عبداللہ کے لیے نہیں، اتنے میں باہر شور اُٹھا، باقی تمام طلباء نے پرچے کوآؤٹ آف کورس قرار دیتے ہوئے کاپیاں پھاڑیں اور پرچے کا بائیکاٹ کرتے ہوئے باہر چلے گئے۔ عبداللہ نے کسی کی فکر کبھی کی تھی جو اب کرتا۔ اس نے سر جھکا کے خاموشی سے جلدی جلدی پیپر کیا اور باہر نکل گیا۔ باہر آیا تو جیسے میلہ لگا ہوتا ہے، لڑکے اور ان کے ہاتھوں میں ڈنڈے اور لاٹھیاں اور سامنے معافی مانگتے ہوئے اساتذہ اور اسٹاف۔
اتنے میں کنڑولر آف ایگزامینشن آئے اور اعلان کیا کہ کیونکہ ایک بچے نے پرچہ مکمل حل کرکے جمع کروا دیا ہے، اس لیے پیپر Count ہوگا، اس کا جو رزلٹ آئے گا، سو آئے گا آپ سب فیل، اور یہ کہہ کر وہ چلے گئے لڑکوں کو یہ معلوم کرنے میں دیر نہ لگی کہ وہ بچہ کون تھا؟ عبداللہ شکرانے کے نفل ادا کرنے مسجد میں داخل ہو ہی رہا تھا کہ ’’پیرصاحب‘‘ کے بچوں اور اس کے دوستوں نے اسے دبوچ لیا۔ بس پھر کیا تھا، مار، گھونسوں، لاتوں، لاٹھیوں اور مکّوں کی وہ تکرار کہ پوری یونیورسٹی اس شور سے گونج اٹھی، عبداللہ کی حالت دیکھ کر اس کے دشمن بھی رو پڑے، لاٹھی مار کے سرخونم خون کردیا، 5 پسلیاں توڑیں، پاؤں کے انگوٹھے کا ناخن کھینچ کے باہر نکال دیا اور جاتے جاتے ہاتھ کی انگلیاں لکڑی کی مدد سے توڑ گئے۔
جسم پر کوئی ایسی جگہ نہیں تھی جہاں زخم نہ آیا ہو، جب غصہ رفو ہوا تو سب لڑکےعبداللہ کو مردہ سمجھ کے چھوڑ کے بھاگ گئے۔ جب تک ہوش رہا عبداللہ صرف ایک ہی بات دہراتا رہا۔
’’اللہ پوچھے گا۔‘‘
کچھ اساتذہ اور بچوں نے مل کے عبداللہ کو یونیورسٹی کی گاڑی میں ڈالا اور اس کے گھر پہنچایا۔ 7 دن بعد عبداللہ کو سرکاری اسپتال کے بستر پر ہوش آیا، ابا کو 20 ہزار روپے ادھار لینا پڑا، اس کی زندگی بچانے کے لیے۔ عبداللہ نے ایک آہ کے ساتھ آنکھ کھولی تو ماں کا روتا ہوا چہرہ سرہانے پایا، ماں کا غم ہلکا کرنے کو وہ مصنوعی ہنسی کے ساتھ گویا ہوا، اماں مرا تھوڑی ہی ہوں ابھی زندہ ہوں، تو رو کیوں رہی ہے؟
عبداللہ تو مر ہی جاتا تو اچھا ہوتا، اس عمر میں بوڑھے باپ کو یہ دن تو نہ دیکھنے پڑتے۔ پیر صاحب نے پولیس بھیج دی تھی، محلے والوں نے بڑی مشکل سے ’’معافی نامہ‘‘ دے کرجان چھڑائی ہے۔ پیرصاحب نے 4 گھنٹوں تک گھر کی صفائی بھی کروائی۔ عبداللہ اس سے اچھا ہوتا کہ تو پیدا ہی نہ ہوا ہوتا، اور ماں روتے روتے کمرے سے باہر نکل گئی۔ عبداللہ نے آسمان کی طرف نظر کی اور مسکراتے ہوئے شعرپڑھا،
وہ کیا کرے جو تیری بدولت نہ ہنس سکا
اور جس پہ اتفاق سے آنسو حرام ہیں
عبداللہ نے شعر ابھی پورا کیا ہی تھا کہ کمرے کا دروازہ کھلا اور سرعبدالرحمن اور چاچا دینو دونوں چلتے ہوئے آئے۔ عبداللہ نے پوری کوشش کی کہ اٹُھ کر ان کا استقبال کرسکے مگرجسم نے ساتھ نہ دیا۔ اس نے پھرمسکراتے ہوئے شعر پڑھا
اے درد تو ہی اُٹھ کہ وہ آئے ہیں دیکھنے
تعظیم کی مریض میں طاقت نہیں رہی
عبدالرحمن صاحب اورچاچا دینو نے خوب پیار کیا اور ڈھیر ساری دعائیں دیں۔ عبداللہ نے چاچا دینو سے پوچھا، چاچا کوئی موٹی سی بددعا بتا کہ مانگوں اور سامنے والوں کا بیڑہ غرق ہوجائے۔
چاچا نے سنتے ہوئے کہا، بیٹا معاف کردے، ایسے نہیں کہتے۔
نہیں چاچا میں سنجیدہ ہوں، اتنی دعائیں بتاتا ہے، بغیر پوچھے ہی، ایک بد دعا بھی سِکھا دے پوچھنے پر۔
عبداللہ! چپ سے بڑی بد دعا کوئی نہیں ہوتی، جب بندہ بولتا ہے ناں تو قدرت خاموش رہتی ہے، جب بندہ چپ ہوجاتا ہے تو قدرت انتقام لیتی ہے اوراس کا انتقام بہت بُرا ہے۔ عبداللہ نے سمجھنے نہ سمجھنے کی کیفیت میں التجائیہ نظروں سے عبدالرحمن صاحب کی طرف دیکھا، انہوں نے اشکبار آنکھوں سے یہ آیت پڑھی:
سورۃ الانعام۶:۵۴
’’غرض ظالم لوگوں کی جڑ کاٹ دی گئی اور سب تعریف اللہ رب العالمین ہی کیلئے ہے۔‘‘
*۔۔۔*۔۔۔*

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: