Khoj Novel by Zeeshan Ul Hassan Usmani – Episode 4

0

کھوج از ذیشان الحسن عثمانی – قسط نمبر 4

–**–**–


گذشتہ سے پیوستہ)
کچھ دن بعد لڑکھڑاتے ہوئےعبداللہ اسپتال سے اپنے گھر میں داخل ہورہا تھا۔
ابا! تو نے معافی کس بات کی مانگی، مارا تو انہوں نے تھا، تو اتنا غریب اور ڈرپوک کیوں ہے؟
دیکھ اباّ، آپ میرے ماں باپ ہو، مجھےعزیز ہو، مگر جس طرح زندگی آپ گذار رہے ہو اور مجھے دے رہے ہو، مجھے یہ زندگی نہیں چاہئے۔
اسی کا نام زندگی ہے تو میں آج اسے اپنے ہاتھوں سے ختم کردوں گا۔
نہ آپ ڈھنگ سے روٹی دے سکتے ہو، نہ کپڑے نہ چھت، نہ ہی میری حفاظت کرسکتے ہو اور نہ ہی ان لوگوں کے خلاف پرچہ کرسکتے ہو، جنہوں نے ساری یونیورسٹی کے سامنے مجھے مارا۔ میں آج دریائے سندھ پہ جا کے خود کشی کروں گا اور جب خدا کے پاس پہنچوں گا تو خود اپنے اللہ سے بات کروں گا۔
یہ گفتگو سن کے فضلو اور عبداللہ کی ماں رونے لگی اور روتے روتے کہنے لگی نہ میرے لعل ہمیں معلوم ہے قصور تیرا نہیں ہے، یہ تو تیری قسمت ہی ایسی ہے۔
تو محنتی تو ہے ناں، تو بس محنت کئے جا اور ایک دن تو ضرور کامیاب ہوجائے گا، سکس پھول (Successful) بن جاؤے گا۔
اس جملے نے عبداللہ کی سوچ کا دھارا کہیں اور بدل دیا۔ ابا کیا مطلب، کامیابی (Success) کسے کہتے ہیں؟ میں ایسا کیا کروں کہ تو فخر سے کہے کہ میرا بیٹا کامیاب ہوگیا۔ بتانا اور میں بالکل ویسا ہی کروں گا۔
دیکھ عبداللہ! پاکستان میں 99 فیصد مسائل پیسے سے حل ہوجاتے ہیں تو اگر لاکھ روپے مہینہ کمالے تو میں سمجھوں گا تو کامیاب انسان ہے۔ ابا دماغ خراب ہوگیا ہے کیا، لاکھ کبھی خواب میں بھی دیکھے ہیں؟
خیر عبداللہ نے کاغذ پنسل نکالا اور زخمی انگلیوں سے کسی نہ کسی طرح لکھ ہی ڈالا کہ لاکھ روپے مہینہ کمانا ہے۔ اچھا اماں، تو بتا، تو کسے کامیابی کہتی ہے، تیرے لیے کیا کروں۔ بیٹا مجھے پیسہ ویسہ نہیں چاہئے، تیری خوب صورت سی دلہن ہو اور میرے خوب صورت سے پوتے، مجھے اس دنیا سے اور کچھ نہیں چاہئیے، عبداللہ نے یہ بھی لکھ دیا کہ خوب صورت لڑکی سے شادی کرنی ہے اور بچے پیدا کرنے ہیں۔ پھر اس کے بعد تو جیسے عبداللہ کے ہاتھ میں مشغلہ آگیا، وہ جگہ جگہ جاتا اور سب سے پوچھتا کہ کامیابی (Success) کیا ہے؟ میں ایسا کیا کروں کہ آپ سب لوگ کہنے پر مجبور ہوجائیں کہ میں کامیاب ہوں۔
محلے والے، مسجد والے، چوھدری صاحب، اساتذہ، جنہوں نے مارا تھا، پیر صاحب الغرض ہر وہ بندہ جس سے عبداللہ بات کرسکتا اس سے وہ یہی ایک سوال پوچھتا رہا۔
پیرصاحب نے کہا، جس دن تو یہاں گاڑی میں بیٹھ کر آئے گا میں سمجھوں گا تو کامیاب ہے۔ کسی نے راڈو کی گھڑی بتائی تو کسی نے کوئی گاڑی، کسی نے ملک کی مشہور یونیورسٹی میں جانے کا نام لیا تو کسی نے کتاب لکھنے کو کامیابی ٹھہرایا، کسی نے امریکہ اور کینڈا میں جانے کو کامیابی کہا تو کسی نےM.I.T سے پڑھنے کو، کسی نے ناسا میں کام کو کامیابی بتایا تو کسی نے کوئی بڑی اسکالر شِپ کا نام لیا، کسی نے سعودی عرب کا نام لیا تو کسی نے جزیرہ ہوائی کا، الغرض جتنے منہ اتنی باتیں۔
عبداللہ کے پاس کوئی لگ بھگ 200 کے قریب وضاحتیں جمع ہوگئیں اس ایک لفظ ’’کامیابی‘‘ کی، جسے آس پاس کے لوگ اور ہمارا معاشرہ ’’کامیابی‘‘ گردانتا ہے۔
*۔۔۔*۔۔۔*
عبداللہ نے آج رات اللہ کو پھر خط لکھا،
’’میرے پیارے اللہ سائیں!
اللہ سائیں، توجانتا ہے کہ کیا ہوا، کس نے کب کب مارا، کیوں کیوں مارا، کس لیے مارا، تو، تو ہے میں، میں ہوں۔
میرے مالک! میں نے تو کہا تھا کہ مجھے اپنی قدرت کا مظہر بنادے، یہ کیا کیا تو نے کہ عذاب کو بھی شرم آئے، میرے مالک یہ اگر میرے گناہوں کی سزا ہے تو معاف کردے، سخی کی شان ہوتی ہے کہ وہ پکڑے تو چھوڑ دیا کرتا ہے۔
اگر یہ آزمائش ہے تو یا الٰہی مجھے کب دعویٰ ہے طاقت کا، میں تو ایک غریب، کمزور اور مفلوک الحال شخص ہوں، کچھ اگر ہے عمر بھر کے سرمائے میں تو، تجھ پر یقین، تیری محبت، تیرا نام۔ تو اگر چاہے تو ذلیل کروا دے، چاہے تو عزت دے دے، میں شکایت نہیں کروں گا، مگر التجا ہے دو جہاں، کل کائنات کے سرکار، میری سن، مجھےعزت دے دے، تیرے لیے کیا مشکل ہے کہ تو کم ترچیزوں میں سے عزت دے دے، حقیر کو تاج پہنادے اور لوگ اسے بادشاہ سمجھتے ہوئے تالیاں بجائیں۔
یاالٰہی، اب زندگی کا مقصد 198 چیزیں ہیں جو، دنیا والوں نے لسٹ میں لکھوائی ہیں۔ یہ میری زندگی کامقصد، یہی ترجیحات ہیں۔
بظاہر یہ سب نا ممکنات میں سے ہیں، ہزار روپے ماہانہ سے لاکھ روپے ماہانہ پر جمپ، پیدل سے گاڑی، اور ایسے شخص کا امریکہ جانا جسے آج تک ٹرین میں بیٹھنا نصیب نہ ہوا ہو، ایک دیوانے کی بڑ ہی تو ہے۔
کون مانے گا کہ یہ لسٹ یا اِن میں سے 10 فیصد بھی پوری ہوسکتی ہیں، اے میرے مالک! اپنے آپ کو دیکھتا ہوں توسانسیں بھی اُدھار لگتی ہیں، تجھ پہ نظر کرتا ہوں تو یہ لسٹ ہیچ نظر آتی ہے، تو کروا دے پوری، اپنی شان سے، بلاوجہ کروا دے، تو بول دے کُن فیکون ہوجا وے گا، تو دینے والا اور میں لینے کو بے تاب بیٹھا ہوں۔
اے میرے مالک! میں تیرا نام لے کر شرط لگانے جارہا ہوں، دنیا سے، دیکھ رسوانہ کر وائیو، یہ بے نام تیرے نام پہ اِتراتا ہے، لاج رکھ لے۔ اگر تو نے لسٹ پوری کروا دی اور مجھے (Successful) بنادیا، تو میرا وعدہ جو تو کہے گا، وہ کروں گا اور اس کے خلاف کچھ بھی نہ کروں گا، میرا وعدہ ہے میرے مولا۔
یہ عبداللہ کا وعدہ ہے اپنے اللہ سے۔
میرے اللہ میں یہ لسٹ اس خط کے ساتھ منسلک کررہا ہوں۔ تو قبول کیجیؤ، میرے رب! بس تجھ سے ہی وفا کی اُمید ہے آمین! ثم آمین!
*۔۔۔*۔۔۔*
کچھ ہی روز بعد نتیجے کا اعلان ہوا، عبداللہ کی یونیورسٹی میں سیکنڈ پوزیشن آئی۔ اُس نے یہ جاننے کی زحمت ہی نہ کی کہ فرسٹ کون، کیونکر اور کیسے آیا۔ ابا سے 300 روپے لئے اور شہر روانہ ہوگیا۔ اب ماسٹرز میں داخلہ بھی لینا تھا اور جاب بھی ڈھونڈنی تھی اور رہنے کا انتظام بھی کرنا تھا۔ 300 میں سے 60 روپے کرائے میں چلے گئے تھے بس کے۔ جس یونیورسٹی نے بیِ فارمیسی میں داخلہ نہیں دیا تھا وہاں جانے کا من نہیں ہوا، پرائیویٹ یونیورسٹیز کی فیس اتنی زیادہ کہ داخلے کا سوچ بھی نہ سکتا تھا، ایسے میں ایک پرائیویٹ یونیورسٹی کا اشتہار نظر آیا جسے کمپیوٹر لیب میں اسسٹنٹ درکار تھا، پیسے بچانے کی غرض سے کوئی چار میل پیدل چل کے پہنچا تو حلیہ بہت خراب تھا۔
پاؤں میں گرد آلود چپل، شلوارقمیص اور سادگی، پرائیویٹ یونیورسٹی کے انفارمیشن ڈیسک پہ بیٹھی خاتون نے ایسے بات کی کہ جیسے وہ کوئی فقیر ہو۔ میم، داخلہ فارم دے دیں M.Sc میں ایڈمشن کا۔ ہزار روپے کا ہے، آپ کے پاس پیسے ہیں؟ جی نہیں۔
تو بیٹا فارم خریدنے کے پیسے تو ہے نہیں تو فیس کہاں سے دوگے؟
پتہ نہیں، اچھا آپ کے پاس لیب اسٹنٹ کی جاب آئی ہے؟ ہاں! مگرتمہاری جاب کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔
کیوں؟ اپناحلیہ دیکھا ہے؟ وہ تو میں سفرسے آرہا ہوں نا، میں ٹھیک کرلوں گا۔
اچھا بیٹھو، ابھی لیب انچارج آتے ہیں تو میں بات کراتی ہوں تمہاری۔ آپ کے پاس واش روم ہے، عبداللہ نے تھوڑی دیر بعد کہا تو میم نے اسٹاف واش روم کی طرف اشارہ کردیا اور عبداللہ جھٹ گھس گیا کہ انٹرویو سے پہلے ہاتھ منہ دھو لے۔
واش روم میں بھی وہ دعا ہی مانگ رہا تھا۔
’’یااللہ! ان جلاّدوں کے دل میں رحم ڈال، جاب دلا دے تو بعد میں پڑھائی کی بھی کوئی صورت نکلے، تو رحم کر میرے اللہ، وعدہ یاد ہے نا! مجھے بھی یاد ہے۔‘‘
عبداللہ اپنی دھن میں مگن مانگے جارہا تھا، اور اسے خبر بھی نہ ہوئی کہ کب کون ساتھ والے واش روم میں آیا اور چلا بھی گیا۔ عبداللہ باہر نکلا تو وہ میم صاحب گرم ہوگئیں۔ تمہارے باپ کا گھر ہے، جا کر بیٹھ ہی گئے۔ رفیع صاحب آئے تھے انہوں نے تمہیں دیکھ لیا ہوگا تو کیا کہیں گے، وہ یونیورسٹی کے ریکٹر ہیں، اورغصے کے بہت تیز، دفع ہوجاؤ اب یہاں سے۔ عبداللہ کی تو جیسے جان ہی نکل گئی، اس نے ابھی مین گیٹ سے باہر قدم ہی رکھے تھے کہ سیکیورٹی گارڈ بھاگتا ہوا اس کی طرف آیا۔
عبداللہ کے ہاتھ اور پاؤں منجمد ہوگئے، صرف دل سے اتنا نکل سکا، اللہ اب نہ پٹوں، زبان تو گنگ ہوگئی تھی۔ چلو، تم کو بڑے صاحب نے بُلوایا ہے۔
ک ک کس کو؟
تمہیں لڑکے اور کسے؟ یہ کہہ کر گارڈ تقریباً عبداللہ کو پکڑ کر ریکٹر آفس میں لے گیا۔ سامنے کوئی 50 برس کے انتہائی حلیم پرسنیلٹی والے صاحب بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے مسکرا کر دیکھا اور کہا بچے کیا نام ہے آپ کا؟ عبداللہ اتنا پریشان ہوا کہ اس کے منہ سے ریکٹر کا نام نکل گیا۔ رفیع، جی رفیع، اوہ میرا مطلب ہے عبداللہ۔
آج زندگی میں پہلی بار عبداللہ کو کسی نے’’آپ‘‘ کہہ کر مخاطب کیا تھا۔
بیٹھ جاؤ، چائے پیو گے؟
نن نن نہیں، میں ٹھیک ہوں۔
مگر ریکٹرصاحب نے چائے اور بسکٹ لانے کا کہہ دیا۔
جب تک عبداللہ چائے اور اس میں بسکٹ ڈبو ڈبو کر کھاتا رہا، وہ چپ چاپ اسے دیکھتے رہے۔ جب عبداللہ فارغ ہوا تو کہنے لگے، کیوں آئے ہو آج یونیورسٹی میں؟
اور عبداللہ نے ایک سانس میں جاب اور پڑھائی دونوں کی کتھا سنادی۔
کام تو ہم تمہیں دے دیں گے مگر کیا کر بھی لوگے؟
عبداللہ نے اپنی تعلیمی اسناد سامنے رکھ دیں اور کہا کہ سر کمپیوٹر پروگرامنگ جیسے مجھے آتی ہے شاید ہی دنیا میں کسی کو آتی ہو۔
ٹھیک ہے، کل سے کام پر آجاؤ، صبح 9 سے 4 بجے تک کام اور شام 4:30 بجے سے8 بجے تک شام کی کلاسوں میں ماسٹرز کر لو۔
فیس میں نے معاف کردی ہے، تنخواہ 6 ہزار روپے مہینہ بولو! منظور ہے؟
آپ مذاق تو نہیں کر رہے؟
نہیں، میرے پاس اتنا ٹائم نہیں ہوتا۔
جی، میں حاضر ہوجاؤں گا، اب اجازت۔
اچھا سنو! رہتے کہاں ہو؟
جی، ابا کے دوست ہیں فلاں جگہ پر ان کے پاس کچھ دن گزاروں گا۔
اوہو، وہ جگہ تو یہاں سے کوئی 60 میل دور ہے۔
تم لائبریری میں سو سکتے ہو؟
جی بالکل، میں جھاڑو لگا کے صاف بھی کردیا کروں گا۔
نہیں جھاڑو لگانے والے بہت ہیں، ٹھیک ہے کل آؤ پھر کچھ سوچتے ہیں۔
عبداللہ پھولا نہیں سما رہا تھا، شہر میں پہلا دن، جاب اور پڑھائی، رہائش سب مل گئے۔
آج اسے رَبَّ اِ نِّی والی دعا کا اِدراک ہوا۔ پوری رات مسجد میں بیٹھا اپنے اللہ سائیں کا شکر ادا کرتا رہا۔
*۔۔۔*۔۔۔*
کچھ روز بعد ریکٹرصاحب آئے تو عبداللہ لائبریری میں رات کے وقت کتابیں سر کے نیچے رکھ کے لیٹا ہوا تھا۔ ریکٹر صاحب نے بلایا، اپنی گاڑی میں بٹھایا اور بازار لے گئے۔ پینٹ شرٹس، ٹوپی، بنیان، بیلٹ، جوتے، پرفیوم اور پین کیا نہیں تھا، جو انہوں نے نہ دلایا ہو۔ عبداللہ کی تو باچھیں ہی کھِل گئیں، Cross کا پین، Mark & Spencer کی شرٹس اور Levis کی جینز۔ اور یوں عبداللہ کی نوکری اور پڑھائی چلتی رہی۔ 3 سالوں کے عرصے میں عبداللہ نے ماسٹرز بھی کرلیا، امتیازی نمبروں کے ساتھ اور نوکری میں ترقی کرتا ہوا لیکچرار بھی بن گیا اسی یونیورسٹی میں۔
مگر ان تین سالوں میں وہ یونیورسٹی سے سوائے جمعہ یاعید پڑھنے کے کبھی باہر نہیں گیا۔ ماں، باپ اور سر عبدالرحمن سے فون پر بات ہوجاتی اور پھوپھی اور چاچا دینو سے خط کے ذریعے۔
کچھ سالوں سے چاچا دینو، ہر سال حج پر جارہے تھے، پورے سال پیسے جمع کرتے، کم پڑجاتے توعین موقع پر کوئی پیسے دے دیتا اور چاچا دینو یہ جا وہ جا۔ ایک دن عبداللہ نے خط میں ان سے پوچھا۔ چاچا، گورنمنٹ کا کوٹہ ہوتا ہے، تم ہر سال ایک آدمی کی سیٹ مارتے ہو، فرض تو ایک بار ہوتا ہے نا تم بار بار کیوں جاتے ہو؟
اگر کوئی آدمی نہ جا سکا اور مرگیا اگلے سال سے پہلے تو گناہ تمہاری گردن پر ہوگا۔ چاچا دینو کاجواب ملا،
’’بیٹا میں تو فارم جمع کروا دیتا ہوں، ہر سال قرعہ اندازی میں میرا نام ہی کیوں نکلے ہے؟ وہ بلاوے ہے تو جاؤں ناں؟ خود سے تھوڑا ہی جاتا ہوں‘‘۔
اس سال عبداللہ نے چاچا دینو کے ساتھ اپنے باپ کو بھی حج پہ بھیج دیا، اب اس کی تنخواہ لگ بھگ 20 ہزار کے قریب ہوچکی تھی، ابا حج سے آیا تو اعلان کیا کہ اس کے گروپ میں شہر کے کوئی صاحب تھے اور ان کی لڑکی سے عبداللہ کی شادی پکی کر آئے ہیں۔ عبداللہ نے جھٹ اپنی TDL کھولی۔ ’’خوب صورتی‘‘ کی کنفرمیشن کرائی اپنی ماں سے اور شادی کرلی بِنا لڑکی کو دیکھے بِنا نام پوچھے۔
بیناعبداللہ کی دلہن کا نام تھا، جسے وہ پیارسے بلّو بلاتا تھا۔
شبِ عروسی میں گھونگھٹ کھول کے عبداللہ نے یہ شعرپڑھا،
تو نے چھو کر مجھے پتھر سے پھر انسان کیا
مدتوں بعد میری آنکھ میں آنسو آئے
بلّو نے عبداللہ کو اِک نئی زندگی سے روشناس کرایا، وہ اچھے گھر سے آئی تھی اور عمر بھی صرف 16 سال کی تھی، عبداللہ اس وقت بمشکل 21، 22 کا ہی تھا۔ بلّو نے عبداللہ کو بڑے ہوٹلوں میں کھانا، اچھا پہننا اور انگریزی سِکھائی اور عبداللہ کچھ ہی روز میں مریضِ عشق بن گیا۔
کہاں تک در بدر پھرتے رہیں گے
تمہارے دل میں گھر کرنا پڑے گا
ہنی مون کے لیے وہ بیوی کو لے کر کشمیر چلا گیا، زندگی میں پہلی بار اتنی ساری خوشیاں اتنے تواتر سے ملی تھیں کہ عبداللہ کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ انہیں ہینڈل کیسے کرے۔ وہ ہر بات پہ بلّو کو ایک شعر سناتا اور وہ شرما کے دہری ہوجاتی ۔
بیٹھے رہو ایسی بھی مصور سے حیا کیا
کاہے کو کھنچے جاتے ہو تصویر سے پہلے
کچھ ہی عرصے بعد عبداللہ ایک پیارے بیٹے کا باپ بن گیا، جس کا نام اس نے اپنے استاد کے نام پر’’عبدالرحمن‘‘ رکھ دیا، اور یوں TDL سے ایک کام اور کٹ گیا۔ عبداللہ نے اب دنیا بھر کی اسکالر شِپ اور ملک کی مایہ ناز یونیورسٹیز میں داخلے کے لئے Apply کرنا شروع کر دیا۔ روز اخبار میں سے تراشے نکالتا اور رات بھر آفس سے ملنے والے لیپ ٹاپ پہ کام کرتا رہتا، اسی اثنا میں اس نے مختلف رسائل میں کمپیوٹر سائنس پر لکھنا بھی شروع کر دیا۔
پڑھانے کی کوئی فکر اسے تھی نہیں کہ کمپیوٹر کے 10 سے اوپر مضامین کی کتابیں اسے منہ زبانی یاد تھیں، صرف ایک مارکر اور بورڈ چاہئے اور عبداللہ شروع۔
یونیورسٹی میں اس کی پہچان بہترین ٹیچر کے طور پر ہوتی جو طالب علموں کے تمام سوالات کے جواب دیتا۔ اب آہستہ آہستہ عبداللہ یونیورسٹی کی سینئر مینجمنٹ میں مقام بنانے لگا تھا۔ آج عبداللہ کو ملک کی سب سے بڑی یونیورسٹی سے فون کال آئی۔
جیِ آپ نے ہمارے Ms leading to Phd پروگرام میں اپلائی کیا ہے، مگر آپ کے 40 کریڈٹ ہاورز کم ہیں۔ گورنمنٹ نے کچھ عرصہ پہلے بیچلرز پروگرام 4 سال کا کردیا ہے جب کہ آپ نے 2 سال کا کیا ہے۔ تو آپ کے ماسٹرز کے کورسز ملانے کے باوجود آپ کی 40 کریڈٹ ہاورز کم ہیں، آپ انہیں مکمل کرکے اگلے سال پھر اپلائی کیجئے گا۔ ہماری یونیورسٹی کے انتخاب کا شکریہ۔
یااللہ! یہ کیا مصیبت ہے؟ 2 سال میں یہ حال ہوا تھا اگر 4 سال لگاتا تو جنازہ ہی نکل جاتا، اب یہ یونیورسٹی TDL لسٹ پر بھی تھی، چھوڑ تو سکتا نہیں تھا، تو عبداللہ نے اسی یونیورسٹی میں جہاں کام کرتا تھا ویک اینڈز پرایگزیکٹو پروگرام میں داخلہ لے لیا۔ ایک سال میں ایک ماسٹرز اور کر لیا، یہ بھی کمپیوٹرسائنس میں۔
اگلے سال پھر ایڈمیشن نہ ملا، 8 کریڈٹ ہاورز کا فرق رہ گیا، اب عبداللہ نے شہر کی ایک اور یونیورسٹی میں شام میں ماسٹرز پروگرام میں داخلہ لے لیا، کمپیوٹر سائنس پہ اتنا عبور تھا کہ کلاس لے یا نہ لے کوئی فرق نہ پڑتا تھا۔ اس بات کو نئی یونیورسٹی کے وائس پریزیڈنٹ نے فوراً نوٹ کر لیا ان کا نام تھا ڈاکٹر حیدر۔
ایک دن عبداللہ کو اپنے آفس میں بلایا اور کہا کہ ’’میاں ،کیوں ٹائم ضائع کر رہے ہو؟ عبداللہ نے سارا ماجرا کہہ سنایا، کہنے لگے اس سال اپلائی کرو تو Recommendation لیٹر مجھ سے لکھوا لینا۔
پتہ نہیں انہوں نے ایسا کیا لکھا کہ بڑی یونیورسٹی میں داخلہ بھی ہوگیا اور %100 اسکالر شپ بھی مل گئی اور ساتھ میں Teaching Assistant کی جاب اور 15 ہزار تنخواہ بھی۔
اب ایک طرف TDL کا ایک ٹاسک تو دوسری طرف لگی لگائی جاب، بیوی، بچہ ، یہاں تنخواہ لگ بھگ کوئی 60 ہزار روپے ہوچکی تھی، مگر عبداللہ نے جو ٹھان لی سوٹھان لی۔ اپنی بلّو سے مشورہ کیا، اس نے کیا کہنا تھا، ہاں میں ہاں ملادی اور یوں عبداللہ نے استعفیٰ جمع کروا دیا۔ ڈر تھا تو صرف ایک کہ رفیع صاحب کا سامنا کیسے کرے گا کہ وہ احسان کرنے والے تھے، انہوں نے منع کردیا تو کیا ہوگا۔ آج عبداللہ جو کچھ بھی تھا وہ اوپر اللہ اور نیچے رفیع صاحب کی ہی بدولت تو تھا۔
آج وہ رفیع صاحب کے سامنے بیٹھا ہوا تھا۔ انہوں نے کہا،
دیکھوعبداللہ تم جانتے ہو کہ تم مجھے کتنےعزیز ہو، میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ تم جذباتی کوئی فیصلہ نہ لو، تمہاری عمر کیا ہے؟
سر 23 سال۔
اور تنخواہ؟
سر60 ہزار کے لگ بھگ۔
اللہ کے بندے، اس عمرمیں یہ تنخواہ، خوبصورت بیوی اور بچہ، لائف سیٹ ہے اور تم استعفیٰ دے کر پھر سے طالب علم بننے کاسوچ رہے ہو۔ This is Financial Suicide
جی سر بالکل، کسی سے شرط لگا بیٹھا ہوں جانا ہوگا۔ کس سے شرط لگائی ہے؟ میں بات کرتا ہوں اس سے۔ نہیں سر رہنے دیں، بس اجازت مرحمت فرمادیں، اللہ آپ کا بھلا کرے گا۔ چلو میں تمہیں ایک آفر دیتا ہوں، تم مجھ سے 5 سال کا کانٹریکٹ سائن کرلو، میں تمہاری تنخواہ بڑھا کے ایک لاکھ کر دیتا ہوں، مگر 5 سال تک پھر جانے کا نام نہیں لینا۔
عبداللہ کے سامنے اپنے باپ کے الفاظ گونج اٹھے۔
مگر اس نے دل پر پتھر رکھ کے کہا۔
سر ایک بات بتائیں۔
ایک آدمی کتنے فی صد بچت کرسکتا ہے؟ کیونکہ اکنامکس کا کلیہ ہے،
Expenses are raised to meet the Income.
آپ جتنا زیادہ کماتے ہیں آپ کے خرچے اتنے ہی بڑھ جاتے ہیں۔
کم کمانے والے بسوں میں سفر کرتے ہیں اور ان کے بچے نئی روشنی میں جاتے ہیں، زیادہ کمانے والے جہازوں میں اڑتے ہیں اور ان کے بچے پرائیوٹ اسکولوں میں مہنگی تعلیم حاصل کرتے ہیں، بچتا کچھ نہیں ہے دونوں کے پاس۔
یورپ والے مشہور ہیں بچت کے لیے وہ بھی صرف 5 فی صد بچا پاتے ہیں۔
دیکھو اگر دھیان سے خرچ کرو تو شاید 50 فی صد تک بھی بچالو، رفیع صاحب نے کہا۔ سر یہ بتائیں، آپ کے پاس جو امپورٹڈ گاڑی ہے وہ کتنے کی ہے؟ 88 لاکھ۔
اچھا اور ڈیفنس کا گھر؟ 6 کروڑ، تو سر اگر میں یہ ’’شاندار‘‘ جاب پوری زندگی کرتا رہوں اور میری آنے والی سات نسلیں بھی کرتی رہیں تو میں نہ آپ کے جیسا گھر لے سکتا ہوں نہ کار۔ بھاڑ میں جائے ایسی جاب۔
میری منزل کچھ اور ہے سر مجھے جانا ہوگا، اور آخر کار ریکٹر صاحب نے استعفیٰ پہ دکھی دل کے ساتھ دستخط کر دیئے، وہ پودا جو اُنہوں نے 5 سال پہلے لگایا تھا آج ایک تناور درخت تھا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: