Khoj Novel by Zeeshan Ul Hassan Usmani – Episode 6

0

کھوج از ذیشان الحسن عثمانی – قسط نمبر 6

–**–**–

آج عبداللہ نے نہا دھو کر نئے کپڑے پہنے، مسجد میں جا کر نماز پڑھی، بیوی بچوں کے ساتھ کھانا کھایا، سب ہی اس کایا پلٹ پر حیران تھے، بِلّو کو یہ کسی طوفان کا پیش خیمہ لگ رہا تھا۔
جب علیحدگی نصیب ہوئی تو وہ عبداللہ سے کہنے لگی، عبداللہ! کیا ہوا، تم ٹھیک تو ہو؟ کہیں انٹرویو کے لیے جارہے ہو کیا؟
نہیں بِلّو، اب مجھ سے یہ درد نہیں سہا جاتا، آج فیصلہ ہو کر ہی رہے گا۔
کیا مطلب؟
آج میں ایک بار پھر آخری بار، اللہ سے مانگوں گا، اپنے سوالات کے جوابات، اور دل کا سکون، اگر مل گیا تو ٹھیک، ورنہ ۔۔۔
ورنہ کیا؟ بِلّو کے منہ سے چیخ نکلی۔ ورنہ میرے بچوں کا خیال رکھنا۔
بِلّو تو مصلّے پر ڈھیر ہوگئی کہ اُسے عبداللہ کے آہنی عزم کا بھرپور ادراک تھا، پتہ نہیں کب تک وہ کیا کیا مانگتی رہی اسے خبر تھی کہ آج فیصلے کی رات ہے۔
جب سارے گھر والے سو چکے تو عبداللہ چپکے سے اُٹھا اور کمرے سے باہر نکل گیا، بِلّو نے بھی چپکے سے پیروی کی۔
عبداللہ، برابر والے کمرے میں مصلّے پر تہجد پڑھ رہا تھا، نماز سے فراغت کے بعد اس نے ہاتھ اُٹھائے۔
اللہ سائیں!
تجھے تو پتہ ہے کیا ہوا؟ میں ہار گیا اللہ سائیں۔ وہ بد نصیب کہ جو سب جیت کے بھی ہار گیا اور تو ایسا بے نیاز کہ سب کچھ دے کے بھی پرواہ نہیں۔
میرے اللہ، دیکھ میری مدد کر، ورنہ میں مرجاؤں گا، میں نہیں رہ سکتا، زندہ اب بغیر TDL کے، تو مجھے دے نئی TDL، ایسی TDL کہ جس کے ہر آئیٹم کو ٹِک کر کے میں تجھ سے قریب ہوجاؤں، میں تجھ سے راضی تو مجھ سے راضی ہوجائے، اور سوال دینے والے اللہ، جواب بھی دے دے، میرا بھی مسئلہ Solve کردے، اللہ میرے لیے کافی ہو جا، کھول دے بند گرہیں، ڈال دے دماغ میں کچھ، ختم کر یہ کشمکش، کردے رحم، دے دے آگہی، سُجھادے کوئی راہ، کردے رہنمائی، تو کچھ لوگوں کوچھوڑ دیتا ہے بھٹکنے کو، کچھ کو راہ دکھاتا ہے، تو کسی کا ہاتھ پکڑ کر اسے چلاتا ہے، اے میرے شہہ رگ سے قریب اللہ! میرا ہاتھ پکڑ، مجھے راہ دکھا، میرے پاس آ، میری مدد کر، اے غار میں سکینہ اُتارنے والے اللہ، اے میرے مالک، اے میرے مولا، اے میرے پالن ہار، میڈا سائیں، میڈا یار، میرے مالک، آ جانا، ہاتھ پکڑ، راستہ دکھا، روشنی دے اپنے نور میں سے، میرے آگے روشنی کر میرے پیچھے کر، میری دائیں کر میرے بائیں کر، میرے اوپر کر میرے نیچے کر، میں کیا کہوں گا منکر نکیر کو اگر پوچھ بیٹھے فِیْمَ کُنْتُمْ؟
مارا جاؤں گا میرے اللہ، میری TDL انگارہ بنا کے نہ لگا دی جا وے۔ رحم کر میرے مولا، تو کر بھی لے، تجھے تیرے رحم کا واسطہ، تیرے حبیب صلی اللہ علیہ وآل وسلم کا واسطہ، واسطہ اس صحابیؓ کا جس کا سر شگافتہ ہوگیا تھا تلوار سے اور وہ کہہ رہا تھا،
فُزْتُ وَرَبُّ الْکَعْبَۃ(۱)۔
واسطہ اس بات کا کہ تو میرا اللہ ہے اور میں تیرا بندہ۔
بچالے مجھے میرے مالک، میری سرکار، کر بھی دے مدد، سن بھی لے میرے مولا۔
میرے اللہ، سخی کی شان نہیں ہوتی کہ دے کر واپس لے، میرے مولا تو معاف کردے، دیکھ میں سجدے میں گرگیا، دیکھ میں نے ناک رگڑ لی، سجدے سے زیادہ Defenseless پوزیشن تو کوئی بھی نہیں ہے، میرے اللہ ۔۔۔۔ میں تیری توحید کا اقرار کرتا ہوں، میرے رب، شرک سے بچتا ہوں میرے اللہ، ان دونوں کے بیچ میں ہونے والے گناہوں کو معاف کردے۔
تو نے اپنا بنا کے چھوڑ دیا
کیا اسیری ہے کیا رہائی ہے
حشر میں حساب نہ کرنا میرے اللہ، ایسے ہی چھوڑدینا میرے اللہ، تو پوچھیو نہیں میرے اللہ، تو پوچھیو نہیں میرے اللہ، تو پوچھیو نہیں میرے اللہ۔
اور اس کے بعد عبداللہ کی آواز جیسے گنگ ہوگئی، بول تو کچھ رہا تھا، مگر الفاظ پلّے نہیں پڑ رہے تھے، رونے، سسکیوں، آہوں کی آواز میں سب کچھ دب چکا تھا، وہ ایسے ہوا میں ہاتھ مار رہا تھا جیسے کوئی ڈوبنے والا بچاؤ کے لیے ہاتھ پاؤں چلاتا ہے، بلّو جو یہ سب کچھ دیکھ رہی تھی وہ دھڑام سے گر گئی اور نجانے کب عبداللہ کو بھی نیند آگئی۔
بات ادھوری مگر اثر دونا
اچھی لکنت زبان میں آئی
صبح جب بِلّو اُٹھی تو رات کے واقعہ کی وجہ سے اس کا چہرہ سیاہ پڑا ہوا تھا، فوراً نظر دوڑائی تو عبداللہ نظر نہ آیا، ابھی ڈھونڈنے جارہی تھی کہ وہ ہنستا مسکراتا کمرے میں داخل ہوا، آج بہت ہی بدلا بدلا اور سنبھلا ہوا لگ رہا تھا، آتے ہی ہمیشہ کی طرح بِلّو پہ پھبتی کَسی۔
کیا تیرا جسم تیرے حسن کی حدّت میں جلا
راکھ کس نے تیری سونے کی سی رنگت کردی؟
پہلے والاعبداللہ دیکھ کے بِلُو کی جان میں جان آئی ۔
اب عبداللہ کافی سنبھل گیا تھا، اس کے دل کو شاید کچھ چین مل گیا تھا، اس نے سمجھ لیا تھا کہ جو سوال 33 سالوں میں جمع ہوئے ہیں ان کاحل 33 دنوں میں نہیں ملے گا، وہ اب چلنا چاہتا تھا جستجو کے اس سفر میں۔
*۔۔۔*۔۔۔*
کچھ دنوں بعد آج عبداللہ اپنی فیملی کے ساتھ ملک کی مایۂ ناز یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسرکی جاب جوائن کرنے کے لیے جارہا تھا۔ یونیورسٹی میں دیکھتے ہی دیکھتے عبداللہ کے نام کا ڈنکا بجنے لگا، ساتھ ہی عبداللہ نے اپنے بیوی بچوں پر خصوصی توجہ دینا شروع کی، وہ بچوں کی تعلیم و تربیت کا بہت خیال رکھتا۔
زندگی میں کچھ ٹھہراؤ سا آگیا تھا، عبداللہ آج بھی نماز پڑھتا تو اللہ سے گھنٹوں دعائیں مانگتا، عبداللہ آج بھی اپنے اللہ کو خط لکھا کرتا۔
عبداللہ کی زندگی میں آج بھی بہت سے سوال آتے ہیں۔ کچھ کا جواب مل جاتا ہے کچھ کا نہیں، مگر اسے اس بات کا احساس ہے کہ جس راہ پر وہ چل رہا ہے وہ اسے بھٹکنے نہیں دے گی۔
*۔۔۔*۔۔۔*
آج یونیورسٹی میں کوئی اضافی سیمینار ہو رہا تھا Goals Settings پر کہ زندگی میں Goals کیسے بنائے جائیں اور پھر ان پر محنت کیسے کی جائے؟
تو عبداللہ جلدی گھر واپس آگیا، گھر آتے ہی عبداللہ کو خبر ملی کہ اس کا بچہ انگلش کے امتحان میں فیل ہوگیا ہے، اس نے اپنے بیٹے کو بلا کر پوچھا کہ تمہاری انگلش تو بہت بہتر ہے تو کیا معاملہ ہوا؟
بیٹے نے کہا پاپا، سراسر زیادتی ہوئی ہے انگلش کا پیپر تھا اس میں سوال آیا،
?When was Quaid-e-Azam born
میں نے جواب لکھا،
.He was born on 14 August 1947
ٹیچر نے نہ صرف میرے مارکس کاٹ دئیے بلکہ کلاس کے سامنے میرا مذاق بھی اُڑایا۔
پاپا مجھے پتہ ہے کہ ان کی تاریخ پیدائش 25 دسمبر 1876 ہے، مگر یہ انگلش کا پیپر تھا نہ کہ مطالعۂ پاکستان کا، آپ مجھے بتائیے:
?How was my sentence grammatically wrong
عبداللہ نے ہنستے ہوئے اپنی بیوی کی طرف دیکھا اور بیٹے سے پوچھا تو پھر آپ نے ٹیچر کو کیا کہا؟
بیٹے نے مسکراتے ہوئے جواب دیا،
’’اللہ پوچھے گا۔‘‘
*۔۔۔*۔۔۔*
عبدﷲ اپنی بِلّو اور بچوں کے ساتھ بیٹھا ہوا کوئی گیم کھیل رہا تھا کہ موبائل کی گھنٹی بجی۔ ہیلو! میں ڈاکٹر حیدر بول رہا ہوں، کیا عبداﷲ سے بات ہو سکتی ہے؟
جی سر، میں عبداﷲ بول رہا ہوں کیسے ہیں آپ؟
عبداﷲ واپسی مبارک ہو، کسی روز ملنے آجاؤ۔
جی کچھ ہی روز میں حاضر ہوتا ہوں۔
کچھ دنوں بعد عبداﷲ ڈاکٹر حیدر کے سامنے بیٹھا ہوا تھا۔
اور سر سنائیں۔ پچھلے 6 سال کیا ہوئے؟ کوئی نئی تازی یا زندگی ابھی تک اِسی ڈگر پر مصروف ہے؟
ویسے تو سب ٹھیک ہے عبداﷲ، بس راستے اور منزل بدل گئے ہیں، اندر کا موسم باہر کے موسم سے جُدا ہوگیا ہے۔ ڈاکٹر حیدر کے منہ سے نکلنے والے یہ گہرے الفاظ عبداﷲ کے ذہن میں بھونچال پیدا کر رہے تھے۔ وہ کہنے لگا۔
سر، ایک خالی پن کا احساس مجھے بھی ہے مگر کوئی سِرا ملتا نہیں ہے۔ کمپیوٹر سائنس کا کوئی پرابلم ہوتا تو کب کا حل نکال چکا ہوتا۔
عبدﷲ نے ہنستے ہوئے کہا۔
ڈاکٹر حیدر، عبداﷲ کے مزاج شناس تھے کہنے لگے ایک کام کرو، یہاں سے قریب ہی ایک صاحب کا آفس ہے، میں فون کر دیتا ہوں تم اِن سے جا کر میرے حوالے سے مِل لو۔
مجھے اُمید ہے کوئی سبیل نکل آئے گی۔ احمد نام ہے اُن کا۔
*۔۔۔*۔۔۔*
عبداﷲ اگلے ہی روز احمد صاحب کے چھوٹے سے آفس میں بیٹھا تھا۔ آفس میں داخل ہوتے ہی اُس کی نظر مشہور زمانہ ٹی وی پر وگرام کی CDs پر پڑیں جس میں ایک شعلہ بیان مقرر ملک عزیز کے ہر مسئلے کا تعلق امریکہ و اسرائیل کی خفیہ سازشوں سے جوڑ دیتے ہیں مگر حل کچھ نہیں بتاتے، عبداﷲ کو ایسے لوگوں سے شدید چڑ تھی۔ اِس کے اپنے مسائل ہی اتنے زیادہ تھے کہ وہ مزید مسائل سننے کے موڈ میں بالکل نہ تھا۔ عبداﷲ نے جلدی سے ایک طائرانہ نظر بُک شیلف میں رکھی کتابوں پر ڈالی، اِن میں سے زیادہ تر وہ پڑھ چکا تھا اور گفتگو شروع ہونے سے پہلے وہ احمد صاحب کے عقل و شعور کی اکاؤنٹنگ کرچکا تھا۔ احمد صاحب آرام سے اُس کے ’’فارغ‘‘ ہونے کا انتظار کرتے رہے، وہ کوئی 40 کے پھیرے میں ہونگے، دبلے پتلے نکلتا ہوا قد، آنکھوں میں بَلا کی چالاکی مگر چہرے پر دَرد، عبدﷲ زیادہ دیر آنکھیں نہ مِلا سکا۔
احمد صاحب گویا ہوئے،
کیسے ہیں آپ ڈاکٹر صاحب؟
جی ٹھیک ہوتا تو یہاں کیوں آتا۔ پریشان ہوں، سمجھ نہیں آتا زندگی میں کیا کروں؟
اتنا پڑھا لکھا، خوب جان ماری، مگر نتیجہ صفر
دل کا چین پتہ نہیں کہاں لُٹا بیٹھا ہوں۔ پتہ نہیں کس بات کی جستجو ہے؟
کون سی منزل ہے کہ دل کھنچتا ہے مگر نظر نہیں آتی ۔
کوئی ہوک ہے کوئی آس کوئی تڑپ۔ کہیں نہ کہیں کوئی کمی ہے جو پوری نہیں ہوئی۔ میں ایک ایسا مریض ہوں جسے اپنی بیماری کا نہیں پتہ، علامات کا بھی نہیں پتہ، تو اب علاج ہو کیسے؟ عبداﷲ بولنے پر آیا تو بولتا ہی چلا گیا۔
دریں اثناء احمد صاحب کی آنکھوں کی چمک کئی گنا بڑھ چکی تھی۔ وہ گویا ہوئے۔
ہم م م م م م۔ پہلے کہاں تھے آپ؟ ہم تو آپ کو ڈھونڈ رہے تھے۔
عبدﷲ کچھ نہ سمجھتے ہوئے ایک پھیکی سے ہنسی ہنس کر رہ گیا۔
احمد صاحب نے اپنی بات جاری رکھی۔
ڈاکٹر صاحب، تھوڑی دیر کے لیے judgement ترک کردیں۔ اندازے بعد میں لگائیے گا۔ آپ ایسا کریں کہ ہماری ایک ورکشاپ ہو رہی ہے کل سے، امین صاحب ہمارے انسٹرکٹر ہیں، وہ پڑھائیں گے، آپ یہ کرلیں۔
ارے نہیں احمد صاحب، میرے پاس دنیا کے 72 سر ٹیفکیٹس ہیں، میں ہر اس بندے سے مِلا ہوا ہوں یا پڑھ چکا ہوں جن کی کتابیں آپ یہاں سجائے بیٹھے ہیں، میرا مسئلہ اب کوئی نیا کورس کرکے حل نہیں ہوگا۔ انہی کورسز نے تو یہ دن دکھلایا ہے، میں اپنا رونا رو رہا ہوں آپ اپنی ٹریننگ بیچنے کے چکر میں پڑے ہیں۔
ڈاکٹر صاحب آپ یہ ورکشاپ کرلیں پھر بات ہوگی۔ احمد صاحب نے جیسے کہ فیصلہ سنا دیا۔
پتہ نہیں یہ ان صاحب کے لہجے کا اثر تھا یا طبیعت کا ٹھہراؤ کہ اگلی شام جمعہ کے روز عبدﷲ ٹریننگ سینٹر پہنچ گیا۔ کوئی 20 کے قریب مرد و خواتین موجود تھے اور احمد صاحب جیسے ایک اور صاحب، جنہیں سب امین بھائی کہہ رہے تھے وہ ٹریننگ شروع کرنے کے لیے بے تاب۔
عبدﷲ زندگی کی اتنی بدتمیزیوں کے بعد کسی سے تمیز سے بات کرنے کے موڈ میں نہیں تھا۔ ویسے بھی وہ اپنے آپ کو کوس رہا تھا کہ یہاں آیا کیوں؟ وہی اِسٹیفن کوی، وہی جیک ویلش، سیم والٹن، وارن بُوفے اور پیٹرسِنگر کے فرمودات، وہی بکواس ہوگی جِس میں عبدﷲ خُود چیمپئین تھا۔ لوگوں نے اپنا تعارف کرایا۔ عبدﷲ اس پورے عرصے میں سر بینچ پہ رکھے سوتا رہا، اُسے اب کسی کی پرواہ نہیں تھی کہ کوئی کیا سوچے گا، جب اپنی باری آئی تو صرف نام بتایا اور پھر کرسی پر ڈھیر ہوگیا۔
سوتے سوتے یا سونے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے امین بھائی کا ایک جُملہ کان میں پڑا۔
’’اگر آپ یہاں بیٹھے بیٹھے مرجائیں تو کیا آپ اپنی زندگی کو مڑ کے دیکھیں تو یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہاں! لگ گئی؟ یا یہ کہیں گے کہ ضائع ہوگئی؟ یا یہ کہ پتہ نہیں کیا ہوئی اور کہاں گئی؟‘‘
ہمیں نہ بتائیں اپنے آپ سے پوچھ لیں۔
اب عبداﷲ نے آنکھ کھولی مگر سر ویسے ہی جُھکا رکھا۔
اچھا، دوسرا سوال، امین بھائی نے اپنے ترکش سے ایک اور تیر نکالا، کچھ لوگ آپکے مرنے کے بعد آپکے بارے میں بات کر رہے ہیں۔ آپ کیا سمجھتے ہیں وہ کیا کہیں گے؟
پتہ نہیں کون تھا جو مرگیا، یا اچھا ہوا مرگیا؟ یا ﷲ کا نیک بندہ تھا۔ بڑے اچھے کام کرگیا ہے جو سالوں زندہ رہیں گے۔
اب عبدﷲ سنبھل کے بیٹھ چکا تھا اور اسکی آنکھوں میں چمک سی آگئی تھی۔
امین صاحب نے ایک تیر اور نِکالا اور ہاتھ میں موجود مارکر کی طرف اِشارہ کرتے ہوئے پوچھا یہ کیا ہے؟ کیا کرتا ہے؟
سامعین میں سے کسی نے جواب دیا، جناب مارکر ہے اور لکھنے کے کام آتا ہے۔
بہت خوب، اب آپ اپنے آس پاس دیکھیں اور چیزوں کی لسٹ بنالیں۔
عبدﷲ کا پین تیزی سے چلنے لگا
پنکھا
کرسی
میز
چپل/جوتا
درخت
کھڑکی
ملٹی میڈیا پروجیکٹر
لیپ ٹاپ
اِسپیکرز
ٹیوب لائٹ
جگ
گلاس
مارکر
گھڑی
صوفہ
واٹر کولر
’’چلیں اب اِن تمام چیزوں کے سامنے ان کا (purpose) مقصد لکھیں‘‘۔
پنکھا ہوا دیتا ہے، مارکر لکھتا ہے، گھڑی وقت بتاتی ہے وغیرہ وغیرہ۔
’’اوہ! ہم لسٹ میں ایک نام تو بھول ہی گئے، جی ہاں! آپ کا اپنا نام وہ بھی تو لکھیں‘‘۔
’’عبداﷲ‘‘ کی لِسٹ میں ایک نئے آئٹم کا اِضافہ ہوگیا ہے۔
جی اب اس کے سامنے اس کا مقصد purpose بھی لکھ لیں۔
تو عبدﷲ ہم ہیں ہی کیوں؟
?why do we exist
عبدﷲ ہونق بنا صرف تکے جارہا تھا۔
امین بھائی نے اپنی بات جاری رکھی۔ ایک سیدھا سا ذریعہ ہے معلوم کرنے کا، جس نے بنایا ہے اُس سے پوچھ لو۔ اب مارکر بنانے والی کمپنی نے مارکر کی تمام خصوصیات اور مقاصد بتادئیے ہیں، اور HP والوں نے اِس میز پر رکھے لیپ ٹاپ کی، اور ڈاؤ لینس نے اِس ائیر کنڈیشن کی، تو آپکی سمجھ کے حساب سے جو بھی آپ کا خالق ہے آپ اُس سے پوچھ لیں۔ بحیثیتِ مسلمان، ہمارا ماننا ہے کہ ﷲ سبحانہ و تعالیٰ ہمارے رب ہیں۔ وہ قرآن میں فرماتے ہیں۔
’’ہم نے انِسانوں اور جنوں کو اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا۔‘‘
تو ہماری زندگی کا اولین مقصد تو ﷲ کی رضا ہوئی ناں!
ہماری (To Do List, TDL) میں سب سے اُوپر تو ’’ﷲ کو راضی کر نا‘‘ لکھا ہونا چاہیے نا، ہم ڈیزائن ہی ﷲ کو راضی کرنے کے لئے ہوئے ہیں مگر ہماری زندگی میں سب کچھ ہوتا ہے سوائے ﷲ کے۔
عبداﷲ کے دل پر یہ الفاظ بجلی کی طرح گر رہے تھے مگر امین بھائی نے تو جیسے چُپ نہ ہونے کی قسم کھا رکھی تھی۔ انھوں نے اپنی بات جاری رکھی ۔
کیا خیال ہے آپ کا اُس مارکر، کے بارے میں جو لکھتا نہ ہو؟ اُس گلاس کے بارے میں جس میں پانی نہ ڈالا جاسکے؟ یا اُس AC کے بارے میں جو ہوا ٹھنڈی نہ کرسکے؟ اِن تمام چیزوں نے اپنے ہونے کا حق ادا نہیں کیا ناں؟
کیا خیال ہے آپ کا اب اپنے بارے میں؟
ہم م م م م، ذرا سوچیئے۔ ﷲ تو ہماری TDL میں ہوتا ہی نہیں ہے۔
ہر وہ عمل جو ﷲ تعالیٰ سے قریب نہ کرے یا دُور لے جائے، ان کی ناراضگی کا سبب بنے وہ کبھی نہیں کرنا چاہیے۔
عبدﷲ کے صبر کا پیمانہ اب لبریز ہوچکا تھا۔ وہ لرزتے ہاتھوں کے ساتھ اٹھا اور کاپنتی ہوئی آواز میں انسٹرکٹر سے مخاطب ہوا، اِسکی آواز سُن کر سب ہی پریشان ہوگئے۔ خود انسٹرکٹر بیچارہ سوچ میں پڑگیا کہ آخر میں نے ایسا کہا ہی کیا ہے؟ عبدﷲ گرجا۔
’’امین صاحب خدارا خاموش ہوجائیں اور بند کریں یہ ڈرامہ‘‘۔
کہاں مرگئے تھے آپ آج سے 10 سال پہلے، پہلے کیوں نہ بتایا کسی نے یہ مجھے، نہیں ہے جواب آپکے سوالوں کا میرے پاس! ہوتا تو یہاں آتا ہی کیوں؟
اگر آپکو یہ خوش فہمی ہے کہ آپکے یہ چند گھنٹے میری زندگی کے 33 سال کھا جائیں گے تو منہ دھو رکھیں۔ وہ 33 سال جس میں محنت بھی پسینے اور خون میں فرق نہ کرسکی۔ میری 198 آئٹمز پر مبنی TDL ، میری تمام تر کامیابیاں، کیا سب ایک لیکچر سے ضائع کرنے کا اِرادہ ہے؟ ایک لفظ، امین صاحب ایک لفظ منہ سے اور نِکالا تو یہ گُلدان مار کے آپ کا سر پھوڑ دوں گا۔ بھاڑ میں گئے آپ، بھاڑ میں گئی آپکی ٹریننگ اور بھاڑ میں گئے شوخ آنکھوں والے آپکے احمد صاحب، میں جا رہا ہوں۔
یہ کہہ کر عبدﷲ ٹریننگ روم سے نکل کر چلا جاتا ہے۔ حاضرین میں سے کسی کی ہمت نہ ہوئی کہ وہ کچھ بول سکے مگر امین صاحب پیچھے بھاگے اور سیڑھیوں کے پاس عبدﷲ کو جالیا۔ ڈاکٹر صاحب، ڈاکٹر صاحب، آپ سُنیں تو سہی، عبدﷲ نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو امین بھائی بھاگتے ہوئے آرہے تھے۔ قریب تھا کہ عبدﷲ انہیں دو چار تھپڑ جڑ دیتا، مگر وہ آگے بڑھے اور عبدﷲ کو سینے سے لگالیا۔ یکایک عبدﷲ کو اپنی آنکھیں تر ہوتی ہوئی محسوس ہوئی تھیں۔ وہ دل میں کہہ رہا تھا امین صاحب ہوسکتا ہے کہ آپ ٹھیک ہی کہتے ہوں، مگر میں غلط ہوں یہ کیسے مان لوں؟ میری حالت اُس ماں کی سی ہے جس کا جوان بیٹا مرگیا ہو اور وہ لاش کے سامنے بیٹھی کہہ رہی ہو کہہ نہیں نہیں، یہ مرا تھوڑا ہی ہے یہ تو سو رہا ہے۔
عبدﷲ کو سمجھ نہ آ رہا تھا کہ اپنے ارمانوں کی لاش کو کدھر دفنائے اور کدھر اس کی تدفین کرے۔
عبداﷲ نے امین بھائی کو خدا حافظ کہا اور گھر چلا گیا۔
ابھی وہ بِلّو کو آج کی روداد سنا ہی رہا تھا کہ اُس کا بیٹا عبدالرحمن آگیا اور کہنے لگا، پاپا ہمیں آج Green Environment پر اسائنمنٹ ملی ہے۔ Recycling پر پوسٹر بنانا ہے، میں نے سب سے پہلے کچرے (Trash) کی تعریف لکھی ہے۔
وہ چیز جو اپنے مقصدِ و جود کے قابل نہ رہے۔
.A thing that can’t fulfill it’s purpose anymore
ٹھیک ہے ناں پاپا؟ بتائیے ناں؟ ہاں ٹھیک ہی تو کہہ رہے ہو بیٹا۔
آج کی رات پھر رت جگا ہوگا، عبدﷲ نے بھیگی آنکھوں سے بِلّو کو کہا جو مسکرا کر خاموش ہوگئی۔
رات عبدﷲ پھر جائے نماز پر تھا۔
’’یاﷲ! تو چاہتا ہی نہیں ہے کہ میں سو سکوں، روز کی کوئی نئی پریشانی، کوئی ذہنی اذیت تو نے میرے دل و دماغ کو اتنا حساس کیوں بنایا ہے؟ یہ امین بھائی کیا کہہ رہے تھے۔ یہ TDL پہلے کسی نے کیوں نہ بتائی۔ تجھے راضی کرنا ہے مگر کیسے؟ میں کیا کروں کہ تو راضی ہوجائے میرے ﷲ؟ ﷲ میں کچرا ہی تو ہوں جو اپنے مقصدِ حیات کے قابل نہ رہا، جس نے بُھلا دیا اپنے مقصد کو، مجھے معافی دے دے، بے شک تیرا فضل وجہ کا محتاج نہیں ایسے ہی بلا وجہ بخش دے۔ کون پوچھے گا تجھ سے۔ یاﷲ! میں کل واپس ٹریننگ میں جاؤں گا۔ صحیح بات سمجھا دے۔ امین بھائی پہ رحم کر، میری گستاخیاں معاف فرما۔ آج پھر سے اپنی TDL کو ری اِسٹارٹ کر رہا ہوں، اِس بار پچھتاوے سے بچانا۔ اس بار قبول کر لینا۔ آمین! ‘‘
تر اب کاسۂ دل پیش کردیا جائے
سنا ہے کوئی سخاوت میں حد نہیں رکھتا
ـــــــ-

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Yaaram by Sumaira Hameed – Episode 48

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: