Khoj Novel by Zeeshan Ul Hassan Usmani – Episode 7

0

کھوج از ذیشان الحسن عثمانی – قسط نمبر 7

–**–**–


اگلے دن صبح عبدﷲ پھر ٹریننگ روم میں تھا۔ رات والے واقعہ کا اثر سب لوگوں کے چہروں پر تھا۔ اُس نے باری باری سب کے پاس جاکر معافی مانگی۔ تھوڑی ہی دیر میں سیشن واپسی شروع ہوا۔ امین بھائی کے لب و لہجے میں بلا کی فراست اور چا بکدستی تھی۔ عبدﷲ سوچ رہا تھا کہ انہوں نے اس جیسے ہزاروں بھگتائے ہوں گے۔
ہاں! تو ہم کل بات کر رہے تھے زندگی کے مقصد کی، یہ تو ہم سب پر واضح ہوچکا ہے کہ ہماری زندگی کا مقصد ﷲ کو راضی کرنا ہے، جب ہم اِس مسئلے کو حل کر لیتے ہیں تو اگلا سوال آتا ہے خواب کا، Vision کا، ہم کیا کرنا چاہتے ہیں اس زندگی میں؟ بہت سے لوگوں نے کئی طرح سے اِسکو بیان کیا ہے، جو تعریف ہمیں پسند آئی ہے وہ ہے پیٹر سِنگر کی،
’’وژن سے مراد مستقبل کی وہ تصویر ہے جو آپ دیکھنا چاہیں‘‘ .The picture of future you to want see
مثال کے طور پر ہم یہ کہتے ہیں کہ ہمارا بچہ بڑا ہوکر ڈاکٹر یا انجینئر بنے گا تو ہم اگر 10،20 سالوں میں (مستقبل میں اُسے ڈاکٹر یا انجینئر کے روپ میں دیکھ رہے ہوتے ہیں)۔
ہماری اس خواہش اِس چاہ کا نام vision ہے۔ مثال کے طور پرعلامہ اقبال نے پاکستان کا خواب دیکھا تو کوئی پاکستان سچ مچ میں انکے خوابوں میں تھوڑا ہی آیا تھا بلکہ ایک سوچ تھی کہ مسلمان کس طرح مِل جُل کے ایک آزاد ریاست میں رہیں گے، تو ہم سب کی زندگی میں کوئی نہ کوئی وژن ضرور ہونا چاہئیے اپنے بارے میں، اپنی اولاد کے بارے میں، ماں باپ کے بارے میں، اپنے ادارے کے بارے میں کوئی نہ کوئی منزل تو ہو یا کوئی ٹارگٹ تاکہ آدمی پھر اُس تک پہنچنے کی جستجو کرے، اور ہاں! ایک کوشش یہ بھی کرنی ہوگی کہ وژن اور purpose آپس میں ٹکرائیں نہیں۔ مثلاً مقصد تو ﷲ کو راضی کرنا ہے اور وژن میں سینما کا مالک لکھ دیں تو بات کچھ بنی نہیں۔ purpose ﷲ کو راضی کرنا ہو اور وژن میں حلال و حرام کی تمیز کے بغیر ہی پیسہ کمانا ہو تو بھی کوئی اچھی بات نہ ہوئی۔
عبداﷲ کو یہ ساری سیدھی سادھی باتیں بغیر کسی مفکرانہ بحث کے بڑی اچھی لگ رہیں تھیں۔ وہ سوچ رہا تھا کہ یہی ہمارا اصل مسئلہ ہے۔ ہم بحیثیت مسلمان اور پاکستانی بڑا سوچتے ہوئے بھی ڈرتے ہیں، ہم نے تو خواب بھی دیکھنا چھوڑ دیئے ہیں۔ جب منزل ہی نہ ہوگی تو سفر کس سمت شروع کریں؟ اور بَفرضِ محال منزل نہ بھی ملی تو بھی اِس سفر کی وجہ سے اچھے انسان تو بن ہی جائیں گے۔
یہ وژن دراصل چھوٹے چھوٹے ننھے ننھے چراغ ہیں جو پورے ملک میں جل گئے تو ہر طرف روشنی ہوجائے گی۔ اگر سب لوگوں تک امین بھائی کی یہ ٹریننگ پہنچ جائے تو ملک بدل جائے گا، میرا بھی ایک وژن ہونا چاہیئے اور باقی ماندہ تمام عمر اُس میں لگا دوں گا، میں بھی بڑا خواب دیکھوں گا، ایک نئی TDL خود بخود عبدﷲ کے دل میں جنم لے رہی تھی، میں لوگوں کو پڑھاؤں گا۔ اچھا کمپیوٹر سائنٹسٹ بناؤں گا تاکہ ملک کے لیے زرِ مبادلہ لاسکیں وغیرہ وغیرہ، عبدﷲ اپنی دنیا میں ہی مگن تھا اور وقفے کا ٹائم ختم ہوگیا۔
امین بھائی نے موضوع بدلا، آپ لوگوں نے کبھی پونی کی کہانی سُنی ہے؟
سب کا جواب نفی میں تھا، تو بھائی ایک تھا پونی، ایک چھوٹا سا کتا اسے گاؤں دیکھنے کا بڑا شوق ہوتا ہے۔ ایک دن دوستوں سے مشورہ کرکے وہ گاؤں چلا جاتا ہے۔ گاؤں میں کنویں پر پانی پینے کے لئے رکتا ہے مگر پھسل کر گر جاتا ہے اور ڈوب کر مرجاتا ہے۔ اب گاؤں والے مولوی صاحب کے پاس آتے ہیں اور ماجرا سناتے ہیں کہ پونی گرگیا کنویں میں اور پانی ناپاک ہوگیا۔
مولوی صاحب کہتے ہیں کوئی بات نہیں 40 بالٹی پانی نکال لو، پانی پاک ہو جائیگا۔ لوگ واپس آجاتے ہیں کہ 40 بالٹی پانی نکالا مگر بدبو ابھی بھی باقی ہے۔ مولوی صاحب 40 بالٹی اور نکالنے کا کہہ دیتے ہیں، لوگ پھر واپس آجاتے ہیں، مولوی صاحب کہتے ہیں بھائی! آپ لوگ بڑے شکی مزاج ہو 40 اور نکال دو، مگر لوگ پھر واپس کہ 120 بالٹیاں نکال چکے ہیں پانی جوں کا توں ہے، اب مولوی صاحب کی برداشت سے باہر ہوگیا اور وہ ایک جِمِّ غفِیر کے ساتھ کنویں پر پہنچ گئے۔ جھانک کے دیکھا تو پونی کی لاش تیر رہی تھی۔ بھائی اسکو کیوں نہیں نکالا؟ مولوی صاحب نے گاؤں والوں سے تعجب سے پوچھا۔ آپ نے پونی نکالنے کا کب کہا تھا؟ گاؤں والوں نے استفسار کیا۔
امین بھائی نے اپنی بات جاری رکھی، تو آپ بتایئے اگر ہم کنواں خالی کردیں اور پونی نہ نکالیں تو کیا کنواں پاک ہوجائے گا؟ عبدﷲ نے ہنستے ہوئے نفی میں جواب دیا۔ بالکل اسی طرح ہمارا معاشرہ، ہمارے لوگ، ہمارے دوست، ہمارے احباب، ہمارے کولیگز ہزاروں کی تعداد میں پونی ہمارے دماغ میں بھر دیتے ہیں، پھر اس کے بعد کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ہم کیا پڑھتے ہیں۔ کہاں سے تجربہ لیتے ہیں، کیا تعلیم حاصل کرتے ہیں نتیجہ وہی صفر۔
جب ہم وِژن کی بات کرتے ہیں تو کئی ایک پونی ہمارے وژن کے ساتھ چپک جاتے ہیں اور ہمارے خوابوں کو گندے پانی کے کنویں سے باہر نہیں آنے دیتے۔ یہ کہہ کر سب لوگ لنچ کے وقفے پر چلے گئے مگر عبدﷲ بھاری دل کے ساتھ اپنی زندگی کے پونی گنتا رہا۔ اسکی گذشتہ TDL میں موجود ہر چیز اُسے ایک پونی ہی نظر آئی اور وہ خاموش بیٹھا آسمان کو تکتا رہا اور آنسو ٹپ ٹپ کرکے یکے بعد دیگر ے آنکھوں سے گرتے رہے۔
*۔۔۔*۔۔۔*
امین بھائی نے سیشن کو پھر سے شروع کیا۔
چار پونی ہیں جو سب سے پہلے وژن پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
1۔ زندگی Life
2۔ خاندان Family
3۔ وقت Time
4۔ جگہ Space
ہم کوئی وژن سوچ لیں وہ ہماری اپنی زندگی، خاندان اور جگہ کے اِرد گرد گھومتا ہے اور ہم اسے کسی نہ کسی وقت کے ساتھ قید بھی کردیتے ہیں۔ مثلاََ میں چاہتا ہوں کہ میں کراچی کا سب سے بڑا تاجر بنوں، اب بذاتِ خود اِسی وژن میں کوئی برائی نہیں مگر یہ کراچی کی حدود میں قید ہے۔ مثلاََ میں چاہتا ہوں کہ اپنے بیوی بچوں کو تمام خوشیاں دوں، اس میں بھی کوئی بُرائی کوئی مضائقہ نہیں مگر یہ اپنے خاندان سے باہر نہیں آرہا۔ اگر بڑا کام کرنا ہو تو ان چاروں سے باہر نکل کر سوچنا ہوگا، مثال کے طور پر ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآل وسلم کا وژن کہ لوگوں کو ﷲ کا پیغام پہنچانا ہے ان چاروں سے آزاد تھا۔
انہوں نے اپنے خاندان والوں پر بھی کام کیا اور غیر خاندان والوں پر بھی، مکّتہ المکرمہ میں بھی کام کیا اور دنیا بھر میں بھی صحابہ کرام رضی ﷲ عنہا کو بھیجا اور یہ کام انکی زندگی کے بعد بھی 14 سو سالوں سے چل رہا ہے۔ اس جیسی مثالوں اور حوالوں سے آج کا دن ختم ہوا اور عبدﷲ آج پھر جائےنماز پر اپنے اللہ سائیں سے دعا مانگ رہا تھا،
اپنی رحمت کے خزانوں سے عطا کر مالک
خواب اوقات میں رہ کر نہیں دیکھے جاتے
’’ﷲ سائیں! آپس کی بات ہے، ابھی تک کی زندگی تو ضائع ہوئی، آگے کی کسی کام لگ جاوے یہی بِنتی ہے۔ آج تک صرف اور صرف اپنی ذات کا سوچا، کوئی کام کرنا چاہتا ہوں جو لوگوں کو فائدہ پہنچائے۔ عمر بھر نفع خور رہا اب نفع بخش بننا چاہتا ہوں۔ امین بھائی کہتے ہیں کہ وژن چاہ کا نام ہے۔ پیشین گوئی نہیں، میری چاہ ہے کہ ایسے لوگ تیار کروں جنھیں کمپیوٹر سائنس میں مہارت ہو تاکہ وہ اپنے پروگرامز کے ذریعے انسانیت کی خدمت کرسکیں، میں چاہتا ہوں کہ کوئی بڑا ادارہ بناؤں اس کام کے لیے، نہ عقل ہے نہ پیسہ نہ تجربہ، تو مدد کر میرے مالک!
تیرے لیے کیا مُشکل، تجھے کوئی اسمبلی سے بل تھوڑا ہی پاس کرانا ہوتا ہے،
میری مدد کر میرے مالک! میرا ہاتھ پکڑ اور دیکھ پلیز اس بار صحیح لائن پر چلا دے، آمین‘‘
آج ٹریننگ کا آخری دن تھا اور امین بھائی کا جوشِ خطابت عروج پر تھا۔ انہوں نے ٹریننگ کو آگے بڑھایا، آدمی زندگی میں مختلف کردار نبھاتا ہے جنہیں ہم roles کہہ لیتے ہیں۔ ان کی دو اقسام ہیں لازمی یا mandated رولز اور اختیاری یا electives۔ لازمی کردار وہ ہیں جو آپ چاہتے ہوئے بھی نہ چھوڑ سکیں مثلاً باپ کا رول۔ اب آپ اپنے بیٹے سے جا کر اگر کہیں کہ آج کے بعد تم میرے بیٹے نہیں تو آپ کے صرف کہنے سے کچھ بھی نہ ہوگا، رشتے جوں کے توں قائم رہیں گے۔ اختیاری وہ رولز جو آپ کی صوابدید پر ہوں مثلاً دوست۔ آپ جب چاہیں جیسے چاہیں دوست بدل سکتے ہیں۔ مثلاً جاب، آپ چاہیں تو استعفیٰ دے دیں اور کسی اور جگہ نوکری کرلیں، تو آپ سب لوگ اپنے تمام رولز کی ایک فہرست بنائیں۔ عبدﷲ نے قلم نکالا اور کچھ ایسی فہرست تیار کر لی،
لازمی Mandated اختیاری Electives
باپ نوکر
بیٹا دوست
بھائی اُستاد
اپنی ذات شاگرد
داماد کھلاڑی
کفیل تیراک
امتی شوہر
عبداﷲ انٹرنیٹ سرفر
محلہ کمیٹی
مسجد کمیٹی
لائبریری ممبر
وغیرہ وغیرہ
امین بھائی پھر گویا ہوئے، تقریباً وہ تمام کام جو آپ 24 گھنٹوں میں کسی نہ کسی roles کے تحت کرتے ہیں وہ یہاں آئیں گے، اب لازمی کرداروں کو تو آپ کچھ کہہ نہیں سکتے تو اختیاری رولز میں سے ہر وہ رول جو آپکے وژن کا حصہ نہیں یا اُسے کسی نہ کسی طور support نہیں کر رہا، آپ اسے اُڑا دیں، ہر جنگ لڑنے والی نہیں ہوتی۔ مثلاً اگر کسی کا وژن شاہد آفریدی بننا ہے تو اُسے 4 گھنٹے روز گانا گانے کی کیا ضرورت ہے وہ کرکٹ کھیلے۔ آپ خود ہی منصف بن جائیں اپنے اختیاری رولز اور اپنے وژن کے بیچ۔ اس طرح کرنے سے آپکی زندگی میں Focus یکسانیت بھی آئے گی اور وقت بھی بچے گا۔
وقفے میں عبدﷲ معلومات کے اس طوفان کو ڈائی سیکٹ کر رہا تھا، ٹھیک ہی تو کہتے ہیں اتنی سی زندگی میں کیا کیا کروں۔ بیواؤں کی خدمت کروں، یتیموں کا خیال رکھوں، کتابیں لکھوں، پڑھاؤں، کمپنی کھولوں، ایدھی کے لیے ایمبولینس چلاؤں، پڑھوں یا ملکی سیاست میں حصہ لوں!
عبداﷲ نے کاغذ پر لکھنا شروع کردیا۔ پاکستان میں مرد کی اوسط عمر 62 سال اور عورت کی 65 سال، اب یہ کہتے ہیں کہ عمر پڑی ہے وہ ہے کہاں؟ شروع کے 12 سال تو بچپنے کی نذر ہوجاتے ہیں۔ اب اگر کوئی 70 سال بھی جئے تو 58 باقی بچے، ہم دن میں کم از کم 8 گھنٹے سوتے ہیں۔ 24 گھنٹوں میں سے یہ ایک تہائی بنتا ہے تو کوئی 23 سال 4 ماہ ہم سو رہے ہیں۔ 8 ہی گھنٹے کم از کم آفس میں جاتے ہیں ہر روز، 23 سال 4 ماہ وہاں گئے۔ پاکستانی اوسطاََ 4 گھنٹے TV دیکھتے ہیں دن میں، یہ کوئی ساڑھے 11 سال بنتے ہیں، 4 گھنٹے ہم اوسطاََ انٹرنیٹ کو دیتے ہیں ساڑھے 11 سال اِدھر گئے، ایک سال زندگی میں ہم طبعی ضروریات میں باتھ روم میں گذارتے ہیں۔ 12 سال کی عمر میں اگر نماز فرض ہو اور ہم 5 وقت روزانہ نماز پڑھیں اور دن میں ایک گھنٹہ بھی لگا دیں تو 70 سال کی عمر میں کوئی ڈھائی سال ﷲ کو دینگے جس نے پیدا کیا اپنی عبادت کے لئے، 613,000 گھنٹوں کی زندگی میں سے صرف 20 ہزار گھنٹے؟ کوئی بات بنی نہیں۔ پوری زندگی جب تک عبادت کے مفہوم کے تحت نہیں آجاتی تب تک حق تو ادا نہ ہوسکے گا کیا آپ کوئی ایسا نوکر رکھو گے جو اپنے اصل کام کو صرف %3.5 وقت دے اور باقی بے کار بیٹھا رہے؟ اور یہ %3.5 وقت بھی ہم کب دیتے ہیں، مہینوں گذر جاتے ہیں مسجد کا منہ دیکھے ہوئے۔
جتنی تیزی سے عبدﷲ کا قلم چل رہا تھا اس سے کہیں زیادہ رفتار سے اُس کا دماغ اور دل۔
ٹھیک ہے امین بھائی! آج پھر رت جگا اور electives کا مذبح خانہ، وقفے سے آتے ہی امین بھائی نے ایک اور کاری وار کیا۔ آپ لوگوں کو مائیکرو سافٹ ایکسل تو آتی ہوگی؟ تو ایک بار چارٹ بنائیں اور نیچے لکھ دیں تمام رولز جو باقی بچ گئے ہیں۔
باپ بیٹا اُمتی عبدﷲ پڑوسی، ہمیں ان تمام رولز کو کسی نہ کسی، کم از کم معیار پر نبھانا چاہئیے، جیسا کہ اسکول میں %33 نمبروں پر پاس ہوتا ہے یا یونیورسٹی میں 2.2 GPA پر، اسی طرح ہر رول کا ایک (MPL Minimum Perfomance Level) ہوتا ہے۔ اگر اس سے نیچے آئے تو ظلم میں شمار ہوگا، اُوپر گئے تو احسان۔ ظلم کا مطلب ہے کسی چیز کو اسکی جگہ سے ہٹا دینا، مثلاً ماں باپ کے لیے MPL ہے کہ انہیں اُف بھی نہ کی جائے۔ اب آپ خود اندازہ لگالیں کہ بار چارٹ میں آپ کہاں ہیں؟ احسان کا مطلب ہے وہ چیز جو موجودہ ریسورسز میں اُس سے بہتر ممکن نہ ہو۔ غرض آپ کی سب سے بہتر کاوش۔
کسی آدمی کے پاس 10 روپے ہیں اور وہ 10 روپے صدقہ کردیتا ہے تو اُس آدمی سے بہتر ہوگا جو لاکھ روپے دے 10 کروڑ میں سے، اب آپ کو تمام رولز کے MPL معلوم کرنے ہیں اور ان MPLs کو پورا کرتے ہوئے مرگئے تو کامیاب ورنہ ناکام۔ اس کے بعد امین بھائی نے مولانا تقی عثمانی صاحب کا شعر بھی سنا دیا۔
قدم ہوں راہِ الفت میں تو منزل کی ہوس کیسی
یہاں تو عین منزل ہے تھکن سے چور ہوجانا
امین بھائی نے ٹریننگ کا اختتام کیا۔ تو آپ لوگ گھر جائیں۔ رولز لکھیں MPL ڈھونڈیں اور وژن بنائیں کہ 100 سال بعد آپ اپنے آپ کو کس رول میں کس جگہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ ایسا نہ ہو کہ اپنی ذات کے رول میں تو بزنس مین بن جائیں مگر باپ، بھائی عبدﷲ کے سارے رولز متاثر ہوجائیں۔ پھر سوچیں کہ 50 سال والا وژن کیا ہوگا؟ 25 میں کہاں ہوں گے؟ اور 10،5 اور 1 سال کا پلان بنالیں حتی کہ مہینوں ہفتوں اور دنوں کی کوشش کریں، تاکہ آج آپ جو کام کر ہے ہیں وہ آپکے 100 سال والے وژن سے connect ہوسکے۔
*۔۔۔*۔۔۔*
اس ٹریننگ سے عبدﷲ کو اپنے بہت سے سوالوں کے جواب مل گئے۔ وہ کسی حد تک مطمئن تھا کہ چلو زندہ رہنے کا کوئی بہانہ تو مِلا، کوئی راستہ تو نظر آیا، میرا کوئی مقصد حیات تو ہے۔ زندگی کے اندھیروں میں یہ چھوٹی سی کرن عبدﷲ کے لیے ڈوبتے کو تنکے کا سہارا کی مانند تھی۔ آج رات اس نے احمد صاحب کو فون کرکے شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ انکی باقی ٹریننگز بھی کرنا چاہتا ہے، مگر فی الحال پیسے نہیں ہیں۔ احمد صاحب نے آفر دی کہ آپ کورسز کرلیں پیسے جب ہوں تب دے دینا۔ یوں عبدﷲ کی زندگی میں ایک باب اور شروع ہوا، ٹر یننگز اور وژن کا۔
*۔۔۔*۔۔۔*
عبدﷲ یونیورسٹی میں واپس آیا اور دن رات پڑھانے میں لگ گیا۔ بچوں کو پڑھانا اور اچھا کمپیوٹر اسائنٹسٹ بنانا اس کے وژن کا حصہ تھا۔ اس نے اپنی ریسرچ لیب بنائی اور ریسرچ پر بہت زور دینے لگا۔ دیکھتے ہی دیکھتے یونیورسٹی عبدﷲ کی گرویدہ ہوگئی۔ پروفیسر عبدﷲ کی کلاس میں پڑھنا طالب علموں کے لیے وجہِ افتخار سمجھا جانے لگا۔ بیچلرز کی ایک کلاس میں سے 13 انٹرنیشنل پبلی کیشنز آگئیں اور عبدﷲ کے اسٹوڈنٹ دنیا بھر میں اسکالر شپ پر جانے لگے۔ 4 طالب علموں کو وہی سینیٹر اسکالر شپ ملی جس پر عبدﷲ خود گیا تھا۔ عبدﷲ نے ڈیپارٹمنٹ کا curriculum تبدیل کردیا اور دنیا کے بہترین کورسز متعارف کروائے۔ اس شہرت اور کام کی وجہ سے عبدﷲ جلد ہی نظروں میں آگیا اور اسے ہر اُس کمیٹی کا ممبر بنا دیا جاتا جس کا اس سے دور دور تک کا واسطہ نہ ہوتا۔ اُسے سزا کے طور پر ڈرائیورز کمیٹی، گارڈن کمیٹی، اوپن ہاؤس کمیٹی اور اِس جیسی ہی نجانے کون کون سی کمیٹیاں جس میں سوائے وقت ضائع ہونے کے کچھ نہ ہوتا کی ذمہ داری سونپ دی جاتی۔
عبدﷲ جلد ہی اِس علم دشمن ماحول سے بیزار ہونے لگا، اس بیزاریت سے نجات پانے کے لئے اس نے دن رات وژن پڑھنا شروع کردیا۔ ہم کس طرح وژن بنائیں کیسے عمل کریں۔ یہ اس موضوع پر بھی چیمپین بننا چاہتا تھا، شاید ہی کوئی ایسی کتاب ہو اس موضوع یا اس سے متعلقہ موضوع پر جو عبدﷲ نے نہ پڑھ ڈالی ہو اور شامت آئی ہمیشہ کی طرح بے چاری بلّو کی، جسے گھر اور بچوں کے تمام معاملات کے ساتھ ساتھ عبدﷲ کو بھی manage کرنا پڑتا، اُس نے عبدﷲ کو مزید ٹریننگز کروانے کے لیے اور اس کی کتابوں کا خرچہ برداشت کرنے کے لیے اپنا زیور تک بیچ دیا اور پارٹ ٹائم کام بھی شروع کردیا کہ عبدﷲ میں زندگی کی رمق ہی اُس کا اثاثہ تھا۔ عبدﷲ نے بارہا کوشش کی کہ بلّو بھی یہ ٹریننگز کر لے، وہ گئی بھی، مگر اُس کا دل نہ لگنا تھا نہ لگا۔ وہ ہمیشہ سے اپنے آپکو ایک کمزور سی گناہ گار انسان کہتی جس سے کچھ نہ بن پڑتا ہو۔
عبدﷲ نے یونیورسٹی میں ہونے والی ہر زیادتی کے بدلے میں مزید پڑھنا شروع کر دیا، جس دن یونیورسٹی میں کوئی تلخ کلامی ہوتی اور اس دن کچھ اور نئی کتابیں، وہ بلو سے کہا کرتا کہ اس ملک میں ہونے والے مظالم کا واحد انتقام علم ہے۔ عبدﷲ جب بھی پالو آلٹو، روبن شرما، اسٹیفن کوی، جمِ کولنز یا سیم والٹن کی کتابیں پڑھتا تو آکر بلّو سے ڈسکس کرتا۔ وہ ہمیشہ ہنس کے خاموش ہوجاتی مگر کوئی نہ کوئی جملہ ایسا بول دیتی کہ عبدﷲ ہفتوں سر پیٹتا رہتا، ایک دن کہنے لگی، عبدﷲ تم اپنی ذہانت، اپنی باتوں اور لفّاظی سے کسی شخص کی زبان چپ کرواسکتے ہو، مگر دل نہیں جیت سکتے۔
دل جیتنا ہو تو surrender کرنا سیکھو۔ ایک دن کہنے لگی، عبدﷲ میرا دل ہر اُس چیز کو کرنے کا چاہتا ہے جو ﷲ کو ناپسند ہے۔ دل کی سنوں تو ﷲ ناراض، ﷲ کی سنوں تو دل ناخوش، یہ چکی تمام عمر یونہی چلتی رہے گی۔ وہ اکثر عبدﷲ سے کہتی، عبدﷲ آرام کر لیا کرو، کچھ دنوں کے لئے چھوڑ دو اس وژن کے چکر کو۔ خیر و شر کی ازلی لڑائی میں بندہ تھک بھی تو جاتا ہے، کچھ دیر آرام کرلے تو کیا مضائقہ؟
مگر عبدﷲ کو تو جو ایک دُھن سوار ہوجائے وہ ہوجائے، اسی علم و شوق میں زندگی کی گاڑی رواں دواں تھی کہ ایک دن صبح صبح عبدﷲ کو ریکٹر آفس سے کال ملی، وہ ملنے پہنچا تو ریکٹرصاحب نے خوشخبری سنائی کہ آپکی تنخواہ میں 25 ہزار روپے کا اضافہ کردیا گیا ہے۔ عبدﷲ اس غیر متوقع خبر پر پریشان ہوا، کہنے لگا آخر کیوں؟
جی وہ ہمارے سسٹم ایڈ منسٹریٹر system administrator نے استعفیٰ دے دیا ہے تو، آج سے آپ کے پاس system administrator کا ایڈیشنل چارج بھی ہے۔
مجھے قبول نہیں ریکٹر صاحب۔ مگر ڈاکٹرعبدﷲ آپ کو یہ کام آتا ہے۔ جی مجھے کھانا پکانا بھی آتا ہے تو جس دن آپ کا باورچی چلا جائے اُس کا ایڈیشنل چارج بھی فدوی کو عطا کر دیجئے گا۔ دیکھئے ریکٹر صاحب میں نے PHD کیا ہے، کوشش ہے کچھ ریسرچ ورک کر لوں۔ ازراہِ کرم میرے کیرئیر سے مذاق نہ کریں۔
ہم نے آپکو مطلع کرنے کے لیے بلایا تھا، مشور ے کے لئے نہیں۔ آپ جا سکتے ہیں،
ریکٹر نے گویا حتمی فیصلہ سنا دیا۔ عبدﷲ نے کاغذ قلم نکالا، وہیں استعفیٰ لکھا اور گھر واپس۔ بلو نظر آئی تو عبدﷲ نے زبردستی مسکراتے ہوئے عنایت علی خاں کا شعر پڑھ دیا۔
جو سر کٹنے پہ راضی ہوں، انھیں جھکنا نہیں آتا
وہی منزل کو پاتے ہیں جنھیں رکنا نہیں آتا
بلّو ایک شعر میں سب کچھ سمجھ گئی، اور گھر کی پیکنگ میں لگ گی کہ یونیورسٹی کا دیا ہوا مکان خالی کرنا ہے۔ رات کھانے پہ عبدﷲ سے پوچھا اب کیا کرو گے عبدﷲ؟ ﷲ کی زمین وسیع ہے بلّو، کچھ کرتے ہیں۔ سوچ رہا ہوں گاؤں جا کے برتنوں کی ریڑھی لگالوں۔ یونیورسٹی کا اچھا خاصہ تجربہ تھا وہاں یہ ہوا، کارپوریٹ سیکٹر کا تو تجربہ ہی نہیں ہے وہاں کیا ہوگا۔ آج جو اباََ بلّو نے بھی شعر سنا دیا۔
تو نے جو کچھ بھی کہا، میں نے وہی مان لیا
حکمِ حواّ کی قسم، جذبہِ آدم کی قسم
عبدﷲ آج ایک بار پھر روڈ پر تھا۔ جگہ جگہ نوکری کی درخواست دے رہا تھا، مگر انٹرویوز میں ہر جگہ فیل۔ کچھ لوگ اسکی ذہانت سے خوفزدہ ہوجاتے، تو کچھ کو اسکے لہجے کی کاٹ پسند نہ آتی، ایک HR مینجر تو پھٹ ہی پڑے۔ ڈاکٹر عبدﷲ آپ بہت خطرناک انسان ہیں۔ آپکو کوئی کیسے قبول کرے۔ اپنے مضمون میں آپ خود اتھارٹی ہیں تو کوئی آپکو Technically چیلنج نہیں کرسکتا۔ روپے پیسوں کی قدر آپ نہیں کرتے تو یہ طریقہ بھی بے کار مرنے سے آپکو ڈر نہیں لگتا۔ تو جو آپ چاہیں گے وہ کریں گے۔ ہم آپکو جاب نہیں دیں گے۔ اور عبدﷲ گھر آکے پھر سے بِلّو کو روداد سنا دیتا، اس اثناء میں وہ ایک 200 صفحات کا وژن ڈاکیومنٹ لکھ چکا تھا، اپنا اور اپنی فیملی کا کہ زندگی میں کرنا کیا ہے جسے وہ ماسٹر پلان کہتا تھا۔
بلّو روز اسکی تیاری کرواتی۔ اُسے زیادہ بولنے سے منع کرتی، آج ایک ڈیفنس آرگنائزیشن میں اس کا بہت اہم انٹرویو تھا۔ جب عبدﷲ اپنے سافٹ وئیر اور مہارت کی presentation دے چکا تو CEO نے کہا کہ آپ یہیں جوائن کرلیں، آپ صرف مجھے رپورٹ کریں گے۔ آپ کو اُن ٹیکنالوجیز پر کام کرنا ہوگا جن میں بحیثیت قوم ہم دوسرے ممالک کے محتاج ہیں، کب سے شروع کریں؟
عبدﷲ کی خوشی انتہاؤں کو چھُورہی تھی۔ اچھی تنخواہ گھر، گاڑی اور کام بھی 100 فی صد اسکے اپنے وژن سے متعلق۔ وہ خوشی خوشی گھر آیا سبھی خوش تھے، سوائے بلّو کے۔ بلّو نے کہا، عبدﷲ اتنے خوش نہ ہو، خوشی تمہیں کم ہی راس آتی ہے۔
یہ دیکھو تم نے کیا کرنا ہے، تمھیں اپنے آپ سے کیا چاہیے؟ یہ بھول جاؤ دنیا تم سے کیا چاہتی ہے۔ ورنہ ہمیشہ اُداس ہی رہو گے۔ عبدﷲ نے جواب میں لمبی چوڑی تقریر کر ڈالی کہ وہ کسی طرح اس وژن سے پاکستان کو تبدیل کردے گا اور بلو ہمیشہ کی طرح ہنستے ہوئے کھانا لگانے چلی گئی۔
*۔۔۔*۔۔۔*

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: