Khooni Billa Novel – Episode 1

0
خونی بلا – قسط نمبر 1

–**–**–

مکران کا بادشاہ پریشان تھا کہ اس کے اپنے دارلخلافہ میں بچھوں کا خون پینے والا بھیانک انسان کہاں سے آگیا اور آج اس نے ایک آدمى کو قتل بھى کر دیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لوگوں سے صرف اتنا معلوم ہوا تھا کہ یہ کوى بلا جیسا انسان ہے
جو بچوں کا خون پیتا ہے
یہ آدھى رات کے وقت شہر میں ایک غریب آدمى کے گھر گھس گیا جہاں اس کی معسوم بچى اپنے باپ کے ساتھ سو رہى تھى
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جونہى اس خونى بلا نے بچى کى شہۂ رگ پر خون پینے کے لئے اپنے دانت رکھے بچى کى چیخ سے اس کا باپ بیدار ہو گیا
۔اس نے اپنى بچى کو بچانے کے لئے اس بلا پر حملہ کر دیا
لیکن بلا نے اسے قتل کر دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس. دوران میں ماں بچى کو لے کر مکان سے شور مچاتى ہوى باہر نکلى لوگ اکٹھے ہو گئے لیکن جب سب مکان میں داخل ہوۂے تو وہاں صرف آدمى کى لاش پڑى ہوى تھى خوفناک بلا نما انسان غائب تھا
آدمى کی لاش بادشاہ کے دربار میں پڑى ہوى تھى دربار کے لوگوں کا ہجوم جمع تھا ایک شخص نے مرنے والے آدمى کى بچى کو گود میں اٹھایا ہوا تھا اور بچى زارو قطار رو رہى تھى
بادشاہ لوگوں کو تسلى دے رہا تھا اس نے بچى کے سر پر ہاتھ رکھا اور بولا ،،،،
مت رو بیٹھى ہم قسم کھاتے ہیں بچوں کا خون پینے والى اس بلا کو تلاش کر کے اس سے تمھارے باپ کا انتقام لے گے
۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بادشاہ رعیا کا باپ ہوتا ہے اگر رعایا بادشاہ پر جان فدا کرتى ہے تو بادشاہ کا بھی فرض ہے کہ وہ اپنى رعایا کے ہر دکھ درد میں شریک ہو
بادشاہ نے اپنے وزیر کو حکم دیا کہ جس طرح بھی ممکن ہو اس بلا کو تلاش کیا جائے بادشاہ کے حکم سے تمام سپاہیوں نے بلا کى تلاش میں شہر کا کونہ کونہ چھان ڈالا لیکن بلا کا کوئ پتا نہ چل سکہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بادشاہ نے حکم دیا کہ بلا کى تلاش جاری رکھى جاۂے
مکران کے تاریخى اور قدیم قبرستان میں ہر طرف اندھیرا پھیلا ہوا تھا رات کے12بجے تھے قبرستان کے پر ہول سناٹے میں جھینگروں کى آواز کے ساتھ کہیں کہیں سانپوں کی سیٹیوں اور سرسراہٹ کہ آواز سنائ دے رہى تھى
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس قبرستان کى ایک بوسیدہ قبر حرکت میں آئی یہ قبر قدرے ملبے کا ڈھیر بن چکى تھى اور ایک سمت ميں ایک گڑھا سا باقی رہ گیا تھا ۔
أسى گڑھے سے ایک سر اُبھر کے باہر آیا -یہ عجیب قسم کا انسانى سر تھا جس کى دونوں آنکھوں میں گڑھے رہ گئے تھے ۔۔۔۔۔۔
آنکھیں غائب تھى اسى طرح ناک کا گوشت بھی گل سر گیا تھا ۔اور اس کی جگہ ہڈى نظر آتى تھى ایک طرف کے جبرے کا گوشت لٹک جانے کی وجہ سے دانت صاف دکھائی دے رہے تھےجو بڑے بڑے کسى درندے کی طرح کے تھے قبر سے نکلے اس سر نے اپنى بے نور آنکھوں سے باہر جھانک کر دیکھا بادشاہ کے چند سپاہى ہاتھ میں مشعل لیے قبروں کے درمیان جانچ پڑتال کر رہے تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جونہى ایک سپاہى کی نظر اُس بھیانک اور خوفناک چہرے پر پڑى ڈر کے مارے چیخ کر بےہوش ہو گیا اس سے پہلے اُس کے ساتھی حقیقت جاننے کے لیے وہاں پہچنتے وہ خوفناک سر دوبارہ قبر کے اندر چلا گیا ۔۔
سپاہی اپنے بیہوش ساتھى کو محل لے آۂے اس نے ہوش میں آ کر بتایا اس نے پرانے تاریخى قبرستان میں ایک قبر سے انسانى شکل کى بلا کو نکلتے دیکھا تھا بادشاہ کو جب اس واقعے کی اطلاع ملى تو اس نے وزیر جابر شاہى نجومی اور دیگر امرا کو قبرستان بھیجا تا کہ حقیقت کا پتہ چلا سکے
بےہوش ہونے والے سپاہى کى نشاندہی پر قبر کى کھدائ کرواى گئ ۔۔
قبر کے اندر ایک انسانی ڈھانچا نظر آیا ڈھنچاے کے گلے سے ایک کالا ناگ لپٹا ہوا بیٹھا تھا محل آ کر نجومی نے اپنا حساب لگیا اور بادشاہ سے کہا بادشاہ سلامت ایک بدروح جو کسى خبیث انسان کی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ قبرستان میں ایک مردے کے ڈھانچہ میں داخل ہو کر باہر نکلتى ہے ؟؟!!
اور انسانی خون پى کر واپس قبر میں آ جاتى ہیں اور پھر وہ روح کالاناگ کے جسم میں داخل ہو جاتى ہیں. یہ کالا ناگ کافى دن پہلے مر چکا ہے لیکن بدروح نے اس کے جسم پر قبضہ کر رکھا ہے بہتر یہ ہے کہ اس سانپ کو ہلاک کر کے ڈھانچے کو جلا دیا جائے تا کہ اس بلا سے ہمیشہ کے لیے نجات مل جائے بادشاہ نے غور سے نجومی کی باتوں کو سنا اور حکم صادر کر دیا کہ قبر کے سانپ کو تیروں سے چھلنى چھلنى کر دیا جائے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔
اور ڈھانچے کو آگ لگا دی جائے بادشاہ کے حکم کے مطابق قبر کو دوبارہ کھولا گیا اور بادشاہ کے سپاہیوں نے تیروں کى بارش کر کے کالے ناگ کو ٹکرے ٹکرے کر دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔””
☠
————-پھر سپاہیوں نے تیل ڈال کر ڈھانچے کو آگ لگا دی اور ڈھانچہ جل کر راکھ ہو گیا بادشاہ کی شادی کو چار سال ہو گئے تھے لیکن کوئی اولاد نہیں ہوئ تھى ۔۔۔۔۔۔۔۔جابر بڑا نمک حرام اور غدار قسم کا وزیر تھا اس کى خواہش تھى کہ بادشاہ کے ہا کوئی اولاد نہ ہو اور بادشاہ کو قتل کر کے خود تاج و تخت پر قبضہ کریں. ۔۔۔۔۔۔ لیکن دربار میں چند وفادار عہدے دارو کی موجودگی میں اُسے کامیابی نہیں ہو رہى تھى
بادشاہ اور ملکہ دونو دن رات دعائیں کرتے تھے الله نے ان کی سن لى اور ایک دن بادشاہ کے تخت و تاج کى واراثت شہزادی نے جنم لیا وزیر جابر کے لئے یہ خبر نا قابلِ برداشت تھى ۔۔۔
ایک روز قبل جابر وزیر کہ ہا بھى ایک بیٹى پیدا ہوئ تھى جابر وزیر اپنے کمرے میں بے چینى سے ٹہل رہا تھا اُس کے سامنے شاہى نجومى سر جھکاۂے کھڑا تھا جابر وزیر نے کہا بادشاہ تمھیں شہزادى کا زائچہ بنانے کے لیے بلاۂے گا تم بادشاہ کی بیٹھى کو بادشاہ ملکہ سلطلنت اور ملک کے لیے منحوس قرار دینا اور اس کے فورى قتل کا مشورہ دینا ۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں تمہیں مالا مال کر دو گا تمھارا گھر سونے چاندى سے بھر دو گا نجومى نے جواب دیا جناب عرصہ دراز کے بعد تو بادشاہ سلامت کو تخت و تاج کى وراثت ملى ہے پھر بلا کسے نمک حرامى کر سکتا ہوں
میرے باپ دادا نے اس خاندان کی خدمت کى ہیں
برسوں ان کا نمک کھایا ہے مجھے سونے چاندى کى لالچ نہ دے کوئ مال دولت قبر میں ساتھ نہیں لے جاۂے گا یہ کہہ کر نجومى وزیر کے کمرے سے باہر نکل آیا نجومى کے اس طرح جواب دینے سے وزیر تلملا کر رہ گیا وہ دوبارہ اپنے کمرے میں ٹہلنے لگا ۔۔۔۔۔۔
وہ گہرى سوچ میں ڈوبا ہوا تھا اور کمرے میں اب اس کے علاوہ کوئی اور نہیں تھا اچانک کمرے میں سرگوشى کى آواز ابھرى تیرى مشکل کا حل میرے پاس سے ۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وزیر نے حیرت سے اِدر اُدر دیکھا کمرے میں اس کے علاوہ کوئی موجود نہیں تھا وزیر نے سوال کیا تم کون ہو سامنے آؤ ؟؟…
آواز آئ میں جسم نہیں روح ہو جب تک مجھے کوئ جسم نہ مل جائے تمھارے سامنے نہیں آ سکتا تم مجھے جسم مہیا کر دو میں تمھیں تخت و تاج کا مالک بنا دو گا ۔۔؛؛
مکار وزیر کے ذہن میں فوراً ایک ترکیب آئ وہ فوراً نجومى کو بلانے دوسرے کمرے میں گیا اور بولا مجھے اپنى غلطى کا احساس ہو گیا ہے میں نے بادشاہ کی بیٹى کے لیے تم سے جو کچھ کہا اس کے لیے میں تم سے معافى چاہتا ہوں۔۔۔
آؤ میرے کمرے میں چلوں میں تم سے اپنى بیٹھى کے لیے زائچہ بنوانا چاہتا ہوں نجومى وزیر کى عیارى کو نہ سمج سکا اور وزیر کے کمرے میں چلا گیا ۔۔۔۔۔
وزیر نے بڑى ہوشیارى سے مشروب میں زہر ملا دیا اور نجومى کو پینے کے لیے دیا نجومى مشروب پى کر تڑپنے لگا اور دم توڑ گیا مکار وزیر جابر نے دیواروں کی طرف دیکھتے سر گوشى سے کہا میرے دوست میں نے تمہارے لیے ایک جسم مہیا کر دیا ہے
اب تم اس میں اپنى روح اس میں داخل کر کے سامنے آ جاؤں ۔۔۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: