Khooni Billa Novel – Episode 2

0
خونی بلا – قسط نمبر 2

–**–**–

۔تھوڑى دیر بعد نجومى کى لاش میں حرکت ہوئ اور وہ مسکراتا ہوا اُٹھ کھڑا ہوا
وزیر نے سوال کیا اب تم بتاؤکون ہو تم اور میرے لیے کیا کر سکتے ہو نجومى کے جسم میں موجود روح نے جواب دیا
میں جگو ڈاکو کی روح ہو ۔۔۔
جو بچوں کا خون پیا کرتا ہے بادشاہ نے میرى قبر کو کھلوایا میرى روح جس کالے ناگ میں تھى اُسے تیروں سے چھلنى کروایا میرى قبر میں تیل ڈلوا کر میرے ڈھنچاے کو جلا کر راکھ کر دیا ۔۔
مجھے دردر بھٹکنے پر مجبور کر دیا میں بادشاہ سے انتقام لینے کے لیے تمھارى مدد ضرور کرو گا تم نے اچھا کیا اس نجومی کو قتل کر دیا اِس نجومی نے ہى کالے ناگ کو مارنے اور میرے ڈھانچے کو جلانے کا مشہور بادشاہ کو دیا تھا ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔
اب تم دیکھو میں کیا کرتا ہوں ۔
دوسرے دن دربار میں سناٹا چھایا ہوا تھا شاہى نجومى شہزادی کا زائچہ بنا کر سر جکھاۂے بیٹھا تھا یہ شاہى نجومى نہیں تھا بلکہ شاہى نجومی کے جسم میں سمائ ہوئ جگو ڈاکو کی بد روح تھى
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ،،،،،،،،
نجومی نے ڈرتے ڈرتے بادشاہ سے کہا جان کی امان پاؤ تو کھچ عرض کرو بادشاہ نے کہا ہاں ہم نے امان دى بولوں کیا کہنا چاہتے ہو نجومی نے عرض کی عالم پناہ شہزادی نومولود بادشاہ سلامت ،؛ملکہ ملک اور قوم کے لیے نحوست اور تباہى کا سبب بن کر آئ ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔
یہ انسانى شکل میں تباہى اور بربادى کا وہ منحوس سایہ ہے جس کی وجہ سے سب کچھ تباہ برباد ہو جاۂے گا ناچیز کی راے میں شہزادی کو قتل کر دینا ہى عقل مندى کا ثبوت ہیں بادشاہ دل پکڑ کر بیٹھ گیا ملکہ کو غش آگیا ایک وفادار عہدیدار نے بادشاہ کو سنبالا اور نجومى سے کہا شاہى نجومی کوئ ایسى ترکیب سوچو جس سے شہزادی زندہ بھى رہے اور نحوست کے اثرات سے بادشاہ اور رعایا محفوظ رہے ۔۔
آخر نجومی نے کچھ سوچنے کے بعد جواب دیا ُُُ..ایک ترکیب ہے کہ پندرہ سال کى عمر تک شہزادی شہر سے دور مقام پر پرورش پائے اور اس دوران میں بادشاہ سلامت اود ملکہ دونوں ایک دفعہ بھى اس سے ملاقات نہ کریں ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔,۔۔۔ ،،،،،،،
بادشاہ نے مایوسى سے کہا- مگر یہ سب کیسے ہوں گا مکار وزیر نے سوچے سمجے منصوبے کے تحت جواب دیا ،،یہ غلام کس دن کام آئے گا ۔عالم پناہ میرے بھى ہاں ایک بچھى پیدا ہوئ ہے
میں شہزادى حضور کو اپنى بیوى کے سپرد کر کے شہر سے کسى مقام پر اپنى بیوى اور بچوں کو چھوڑ دیتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پندرہ سال بعد ہم شہزادی کو دوبارہ محل میں لے آئے گے تب تک نحوست کے اثرات ختم ہو چکے ہو گے ۔ بادشاہ نے خوش ہو کر کہا شاباش وزیر ہمیں تمہاری وفاداری سے یہى اُمید تھی شہزادی کو فورى طور پر وزیر سلطنتِ کے حوالے کر دیا جائے بادشاہ کے حکم کے مطابق ننھى شہزادی کو وزیر جابر کے حوالے کر دیا گیا وزیر جب شہزادی کو لے کر اپنى بیوى کے پاس پہنچا تو وہ وزیر سے ناراض ہو گئ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ،،،۔،۔،۔۔،۔،،۔،۔،،۔
اور بولى اس آفت کو میرے گلے ڈالنے کیوں لے آئے ہو مجھے ڈر ہے یہ ڈائن مجھے اور میرى بیٹى کو کھا جائے گی وزیر نے مکارى میں ہنس کر جواب دیا ارے نیک بخت یہ شہزادی نہ تو منحوس ہے اور نہ ہی کسى بربادى کا نشان بلکہ یہ سب کچھ تو سلطنتِ حاصل کرنے کے لیے کیا ہے ۔۔۔۔
ہم بڑى جلدى سے اس بچى کو شہزادی ظاہر کر کے شاہى محل پہنچا دے گے بادشاہ کے بعد ہماری بیٹى ملکہ بن جائے گی اور سارى سلطنت ہمارے ہاتھ ہو گى اور یہ شہزادی ہمارى بچى بن کر ایک کنیز کى طرح ہمارى بچى کى خدمت کرے گی
۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔,۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔,۔۔۔۔۔
وقت تیزى سے گزرتا گیا شہر سے دور ایک مکان جابر وزیر نے تعمیر کروایا تھا جہاں بیچاری شہزادی کنیز بن کر وزیر کى بیٹى شرارہ کى خدمت کرتى تھى وزیر کى بے رحم بیوى شہزادی کے ساتھ بڑا ظالمانہ سلوک کرتى ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
وزیر اور اس کی بیٹى کا شرارہ کا روایہ بھى شہزادی کے ساتھ انتھائ ظالمانہ تھا شہزادى دن بھر کام کاج کرتى اور رات کو وزیر کى بیٹى اور بیوى کى خدمت کرتى ۔
بادشاہ اور ملکہ مطمعن تھے کہ ان کہ بیٹى بڑے نازونعمت سے وزیر کے پاس پل رہى ہے مگر شہزادی تو اپنى بے بسى اور قسمت پر بیچارى روو بھى نہى سکتى تھى
اُسےاپنے مقدر پر آنسو بہانے کے لئے بھى گھر سے باہر جانا پڑتا تھا اور جب وہ روتى تو آنسو موتى بن جاتے لیکن جنگل میں پلى ہوئ شہزادى کو بلا ان موتیوں کى قدرو قیمت کا کیا علم وہ ان موتیوں کو اُٹھا کر دیکھتى بھی نہیں تھى
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ !!!!!!——-
اب چودہ سال گزر گئے دوسرى طرف جگو ڈاکو کی روح شاہى نجومى کے جسم میں داخل ہو گئ تھی جگو ڈاکو اب شاہى نجومى کے روپ میں رات کو نکل کر بچوں کا خون چوستا تھا کسى کے وہم و گمان میں بھى نہیں تھا کہ شاہى نجومى کے روپ ميں جگو ڈاکو بچوں کا خون پى رہا ہے ۔۔
بادشاہ پریشان تھا کہ بچوں کا خون پینے کى وارداتیں جارى هے لیکن خون پینے والى بلا کا پتہ نہیں چل رہا ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟
۔۔۔۔۔۔۔ وزیر جابر نے شاہى نجومى کو اپنے کمرے میں بلایا اور بولا بادشاہ نے بچوں کا خون پینے والى بلا کا پتہ چلانے کے لیے خاص آدمى مقرر کر دیے ہیں
تم احطات سے رہنا اور باہر زيادہ نہیں نکلنا تمہیں انسانی خون ہى پینا ہے تو میرى بات مانو بادشاہ کا خون پیو اس کا خون تمہیں ضرور اچھا لگے گا تم بادشاہ کا ہر 2 3 دن بعد خون پی لینا بادشاہ خون کی کمی کا شکار ہو کر بیمار ہو جائے گا اور پھر تمام شاہى معملات میرے سپرد کر دیئے جائں گے بس تم آج سے ہى بادشاہ کا خون پینا شروع کر دو ،،،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔
وزیر کى ہدایت کے مطابق جگو ڈاکو کی روح شاہى نجومى کے روپ میں بادشاہ کى خواب گاہ میں داخل ہوتى اور اس کا خون پى جاتى جس کى وجہ سے بادشاہ کچھ ہى دنوں ميں بیمار ہو گیا اور دن بےدن کمزور ہوتا چلا گیا شاہى طبیب دوسرے ملکوں کے دورو پر گیا ہوا تھا اس کى غیر موجودگی میں دوسرے بڑے نامور حکیموں سے بادشاہ کا علاج کروایا گیا لیکن بادشاہ کو کوئی افاقہ نہ ہوا اور اس کى بيمارى بڑتى گئ وزیر نے لالچ دے کر کھچ خادموں کو اپنے ساتھ ملا لیا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔
وہ لالچى خادم بادشاہ کى خوراک میں نیند لانے والى دوا ملا دیتے بادشاہ گہرى نیند سو جاتا تھا اور اس دوران جگو ڈاکو کى روح شاہى نجومى کے روپ میں آ کر روزانہ اس کا تھوڑا خون پى جاتى تھى اور بادشاہ کو پتہ بھی نہیں چلتا تھا اور جب وہ صبح سو کر اُٹتھا تو اپنے آپ کو پہلے سے زیادہ کمزور اور بیمار محسوس کرتا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
بادشاہ کی بیٹى شہزادى گلبدن وزیر کى بیوى اور بیٹى شرارہ کے ظلم و ستم بڑے صبر سے برداشت کر رہى تھى ایک دن وزیر کى بیوى اور بیٹى دونوں نے شہزادی کو خوب مارا ۔۔اسے کھانے کو کچھ نہ دیا اور سزا دینے کے لیے اُسے گھر سے باہر دھوپ میں کھڑا کر دیا شہزادى کو اُنہوں نے بہت دیر تک گھر کے باہر کھڑا رکھااور خود گھر میں مزے مزے پکوان کھانے لگے
شہزادى زارو قطار رونے لگى
اور پھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟؟؟؟

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: