Khooni Billa Novel – Last Episode 3

0
خونی بلا – آخری قسط نمبر 3

–**–**–

اتفاق سے ہیرے موتیوں کا ایک سوداگر گھوڑے پر سوار ہو کر شہزادی کے قریب سے گزرا اس نے دیکھا شہزادی کے آنسو زمین پر موتى بن بن کر گِر رہے ہیں سوداگر نے حیران ہو کر اپنا گھوڑا روک لیا اور کچھ دیر تک شہزادی کو روتا ہوا دیکھتا رہا
اس کى آنکھیں موتیو کو دیکھ کر پٹھى کی پٹھى رہ گئی
وہ گھوڑے سے اُتر کر شہزادی کے قریب آیا اور اُس نے شہزادی کے قریب آ کر شہزادی کے سر پر ہاتھ رکھ کر اُسے تسلى دى چند پھل کھانے کو دہے اتنے میں وزیر کے گھر کا دروازہ کھلا وزیر کى بیوى نے چیخ کر شہزادى کو بلایا شہزادى خوف زدہ ہو کر وزیر کی بیوى کى طرف تیزى سے گئ وزیر کى بیوى نے پھل شہزادی کے ہاتھ سے چھینے اُسے ایک زور دار تھپڑ مارا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے دروازے سے اندر گھر میں کھینچ لیا ۔۔۔۔۔
اور دروازہ زور سے بند کر دیا سوداگر نے جلدى جلدی زمین پر پڑے ہوئے موتى سمیٹے اور انہیں گہری نظر سے دیکہنے لگا شام کو سوداگر وزیر کے گھر آیا وزیر سے مل کر اُس نے کہا مجھے 1 کنیز کى ضرورت ہیں اگر آپ اپنى چھوٹى کنیز فروخت کرنا چاہتے ہیں تو میں اس کے بدلے انمول ہیرے جواہرات دینے کے لیے تیار ہو لالچى وزیر نے سوداگر کى بات فوراًمان لى اس نے سوچا کہ شہزادی کو بیچ کر وہ ہیرے جواہرات حاصل کریں ااس طرح شہزادی سے بھى جان چھوٹ جائے گی ۔۔۔۔
وزیرجابر نے بہت سارے ہیرے جواہرات کے بدلے شہزادی گلبدن کو سوداگر کے ہاتھ فروخت کر دیا
سوداگر کے ہا شہزادى کو سب کچھ مل جاتا تھا وہ دن بھر خوش رہتى اور رات ہوتے ہى سوداگر شہزادی کو ایک کوٹھرى میں لے جاتا اور کوڑے مار مار کر اس کا بُرا حال کر دیتا شہزادی خوب روتى اور صبح تک ڈھیر سارے موتى اکٹھا کر کے لے جاتا شہزادی حیران تھى کہ آخر دن بھر مہربانی سے پیش آنے والا رات کو جلاد کیوں بن جاتا ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔
ان موتیو کى بدولت سوداگر امیر ہو گیا ایک دن شہزادی گلبدن کو اس ظالم سوداگر سے چھٹکارا حاصل کرنے کا موقع مل گیا۔۔۔
وہ رات کے وقت سوداگر کى حویلى سے باگ گئی صبح ہوتے ہى جونہى سوداگر موتى اکٹھے کرنے کوٹھرى میں گیا تو شہزادی کو نہ پا کر حیران و پریشان رہ گیا اس نے شہزادی کو تلاش کرنے کے لیے اپنے آدمى چاروں طرف روانہ کر دیے
شہزادی بیچارى رات بھر کسى سمت دوڑتى رہى یہاں تک کے سورج نکل آیا جلد ہى اس نے دور سے چند گھڑ سوارو کو آتے دیکھا اس نے سوچا وہ ان سے مدد لے کر کسى پاس آبادى میں پناہ لے گى لیکن جونہى وہ قریب آئے اس کى سارى اُمیدوں پر پانى پھر گیا ۔آنے والو میں سوداگر اور اس کے حوارى موجود تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔
جنہوں نے اسے جلدى سے قابو کر لیا لیکن جلد ہى ایک طرف اُڑتى ہوى دھول دیکھ کر شہزادى کى ڈھارس بندى
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔چندگڑ سوار شاہی وردی میں دوھول کے اندر نظر آ رہے تھے۔ ان کے پیچھے شاہی بگھی میں ملکہ موجود تھی۔ جو نہی ملکہ کی سواری قریب آئ شہزادی نے شور مچا دیا اور فریاد کی کے اسے ان ظالموں سے بچایا جائے۔
——————
شہزادی کی فریاد سن کر شاہی سواری رک گئی اور پھر ملکہ کے محافظوں نے سوداگراور اس کی خواریوں کو گرفتار کرکے شہزادی کو ملکہ کے سامنے پیش کردیا۔ماں نے پہلی بار بیٹی کو دیکھا جو اب پندرہ سال کی ہونے والی تھی۔لیکن نہ تو ماں کا علم تھا کہ یہ مصیبت زدہ لڑکی اس کے جگر کا ٹکڑا ہے اور نہ ہی بیٹی کو معلوم تھا کہ جس دامن میں پناہ ملی ہے۔ وہ اس کی ماں کا دامن ہے۔ ملکہ شہزادی کو محل لے آئی اور اس نے شہزادی کو بادشاہ کی خدمت پر مامور کر دیا۔
——————
جو نہی شاہی طبیعت غیرممالک سے واپس آیا۔اس نے بغور بادشاہ کا معائنہ کیا وہ سمجھ گیا کہ بادشاہ کی بیماری کس وجہ سے ہے۔ لیکن اس نے بات کسی پر ظاہر نہیں کی۔وہ چھپ کر بادشاہ کی خوراک اور اس کے خوابگاہ پر نظر رکھنے لگا۔اسے جلد یہ معلوم ہوگیا کہ بادشاہ کی خوراک میں گہری نیند لانے والی کوئی شے ملائی جاتی ہے۔اسے شاہی نجومی کی حرکات وسکنات پر شبہ ہوا۔وہ شاہی نجومی کی سرگرمیوں کا گہری نظر سے جائزہ لینے لگا۔ایک رات اس نے چھپ کر شاہی نجومی کا تعاقب کیا۔جو ہر رات بادشاہ کی خوابگاہ میں جایا کرتا تھا۔محافظوں کو کیا علم تھا کہ اس نجومی کے جسم پر کسی بدروح قبضہ کر لیا ہے۔وہ سمجھتے تھے کہ نجومی بادشاہ کی طبیعت دیکھنے خوابگاہ جاتا ہے اور اپنی تسلی کر کے واپس آ جاتا ہے شاہی طبیب نے چھپ کر دیکھا۔مزید نجومی خوابگاہ میں داخل ہوا۔روشنی گل کی اس کی شکل درندے کی طرح بھیانک ہوگئ اور جس نے اپنے دانت بادشاہ کی شہ رگ پر رکھ کر ہونا شروع کر دیا۔شاہی طبیعت نےجو یہ ماجرا دیکھا تو فوراً محافظوں کو اشارے سے بلالیا۔جنہوں نے نجومی کو جکڑ لیا اور پھر وہ کسی کے علم میں لائے بغیر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسے لے گئے شاہی طبیعت کے حکم سے اسے ایک تہہ خانے میں زنجیروں سے باندھ کر قید کر دیا۔
_______________________
اچانک نجومی کے غائب ہو جانے پر سب سے زیادہ پریشانی وزیر کو ہوئی۔اس نے تمام شہر اس کی تلاش میں چھان مارا یہاں تک کہ حوالات میں بھی تلاش کیا۔جہاں اس کی ملاقات سوداگر سے ہو گئی اس نے سداگر سے شہزادی کے بارے میں پوچھاکے اب وہ کہاں ہے۔ سوداگر نے شہزادی کے بارے میں سب بیان کر دیا اور بتایا کہ شہزادی اب ملکہ عالیہ کی پناہ میں ہے سوداگر کا جواب سن کر وزیر کا ماتھا ٹھکا وہ ڈر گیا کہ بادشاہ کی بیٹی کنیز بن کے محل میں آگئی کہیں یہ راز کھل نہ جائے۔ اس لیے اس نے بادشاہ کو مشورہ دیا کہ نخوست کا وقت ختم ہوگیا ہے لہذا شہزادی کیا فوراً تاج پوشی کی کر دی جائے۔ بادشاہ اپنی زندگی سےمایوس ہو گیا تھا اس نے وزیر کی بات فوراًمان لی۔ اس طرح وزیر کی بیٹی شہزادی گلبدن کے بدلے میں محل لائی گئی ملکہ اور بادشاہ نے اسے بے حد پیار کیا اور اس کی جلد تاجپوشی کا اعلان کر دیا گیا۔
_____________________
وزیر کو سوداگر کے ذریعہ یہ بھی معلوم ہوا تھا کہ جب روتی ہے تو اس کے آنسو موتی بن جاتے ہیں اسی لیے اس نے شہزادی کو خریدا تھا۔ وزیر نے شہزادی کو میرے خیال میں کنیزوں کے جھرمٹ میں دیکھ لیا تھا وہ چاہتا تھا کہ کسی صورت اس کی شہزادی گلبدن کو ختم کر دیا جائے۔ تاکہ اس کی بیٹی شرارہ کی تاج پوشی ہو اور وہ ملکہ بن جائے بلا آخر اس نے ایک روز شاہی طبیعت کی دعوت اپنے محل میں کی۔پھر تنہائی میں ملاقات کرکے اسے عہدے اور دولت کا لالچ دیااور اسے آمادہ کرنے کی کوشش کی کہ وہ بادشاہ سے کہے کہ اس کی بیماری کا علاج ایسی لڑکی کے خون سے ہے جو روتی ہے تو اس کے آنسو موتی بن جاتے ہیں شاہی طبیعت نیک خدا ترس اور عبادت گزار آدمی تھا اس کی دواا سے بادشاہ کی بیماری قدرے کم ہو رہی تھی۔اس نے وزیر سے پوچھا……….. ……… . . . . .. . .?????
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مگر ایسى لڑکى کہا ملے گى جس کے آنسو موتى بن جائے گے وزیر نے مکارى سے جواب دیا اس کی آپ فکر نہ کریں اپنے محل کى کنیزوں میں ایسى لڑکى موجود ہیں وقت آنے پر پیش کر دو گا بس تم بادشاہ کو اس لڑکی کے خون سے نہانے پر رضا مند کر لو شاہى تبیب نے سوچا وزیر آخر کیوں بادشاہ کے لیے اس کنیز کا خون کرنا چاہتا ہیں ۔۔۔۔۔
اس نے یہ راز جاننے کے لیے وزیر سے کہاں آپ مجھ پر اعتماد کر سکتے ہیں مجھے کھل کر سب کچھ بتا دیں تا کہ مجھ سے کوئ غلطى نہ ہو جب وزیر نے دیکھا کہ شاہى طبیب اس کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے آمادہ ہے تو اس نے شہزادى گلبدن اور شاہى نجومی کے بارے ميں سب کچھ شاہی طبیب کو بتا دیا اور ساتھ ہى دھمکى کے انداز ميں اس سے کہا دیکھو میں نے سارے راز تم پر ظاہر کر دیئے ہیں ۔۔۔۔۔۔
تا کہ بادشاہ کو راضى کر سکو لیکن ایک بات یاد رکھنا کہ کسى قسم کى ہوشیارى یا مجھ سے غدارى بہت مہنگى پڑے گی ۔”۰
شاہى طبیب نے اُسے تسلى دیتے ہوئے کہا وزیر صاحب میں آپ کے ساتھ ہو بھلا کوئ عقل مند دریا میں رہ کر مگر مچھ سے دشمنى کر سکتا ہیں وزیر شاہى طبیب کے جواب سے خوش ہوں گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ——_——-…..؟_
سارے ملک میں منادى کرادى گئی کہ بادشاہ کى بیمارى کا علاج ایک ایسى لڑکى کے خون سے غسل سے ہیں ۔۔
جو روتى ہیں تو اُس کے آنسُو موتى بن جاتے ہیں ایسى لڑکى جہاں بھی ہو اُسے بادشاہ کے دربار میں پیش کیا جائے
جونہى گلبدن شہزادی نے یہ اعلان سُنا وہ خوف زدہ ہو گئی اور سوچنے لگى ضرور اس کے مطلق کسى کو علم ہو گیا
تقدیر چند روز اُسے ہنسا کر پھر اُسے موت کے منہ میں دھکیلنا چاہتى ہیں وزیر جابر نے شہزادی گلبدن پر پہرا لگا دیا کہ وہ کہى فرار نہ ہو جائے
۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔—––—-___——————-:
دیوان خاص میں بادشاہ ملکہ وزیر کى بیٹى کے ساتھ وزیرِ سلطنت اہم عہدے دار اور مخالفوں کے علاوہ شاہى طبیب بھی موجود تھا شہزادی گلبدن کو قیدى کى طرح پکڑ کر لایا گیا اُس کے دائں بائے جلاد تلواریں لے کر موجود تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔
شہزادی نے حسرت سے بادشاہ اور ملکہ کے پہلو میں بیٹھى وزیر کى بیٹى شرارہ کو دیکھا ایک طرف غسل کے لیے پانى گرم کیا جا رہا تھا ایک جلاد شہزادی کى گردن پر وار
کرنے کے لیے ۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تیار کھڑا تھا اور اُس کا اُس کھولتے ہوئے پانى ميں ترنا تھا وزیر نے سب لوگوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا آج کا دن انتہائی خوشى کا دن ہیں کہ بادشاہ سلامت کو منحوس بيمارى سے نجات دلانے کے لیے ہم ایسى لڑکى تلاش کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں جو روتى ہیں تو اُس کے آنسو موتى بن جاتے ہیں ۔۔۔۔
اس کے خون سے غسل کرنے کے بعد بادشاہ سلامت صحت یاب ہو جائینگے اور پھر وہ اپنى بیٹى شہزادى گلبدن کو تخت پر بیٹھا کر خود گوشہ نشین ہو جائینگے آرام کرینگے ۔۔۔
شہزادی کا دل ڈوب گیا وہ خوف سے کانپتے ہوئے آپنى آنکھیں بند کر کے موت کا انتظار کرنے لگى وزیر جابر نے گردن اُڑانے کے لیے جلاد کو اشارہ کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟
لیکن ایک انہونى بات ہو گئی جلادنے شہزادی کوقتل کرنے کی بجائے اپنى تلوار پھینک دى بادشاہ کے محافظوں نے اپنى تلواریں وزیر جابر کی گردن پر تان لى بادشاہ نے گرج کر کہا _؛؛
نمک حرام غدار تیرا پول کھل گیا ہیں ۔
۔ ۔۔۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔——_____————
وزیر ڈھیٹ بن کر بولا بادشاہ سلامت آپ کو غلط فہمى ہوئ ہیں میں آپ کا وفادار ہو بادشاہ نے فوراً کہا تم کتنے وفادار ہو ابھى پتہ چل جاتا ہیں بادشاہ نے اشارہ کیا اور اُسى وقت چند سپاہى شاہى نجومى کو لے کر آ گئے بادشاہ نے کہا اَو بد روح ہمارے خلاف سازش کا اب تو ہى گوا ہیں ۔۔۔
بتا حقیقت کیا ہیں بد روح جو شاہى نجومى کے جسم پر قابض تھی اُس نے سارى حقیقت سب کے سامنے بیان کر دى شاہى طبیب نے بھی آگے بڑھ کر جابر وزیر کے اَصل کردار سے پردہ اُٹھایا اور بتایا کہ کس طرح اُس نے وزیر کا اعتماد حاصل کر کے اصل حقیقت کا پتہ چلایا اور بادشاہ کو سارى صورتحال سے آگاہ کیا ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!!؟؟؟؟؟
بادشاہ اور ملکہ نے آگئے بڑ کر شہزادی گلبدن کو سینے سے لگایا یہ جان کر کہ وہ بادشاہ کى بیٹى ہیں شہزادى اپنى ماں سے لپٹ کر رونے لگى شاہى طبیب نے ایک عامل بابا کو بلایا انھوں نے شاہى نجومى کو سامنے بیٹھا کر اپنا عمل شروع کیا شاہى نجومى کا جسم تھر تھرانے لگا اور پھر اُس کے جسم سے جگو ڈاکو کى روح نکل گئی جگو ڈاکو کى روح واپس چلى گئی ہیں ۔۔
اب کسى بھی جسم میں داخل نہیں ہو سکے گی بادشاہ نے شاہى نجومى کى لاش کو پورے اعزاز کے ساتھ دفنانے کا حکم دیا ۔
وزیر جابر اپنے کیے پر شرمسار تھا بادشاہ نے اپنى شہزادی کے صدقے میں اس کى بیوى اور بیٹى کو معاف کیا ۔۔
لیکن جابر وزیر کو غدارى کے جرم میں بھوکے شیروں کے سامنے ڈالنے کی سزا سنا دى ۔۔
۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔
بلاشبہ جو لوگ اپنے نیک آکاؤں کے ساتھ غدارى کرتے ہیں__اُن کى سزا ایسى ہى سنگین ہونى چاہئے وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ سب سے بڑئ طاقت الله کى ہیں جو بہترین اِنصاف کرنے والا ہیں

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: