Khwabo Ki Pari Novel By Aaira Shah – Episode 1

0
خوابوں کی پری از آئرہ شاہ – قسط نمبر 1

–**–**–

سرخ گلابوں سے سجی خوبصورت سیج پر سرخ بھاری کام سے سجے شرارے میں ملبوس انیس سالہ لڑکی پر پریوں سا روپ آیا تھا۔۔۔ ماں نے کئ بار نظر اتاری غرض یہ کہ جس آنکھ نے آج اسے دیکھا ان میں اس کے لئے ستائش تھی ۔۔۔
اس کی سکھیوں نے بھی خوب چھیڑا کے آج تو دولہے میاں کے ہوش اڑے ہی اڑے ۔۔۔۔
ایسا ہونا بھی تھا ۔۔۔۔۔۔مگر !!!! اس لڑکی کی باطنی حالت بالکل مختلف تھی اس کے دل میں نئی نویلی دولہن والے جذبات نہ تھے بلکہ اسکا ذہن تیزی سے کچھ سوچنے میں مگن تھا۔۔۔
ایک نتیجے پر پہنچ کر وہ اپنے بھاری کام سے مزین لہنگے کو سنبھالتی ہوئی کھڑی ہوئی اور تیزی سے سنگھار میز کے سامنے آئ۔۔۔۔۔۔ ایک نظر خود پر ڈالنے کے بعد اپنا زیور اتار کر سنگھار میز پر پٹخنے لگی جس کے نتیجے میں کچھ چوڑیاں زمین پر بکھر کر ٹوٹ گئی ۔۔۔۔۔
آہ !!!!!! انسان کا دل بھی تو ان کانچ کی چوڑیوں جتنا نازک ہوتا ہے ذرا سی چوٹ پر یونہی تو ٹوٹ کر بکھر جاتا ہے۔۔۔۔ جیسا اس وقت شیشے کے سامنے کھڑی اس نازک سی لڑکی کے ساتھ ہوا تھا “
خود کو سارے زیورات سے آزاد کروانے کے بعد باتھ روم کی جانب بڑھی۔۔۔۔۔۔
کچھ وقت کے بعد وہ سادہ سے کاٹن کے گلابی لباس میں باہر آئ۔۔۔۔۔۔ ایک ہاتھ میں سرخ شرارہ رول کی صورت میں پکڑا ہوا تھا جسے غصے سے ایک کونے میں پھینکنے کے بعد بستر کی جانب بڑھی۔۔۔۔۔۔
سائیڈ ٹیبل سے پانی کا جگ اٹھا کر بستر کی ایک سائیڈ بھگونے کے بعد اطمینان سے ہاتھ جھاڑتی ہوئی بستر کی دوسری جانب دراز ہو کر لائٹ آف کرکے کمفرٹر منہ تک لے لیا۔
جبکہ اس وسیع و عریض کمرے کے کونے میں پڑا ڈیزائنر لہنگا جسے کبھی پہننے کے وہ کبھی خواب دیکھتی تھی اپنی بے قدری پر آٹھ آنسو بہا رہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“زوہا ۔۔۔۔ زوہا کہاں ہو میں کب سے آواز دے رہی ہوں”
“جی مماں آئ ابھی “۔۔۔
ستواں ناک ، بڑی بڑی شرارتی آنکھیں ، گلابی گال ، بھرے بھرے لب ، مناسب قد کی نازک سی لڑکی نے سیڑھیوں پر سے پھلانگنے کے سے اترتے ہوئے آواز لگائ۔
“آپ نے بلایا مماں” ۔۔۔۔۔ زوہا نے کیچن کے دروازے سے اندر داخل ہوتے ہوئے پوچھا ۔۔۔۔۔
” کہاں تھی میں کب سے آواز دے رہی تھی یقینا لگی ہوگی اس موبائل میں اب جلدی سے سلاد بنائو پتا ہے ناں تمہارے بابا سلاد کے بغیر کھانا نہیں کھاتے”۔۔۔۔
نسرین بیگم نے اسے بولنے کا موقع دیئے بغیرخود ہی سوال جواب کرتے ہوئے اسے حکم دیا ساتھ ہی ان کے ہاتھ تیزی سے روٹی بنانے میں مصروف تھے ۔
ذوہا نے ان کی بات سن کر برے برے منہ بنا کر سلاد بنانا شروع کر دی۔۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد ایک مردانہ بھاری آواز گونجی ۔۔
” زوہا ااااااااااا “۔۔۔۔
“بابا” ۔۔!
زوہا سب کام چھوڑ چھاڑ آواز کی جانب لپکی ۔۔۔
“زوہا آرام سے” ۔۔ نسرین بیگم نے پیچھے سے ہانک لگائ ۔۔۔۔
“بابا میری آئیسکریم لائے آپ ؟؟؟” ۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے خوشی سے لائونج میں موجود اپنے باپ کے گلے لگتے ہوئے پوچھا ؟؟؟؟
“سوری بیٹا وہ تو میں لانا بھول گیا “۔۔۔۔۔
اظہار صاحب نے افسردہ منہ بناتے ہوئے جواب دیا ۔۔۔۔۔
“میں آپ سے بات نہیں کروں گی” ۔۔۔۔ ناراضگی سے کہتی زوہا صوفے پر بیٹھی۔۔۔۔۔
“آہ پھر تو جو آئیسکریم میں لایا وہ ساری اذان کی”۔
آپ بھی سوچ سوچ رہے ہونگے جان نہ پہچان کس کے گھر لے آئی۔۔۔۔ میں آپکو تو چلیں تعارف کے لئے تھوڑی زحمت کریں اور دوبارہ باہر چلیں ۔۔۔۔۔
یہ جو دو منزلہ عمارت آپ دیکھ رہے ہیں اس پر ضیاءالدین (مرحوم ) کا نام جلی حروف میں درج ہے۔۔۔ اس گھر میں ان کے دو بیٹے رہائش پذیر ہیں ۔
بڑے بیٹے انوار صاحب اور چھوٹے اظہار صاحب ۔
انوار صاحب کی تین اولادیں ہیں ۔۔۔
سب سے بڑے پچیس سالہ فائز جو اپنی میڈیکل کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد آجکل ہائوس جاب میں بزی ہیں ۔
ان سے چھوٹے اکیس سالہ مائز یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہیں ۔
اور سب سے چھوٹی اٹھارہ سالہ رمشا جو کہ آجکل بارھویں کے امتحان دے کر فارغ ہونے کے بعد میڈیکل کالج میں داخلے کی تیاری کر رہی تھی ۔
اظہار صاحب کی دو اولادیں ہیں۔۔۔۔
سب سے بڑی زوہا جو کہ رمشا ہی کی ہم عمر ہے اور اس کے ساتھ ہی داخلے کی تیاری کر رہی تھی اور دونوں میں خوب گاڑھی چھنتی ہے۔۔۔۔۔
اور اس سے چھوٹا اذان جو کہ میٹرک کا طالبعلم ہے ۔
نسرین بیگم اور عائلہ بیگم ( انوار صاحب کی زوجہ ) میں روائتی دیورانی جیٹھانی والہ رشتہ نہ تھا۔۔۔۔
یہ ایک خوشحال متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والہ گھرانہ تھا جہاں چھوٹی چھوٹی خوشیاں ہی ان کے جینے کی وجہ تھی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نسرین رات کے دو بجے کچن میں پانی پینے جا رہی تھی ۔۔کہ انہوں نے دیکھا کہ زوہا کے کمرے کی لائٹ جل رہی تھی ۔
انہوں نے اس کے کمرے کمرے میں جھانک کر دیکھا تو زوہا پڑھنے میں مصروف تھی ۔
” زوہا بیٹا سو جائو رات بہت ہو گئی اب ۔”
” نہیں مماں مجھے پڑھنا ہے آپکو پتا ہے ناں میڈیکل کالجز میں داخلے کے لئے کومپیٹیشن کتنا ٹف ہو گیا ہے ۔ اور ڈاکٹر بننا میری زندگی کا سب سے بڑا خواب ہے تو اسے پورا کرنے کے لئے میں کچھ بھی کروں گی ۔ “
“بیٹا آپ کی بات ٹھیک ہے پر خود کو تھکائو مت ورنہ بیمار پڑ جائو گی تو کام کیسے چلے گا ۔”
” اچھا میری پیاری مماں پریشان نہ ہوں بس پندرہ منٹ اور پھر سورہی ہوں میں ۔ “
“چلو بس پندرہ منٹ اور پھر سو جانا”۔۔۔۔۔۔
نسرین بیگم اسے ہدایت کرتے ہوئے چلی گئیں ۔۔۔۔۔۔
ان کے جانے بعد اس نے باقی بچا ہوا کام نبٹایا اور اپنی کتابیں سمیٹ کر سونے کے لئے لیٹ گئی ۔
مستقبل کے سنہرے خوابوں کو آنکھوں میں سجائے وہ نجانے کب نیند کی وادی میں اتر گئی ۔
“آہ لیکن کون جانے کہ ان خوابوں کو پورا کرنے کے لئے اس نازک سی لڑکی کو کن کن راستوں سے گزرنا پڑے گا ۔”

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: