Khwabo Ki Pari Novel By Aaira Shah – Episode 11

0
خوابوں کی پری از آئرہ شاہ – قسط نمبر 11

–**–**–

انوار صاحب نے آگے بڑھ کے موبائل لیا تو ان کا بھی وہی حال ہوا۔
” ایسا کیا ہے اس میں دکھائیں مجھے۔ “
عائلہ بیگم نے ان کے ہاتھ سے موبائل لیا تو دیکھا اسکرین پر زوہا اور داور کی تصویر تھی جس میں داور نے زوہا کے سامنے ہاتھ کیا ہوا تھا اس کا ہاتھ تھامنے کے لئے۔
اصل میں یہ تصویر مشعل ی منگنی کی تھی جس میں داور نے مشعل کے آگے ہاتھ بڑھایا ہوا تھا۔ پر زوہا مشعل کے ساتھ کھڑی ہوئی تھی اور تصویر میں مشعل کو اس طرح کروپ کیا گیا تھا کہ لگ رہا تھا داور زوہا کا ہاتھ تھام رہا ہے۔ اس کے علاوہ چند ایک اور بھی اسی طرح کی تصویریں تھیں جس میں زوہا اور داور شاعر کو ساتھ دکھایا گیا تھا۔
” زوہا ایسی نکلے گی میں تو سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔ بھائی صاحب آپ ایک دفعہ اپنی بیٹی سے پوچھ تو لیتے وہ کیا چاہتی۔ اس کی وجہ سے آج میرا بیٹا مشکل میں آگیا۔ اگر میرے بیٹے کو کچھ ہوا ناں تو میں آپ میں سے کسی کو معاف نہیں کروا گی سن لیں آپ۔ “
عائلہ بیگم یہ کہہ کر وہاں سے نکل گئیں۔
لاکھ وہ زوہا کو اپنی بیٹی سمجھ لیں پر اپنی جوان اولاد کو مشکل میں دیکھ کر اور جو کچھ اب ہوا اس کے بعد وہ بھی زوہا سے بد ظن ہو ہی گئیں۔
” اب جو ہونا تھا ہو گیا تم سنبھالو خود کو اور صفدر علی شاہ کو بات کرکے جتنی جلدی ہو سکے زوہا کی شادی داور سے کروا دو اگر اپنی بچی کچھی عزت بچانی ہے تو۔ میں ذرا مہمانوں کو دیکھوں جا کر۔ “
انکا اپنا بیٹا غائب تھا اور نجانے کس حال میں تھا۔ مگر وہ اپنی فکر کو سینے میں دبائے بھائی کا ساتھ دے رہے تھے۔
پھر جیسے تیسے بہانہ کرکے انہوں نے مہمانوں کو رخصت کیا۔
پہلے اتنی جلدی نکاح اور پھر فائز کا غائب ہو جانا لوگوں نے ان کے سامنے سوالوں کے پہاڑ کھڑے کر دیئے تھے جن کے جواب میں ان کے پاس کہنے کو کچھ نہیں تھا۔
نسرین بیگم اور عائلہ بیگم دونوں کا رو رو کر برا حال تھا۔ دونوں ہی اپنی اپنی اولاد کے غم میں نڈھال تھیں۔
فائز ابھی تک گھر نہیں آیا تھا۔
مائز کو بھی انوار صاحب نے ساری صورتحال بتا کر گھر واپس بلا لیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اظہار صاحب زوہا کے کمرے میں داخل ہوئے اور رمشا جو زوہا سے باتیں کر رہی تھی اور آج ہونے والے سارے واقعے سے لا علم تھی اس کو مخاطب کر کے سرد لہجے میں بولے۔
” رمشا مجھے زوہا سے اکیلے میں کچھ بات کرنی ہے۔ “
رمشا ان کی بات کا مطلب سمجھتے ہوئے بولی۔
” اچھا زوہا میں آتی ہوں۔ “
یہ کہہ کر وہ باہر چلی گئی۔
پر وہ اپنے ہمیشہ ہنسنے مسکرانے والے چچا کا یہ لب و لہجہ سن کے حیران تھی۔
یہی حالت اندر بیٹھی رمشا کی تھی۔
” یہ کیا ہے۔ “
اظہار صاحب نے موبائل اس کے سامنے کیا۔
زوہا نے نا سمجھی سے اظہار صاحب کی جانب دیکھا پھر اس کے بعد اسکرین کی طرف دیکھا تو دیکھا تو اس کی آنکھیں حیرت سے پھٹ جانے کی حد تک کھل گئیں۔ کچھ کہنے کی خواہش میں اس کے لب پھڑپھڑا کر رہ گئے۔ اس کے قدم لڑکھڑا گئے۔ اس نے بروقت دیوار کا سہارا لے کر خود کو گرنے سے بچایا۔
” تم پہلے سے جانتی تھی اس لڑکے کو۔ “
اظہار صاحب درشتگی سے بولے۔
انہوں نے زندگی میں پہلی بار زوہا سے اس لہجے میں بات کی تھی۔
” نہیں بابا وہ۔ “
” زوہا میں نے بچپن سے تمہیں ہر طرح کی آزادی دی۔ تم پر اعتبار کیا۔ یہ صلہ دیا اس کا تم نے مجھے۔ تماشہ بنا دیا ہے تم نے میرا۔ کہیں منہ دکھانے کے لئے نہیں چھوڑا تم نے مجھے۔ “
” بابا کیسی باتیں کر رہے ہیں آپ۔ کیا ہو گیا ہے آپ کو یہ میں نہیں ہوں بابا۔ “
” کیا ہو گیا ہے یہ تم مجھ سے پوچھ رہی ہو۔ یہ تصویر تمہاری ہی ہے تصویر میں پہنے کپڑے تمہارے ہیں اور تم کہہ رہی ہو کہ یہ تم نہیں ہو۔ اٹھوا لیا ہے فائز کو صفدر علی شاہ نے صرف تمہاری وجہ سے ۔ “
” کک۔ کیا فائز بھائی کو۔ “
” ہاں۔ زوہا اگر تم پہلے بتا دیتی تو میں خود تمہاری داور سے شادی کروا دیتا۔ بھائی صاحب تو ہمارا ہی بھلا چاہ رہے تھے۔ پر ہماری وجہ سے انکا بیٹا مشکل میں آگیا۔ اب کیا منہ دکھائوں گا میں ان کو۔ “
” بابا یہ جھوٹ ہے سب کچھ آپ یقین کریں میرا۔ بابا آپ تو جانتے ہیں آپ کی زوہا ایسا نہیں کر سکتی۔ بابا یقین کریں میرا داور علی شاہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ “
زوہا نے اپنی صفائی پیش کرنے کی کوشش کی۔
” یقین! یقین ہی تو کیا تھا تمہارا جس کا مجھے یہ صلہ ملا ہے مجھے۔ آج سے تمہارا اور میرا ہر رشتہ ختم۔ “
” نہیں بابا ایسا مت کہیں۔ “
وہ تڑپ کر بولی۔
” اب میں خود داور سے تمہاری شادی کروائوں گا۔ اب جتنے دن بھی تم یہاں ہو مجھے اپنی شکل مت دکھانا۔ “
یہ کہہ کر وہ باہر نکل گئے۔
” نہیں بابا ایسا مت کریں۔ آپکی بیٹی بے گناہ ہے آپ تو اس کا یقین کریں۔ “
زوہا پیچھے روتی ہوئی چلائی۔
پھر ایک ایک کر کے اپنا زیور نوچ کر پھینک دیا۔
” خدا تمہیں غارت کرے داور علی شاہ۔ سکون کو ترسو تم۔ میری ہنستی بستی زندگی میں طوفان کھڑا کر دیا ہے تم نے۔ “
وہ نیچے کارپٹ پر بیٹھ کر روتے ہوئے داور کو کوسنے لگی۔ ” تم مجھ سے میرا سکون چھین کر اپنی زندگی میں شامل کر رہے ہو ناں اگر تمہاری زندگی کو مشکل نہ بنا دیا تو میرا نام زوہا نہیں۔ “
ہاں ٹوٹی تھی کچھ پل کے لئے
اب ایک ایک ٹکڑا اٹھاؤں گی
چل اب تو بھی دیکھ
میں کیا خوبصورت قصہ بناؤں گی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کے دس بجے تھے اور وہ سب ڈرائنگ روم میں میں پریشان بیٹھے تھے کیونکہ فائز اب تک گھر نہیں آیا تھا۔
زوہا اپنے روم میں تھی کیونکہ اظہار صاحب نے اسے باہر نکلنے سے منع کر دیا تھا۔
اظہار صاحب نے موبائل اٹھایا اور صفدر صاحب کو کال لگائی۔
تین چار بیلوں کے بعد فون اٹھالیا گیا۔
اور صفدر صاحب کی آواز ابھری۔
” جی کہیئے اظہار صاحب کیسے فون کیا۔ “
” صفدر صاحب میں تیار ہوں اپنی بیٹی کی شادی آپکے بیٹے کے ساتھ کرنے کے لئے۔ آپ میرے بھتیجے کو چھوڑ دیجئے۔ “
اظہار صاحب شکستہ لہجے میں گویا ہوئے۔
” آپ کا بھتیجا اگلے دس منٹ میں آپکے پاس ہوگا۔ پر دوسرا کام ذرا مشکل ہے۔ اب آپ خود ہی سوچئے ایک عزت دار آدمی کیسے ایک ایسی لڑکی کو اپنی بہو بنا سکتا ہے جسکا منگیتر عین نکاح والے دن اسے چھوڑ کر بھاگ گیا۔ یقینا لڑکی میں کوئی کمی ہی ہوگی۔ “
” صفدر صاحب ایسا مت بولئے میری عزت اب آپکے ہاتھ ہے۔ “
اظہار صاحب گڑگڑائے۔
” ہاہاہاہا کہا تھا نا ہم نے کہ آپ خود کریں گے مجھے فون اب۔ چلیں آپ اتنی منتیں کر رہے ہیں تو ہم مان جاتے ہیں۔ “
صفدر صاحب احسان کرنے والے انداز میں بولے۔
” پھر آپ کب آئیں گے اپنی امانت لینے؟ “
” یہ ہم خود طے کرکے آپ کو بتا دیں گے۔ “
یہ کہہ کر انہوں نے فون کاٹ دیا۔
” کیا کہا انہوں نے؟ “
عائلہ بیگم نے فون بند ہوتے ہی پوچھا۔
” کہہ رہیں ہیں تھوڑی دیر تک آجائے گا فائز۔ “
فون بند ہوئے تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ فائز لڑکھڑاتا ہوا اندر داخل ہوا۔
” فائز !!! میرا بچہ۔ “
عائلہ بیگم اس کے خون میں بھرے ہوئے کپڑے دیکھ کر دہل کر کھڑی ہوئیں۔
مائز نے اسے آگے بڑھ کر سہارا دیا اور صوفے پر لاکر بٹھا دیا۔
” میں زوہا کو بتاتی ہوں فائز بھائی آگئے۔ “
رمشا یہ بول کر جانے لگی کہ فائز کی آواز نے اسکے بڑھتے قدم روک دیئے۔
” کوئی ضرورت نہیں ہے اسے بتانے کی۔ اسے تو پتا ہوگا آخر کو وہ برابر کی شریک تھی۔ “
” نہیں بھائی زوہا ایسی نہیں ہے۔ “
” خاموش ہو جائو تم۔ زوہا ایسی نہیں ہے۔ ارے اسی کا پھیلایا ہوا ہے یہ سارا کا سارا فساد۔ چلو اوپر تم اور دوبارہ میں تمہیں زوہا کے ساتھ نہ دیکھوں۔ اور مائز بھائی کو بھی لے آئو اوپر۔ “
یہ کر وہ رمشا کو لے کر اوپر چلی گئیں۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: