Khwabo Ki Pari Novel By Aaira Shah – Episode 12

0
خوابوں کی پری از آئرہ شاہ – قسط نمبر 12

–**–**–

” بیگم داور کہاں ہے؟ “
صفدر صاحب نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے پوچھا۔
” وہ صبح سے کمرے میں بند ہے آج اس لڑکی کا کسی اور سے نکاح ہے۔ بس اسی بات کا غم منا رہا ہے۔ “
گلزار بیگم نے آنسو بہاتے ہوئے جواب دیا۔
” اچھا! چلو میرے ساتھ اسکے کمرے میں۔ “
” نہیں داور نے منع کیا ہے کہ آج کوئی اس کے کمرے میں نہ جائے۔ “
” جب میں تمہیں چلنے کا کہہ رہا ہوں تو بس چلو۔ “
یہ کہہ کر وہ کمرے سے باہر نکل گئے۔
گلزار بیگم بھی آنسو پونچھتی ہوئی ان کے پیچھے ہو لیں۔
داور کے کمرے کے پاس پہنچ کر وہ دستک دے کر اندر چلے آئے اور بولے۔
” کیسا ہے میرا شیر جوان۔ “
صفدر صاحب کی آواز سن کر داور نے چونک کر آنکھوں سے ہاتھ ہٹائے اور اٹھ کر بیٹھ گیا۔ اور ایک ناراض نظر گلزار بیگم پر ڈالی کہ وہ منع کرنے کے باوجود بھی اس کے کمرے میں آ گئے۔ گلزار بیگم اس سے نظریں چرا کر رہ گئیں۔
اور بولا۔
” ارے بابا سائیں! آپ آئیں بیٹھیں۔ “
” اگر آج ہم تم سے کچھ مانگیں۔ تو منع تو نہیں کرو گے؟ “
صفدر صاحب اس کے پاس بیٹھتے ہوئے بولے۔
گلزار بیگم پیچھے صوفے پر بیٹھ گئیں۔
” بابا سائیں۔ یہ آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں۔ آپ کے لئے تو جان بھی حاضر ہے۔ آپ حکم کریں۔ “
وہ ان کے ہاتھ تھام کر بولا۔
” ہم نے تمہارا رشتہ طے کر دیا ہے۔ “
داور کو اپنے آس پاس دھماکے ہوتے ہوئے محسوس ہوئے۔
” صفدر صاحب یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ۔ “
پیچھے سے گلزار بیگم بولیں۔
” یہ میرا اور میرے بیٹے کا معاملہ ہے۔ بولو داور کیا کہتے ہو تم۔ “
وہ گلزار بیگم کو تنبیہہ کر کے داور سے بولے۔
” بابا سائیں کیوں آپ کسی لڑکی کی زندگی برباد کرنا چاہتے ہیں۔ مجھ جیسا انسان جو اندر سے بالکل خالی ہے وہ کسی کو کیا دے سکتا ہے۔ میں کسی معصوم کی بد دعا نہیں لینا چاہتا۔ “
اس نے اپنے گود میں دھرے ہاتھوں کو دیکھ کر جواب دیا۔
” داور کیا وہ ایک لڑکی تمہیں اتنی پیاری ہو گئی ہے کہ تم اس کے پیچھے ہماری برسوں کی محبت کو بھول جائو۔ کیا ہمارا دل نہیں چاہتا تمہاری خوشیاں دیکھنے کا۔ “
” بابا سائیں کچھ وقت نہیں مل سکتا کیا؟ “
داور خود کو سنبھالتے ہوئے بولا۔
” ارے ابھی صرف بات ہوئی ہے۔ شادی جب تم بولو۔ “
” ٹھیک ہے۔ جیسے آپ کی مرضی۔ “
وہ دل پر پتھر رکھ کر بولا۔
وہ انہیں مزید دکھ نہیں دینا چاہتا تھا۔
” مجھے پتا تھا تم منع نہیں کرو گے۔ میرا مان رکھ لو گے۔ پوچھو گے نہیں کون ہے وہ۔ “
صفدر صاحب اسکا ماتھا چومتے ہوئے بولے۔
” بس آپ جانتے ہیں۔ میرے لئے وہی کافی ہے۔ “
” پھر بھی جاننا حق ہے تمہارا۔ “
” اچھا! پھر خود ہی بتا دیں آپ۔ “
” تم جانتے ہو انہیں۔ وہ اظہار صاحب ہیں ناں اپنے زوار کے دوست کے چاچو انکی بیٹی زوہا۔ “
” اچھا۔ “
پہلے تو وہ بےدھیانی میں بول گیا۔
پر جب اسے بات سمجھ آئی تو وہ اچھل پڑا۔
” یہ کیا کہہ رہے ہیں بابا سائیں آپ۔ اسکا تو نکاح تھا آج۔ “
وہ حیرت سے چور لہجے میں بولا یہی حال پیچھے بیٹھی گلزار بیگم کا تھا۔
” ہاں تھا۔ پر وہ میرے بیٹے کے نصیب میں لکھی تھی تو اس کا نکاح اور کسی سے کیسے ہوسکتا تھا۔ عین نکاح والے دن اسکا منگیتر غائب ہوگیا۔ پورے خاندان میں انکی بہت بدنامی ہوئی۔ فون آیا تھا انکا۔ گڑگڑارہے رہے تھے کہ میری عزت بچا لو اسی لئے ہاں کردی میں نے۔ اب بتائو شہزادے کب کرنی ہے شادی۔ “
” جب آپکو صحیح لگے۔ “
داور اپنی مسکراہٹ چھپاتے ہوئے بولا۔
” چلیں دو سال کا ٹائم دے دیتے ہیں۔ “
صفدر صاحب مصنوعی سنجیدگی سے بولے۔
“کیوں میرے بچے کو تنگ کر رہے ہیں بس ایک مہینے بعد کی تاریخ رکھ لیں۔ مجھے بھی سو تیاریاں کرنی ہیں۔ “
گلزار بیگم داور کے پاس بیٹھ کر بولیں۔
” ٹھیک ہے۔ “
یہ کر صفدر صاحب چلے گئے۔
تھوڑی دیر گلزار بیگم بھی اس سے باتیں کرنے کے بعد اس کے ماتھے پر پیار کرکے ہمیشہ خوش رہنے کی دعا دے کر چلیں گئیں۔
داور کے ہونٹوں سے مسکراہٹ ہی جدا نہیں ہو رہی تھی یوں لگ رہا تھا جیسے اسے دوبارہ زندگی مل گئی ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوسرے طرف گھر میں سب نے زوہا کا مکمل بائیکاٹ کر رکھا تھا اظہار صاحب نے نسرین بیگم کے ذریعے اسے یہ اطلاع پہنچا دی تھی کہ داور کے ساتھ اسکی شادی طے کردی ہے ایک مہینے بعد۔
زوہا کے دل میں داور کے لئے نفرت بڑھتی جا رہی تھی۔
کیا کیا نہیں سوچا تھا اس نے اپنی زندگی کے لئے۔
داور نے اس کے سارے خواب توڑ دیئے تھے۔
اس نے سوچ لیا تھا سکون میں اگر وہ نہیں تو داور کو بھی نہیں رہنے دے گی۔
اسے کھانا کھانے کے لئے بھی باہر جانے کی اجازت نہیں تھی۔
نسرین بیگم ہی اسے کمرے میں کھانا دے جاتی تھیں۔
یہ کمرہ اس کے لئے قید خانہ بن کر رہ گیا تھا۔
رمشا کو بھی عائلہ بیگم نے نیچے آنے اور زوہا سے ملنے سے منع کر دیا تھا۔
اس کو جان سے زیادہ چاہنے والے اس کی ایک خراش پر تڑپ اٹھنے والے بالکل اجنبی ہو گئے تھے۔
آج وہ اظہار صاحب کو منانے کی ایک آخری کوشش کرنے کے لیے ان کے کمرے میں آئی تھی۔ دروازے کے باہر کھڑے ہو کر اس نے دروازہ کھٹکھٹایا تو اندر سے اظہار صاحب کی آواز آئی۔
” آ جائو۔ “
اجازت ملنے پر زوہا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی۔
” بابا! “
اس نے پکارہ۔
ذوہا کی آواز پر وہ جو کچھ رجسٹر لیے حساب کتاب میں مصروف تھے۔ انہوں نے چونک کر سر اٹھایا اور کرخت آواز میں استفسار کیا۔
” تم یہاں کیا کر رہی ہو۔ بولا تھا نا میں نے تمہیں کہ میں تمہاری شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتا پھر کیوں آئی ہو یہاں۔ “
” بابا ایک بار میری بات سن لیں۔ مجھے ایک بار تو صفائی دینے کا موقع دیں۔ “
وہ گڑگڑائی۔
” مجھے نا تمہاری بات سننی ہے اور نا ہی تمہاری کوئی صفائی چاہیے۔ تم جا سکتی ہو۔ “
اں کا لہجہ درد ہی تھا۔
” بابا پلیز میرا یقین کریں میں نے کچھ نہیں کیا۔ “
اس نے ایک کوشش اور کی۔
” مجھے تم سے کوئی بات نہیں کرنی۔ میں آخری دفعہ بول رہا ہوں تم یہاں سے چلی جائو۔ “
اب کہ وہ دو ٹوک انداز میں گویا ہوئے۔
زوہا کوئی امید نا پا کر شکستہ قدموں سے نا مراد لوٹ گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاہ حویلی میں تیاریاں زوروشور سے جاری تھی۔
گلزار بیگم کی خوشی کا تو کوئی ٹھکانہ ہی نہیں تھا۔
روز وہ شہر جا رہی تھیں خریداری کرنے کے لئے۔
وہ چاہتی تھیں زوہا سب کچھ اپنی مرضی سے لے پر اظہار صاحب نے سہولت سے انہیں انکار کر دیا تھا اسی لئے وہ خود ہی خرید رہی تھیں یا کبھی کبھار داور ان کے ساتھ چلا جاتا۔
آج بھی وہ داور کے ساتھ جارہی تھیں برات کا سوٹ لینے۔
زیور کا جو آرڈر انہوں نے دیا ہوا تھا وہ بھی آج ہی ملنا تھا۔
تو انہوں نے آج سوچا آج ہی زوہا کو سوٹ اور زیور دے کر آجائیں گی۔
شادی میں ایک ہفتہ ہی بچا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نسرین بیگم ابھی زوہا کو کمرے میں سامان دے کر گئی تھیں جو اس کے سسرال سے آیا تھا۔
سامان دیکھ کر اسکے سارے زخم پھر سے ہرے ہو گئے تھے۔
اس نے لہنگا اٹھا کر دیکھا جو اپنی قیمت چیخ چیخ کر بتا رہا تھا۔
کبھی اس کے دل میں خواہش تھی کہ وہ اپنی شادی پر ڈیزائنر لہنگا پہنے گی۔
پر آج اس کی خواہش پوری ہوئی بھی تو کب! جب اس کے دل میں کوئی خواہش نہیں رہی تھی۔
اسے بے اختیار رمشا یاد آئی کیا کیا نہیں سوچا تھا انہوں نے ایک دوسرے کی شادی کے لئے۔
پر کون جانتا تھا کہ نوبت یہاں پہنچ جائے گی۔
کہ وہ اس کی شادی میں شریک بھی نہیں ہو سکے گی۔
وہ بے آواز رو رہی تھی۔
اب تو اس کے آنسو بھی ختم ہونے لگے تھے رو رو کر۔
عائلہ بیگم نے سارے خاندان میں یہ بات پھیلا دی تھی کہ اسے ایک امیر لڑکا مل گیا تو وہ فائز سے کیسے شادی کرتی۔
عائلہ بیگم کی باتوں پر مہر لگ جائے گی۔ جب وہ یہ سب پہنے گی۔
پر اسے لوگوں کی باتوں کی فکر نہیں تھی کیونکہ اس پر تو اس کے ماں باپ ہی نے یقین نہیں کیا تھا لوگ تو دور ہیں پھر۔
اس کے دل میں موجود داور کے لئے نفرت کے درجے اور بڑھ گئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آخر کار مہندی کا دن آن پہنچا۔
پوری حویلی کو دلہن کی طرح سجایا گیا تھا۔ مہندی کی مناسبت سے پوری حوہلی کی دیواروں پر گیندے کے پھولوں کی لڑیاں لگائی گئی تھیں۔ حویلی کے لان میں ہی ایک جانب اسٹیج بنایا گیا تھا۔
داور سفید کلف لگے سوٹ میں گلے میں گرین دوپٹہ مفلر کی طرح ڈالے شہزادہ لگ رہا تھا۔
ہونٹوں پہ مدھم سی مسکراہٹ تھی جو اس کی اندرونی خوشی کو ظاہر کر رہی تھی۔
گلزار بیگم تو بار بار اس کی نظر اتار رہی تھیں۔
داور کی مسکراہٹ صفدر صاحب کے دل کو ٹھنڈک پہنچا رہی تھی۔
خلاف معمول وہ ہر چھوٹے بڑے سے مسکرا کر مل رہے تھے۔
دوسری طرف اظہار صاحب سادگی سے شادی کرنا چاہتے تھے پر دنیا دکھاوے کے لئے انہیں ہر کام شاندار کرنا پڑرہا تھا۔
زبردستی کی مسکراہٹ بھی ہونٹوں پر لانی پڑ رہی تھی۔
زوہا پیلے اور ہرے سوٹ جس پر خوبصورت کام ہوا تھا زیب تن کئے ہوئے تھی۔
پھولوں کے زیور پہنے ہوئے بہت ہی خوبصورت لگ رہی تھی۔
سوگواریت نے اس کے حسن کو چار چاند لگا دیئے تھے۔ مہندی کا رنگ بہت گہرا چڑھا تھا اسکا
فنکشن لائونج میں ہی منعقد کیا گیا تھا۔
ایک طرف صوفے کو پھولوں سے سجایا گیا تھا۔ قالین اور گائو تکیے لگا کر مہمانوں کے بیٹھنے کا انتظام کیا گیا تھا۔
عائلہ بیگم نہ ہی خود آئی تھیں اور نہ ہی رمشا کو آنے دیا تھا۔
زوہا کی نظریں بار بار سیڑھیوں کی جانب اٹھ رہی تھیں کہ شاید رمشا آجائے پر اسے ہر دفعہ ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
نسرین بیگم پورے فنکشن میں صرف ایک دفعہ آکر بیٹھی تھیں اس کے پاس وہ بھی صرف مہندی لگانے کے لئے۔
باقی کا پورا فنکشن یا تو وہ مہمانوں کو سنبھالتی رہیں یا پھر مختلف کاموں کا بہانہ کر کے ادھر ادھر لگی رہیں۔
اظہار صاحب نے تو یہ کہہ کر آئے ہی نہیں تھے کہ
” عورتوں کا فنکشن ہے اس میں میرا کیا کام۔ “

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: