Khwabo Ki Pari Novel By Aaira Shah – Episode 15

0
خوابوں کی پری از آئرہ شاہ – قسط نمبر 15

–**–**–

داور جب کمرے میں داخل ہوا تو زوہا سنگھار میز کے سامنے کھڑی اپنی جیولری اتار رہی تھی۔
وہ چلتے ہوئے اس کے پیچھے جا کھڑا ہوا۔
” اس رویے کی وجہ جان سکتا ہوں تمہارے؟ “
داور کی آواز پر زوہا کے جیولری اتارتے ہاتھ رکے۔
” میں آپکو جوابدہ نہیں ہوں۔ “
یہ کہہ کر وہ دوبارہ اپنے کام میں مگن ہوگئی۔
” کیوں جوابدہ نہیں ہو۔ بیوی ہو تم میری۔ نکاح ہوا ہے ہمارا۔ “
وہ اسکا رخ اپنی جانب موڑتا ہوا بولا۔
” نکاح ہوا ہے۔ خریدا نہیں ہے آپ نے مجھے۔ آپ جاگیرداروں کا مسئلہ یہی ہے۔ آپ اپنی بیوی کو بیوی نہیں بلکہ اپنی زر خرید غلام مانتے ہیں۔ “
وہ غصے سے پھنکاری۔
” صرف ایک ہی دن میں میرے کونسے رویے نے تمہیں یہ بتا دیا کہ میں تمہیں بیوی نہیں بلکہ اپنی غلام مانتا ہوں۔ “
داور اسکی آنکھوں میں جھانک کر بولا۔
” جو کچھ آپ میرے ساتھ کرچکے ہیں وہ مجھے یہ احساس دلانے کے لئے کافی ہے۔ “
” کیا کیا ہے میں نے تمہارے ساتھ یہ زرا مجھے بھی تو پتہ چلے۔ “
” واہ! انجان بننے کی اداکاری تو بہت اچھی کرلیتے ہیں آپ۔ “
زوہا نے تالی بجا کر داد دی۔
” زوہا یہ پہیلیاں مت بجھائو اور مجھے صاف صاف ساری بات بتائو۔ ایسی باتیں کرکے تم مجھے الجھا رہی ہو۔ “
” میں کیا الجھائوں گی۔ زندگی تو آپ نے میری الجھا کر رکھ دی ہے۔ “
” میں نے؟ “
وہ حیرت سے گویا ہوا۔
” جی آپ نے۔ سارے خواب توڑ ڈالے اپ نے میرے۔ میرے گھر والوں کو بھی مجھ سے دور کر دیا۔ “
وہ منہ ہاتھوں میں چھپا کر رو دی۔
” اوہ تو یہ بات ہے۔ پر تم خود دیکھو شادی کر کے ہر لڑکی کو دوسرے گھر جانا ہوتا ہے اور پھر میں کونسا تم پر کوئی پابندی لگا رہا ہوں جب دل چاہے تم انکل آنٹی سے مل آنا۔ “
وہ اس کے آنسوؤں کو گھر والوں سے دوری کے باعث سمجھ کر اسے بہلانے کے لیے بولا اور اسکے چہرے سے ہاتھ ہٹانے لگا۔
جسے زوہا نے جھٹک دیا۔
” ہاتھ مت لگائیں مجھے۔ “
وہ درشتگی سے بولی۔
” اوکے اوکے نہیں لگاتا۔ ریلیکس ہو جائو تم اور پلیز رونا بند کرو۔ “
پر زوہا اسکی بات کو نظرانداز کرکے رونے میں مصروف رہی۔ داور ایک بے بس سی نظر اس پر ڈال کر صوفے پر جاکر لیٹ گیا اور آنکھیں موند لیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلے دن جب داور اٹھ کر آیا تو زوہا پہلے ہی وہاں موجود تھی۔
گلزار بیگم کو سلام کرنے کے بعد وہ بولا۔
” اماں سائیں ناشتہ لگوا دیں مجھے زمینوں پر جانا ہے۔ “
” ارے پاگل ہوئے ہو کیا۔ ابھی ایک دن ہوا ہے تمہاری شادی کو اور تمہیں کام کی پڑ گئی ہے۔ ارے نئی دولہن ہے اسکو گھوماو پھرائو۔ بلکہ ایسا کرو آج اپنے سسرال چلے جائو اچھا ہے زوہا بھی اپنے گھر والوں سے مل لے گی۔ “
” ٹھیک ہے لے جائونگا آج شام میں۔ چار بجے تک تیار رہنا۔ “
اس نے بیک وقت دونوں کو مخاطب کیا۔
زوہا محض سر ہلا کر رہ گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شام میں زوہا تیار ہو کر بیٹھی داور کا انتظار کر رہی تھی کہ گلزار بیگم آئیں اور اسے دیکھ کر بولیں۔
” زوہا بیٹا تیار نہیں ہوئی تم۔ داور آتا ہی ہوگا۔ “
زوہا جو تیار بیٹھی تھی حیرانی سے بولی۔
” آنٹی میں تو تیار ہوں۔ “
وہ اسکن کلر کا ہلکی کڑھائی والا سوٹ پہنے میک اپ کے نام پر صرف لپ اسٹک لگائے ہوئی تھی۔
” یہ آنٹی کیا ہوتا ہے جیسے میں داور اور مشعل کی ماں ہوں ویسے ہی تمہاری بھی۔ اسی لئے مجھے اماں سائیں بولو۔ اور یہ کیسے تیار ہوئی۔ لگ ہی نہیں رہا کہ تم شاہوں کی بہو ہو۔ نہ ہاتھ میں چوڑیاں ناں ہی کوئی زیور۔ رکو میں مشعل کو کہتی ہوں وہ تمہیں تیار کردے گی۔ “
بغیر زوہا کو بولنے کا موقع دیئے وہ مشعل کو بلانے چل دیں۔
مشعل نے آکر زوہا کے خوبصورت سے کام کا نیلے رنگ کا سوٹ نکالا اور اسے دیتی ہوئی بولی۔
” جائو یہ پہن کر آئو۔ “
” مشعل پر یہ بہت ہیوی ہے۔ “
زوہا ہچکچائی۔
” کوئی ہیوی نہیں ہے جائو شاباش جلدی سے چینج کرکے آئو۔ “
مشعل نے مزید اسکی آنے بغیر اسے واش روم مین دھکیل دیا۔
” زبردست۔ “
مشعل کے منہ سے زوہا کو تیار کرنے کے بعد نکلا۔
” آج تو میرے بھائی کی خیر نہیں۔ “
بلیو سوٹ میں نفاست سے کئے میک اپ ، کلائیوں میں سونے کی چوڑیاں ، گلے میں سونے کا گلوبند اسی کے ساتھ کے ہی بندے پہنے وہ غضب ڈھا رہی تھی۔
ابھی مشعل بول ہی رہی تھی کہ داور کی آمد ہوئی۔
” اتنی دیر کردی بھائی آپ نے آنے میں۔ “
” ہاں وہ میں۔ “
کہ اسکی نظر زوہا پر پڑی اور وہ اپنے الفاظ بھول گیا۔
“اہم ۔۔ اہم ۔ میں یہاں ہی ہوں ابھی۔ “
اسے مسلسل زوہا کو تکتے پاکر اس نے داور کو چھیڑا۔
” میں چینج کرکے آتا ہوں۔ “
یہ کہہ کر وہ چلا گیا۔
” چلو تم اپنی ساس صاحبہ کو اپنا چہرہ دکھا دو تاکہ انہیں اطمینان ہو جائے۔ “
” صحیح چلو۔ “
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
داور کے ساتھ وہ اپنے گھر کے باہر موجود تھی۔
دستک دے کر وہ دروازہ کھلنے کا انتظار کر رہے تھے۔
کہ فائز نے آکر دروازہ کھولا۔
” فائز۔ “
داور کچھ بولنے ہی لگا تھا کہ فائز اسکی بات کاٹتا ہوا بولا۔
” مجھے کچھ ضروری کام ہے۔ “
اور گھر سے باہر نکل گیا۔
داور فائز کا رویہ دیکھ کر حیران رہ گیا۔ وہ تو خود ہی زوہا سے شادی نہیں کرنا چاہتا تھا اب جبکہ اسکی خواہش پوری ہوگئی اس پر اسکا یہ انداز اور دوسری جانب زوہا کا رویہ وہ الجھ کر رہ گیا۔
وہ دونوں گھر میں داخل ہوگئے۔
” بابا! مماں! کہاں ہیں آپ۔ “
زوہا کی آواز سن کر نسرین بیگم آئیں اور اسے گلے سے لگا لیا۔
پھر داور نے آگے بڑھ کر ان سے سلام کیا اور ان کے آگے سر جھکا دیا۔
انہوں نے بھی خوش دلی سے اسکے سلام کا جواب دے کر اسکے سر پر ہاتھ پھیرا۔
اس کے بعد اظہار صاحب آئے۔
” اسلام و علیکم بابا ! کیسے ہیں آپ۔ “
” وعلیکم اسلام! میں بالکل ٹھیک۔ “
اور اسکے سر پر ہاتھ پھیر کر داور کی طرف متوجہ ہوگئے۔
اپنے بابا کے اس روئیے پر زوہا نے بڑی مشکل سے اپنے آنسوؤں کو پیا۔
داور سے وہ بغل گیر ہوئے۔
اب جو بھی تھا جیسا بھی تھا داماد تھا انکا۔
سب لائونج میں بیٹھ کر باتوں میں مشغول ہو گئے۔
نسرین بیگم اٹھ کر کچن میں گئیں تو زوہا بھی انکے ساتھ ہولی۔
” ماما میں رمشا سے مل آئوں۔ “
زوہا جھجکتے ہوئی بولی۔
” جو تم انکے ساتھ کرچکی ہو۔ اس کے بعد بھی تمہیں لگتا ہے وہ تم سے ملیں گے؟ “
” مماں آپکو بھی ایسا ہی لگتا ہے کہ میں غلط ہوں۔ آپ کو مجھ پر یقین نہیں؟ “
” زوہا یقین ایک بار ہوتا ہے اور وہ کرچکے ہم تم پر اور انجام بھی بھگت چکے اسکا۔ “
نسرین بیگم سرد لہجے میں گویا ہوئیں۔
زوہا چند لمحے انہیں ڈبڈبائی آنکھوں سے دیکھتی رہی اور پھر اپنے کمرے کی طرف بھاگ گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گھر آکر زوہا گلزار بیگم کو سلام کرکے اپنے کمرے میں آگئی اور بغیر ڈریس تبدیل کئے بیڈ پر اوندھے منہ گر کر رونے لگی۔
کافی دیر بعد داور کمرے میں آیا تو دیکھا زوہا اسی حالت میں لیٹی ہوئی ہے۔
” زوہا “
اس نے آہستہ سے پکارا۔
پر جواب ندارد۔
اس نے آگے بڑھ کر اسے کندھے سے پکڑ کر سیدھا کیا۔
اس کے چہرے پر آنسوؤں کو دیکھ کر اسے لگا جیسے کسی نے اسکا دل مٹھی میں مسل دیا ہو۔
اس کی نظر اسکی جیولری پر پڑی اس نے آہستہ سے اسکی ساری جیولری اتار دی۔
” آخر ایسی کیا بات ہے جو تمہیں اندر ہی اندر کھا رہی ہے۔ جس نے تمہیں مجھ سے متنفر کردیا ہے۔
آخر تم مجھ سے کھل کر بات کیوں نہیں کر لیتی۔
میں ساری تمہاری غلط فہمیاں دور کر دوں گا۔
بس ایک بار صرف ایک بار مجھ پر بھروسہ کرکے دیکھو۔ “
وہ آہستہ آواز میں اس سے بات کرنے لگا۔
جو ظاہر ہے زوہا نے نہیں سنا۔
وہ گہری نیند میں تھی۔
پھر ایک فیصلہ کرکے وہ اٹھا۔
” تم تو کچھ بتا نہیں رہی۔ اب مجھے ہی اپنے طریقے سے پتہ لگانا پڑے گا۔ “
اس نے سوچ لیا تھا کہ اسے کیا کرنا ہے اور جا کر صوفے پر لیٹ گیا۔ کیونکہ اب زوہا زوال کا رویہ کچھ عجیب ہی لگ رہا تھا۔ اگر ماں باپ سے جدائی کا غم تھا تو بھی اب تک سنبھل جانا چاہیے تھا پر زوہا کا رویہ عجیب ہی ہوتا جا رہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح فجر کے وقت ہی زوہا کی آنکھ کھل گئی۔
تھوڑے حواس بحال ہوئے تو دیکھا سائیڈ ٹیبل پر اسکی ساری جیولری رکھی ہوئی تھی تو اس نے فورا اپنے گلے کی طرف ہاتھ بڑھایا تو وہ خالی تھا۔
پھر اسکی نظر صوفے پر سوئے داور پر پڑی تو ساری کہانی اسکی سمجھ میں آگئی۔
اسے اس کی اس دیدہ دلیری پر غصہ آنے لگا۔
وہ غصے سے اٹھی اور جا کر ایک جھٹکے سے داور کا کمبل کھینچ کر اتارا۔
داور ہڑبڑا کر اٹھا۔
” کیا ہوا؟ “
زوہا کو دیکھ کر اس نے بھاری آواز میں پوچھا۔
” آپ کی ہمت کیسے ہوئی مجھے ہاتھ لگانے کی؟ “
” میں نے تمہیں کب ہاتھ لگایا۔ کیا بولے جارہی ہو؟ ہوش میں تو ہو۔ “
داور نیند میں اٹھائے جانے کی وجہ سے جھنجھلا کر بولا۔
” اچھا! آپ نے ہاتھ نہیں لگایا؟ تو رات کو میری جیولری آپکے فرشتوں نے اتاری تھی۔ “
” ہاں تو وہ میں نے تمہارے آرام کی وجہ سے اتاری تھی۔ تم ڈسٹرب ہو رہی تھی اسکی وجہ سے۔ “
وہ بولا اور پھر اسکو شانوں سے جکڑ کر اپنے قریب کیا۔
” دوسری بات۔ بیوی ہو تم۔ جب چاہوں تمہیں ہاتھ لگا سکتا ہوں۔ ٹائم دے رہا ہوں تمہیں اسکا یہ مطلب نہیں کہ جو تمہارے دل میں آئے گا کروگی۔ “
پھر ایک جھٹکے سے اسے چھوڑکر واشروم کی جانب بڑھ گیا۔
پیچھے زوہا سکتے میں آگئی وہ کیسے بھول گئی کہ وہ ایک مرد ہے وہ بھی ایک عیاش مرد (زوہا کی نظر میں) آخر کب تک بچ سکتی ہے اس سے۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: