Khwabo Ki Pari Novel By Aaira Shah – Episode 16

0
خوابوں کی پری از آئرہ شاہ – قسط نمبر 16

–**–**–

دوسری طرف داور کو خود پر غصہ آرہا تھا کہ کیسے وہ زوہا سے اس لہجے میں بات کرگیا۔
اسے نیند میں سے اٹھائے جانے پر ہمیشہ غصہ آتا تھا۔
دوسرا زوہا کے رویے کی ٹینشن۔
وہ ساری فریسٹریشن زوہا پر نکال گیا۔
وہ اس وقت ڈیرے پر موجود تھا ۔۔گھر سے ناشتہ لئے بغیر ہی نکل آیا تھا۔
گلزار بیگم بولتی ہی رہ گئیں۔
یہاں آکر اسنے اپنے خاص ماتحت کو بلوایا۔
” جی سائیں! حکم کریں۔ “
اس کا ملازم عاجزی سے بولا۔
” ہاں ایک خاص کام ہے تم سے۔ یاد رہے بات تمہارے اور میرے درمیان رہنی چاہیے۔ “
” سائیں اپ کا راز میرا راز۔ حکم کریں آپ۔ “
” یہ جو فائز ہے اپنے زوار کا دوست۔ “
اس نے زوہا کا حوالہ دینے سے گریز کیا۔
” جی سائیں کیا کرنا ہے اسکا؟ “
” پتا تو کرو کہ اپنی شادی سے کیوں بھاگا تھا وہ۔ “
” سائیں کام ہو جائے گا۔ “
” دو دن۔ دو دن کا وقت ہے تمہارے پاس۔ دو دن میں مجھے ساری خبر چاہیے۔ “
” جو حکم سائیں۔ “
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“زوہا! بات سنو۔ “
داور شام میں کمرے میں آیا اسے دیکھ کر زوہا کمرے سے جانے لگی تو داور نے اسے پکارا۔
زوہا اس کی بات کو نظر انداز کرکے جانے لگی تو داور نے آگے بڑھ اسکا ہاتھ پکڑا۔
” ہاتھ چھوڑیں میرا۔ “
زوہا ہاتھ چھڑاتی ہوئی بولی۔
” ادھر آئو ایک دفعہ اطمینان سے میری بات سن لو۔ “
اس نے لے جا کر اسے بیڈ پر بٹھایا۔
” میں تم سے صبح والے رویے پر معافی چاہتا ہوں۔ میں پریشان تھا اسی پریشانی میں تم پر غصہ کرگیا۔ “
” ہاں آپ جاگیرداروں کا عورتوں پر ہی تو بس چلتا ہے۔ “
وہ غصے سے اسے دیکھتی بولی۔
” آف تمہیں کس نے اتنی غلط خبریں دی ہوئی ہیں جاگیرداروں کے بارے میں۔ ایسا کچھ نہیں ہے۔ “
وہ ماتھے پر ہاتھ مارتا ہوا بولا۔
” مجھے سب اب پتا ہے مجھے بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔ پہلے ہی بہت مسئلے ہیں میری زندگی میں۔ “
” یار اتنی بدگمانی کیوں ہے مجھ سے۔ کیا پریشانی ہے مجھ سے بتائو۔ میں اسے حل کرنے میں پوری طرح تمہارا ساتھ دوں گا۔ “
” یہ اچھا ہے پہلے مشکلات پیدا کریں اور بعد میں بولیں میں ختم کر دونگا ساری مشکلات۔ “
” کیا مشکلات پیدا کی ہیں میں۔ یہی پوچھ رہا ہوں اگر آپ بتانا پسند کریں تو۔ “
وہ جھنجھلا کر بولا۔
” واہ پہلے فائز بھائی کو اغوا کروایا۔ پھر وہ تصویریں۔ میرے ماں باپ کو مجھ سے بدگمان کردیا۔ پوری دنیا میں انکا تماشہ بنا دیا۔ اب انجان بن کر پوچھ رہے ہیں میں نے کیا کیا۔ “
زوہا روتے ہوئ بولی۔
جب کے داور تو کتنی دیر تک اپنی جگہ سے ہل ناں سکا یہ کیا کہہ رہی تھی وہ۔
” زوہا م۔میری بات سنو۔ میں نے کچھ نہیں کیا ایسا خدا گواہ ہے۔ “
” بس کردیں آپ کم از کم اپنا جھوٹ سچ ثابت کرنے کے لئے خدا کو تو بیچ میں مت لائیں۔ “
اس سے پہلے وہ کچھ بولتا اس کا فون بجا اس نے جیب سے فون نکالا تو اس کے ماتحت خاص کا نام جگمگا رہا تھا۔
اس نے لب بھینچ کر فون ریسیو کرکے کان سے لگایا۔ اور بالکونی کی جانب بڑھ گیا۔
” ہاں بولو۔ کیا خبر ہے؟ “
” سائیں لڑکا بھاگا نہیں تھا۔ کسی نے اٹھوایا تھا اسکو اور کافی مار پیٹ کرکے چھوڑا تھا۔ “
” ہممممم۔ اب تمہارا اگلا کام یہ ہے کہ پتا لگوائو اٹھوایا کس نے تھا اسے۔ “
” سائیں کام ہو تو جائے گا پر ذرا مشکل سے۔ جس نے بھی یہ سب کیا ہے بڑی رازداری سے کیا ہے۔ “
” جتنی جلدی ہو سکے پتا کرو۔ “
” جو حکم سائیں۔ “
یہاں ایک مسئلہ ختم نہیں ہوتا کہ دوسرا آجاتا۔ اب یہ تصویروں کا پتا نہیں کیا چکر ہے۔ داور نے غصے سے گرل پر مکہ مارا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“مماں کتنی مرتبہ کہہ دیا آپ سے کہ مجھے شادی نہیں کرنی ابھی۔ تو کیوں فورس کر رہی ہیں آپ مجھے۔ “
عائلہ بیگم آج پھر مختلف لڑکیوں کی تصویریں لئے موجود تھیں جس پر فائز جھنجھلا کر ان سے بولا۔
” کیوں نہیں کرنی شادی۔ جس کا سوگ تم منا رہے ہو وہ تو خوشیاں منا رہی ہے اپنی زندگی میں۔ ابھی آئی تھی ناں تو دیکھتے تم کیا ٹھاٹھ تھے اس کے۔ ارے اسے جب وہ آسائیشوں والی زندگی مل رہی تھی تو وہ کیوں تم سے تعلق رکھتی۔ اتنا بڑا جگیردار اس کے سامنے تھا تو وہ کیوں تم جیسے نو سے پانچ جاب کرنے والے انسان سے شادی کرتی۔ وہ اپنی زندگی میں مگن ہوچکی ہے۔ تم بھی بھول جائو اور بڑھو اپنی زندگی میں آگے۔ “
” ٹھیک ہے جو آپ کے دل میں آئے وہ کریں۔ “
” یہ ہوئی ناں بات۔ اب جلدی سے ان میں سے کوئی لڑکی پسند کر لو۔ “
وہ خوشی سے پھولی ناں سماتے ہوئے اسے تصویریں دکھانے لگی۔
” جو آپ کو ٹھیک لگے دیکھ لیں آپ مجھے آپکی پسند پر کوئی اعتراض نہیں۔ “
وہ جان چھڑاتے ہوئے بولا۔
” بس پھر دیکھنا اس زوہا سے لاکھ درجے بہتر دولہن لائوں گی اپنے بیٹے کے لئے۔ “
یہ کہہ کر وہ چلی گئیں۔ فائز نے اپنا سر ہاتھوں میں گرا لیا اور خود کلامی کرتا ہوا بولا۔
” کیوں۔ کیوں کیا زوہا تم نے ایسا۔ دل ابھی بھی ماننے کو تیار نہیں کہ تم ایسا کر سکتی ہو۔ پر اس کا کیا کروں جو نظر آتا ہے۔ تم اپنی زندگی میں خوش ہو تو میں بھی اب تمہیں خوش رہ کر دکھائوں گا۔ بھول جائونگا تمہیں۔ “
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اس وقت گلزار بیگم اور مشعل کے ساتھ لان میں بیٹھی چائے سے لطف اندوز ہورہی تھی۔
اور ساتھ میں باتیں بھی جاری تھیں کہ زوہا گلزار بیگم کو مخاطب کرتی ہوئی بولی۔
” اماں سائیں! ایک بات کرنی تھی آپ سے۔ “
” ہاں بولو بیٹا کیا بات ہے۔ “
” وہ مجھے مماں اور بابا کی یاد آرہی ہے۔ اگر آپ پرمیشن دیں تو میں کچھ دن ان کو پاس رہ آئوں؟ “
” بیٹا اس میں اجازت کی کیا بات ہے۔ آپ جائو اور رہ کر آجائو۔ بس داور سے پوچھ لینا۔ “
انہوں نے اجازت دیتے ہوئے کہا۔
” آپ خود بول دیجیئے گا انہیں۔ “
زوہا نے جھجکتے ہوئے کہا۔
گلزار بیگم کو عجیب تو لگا کہ وہ آجکل کے زمانے کی لڑکی ہو کر وہ بھی شہر کی لڑکی ہونے کے نا وجود بھی اپنے شوہر سے خود بات کرنے کے بجائے اپنی ساس کا سہارا لے رہی تھی۔ پر انہوں نے کچھ ظاہر کیے بغیر کہا:
” ٹھیک ہے میں بول دوں گی داور سے۔ “
” کیا بولنا ہے اماں سائیں مجھے سے ۔ “
داور ابھی زمینوں سے گھر آیا تھا۔ تو سب خواتین کو لان میں بیٹھا دیکھ کر خود بھی ادھر آگیا۔ اور گلزار بیگم کے سامنے جھکتا ان سے پوچھنے لگا۔
” ماشاءاللہ سے بڑی لمبی عمر ہے میرے بیٹے کی۔ ہم ابھی آپ ہی کا نام لے رہے تھے۔ “
وہ داور کا ماتھا چومتے ہوئے بولیں۔
” یہی تو میں پوچھ رہا ہوں کہ مجھے کس سلسلے میں یاد کیا جا رہا ہے۔ “
داور نے زوہا کے برابر ہی کرسی سنبھالی اور اسکا چائے کا کپ اٹھاتے ہوئے بولا۔
داور کے اس عمل پر زوہا کو غصہ تو بہت آیا پر وہ کچھ بولی نہیں۔ بس داور پر ایک ناگوار سی نظر ڈال کر رہ گئی۔ جسے داور نظر انداز کرکے مزے سے چائے پینے لگا۔
” ہاں وہ میں بول رہی تھی کہ بہو کو کچھ دن کے لیے اس کے گھر چھوڑ آئو۔ بچی کا دل چاہ رہا ہے اپنے گھر والوں سے ملنے کا۔ “
” تو محترمہ یہ بات خود نہیں بتا سکتی تھی مجھے۔ “
داور منہ میں بڑبڑایا۔ جسکی سمجھ پاس بیٹھی زوہا کے علاوہ کسی کو نہیں لگی۔
” کیا کہہ رہے ہو بیٹا۔ “
گلزار بیگم نے پوچھا۔
اس سے پہلے کہ داور جواب دیتا مشعل بول پڑی۔
” بھائی بول رہے ہیں بھابھی چلی جائیں گی تو انکا دل نہیں لگے گا۔ کیوں صحیح کہا ناں بھائی۔ “
” زیادہ زبان نہیں چل رہی تمہاری۔ چپ رہنا بھی سیکھو ورنہ زوار بولے گا کس کان کھانے والی مشین کو میرے پلے باندھ دیا۔ “
داور نے اسے مصنوعی غصے سے ڈانٹا۔ اس کی بات پر وہاں موجود سب کے چہروں پر مسکراہٹ بکھر گئی۔
” اماں سائیں آپ دیکھ لیں ادا سائیں کو۔ “
مشعل چیخی۔
” میں کہہ رہا تھا کل ڈیرے سے واپس آکر چھوڑ آئوں گا۔ “
داور نے گلزار بیگم کو جواب دیا۔
” زوہا بیٹا تم پیکنگ کر لینا۔ “
گلزار بیگم نے زوہا سے کہا۔
” جی ٹھیک ہے۔ “
اس نے آہستہ سے سر ہلاتے ہوئے جواب دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلے دن زوہا داور کے ساتھ اپنے گھر آگئی۔ داور کچھ دیر بیٹھ کر اسے چھوڑ کر چلا گیا۔ زوہا نسرین بیگم کے ساتھ ان کے کمرے میں چلی گئی اور دونوں باتوں میں مشغول ہوگئی۔ ابھی نسرین بیگم کسی کام سے باہر گئی تھیں کہ انکے کمرے کا دروازہ بجا۔
دروازہ کھلا اور رمشا بولتی ہوئی اندر داخل ہوئی۔
” چچی! یہ امی۔ “
زوہا کو دیکھ کر رمشا کی چلتی زبان کو بریک لگا۔
“میں بعد میں آتی ہوں۔ “
یہ کہہ کر رمشا واپس جانے لگی۔
“رمشا! پلیز ایک دفعہ میری بات سن لو۔ تمہیں ہماری دوستی کی قسم۔ “
زوہا بولی۔
” بولو۔ میں سن رہی ہوں۔ “
رمشا بغیر مڑے بولی۔
زوہا رمشا کے پاس گئی اور اسکا رخ اپنی طرف موڑتی ہوئی بولی۔
” میری آنکھوں میں دیکھو۔ اور بولو کہ میں ایسا کرسکتی ہوں۔ تم تو بچپن سے رہی ہو میرے ساتھ۔ میری ہر اچھی بری عادت سے واقف ہو۔ اسکے باوجود بھی تم مجھے قصوروار مانتی ہو؟ “
” یہ سب باتیں اپنی جگہ۔ پر زوہا میں اپنے بھائی کی حالت بھی نظرانداز نہیں کرسکتی جو تمہاری وجہ سے ہوئی ہے۔ یہ سب دیکھنے کے بعد مجھے لگتا تم وہ زوہا نہیں ہو جسے میں جانتی تھی۔ پر خیر جو ہونا تھا ہو چکا۔ اسے بدلا تو نہیں جا سکتا۔ جیسے تم اپنی زندگی میں آگے بڑھ گئی ہو اپنی خوشی کو حاصل کرچکی ہو ویسے ہی اب بھائی بھی اپنی زندگی میں آگے بڑھ گئے ہیں۔ یہی بتانے اور مٹھائی دینے کیلئے امی نے مجھے بھیجا تھا۔ لو مٹھائی کھائو۔ “
رمشا زوہا کے منہ رس گلا ڈالتی ہوئی بولی۔
” ایک خوشخبری تو یہ کہ فائز بھائی کی منگنی ہوگئی ہے اور دوسرا میرا میڈیکل کالج میں ایڈمیشن ہوگیا ہے۔ “
رمشا کی بات سن کر زوہا کو اپنے ادھورے خواب پھر سے یاد آگئے تھے۔
” مبارک باد نہیں دو گی زوہا مجھے۔ “
” ہاں ہاں۔ بہت مبارک ہو تمہیں۔ فائز بھائی کو بھی دینا مجھے کچھ کام ہے میں آتی ہوں ابھی ۔ “
زوہا بڑی مشکل سے اپنی بات کہہ کر وہاں سے چلی گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پھر زوہا جو کچھ دن رہنے کے لیے آئی تھی۔ اگلے دن ہی گلزار بیگم کو فون کر کے داور کو بلوایا اور واپس آگئی۔
زوہا کے دل میں داور کے لئے نفرت میں مزید اضافہ ہوگیا تھا۔
” ویسے یار تم سے میری ایک رات کی بھی جدائی برداشت نہیں ہوئی۔ ایک دن تو اور رک جاتی آنٹی انکل کو برا لگے۔ “
” لگتا ہے خاصے خوش فہم انسان ہیں آپ۔ پر بے فکر رہیں کسی کو کچھ برا نہیں لگے گا۔ کیونکہ آپکی وجہ سے میری محبت کا گراف ان کے دلوں میں اتنا بڑھ گیا ہے کہ میرے قریب یا دور رہنے سے انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ “
زوہا کا طنز سے بھرپور جواب سن کر داور سوچ میں پڑ گیا کہ جو بھی غلط ہے وہ اس کو صحیح کرکے ہی رہے گا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: