Khwabo Ki Pari Novel By Aaira Shah – Episode 17

0
خوابوں کی پری از آئرہ شاہ – قسط نمبر 17

–**–**–

زوہا کو گھر چھوڑنے کے بعد داور ڈیرے پر چلا گیا تھا۔ اس کا ماتحت خاص اسکے پاس آیا۔
” وہ جی حضور ایک بات کرنی تھی آپ سے۔ “
اس نے ہاتھ جوڑتے ہوئے اجازت چاہی۔
” ہاں بولو کیا بات کرنی ہے۔ جو کام تمہیں دیا تھا وہ پورا ہوگیا؟ “
داور نے پوچھا۔
” سائیں پتا تو چل گیا ہے جی پر چھوٹا منہ بڑی بات ہوجائے گی۔ “
” تم بے فکر ہو کر بتائو کہ کیا خبر ملی ہے تمہیں۔ “
” وہ سائیں۔ “
ملازم ہچکچایا۔
” پہیلیاں کیوں بجھوا رہے ہو۔ صاف بات کرو۔ “
اس بار داور نے سخت لہجہ اپنایا۔
” سائیں فائز کو اور کسی نے نہیں بلکہ بڑے سائیں نے اغوا کروایا تھا۔ “
” یہ کیا بکواس کر رہے ہو۔ ہوش میں تو تم۔ پتا بھی ہے تمہیں کہ کیا بول رہے ہو؟ “
داور غصے سے غضب ناک ہو کر دھاڑا۔
” س۔سائیں معاف کردیں۔ مجھے یہی خبر ملی تھی۔ “
ملازم نے گھبرا کر ہاتھ جوڑے۔
” پر ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟ بابا سائیں ایسا کیسے کر سکتے ہیں۔ تم دوبارہ تحقیق کروائو۔ “
” سائیں خبر پکی ہے۔ میں نے ہر طرح سے تسلی کروائی ہے۔ “
” سوچ لو۔ ایک بار پھر۔ اگر جو یہ خبر جھوٹ نکلی تو تمہارا وہ حشر کرونگا کہ تم سوچ نہیں سکتے۔ اب کھڑے منہ کیا دیکھ رہے ہو میرا جائو یہاں سے۔ “
داور نے وارن کرنے والے انداز میں کہا۔
” بابا سائیں! اگر آپ نے ایسا کیا ہوگا تو زوہا کو میں کیا منہ دکھائوں گا۔ “
داور خود کلامی کے انداز میں بولا۔
” زوہا بھی یہی بول رہی تھی کہ فائز کو میں نے اغواء کیا ہے تو اس کا مطلب۔۔۔ نہیں پر کسی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے مجھے ساری بات جاننی ہوگی اوفر سب کچھ مجھے زوہا ہی بتا سکتی ہے۔ “
یہ سوچ کر وہ فورا گھر کی طرف روانہ ہو گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زوہا گھر آنے کے بعد گلزار بیگم کو سلام کرکے اپنے کمرے میں آگئی اور تب سے اب تک وہ مسلسل روئے جا رہی تھی۔ ابھی وہ رونے میں ہی مصروف تھی کہ یکدم زور سے دروازہ کھلا اور داور اندر داخل ہوا۔
اسے دیکھ زوہا کھڑی ہوگئی اور اس پر ایک زخمی نگاہ ڈال کر وہاں سے جانے لگی۔ داور نے اسکی کلائی تھام کر اسے جانے سے روکا۔
” یہ کیا بدتمیزی ہے ہاتھ چھوڑیں میرا۔ “
داور بغیر کوئی جواب دیئے اسے کھینچ کر صوفے تک لایا اور اسکے کندھوں پر دبائو ڈالتے ہوئے اسے صوفے پر بٹھایا۔ اور خود بھی ساتھ بیٹھ گیا۔
” پلیز کچھ دیر کے لیے غصہ چھوڑ کر میری بات غور سے سن لو۔ یہ بات اس وقت کلیئر ہونا بہت ضروری ہے۔ ہماری زندگی جڑی ہے اس سے۔ اس لیے کچھ وقت کے لیے غصہ چھوڑ کر مجھے کچھ باتوں کے جواب دے دو۔ “
” کن باتوں کے جواب چاہیئے آپ کو مجھ سے؟ “
زوہا نے پوچھا۔
” تم مجھے ا سے ے تک وہ سارے واقعات معمولی یا غیر معمولی جو ہمارے رشتہ ہونے سے شادی تک ہوئے ہوں مجھے بتائو۔ “
” آپ ہی نے تو سب کچھ کیا تھا اور اب آپ ہی پوچھ رہے ہیں۔ “
” اگر میں جانتا ہوتا تو تم سے پوچھتا کیوں۔ “
داور کو غصہ آگیا پر اس نے غصہ دبا کر دھیمی آواز میں کہا۔
” انجان بننے کی اداکاری تو خوب کررہے۔ “
وہ اسکے غصے کو خاطر میں لائے بغیر بولی۔
” پاگل ہو تم۔ یہاں میں اپنی بے خبری پر پاگل ہورہا ہوں اور تمہیں اداکاری لگ رہی ہے۔ “
اب کی بار وہ خود پر قابو ناں رکھ سکا اور چلایا۔
زوہا کی ڈر سے ہچکی نکلی۔
زوہا کو ڈرتے دیکھ کر داور سمجھ گیا کہ نرمی سے وہ کچھ نہیں بتائے گی اس لیے اپنا لہجہ سخت بناتے ہوئے بولا۔
” اب تم ایک بھی فضول سوال پوچھے بغیر مجھے سب سچ بتائو گی ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔ “
اس کے بعد زوہا نے روتے روتے اسے سب بتانا شروع کیا۔ جیسے جیسے وہ سنتا جا رہا تھا اسے لگ رہا تھا جیسے اسکے ارد گرد دھماکے ہورہے ہوں۔
پوری بات بتاتے بتاتے زوہا کی ہچکیاں بندھ گئی تھیں۔ داور کو سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کیا بولے۔ اسکی وجہ سے کسی کہ زندگی میں اتنا بڑا طوفان آگیا تھا اور اسے پتا بھی نہیں چلا تھا۔
زوہا وہاں سے چلی گئی تھی اور وہ سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کتنی ہی دیر وہ وہاں سر پکڑ کر بیٹھا رہا۔ پھر اس نے بابا جان سے بات کرنے کا سوچ کر ان کے کمرے میں آیا۔
” اماں سائیں! بابا سائیں کدھر ہیں؟ “
اس نے گلزار بیگم سے پوچھا۔
” وہ تو ڈیرے کی طرف گئے ہیں۔ سب خیریت تم کیوں اتنے پریشان ہو۔ سب ٹھیک تو ہے۔ “
آخر ماں تھیں بیٹے کی پریشانی ایک نظر میں بھانپ گئیں۔
” نہیں سب خیریت ہے۔ کچھ کاروبار کے متعلق بات کرنی تھی۔ میں وہیں مل لیتا ہوں ان سے جاکر۔ “
یہ کہہ کر وہ تیزی سے کمرے سے نکل گیا۔
ڈیرے پر پہنچ کر وہ سیدھا صفدر صاحب کے پاس پہنچا جو بیٹھے ہوئے گاوں والوں کے مسائل سن رہے تھے۔
” بابا سائیں مجھے آپ سے اکیلے میں کچھ بات کرنی ہے۔ “
” ہاں آئو۔ بولو کیا بات ہے۔ “
انہوں نے وہاں بیٹھے لوگوں اور اپنے ملازمین کو جانے کا اشارہ کیا اور داور سے پوچھا۔
” بابا سائیں آپ نے اظہار صاحب کو زوہا کی مجھ سے شادی کے لئے کیسے منایا تھا۔ “
داور نے اپنے لہجے کو سرسری رکھتے ہوئے استفسار کیا۔
صفدر صاحب اسکی بات سن کر چونکے پر ظاہر کیے بغیر بولے۔
” منانا کیا تھا۔ اپنے جس بھتیجے سے وہ زوہا کا نکاح کروا رہے تھے وہ عین نکاح والے دن گھر سے بھاگ گیا تھا تو انہوں نے خود مجھسے تمہاری اور زوہا کی شادی کی بات کی تھی۔ “
” فائز بھاگا تھا یا آپ نے اسے اغواء کروایا تھا۔ “
صفدر صاحب اسکی بات سن کر حیران رہ گئے پر پھر اپنے لہجے کو سخت بناتے ہوئے بولے۔
” تم اپنے باپ پر الزام لگا رہے ہو۔ “
” بابا سائیں! بس اب اور نہیں۔ مجھے سچ جاننا ہے۔ ورنہ میں پاگل ہو جائونگا۔ “
وہ اپنے بالوں میں انگلیاں پھنساتے ہوئے بولا۔
” ہاں میں نے ہی کروایا تھا اغواء۔ کیونکہ میں اپنے جوان بیٹے کو تڑپتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا تھا۔ وہ بیٹا جس کو میں نے خراش تک نہیں آنے دی تھی اسے یوں تڑپ تڑپ کر مرنے کے لیے چھوڑ دیتا۔ “
” پر بابا سائیں آپ نے اپنے بیٹے کی زندگی بچانے کے لیے کتنی زندگیاں برباد کی پر پھر بھی آپ کا بیٹا خوش نہیں ہے۔ زوہا نفرت کرتی ہے مجھسے۔ اس سب کا ذمہ دار مجھے سمجھتی ہے۔ “
داور ہارے ہوئے لہجے میں بول کر نیچے بیٹھ گیا۔
صفدر صاحب اسکی حالت دیکھ کر تڑپ اٹھے۔
” میرے بیٹے تو پریشان مت ہو میں ثابت کرونگا تیری بے گناہی۔ میں زوہا کو سب بتادوںگا۔ “
وہ اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں میں بھرتے ہوئے بولے۔
” نہیں اب آپ کچھ نہیں کریں گے۔ اب جو کروں گا وہ میں کروں گا۔ کھائیں میری قسم آپ کسی کو کچھ نہیں کہیں گے زوہا سے یا کسی سے بھی۔ “
وہ انکا ہاتھ اپنے سر پر رکھتے ہوئے بولا۔
” پر داور۔ “
” نہیں اب کچھ نہیں۔ اگر اپنے بیٹے کی زندگی چاہتے ہیں تو کھائیں قسم۔ “
داور قطعی انداز میں بولا۔
” ٹھیک ہے۔ تمہاری قسم میں کسی سے کچھ نہیں کہوں گا۔ “
صفدر صاحب ہار مانتے ہوئے بولے۔
” ٹھیک ہے اب آپ جائیں یہاں سے۔ “
” تم بھی چلو ساتھ۔ “
” پلیز بابا سائیں! آپ جائیں۔ میں اسوقت کسی کا بھی سامنا کرنے کی حالت میں نہیں ہوں۔ میرے اعصاب تھک چکے ہیں۔ میں کچھ دیر اکیلا رہنا چاہتا ہوں۔ جب کچھ سنبھل جاوں گا تو آجائوں گا گھر۔ اور پلیز یہاں کوئی نہیں آئے سارے ملازمین کو منع کرکے جائیگا۔ “
صفدر صاحب اسے نا مانتے دیکھ کر وہاں سے چلے گئے۔ وہ پوری رات داور نے وہاں کھلے آسمان تلے بیٹھ کر گزاری۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زوہا کی صبح فجر کی اذان سن کر آنکھ کھلی تو اس نے صوفے کی طرف دیکھا تو داور کو نا پا کر خود کلامی کے انداز میں بولی۔
” یہ کیا پوری رات گھر نہیں آئے۔ خیر مجھے کیا ان جاگیر داروں کے لیے راتیں باہر گزارنا تو عام سی بات ہے۔ “
پھر وہ وضو کے لئے واشروم کی جانب چل دی۔
ابھی وہ نماز پڑھ کر فارغ ہوئی تھی کہ داور کمرے عجلت میں داخل ہوا اور بولا۔
” جلدی سے تیار ہو جائو۔ ہمیں کہیں جانا ہے۔ “
” مجھے کہیں نہیں جانا آپ کے ساتھ۔ “
” بے فکر ہوجائو۔ یہ آخری بار تمہیں کہیں لے کر جارہا ہوں۔ اسکے بعد کبھی پریشان نہیں کرونگا۔ اسی لیے بغیر کوئی سوال کئے تیار ہوجائو۔ “
زوہا اسکی بات سن کر حیرانگی سے اس کو دیکھنے لگی۔ پھر کچھ سوچ کر تیار ہونے چلی گئی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: