Khwabo Ki Pari Novel By Aaira Shah – Episode 2

0
خوابوں کی پری از آئرہ شاہ – قسط نمبر 2

–**–**–

ٹھااااااااہ ۔۔۔۔۔۔ گولی کی تیز آواز اس خاموش جنگل کی خاموشی کو چیرتے ہوئے درختوں پر موجود پرندوں جو کہ اس شور سے نامانوس تھے کو ان کے گھونسلوں سے اڑا گئی تھی ۔
“واہ سائیں واہ آپ سے اچھا نشانہ اس پورے گائوں میں تو کیا آس پاس کے کے کسی گائوں میں کوئی نہیں لگا سکتا ۔” بخشو نے ہاتھ جوڑ کر خوشامدی انداز اپنایا ۔
اس سنہری آنکھوں والے شہزادے کے گہری مونچھوں تلے دبے عنابی لب مسکرائے تھے ایسے تعریفی جملے سننے کا وہ عادی تھا ۔
چھ فٹ سے نکلتا قد ، کسرتی جسم ، لمبی مغرور سی ناک ، عنابی لب ، سنہری آنکھیں وہ ایسا تھا جو ایک بار دیکھے دوبارہ دیکھنے پر مجبور ہو جائے ۔
وائٹ کاٹن کے کلف لگے سوٹ میں اس کا سراپا نمایاں تھا جس کو سندھی اجرک نے چار چاند لگا دیئے تھے
“سائیں آگے کا کیا ارادہ ہے ؟؟ “
بخشو نے داور سے پوچھا ۔۔
“اللہ ڈنو سے کہو گاڑی تیار کرے حویلی کے لئے”۔۔۔۔
داور نے ہاتھ میں پہنی ہوئی قیمتی گھڑی میں ٹائم دیکھتے ہوئے کہا ۔۔
“جو حکم سائیں” ۔
بخشو ہاتھ جوڑ کر کہتا ہوا پلٹ گیا ۔۔۔۔
گاڑی کے حویلی میں جا کر رکتے ہی ایک ملازم بھاگتا ہوا آیا اور داور کی جانب کا دروازہ کھولا ایک شان سے وہ شہزادہ گاڑی سے اتر کر آگے بڑھا ۔۔۔۔۔
راستے میں آنے والے ملازموں کے سلام کے جواب سر کے اشارے سے دیتا ہوا حویلی میں داخل ہوا اور سیدھا اپنی ماں کے کمرے کی طرف بڑھا ۔۔۔۔۔
دستک دے کر اندر داخل ہوا جہاں ایک ادھیڑ عمر کی عورت بیڈ کرائون سے ٹیک لگا کر بیٹھی ہوئی تھی ۔ داور ان کو سلام کرتا ہوا ان کے دونوں ہاتھ اپنی آنکھوں سے لگا کر ان کے سامنے بیٹھ گیا ۔۔۔۔۔
ان خاتون کی آنکھوں کی چمک داور کو دیکھ کر بڑھ گئی انہوں نے اس کے سلام کا جواب دے کر آگے بڑھ کر اسکا ماتھا چوما ۔
” کیسی ہیں اماں سائیں آپ ؟؟”
داور نے پوچھا ۔۔۔۔
“وہ عورت کیسی ہو سکتی ہے جسکا جوان بیٹا ہوتے ہوئے بھی وہ پوتا پوتی بھی نہیں کھلا سکتی “۔۔۔۔
گلزار بیگم نے ناراضگی سے بھرپور لہجے میں جواب دیا ۔۔۔۔۔
” او میری پیاری اماں سائیں ہو جائیگی شادی بھی اتنی بھی کیا جلدی ہے “۔
داور نے ہلکے پھلکے انداز میں بات کو ٹالتے ہوئے کہا ۔
“یہ جلدی ہے تو پھر دیر کیا ہوگی ۔” گلزار بیگم نے کہا ۔ “بتیس کا ہو گیا اب کیا بوڑھا ہو کر شادی کرے گا ۔”
آج ایسا لگ رہا تھا گلزار بیگم اس سے ہاں کرواکے ہی مانیں گی ۔
“اچھا اماں سائیں کرلوں گا بس تھوڑا سا ٹائم اور ۔۔۔۔۔”
” بس اب اور کوئی ٹائم نہیں ۔۔ “
گلزار بیگم نے اس کی بات کاٹ کر بولی ۔۔
” اماں سائیں بس تھوڑا سا ٹائم اور جہاں اتنا ٹائم دیا وہاں تھوڑا سا اور ۔۔۔ “
داور بولا ۔۔
“ٹھیک ہے چھ ماہ بس چھ ماہ کا ٹائم ہے تمہارے پاس۔ اسکے بعد میں تمہاری ایک نہیں سنوں گی۔ ” گلزار بیگم حتمی انداز میں بولی ۔
داور نے ان کے ہاتھ چومے اور کہا ۔۔۔۔۔!!!!!!
شکریہ اماں سائیں اب بھوک لگ رہی ہے۔ چلیں کھانا کھائیں ۔۔”
” ہاں میں کھانا لگواتی ہوں تم فریش ہو کر آجائو “
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“مماں میں اوپر رمشا سے نوٹس لے کر آ رہی ہوں “
زوہا رمشا بیگم کو بتا کر اوپر چلی آئی ۔
اوپر پہنچ کر اس نے رمشا کو دو تین آوازیں لگائی کوئی جواب نہ پا کر وہ اس کے کمرے کی طرف بڑھی کہ سامنے سے عجلت میں آتے فائز سے زوردار تصادم ہوا جس کے نتیجے میں وہ زمین بوس ہوتی جاتی کہ فائز نے آگے بڑھ کر اسے تھام لیا ۔
وہ دونوں ہاتھ اس کی کمر کے گرد باندھے مدہوش سا اس کے چہرے کو تک رہا تھا ۔
کہ زوہا کی آواز اسے ہوش کی دنیا میں واپس لائی۔۔۔۔۔۔۔
“فائز بھائی چھوڑیں مجھے “
“یار بھائی بولنا لازمی ہے ؟؟؟؟”
جھنجھلا کر گویا ہوا ۔۔۔
“کیوں فائز بھائی رمشا بھی تو آپکو بھائی ہی بولتی ہے کیا آپ میں آپکے لئے رمشا جیسی نہیں ہوں ۔۔۔۔”
“ارے تم میرے لئے کیا ہو اور کیا نہیں اس بات کو پھر کسی وقت کے لئے اٹھا رکھو فلحال یہ بتائو آج اس چاند نے ہمارے گھر کا رخ کیسے کر لیا “
فائز نے پوچھا ۔۔۔۔
” ارے ہاں وہ فائز بھائی میں وہ رمشا سے نوٹس لینے آئی تھی کہاں ہی وہ ؟؟؟؟”
زوہا نے پہلے سر پر ہاتھ مار کر اسکے سوال کا جواب دیا پھر اس سے سوال کیا ۔۔۔۔۔۔
” رمشا اور مماں تو مارکیٹ گئے ہیں ۔۔۔ “
فائز نے بتایا ۔۔۔۔۔۔
“چلو پھر میں چلوں رمشا آئے گی تو پھر لے جائوں گی نوٹس”
یہ کہہ کر وہ جانے لگی ابھی وہ مڑی ہی تھی کہ فائز نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اس کا رخ اپنی جانب موڑا اور تھوڑا قریب ہو کر گھمبیر لہجے میں بولا۔۔۔۔۔
” کبھی گھڑی دو گھڑی ہم سے بھی بات کر لیا کرو ۔۔”
زوہا نے گھبرا اس سے ہاتھ چھوڑایا
” وہ مماں مجھے آواز دے رہی ہیں۔۔۔۔۔”
یہ کہہ کر تقریبا بھاگتے ہوئے نیچے چلی گئی
پیچھے کھڑے فائز نے مسکرا کر بالوں میں ہاتھ پھیرا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زوہا نیچے آ کر بغیر ادھر ادھر دیکھے سیدھی اپنے کمرے میں چلی آئی دروازہ بند کر کے اس سے ٹیک لگا کر لمبے لمبے سانس لینے لگی
وہ بچی نہیں تھی جو فائز کی نظروں میں مچلتے پیغام کو نہ پڑھ پائے پر وہ فلحال ان چیزوں سے دور رہنا چاہتی تھی ۔۔۔
حواس تھوڑے بحال ہونے پر وہ بیڈ پر آ کر بیٹھ کر اپنی بکس کھول کر پڑھنے لگی کیونکہ جو بھی تھا اس کی پہلی ترجیح اس کے خواب ہی تھے ۔۔۔۔
“پر کون جانے آگے جا کر زندگی اس کے لئے کیا سوغات لانے والی تھی “

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: