Khwabo Ki Pari Novel By Aaira Shah – Episode 6

0
خوابوں کی پری از آئرہ شاہ – قسط نمبر 6

–**–**–

اگلے دن صبح ناشتے کے بعد داور ، گلزار بیگم کے کمرے میں آیا۔ صفدر علی شاہ بھی کمرے میں موجود تھے۔
وہ گلزار بیگم کے سامنے بیٹھا اور جھجکتے ہوئے بولا۔
” اماں سائیں ایک بات کرنی تھی آپ سے۔ “
” ایسی کیا بات ہے جس کو کہنے کے لئے داور علی شاہ کو اتنی تمہید باندھنی پڑھ رہی ہے۔ “
جواب صفدرعلی شاہ کی جانب سے آیا تھا۔
” وہ اماں سائیں اور بابا سائیں میں نے لڑکی پسند کرلی ہے۔ “
” ماں صدقے ! ماں قربان ارے تو یہ بہت خوشی والی بات ہے ۔۔ بتائو کون ہے ، رہتی کہاں ہے ، کیسی ہے۔ جلدی بتائو میں آج ہی رشتہ لے کر جائوں گی۔ “
گلزار بیگم کی تو دلی مراد بر آئی ، انہیں نے آگے بڑھ کر اسکا ماتھا چومتے ہوئے ایک ہی سانس میں انہوں نے اتنے سارے سوال پوچھ لئے۔
” ارے اماں سائیں سانس تو لیں سب بتاتا ہوں میں آپکو۔ میں نے خود اسے کل ہی دیکھا ہے مشعل کے کمرے میں۔ کالے رنگ کے کپڑوں میں۔ اچھا رکیں میں تصویر دکھاتا ہوں آپکو۔ “
یہ کہہ کر وہ ان کو موبائل میں تصویر دکھانے لگا ۔۔۔۔۔
” ارے! زوہا یہ تو۔ بڑی پیاری بچی ہے مجھے تو بہت پسند ہے ۔۔۔ زوار کے دوست فائز کی بہن ہے یہ۔ “
وہ اسے پہچانتی ہوئی بولیں۔
” بس ٹھیک ہے آج کا دن ہے تمہارے پاس گلزار۔ رشتہ لے جانے کی تیاری کر لو ہم کل ہی جائیں گے رشتہ لے کر۔ انگوٹھی بھی خرید لینا ہم کل ہی پہنا کر آئیں گے اسے۔ “
اب کی بار جواب صفدر علی شاہ کی جانب سے آیا تھا۔
” کیونکہ انکار کا جواز ہی نہیں۔ بلکہ وہ تو خود کو خوش قسمت جانیں گے ۔ جب ان کو پتا چلے گا کہ داور علی شاہ کے لئے ان کی بیٹی کو چنا گیا ہے۔ “
یہ کہہ کر انہوں نے داور کو گلے لگا لیا۔
” زرینہ ارے زرینہ۔ “
گلزار بیگم ملازمہ کو آواز دیتے ہوئے بولیں۔
” جی بی بی جی۔ “
زرینہ بوتل کے جن کی طرح نازل ہوئی۔
” جائو ! اللہ ڈنو سے کہہ کر صدقے کے بکروں کا انتظام کروائو۔ “
گلزار بیگم زرینہ کو ہدایت دیتے ہوئے بولیں۔
” جی بہتر۔ “
یہ کہہ کر زرینہ وہاں سے چل دی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گلزار بیگم ، داور علی شاہ اور صفدر علی شاہ اس وقت اظہار صاحب کے ڈرائنگ روم میں بیٹھے تھے۔
اظہار صاحب اتنے بڑے لوگوں کی اپنے گھر میں موجودگی سے حیرت میں تھے۔
حال احوال کے بعد اظہار صاحب بولے۔
” خیریت اپ لوگ ہمارے غریب خانے پر تشریف لائے۔ “
” آج یہاں ہم کسی خاص مقصد سے آئے ہیں۔ “
صفدر علی شاہ بولے۔
“جی کہیئے۔ “
“پہلے آپ اپنی بیٹی زوہا کو یہاں بلالیں۔ “
” زوہا کو ! پر کیوں؟ “
” دراصل ہم اسی کے بارے میں بات کرنے کے لئے آئیں۔ “
” جائو نسرین زوہا کو بلائو۔ “
اظہار صاحب نسرین بیگم سے بولے۔
” جی۔ “
یہ ایک لفظ کہہ کر نسرین بیگم زوہا کو بلانے چلدیں۔ تھوڑی دیر بعد زوہا نسرین بیگم کے ساتھ اندر داخل ہوئی۔
وہ بلیو جینز کے اوپر پنک گھٹنوں سے اوپر آتی چھوٹی سی فراک پہنے ہوئی تھی اور ریڈ دوپٹہ گلے میں مفلر کی طرح لپٹا تھا۔
جہاں وہ اس عام سے حلیے میں بھی داور کے دل کے تار چھیڑ گئی تھی وہیں صفدر علی شاہ کو اس کی ڈریسنگ قدرے نا گوار گزری تھی۔
پر وہ بیٹے کی وجہ سے خاموش رہنے پر مجبور تھے۔
” یہاں آئو بیٹی میرے پاس بیٹھو۔ “
گلزار بیگم اپنے اور صفدر علی شاہ کے درمیان اس کے لئے جگہ بناتی ہوئی بولیں۔
زوہا نے ایک نظر ماں کو دیکھا اور ان کا مثبت اشارہ پا کر زوہا ان کے درمیان بیٹھ گئی۔
گلزار بیگم نے اس کے بیٹھنے کے بعد ڈبی سے ایک خوبصورت ہیرے کی انگوٹھی نکال کر زوہا کے بائیں ہاتھ کی تیسری انگلی میں ڈال دی۔
ابھی وہ اور سامان دیتی کہ انوار صاحب کمرے میں داخل ہوئے اور آگے بڑھ کر صفدر صاحب اور داور سے مصافحہ کیا وہ داور کو فائز کی وجہ سے جانتے تھے بولے۔
” جی کہیئے کیسے آنا ہوا۔ “
” ہم اپنے بیٹے داور علی شاہ کے لئے آپکی بیٹی زوہا کا ہاتھ مانگنے آئے ہیں۔ “
صفدر علی شاہ نے ان کے سروں پر بم پھوڑا۔
” پر ہمیں افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ایسا نہیں ہو سکتا۔ “
انوار صاحب بولے۔
” کیوں آخر کیا کمی ہے میرے بیٹے میں ۔ ارے آپ کو تو خوش ہونا چاہیئے کہ اتنے بڑے گھر سے آپ کی بیٹی کے لئے رشتہ آیا ہے۔ “
صفدر علی شاہ ایک دم جلال میں آئے۔
” بابا سائیں آرام سے۔ “
داور نے انہیں کہا۔ حالانکہ اسے خود اپنا سانس رکتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔
” پہلی بات تو یہ کہ ہم خاندان سے باہر رشتہ نہیں کرتے اور دوسری بات زوہا میرے بیٹے کے ساتھ منسوب ہے اور بہت جلد ہم انکا نکاح کرنے والے ہیں۔ “
انوار صاحب نے کہا۔
” بس بابا سائیں چلیں۔ “
داور سے جب مزید سنا نہیں گیا تو وہ یہ کہہ کر باہر نکل گیا۔
صفدر صاحب اپنے گارڈز کو داور کے پیچھے جانے کا اشارہ کرکے انوار صاحب کی جانب مڑے۔
اور بولے۔
” آپ نے صفدر علی شاہ کے لاڈلے بیٹے کا دل دکھایا ہے۔ اس بیٹے کا جس کی ہر خواہش میں نے اس کے منہ سے نکلنے سے پہلے پوری کی ہے۔ آپ کو پچھتانا پڑے گا۔ میں مجبور کر دونگا آپ کو پچھتانے پر۔ “
یہ کہہ کر وہ نکلنے لگے کہ پیچھے سے انوار صاحب کی آواز آئی۔
” رکییے۔ “
اور پھر انہوں نے زوہا کی انگلی سے انگوٹھی اتا ری اور بولے۔
” یہ انگوٹھی اور اپنا سامان لے جائیے۔ “
وہ اس سامان جس میں مٹھائی کے ٹوکرے اور تحائف شامل تھے کی طرف اشارہ کر کے بولے۔
” ہم ایک دفعہ جو چیز دے دیں وہ واپس نہیں لیا کرتے۔ یہ ہمارے بیٹے کا صدقہ سمجھ کے ہم نے تمہیں دیا۔ “
یہ کہہ کر صفدر علی شاہ بغیر پیچھے مڑے باہر نکل گئے۔ گلزار بیگم بھی ان کے پیچھے باہر نکل گئیں۔
ان کے جانے کے بعد زوہا اپنے کمرے میں چلی گئی۔
پیچھے سے اظہار صاحب سر پکڑ کر بیٹھ گئے اور پریشانی سے گویا ہوئے۔
” بھائی صاحب میرا دل بہت گھبرا رہا ہے بڑے لوگ ہیں کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ “
تو انوار صاحب ان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولے۔
” پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ، تم بس زوہا اور فائز کے نکاح کی تیاریاں کرو۔ جب نکاح ہو جائے تو کوئی کچھ نہیں کر پائے گا۔ “
” پر بھائی صاحب کیا فائز مان جائے گا۔ “
انہیں ایک اور فکر لاحق ہوئی۔
” اس بات کی ٹینشن نہ لو۔ اول تو فائز مان جائے گا اور اگر نہ مانا تو مائز ہے ناں۔ “
” شکریہ بھائی صاحب میرا اتنا ساتھ دینے کے لئے۔ “
” شکریہ کی بات زوہا میری بھی بیٹی ہے۔ بس اب جلدی سے نکاح کی تیاری کرو۔ تاکہ وہ کچھ کرنے کی پوزیشن میں نہ رہیں “
” جی بہتر بھائی صاحب۔ “
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حویلی پہنچ کر وہ سیدھا اپنے کمرے میں چلا گیا۔
گلزار بیگم نے اسے روکنا چاہا تو اس نے نہایت ہی سرد لہجے میں بولا۔
” اماں سائیں مجھے کچھ وقت کے لئے اکیلا چھوڑ دیا جائے۔ “
اسکا لہجہ سن کر گلزار بیگم کچھ بولنے کی ہمت ہی نہیں جوڑ پائیں اس نے پہلی بار کسی سے اس لہجے میں بات کی تھی ۔
” شاہ جی کچھ کریں ورنہ میرا بچہ ٹوٹ جائے گا۔ “
گلزار بیگم روتی ہوئی بولیں۔
” تم فکر مت کرو میں نے سوچ لیا ہے کہ مجھے کیا کرنا ہے۔ دولہن تو وہ داور علی شاہ کی ہی بنے گی۔ “
وہ کچھ سوچتے ہوئے بولے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ان کے جس بیٹے نے کبھی کسی عورت کی طرف میلی نگاہ نہیں اٹھائی ۔۔۔ اس نے اس لڑکی کی خواہش کی ہے تو وہ کس حد تک سنجیدہ ہوگا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: