Khwabo Ki Pari Novel By Aaira Shah – Episode 7

0
خوابوں کی پری از آئرہ شاہ – قسط نمبر 7

–**–**–

کمرے میں آتے ہی اس نے اپنا ضبط کھودیا سب سے پہلے ڈریسنگ ٹیبل پر رکھے برانڈڈ پرفیومز کو ہاتھ مار کر گرادیا۔
جب اس سے بھی غصہ کم نہ ہوا تو ٹیبل پر رکھا واز اٹھا کر ڈریسنگ کے شیشے پر مارا ایک چھن سے شیشہ ٹوٹ کر نیچے بکھر گیا۔
اس کے بعد کمرے کی ساری چیزیں ایک ایک کرکے توڑنے کے وہ تھک کر نیچے زمین پر بیٹھ گیا بیڈ سے ٹیک لگا کر۔
کہ یکدم موبائل فون کی آواز نے کمرے کی خاموشی میں ارتعاش سا پیدا کر دیا۔
پہلے تو اس کا جی چاہا کہ فون نہ اٹھائے پر کچھ سوچ کر اس نے اٹھالیا۔
تو دوسری طرف اس کا دوست سجاول تھا جو کہ ایک عیاش وڈیرا تھا۔
دنیا کی ہر برائی موجود تھی اس میں۔ سجاول جیسے شخص کے ساتھ رہ کر بھی داور ہر قسم کی برائی سے دور تھا۔ آج محفل رکھی تھی سارے دوستوں نے ڈیرے پر داور کے رشتہ ہونے کی خوشی میں۔
” بولو سجاول۔ “
داور بھاری آواز میں گویا ہوا۔
” خیریت داور آج ڈیرے پر نہیں آئے تم؟ “
” ہاں وہ بس کچھ طبیعت اچھی نہیں تھی۔ “
” یار یہاں ہم تیرے رشتے کی خوشی میں محفل جمائے بیٹھے ہیں اور تو طبیعت خراب کر کے بیٹھا ہے۔ “
” بس ویسے ہی طبیعت کچھ عجیب ہو رہی ہے۔ “
” خیر ہے کونسا روگ لگ گیا میرے یار کو۔ ہمیں پتا چلے تو کچھ علاج کریں ہم “
” سجاول تیرے یار کے اس روگ کا کوئی علاج نہیں۔ “
” بھابھی کی طرف سے انکار ہوگیا؟ “
وہ بھی اسی کا دوست تھا فورا داو ر کی نبض پکڑ لی۔
” پریشان کیوں ہو رہا ہے بول تو ڈھیر لگا دوں گا تیرے قدموں میں ایسی ہزار لڑکیوں کا۔ “
” نہیں سجاول مجھے چاہ نہیں ہے ہزار لڑکیوں کی۔ “
” آہ !! سمجھ گیا سمجھ گیا۔ عشق کا روگ لگا بیٹھا ہے میرا یار۔ یہ عشق کا نشہ تو جام خاص ہی سے اترے گا۔ “
وہ داور کے بکھرے لہجے سے اندازہ لگاتا ہوا بولا۔
” سجاول اس سے نشہ اترے گا نہیں چڑھے گا “
وہ منکر ہوا۔
” ارے ارے سائیں جیسے لوہا لوہے کو کاٹتا ہے ایسے ہی نشہ نشے کو کاٹے گا۔ “
” اگر ایسا ہے تو بھیج دے دوا سجاول۔ “
آخر کار گھٹنے ٹیک دیئے گئے تھے۔
” جو حکم سائیں ابھی بھجواتا ہوں۔ اعلی اور نایاب قسم بھیجوں گا۔ “
یہ کہہ کر اس نے فون رکھ دیا۔
ابھی اسے فون رکھے کچھ ہی دیر ہوئی تھی کہ دروازہ بجا۔
” آ جائو۔ “
اس نے اجازت دی۔
دروازہ کھلا اور اس کا ملازم خاص اندر آیا۔
“بولو۔ “
اس نے اپنی لہو رنگ آنکھیں سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا۔
” سائیں یہ سجاول سائیں کی طرف سے تحفہ ہے ان کی ہدایت تھی کہ آپکو ابھی پہنچایا جائے یہ اسی لئے آگیا۔ “
اس نے ڈرتے وضاحت دی اصل میں وہ اس کی سرخ آنکھیں دیکھ کر ڈر گیا کیونکہ ابھی کسی کو داور کے کمرے میں آنے کی اجازت نہیں تھی۔ ابھی بھی وہ سجاول کے ملازم کے کہنے پر ڈرتے ڈرتے اندر آیا تھا۔
یہ وہ داور تھا جس نے کبھی ملازموں سے غصے میں بات نہیں کی تھی۔
سب ملازمین اپنے جان سے پیارے مالک کی یہ حالت دیکھ کر پریشان تھے۔
” کسی کو پتا تو نہیں چلا۔ “
داور نے اپنی بھاری آواز میں پوچھا۔
” نہیں سائیں۔ “
” ٹھیک ہے پتا چلنا بھی نہیں چاہیئے۔ “
بظاہر لہجہ عام سا تھا پر انداز بہت کچھ باور کرانے والا تھا۔
” جج۔جی سائیں “
ملازم ہکلاتا ہوا بولا۔
داور کے اشارہ کرنے پر وہ چلا گیا۔
داور نے ہاتھ بڑھا کر پیکٹ اٹھایا۔
اس میں سے بوتل نکالی اور ڈھکن کھول کر بوتل سیدھا منہ سے لگا لی اور بغیر زائقے کی پرواہ کئے پی گیا۔
آج پہلی دفعہ اس نے یہ حرام شے منہ کو لگائی۔
بس پھر کیا تھا اپنا درد کم کرنے کے چکر میں وہ جام پہ جام چڑھاتا مدہوش ہوتا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انوار صاحب نے فائز کو فون لگایا۔ دو تین بیلوں کے بعد فون اٹھالیا گیا۔
” بابا سب خیریت آپ نے فون کیا۔ “
فائز کی پریشان سی آواز اسپیکر میں ابھری کیونکہ انوار صاحب انتہائی ضرورت کے وقت ہی فائز کو فون کرتے تھے۔
” تم اسی ٹائم گھر پہنچو۔ “
انوار صاحب بولے۔
” پر بابا اس ٹائم تو میں ہاسپیٹل میں ہوں سب خیریت؟ “
” ہاں تم گھر پہنچو پھر بات ہوتی ہے۔ “
” ٹھیک ہے بابا میں آتا ہوں۔ “
۔۔۔۔ پھر وہ چالیس منٹ کا راستہ بیس منٹ میں طے کرکے گھر پہنچا اور گھر میں داخل ہو کر بھاگتے ہوئے سیڑھیاں چڑھ کر اوپر آیا۔
” ماما !!! بابا کہاں ہیں۔ “
اس نے عائلہ بیگم سے پوچھا۔
” اپنے کمرے میں۔ “
ان کا جواب سن کے انوار صاحب کے کمرے کی طرف آیا اور دستک دے کر اندر داخل ہوا۔
” جی بابا بلایا آپ نے۔ “
” ہاں آئو ادھر بیٹھو۔ “
پھر انہیں نے آج ہونے والی ساری بات اس کے گوش گزار دی۔
” ان کی ہمت کیسے ہوئی ہمارے گھر میں کھڑے ہو کر ہم ہی کو دھمکی دینے کی۔ چھوڑونگا نہیں میں انہیں۔ اور زوار اس نے مجھے بتایا بھی نہیں اتنی بڑی بات ہو گئی۔ “
فائز ساری بات سن کر ایک دم غصے میں آگیا۔
” فائز یہ ٹائم جوش سے نہیں ہوش سے کام لینے کا ہے۔ اس لئے ہم نے طے کیا ہے ہم تمہارا اور زوہا کا نکاح کروا دیں۔ بولو تمہیں منظور ہے؟ “
” مم۔۔میرا اور زوہا کا نکاح؟ “
فائز کا سارا غصہ انوار صاحب کی یہ بات سن کر اتر گیا تھا۔
” بولو تمہیں منظور ہے یا نہیں ورنہ ہم مائز سے بات کریں۔ “
” نہیں نہیں میں راضی ہوں۔ “
فائز جلدی سے بولا۔
فائز کی جلدبازی دیکھ کر ان کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی جسے وہ رخ موڑ کر چھپا گئے اور مطمئن انداز میں گویا ہوئے۔
” ٹھیک ہے اب تم جائو “
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انوار صاحب اور اظہار صاحب دونوں اس وقت زوہا کے کمرے میں اس سے بات کرنے کے لئے موجود تھے۔
” زوہا بیٹا جو بات میں اس وقت تم سے کرنے جا رہا ہوں وہ غور سے سننا۔ اور مجھے یقین ہے کہ تم میرا مان رکھوگی۔ “
اظہار صاحب کے انداز پر زوہا کا دل یک دم بہت زور سے دھڑکا۔
پر وہ خود کو کمپوز کرتی ہوئی بولی۔
” بابا آپ کو جو بات کرنی ہے کھل کر کریں۔ “
” بیٹا جس طرح کے حالات ہیں ان کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم نے ایک فیصلہ لیا ہے کہ تمہارا اور فائز کا نکاح کردیا جائے۔ “
” پر بابا میں ابھی پڑھنا چاہتی ہوں۔ “
” ابھی صرف نکاح ہو گا رخصتی نہیں۔ اور تمہاری پڑھائی پر کوئی پابندی نہیں ہوگی اس بات کی میں ضمانت دیتا ہوں۔ “
جواب انوار صاحب کی جانب سے آیا۔
” پر بڑے بابا کیا نکاح کرنا ضروری ہے؟ “
” بیٹا حالات کا تقاضا ہی یہی ہے۔ “
” ٹھیک ہے پھر جیسا آپ کو صحیح لگے۔ “
اس کی بات پر خوش ہو کر دونوں نے باری باری اسے گلے لگا کر پیار دیا۔
اظہار صاحب بولے۔
” مجھے پتا تھا میری بیٹی میری بات سے اختلاف کر ہی نہیں سکتی۔ “

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: