Khwabo Ki Pari Novel By Aaira Shah – Episode 8

0
خوابوں کی پری از آئرہ شاہ – قسط نمبر 8

–**–**–

گلزار بیگم اس وقت داور کے کمرے کے دروازے کے باہر موجود تھیں۔
ساتھ میں ملازمہ ہاتھ میں کھانے کی ٹرے لئے کھڑی تھی۔
داور دوپہر میں وہاں سے آنے کے بعد سے کمرے میں بند تھا اور اب رات ہونے کو آئی تھی۔
گلزار بیگم جب اس کے باہر نکلنے کا انتظار کرکے تھک گئیں تو دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر اس کے لئے کھانا لے کر آئی تھی۔
پر اب کئی بار کی دستک کے بعد بھی جب دروازہ نہ کھلا تو ان کو تشویش ہونے لگی۔
انہوں نے ہینڈل پر ہاتھ رکھ کر گھمایا تو وہ ان لاک ہونے کی وجہ سے کھلتا چلا گیا۔
انہوں نے قدم اندر کی جانب بڑھائے تو انکا دل دہل گیا۔ پورے کمرے میں سامان اور ٹوٹے ہوئے کانچ کی کرچیاں بکھری ہوئی تھیں۔
پر انہیں داور کہیں نظر نہیں آیا۔
وہ کانچ اور بکھرے سامان سے بچتی بچاتی آگے بڑھیں تو بیڈ کے دوسری جانب کا منظر دیکھ ان کا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا ۔
بے ساختہ انکا ہاتھ ان کے دل پر رکھا گیا۔
وہاں پر داور نیچے زمین پر حوش و حواس سے بیگانہ پڑا تھا۔ اور ساتھ ہی مشروب کی ٹوٹی ہوئی بوتل پڑی ہوئی تھی۔
” داااااااورررر “
وہ چیخ مار کر اس کی جانب بڑھیں اور اس کا سر اٹھا کر اپنی گود میں رکھ لیا اور اسے پکارنے لگیں۔
پر اگر وہ حوش میں ہوتا تو جواب دیتا ناں۔
” زرینہ جائو شاہ جی کو بلائو۔ “
زرینہ جلدی سے بھاگ کر صفدر علی شاہ کے پاس گئی اور بولی۔
” بڑے سائیں وہ دیکھیں آکر چھوٹے سائیں کو پتا نہیں کیا ہو گیا ہے “
زرینہ کی بات سن کر وہ بھاگ کر داور کے کمرے میں آئے۔ وہاں کی حالت دیکھ کر انہیں لگا جیسے کسی نے انکا دل مٹھی میں لے کر مسل دیا ہو وہ داور کی جانب بڑھے۔
” اللہ ڈنو کو بلائو۔ “
صفدر علی شاہ چلائے۔
اللہ ڈنو اور دو تین اور ملازموں کی مدد سے اسے گاڑی میں ڈال کر اسپتال لے کر آئے کہ داور جیسے مرد کو اٹھانا دو لوگوں کے بس کی بات نہیں تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پوری شاہ فیملی اس وقت آئی سی یو کہ باہر موجود تھی۔ زوار گلزار بیگم کو بازووں کے حلقے میں لئے بیٹھا تسلی دے رہا تھا۔ وہ اپنے ماموں کی عیادت کے لیے دوسرے شہر گیا ہوا تھا کہ حویلی پہنچنے پر اسے شاعر کی طبیعت کا پتا چلا تو وہ سیدھا ہسپتال چلا آیا۔
نجمہ بیگم مشعل کو سینے سے لگائے خود بھی رونے میں مصروف تھیں۔
صفدر علی شاہ ایک جانب پژمردہ سے کھڑے تھے۔
پہلی دفعہ ہی میں اس کے اس قدر زیادہ پینے کی وجہ سے اس کی حالت بگڑ گئی تھی۔
ڈاکٹر اس کا معدہ واش کر رہے تھے۔
ڈاکٹر نے اگلے چوبیس گھنٹے انتہائی اہم قرار دیئے تھے اگر ان چوبیس گھنٹوں میں اسے ہوش آگیا تو ٹھیک ہے ورنہ کچھ بھی ہو سکتا تھا۔
ابھی وہ سب دعائوں میں مشغول تھے کہ ایک دم آئی سی یو کا دروازہ کھلا اور ڈاکٹر صاحب باہر نکلے۔
صفدر علی شاہ ان کی طرف لپکے اور داور کی حالت کے بارے میں پوچھا۔
” دیکھیئے ابھی کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہو گا ۔۔ پیشنٹ کی حالت انتہائی نازک ہے۔ ہم اپنی طرف سے پوری کوشش کر رہے ہیں آپ بھی دعائیں جاری رکھیں۔ “
ڈاکٹر تسلی دیتے ہوئے بولے۔
” میرے بیٹے کو کچھ نہیں ہونا چاہیئے۔ تمہیں جتنے پیسے چاہیئے لے لو۔ پر! اگر میرے بیٹے کو کچھ ہوا ناں تو تمہارا پورا ہسپتال تباہ کر دونگا میں۔ “
صفدر صاحب نے ڈاکٹر کا گریبان دبوچا۔
زوار نے آگے بڑھ کر انہیں ڈاکٹر سے دور کیا اور انہیں جانے کا اشارہ کیا ۔
” تایا سائیں کیوں پریشان ہوتے ہیں۔ داور بھائی کو کچھ نہیں ہوگا۔ پورا گاوں ان کے لئے دعائوں میں مشغول ہے۔ ارے جس انسان کے ساتھ اتنی دعائیں ہوں اسے بھلا کچھ ہو سکتا ہے۔ “
زوار خود پریشان تھا کہ داور جو ان برائی سے کوسوں دور رہتا تھا وہ کیسے اس حرام چیز کو ہاتھ لگا گیا۔ پر ابھی صفدر صاحب یا کوئی بھی اسے بتانے کی پوزیشن میں نہیں تھا۔ وہ داور کے ٹھیک ہونے پر ساری بات پوچھنے کا ارادہ رکھتا تھا۔
” میں ان لوگوں کو بالکل نہیں چھوڑونگا جن کی وجہ سے میرا بیٹا اس حال میں پہنچا ہے۔ “
صفدر شاہ دل میں مصمم ارادہ کیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زوہا کے گھر میں نکاح کی تیاریاں زور و شور سے کی جا رہی تھیں۔
رمشا کی خوشی کا تو کوئی ٹھکانہ ہی نہیں تھا آخر کو اس کی عزیز از جان دوست اور کزن اس کی بھابھی بننے والی تھی۔
فائز ایک بار زوار سے بات کرنا چاہتا تھا پر اس کا فون نہیں لگ رہا تھا۔ وہ اس سے پوچھنا چاہتا کہ جب وہ جانتا تھا کہ فائز زوہا کو پسند کرتا ہے تو وہ کا طرح اپنے کزن کا رشتہ زوہا کے لیے آنے دے سکتا ہے۔
گھر میں سب ہی مطمئن تھے سوائے زوہا کے جس نے اظہار صاحب کی وجہ سے ہاں تو کردی تھی پر وہ مطمئن نہیں ہو پا رہی تھی۔
اس کی چھٹی حس اشارہ کر رہی تھی کہ کچھ غلط ہونے والا ہے پر وہ سب کے مطمئن چہرے دیکھ کر اپنی ساری سوچوں کو ذہن سے نکالنے کی کوشش کر رہی تھی۔
نکاح ایک ہفتے بعد ہونا قرار پایا تھا۔
رمشا زوہا کو بلانے آئی تھی وہ نکاح کا ڈریس لانے جا رہی تھی۔ تو عائلہ بیگم بولی زوہا کو بلا لو وہ اپنی مرضی کا لے لے گی۔
” رمشا تم جا کر لے آئو ہماری پسند کون سی الگ ہے۔ “
” زوہا کیا ہو گیا ہے تمہیں۔ تم تو ہمیشہ شاپنگ کے لئے ریڈی ہوتی ہو پھر آج کیا ہو گیا ہے تمہیں۔ تم خوش تو ہو ناں؟ “
” رمشا ایسی کوئی بات نہیں ہے تم غلط سوچ رہی ہو۔ میری بس طبیعت کچھ ٹھیک نہیں۔ “
” کیوں کیا ہوا تمہاری طبیعت کو اچھی بھلی تو بیٹھی ہو۔ “
رمشا اسکا ماتھا چھوتی ہوئی بولی۔
” ہاں وہ سر میں درد ہے مجھے۔ “
” تم اٹھو !!! شاپنگ کرکے تمہارا سر کا درد خود ہی غائب ہو جائے گا۔ ورنہ میں فائز بھائی کو بھیج دیتی ہوں اب وہی کریں گے تمہارے سر درد کا علاج۔ “
رمشا زبردستی اس کا ہاتھ پکڑ کر اٹھاتی اسے چھیڑتے ہوئے بولی ۔۔۔
” فضول بکواس مت کرو۔ چھوڑو مجھے چل رہی ہوں میں “
زوہا ہار مانتی ہوئی بولی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بائیس گھنٹے ہونے کو آئے تھے پر داور کو ابھی تک ہوش نہیں آیا تھا اب تو ڈاکٹرز بھی مایوس ہو رہے تھے داور کی حالت کو دیکھ کر۔
مشعل پریئر روم میں جائے نماز پر بیٹھی اپنے بھائی کی زندگی کے لیے دعائوں میں مشغول تھی۔
گلزار اور نجمہ بیگم آئی سی یو کے باہر تسبیحات میں مشغول تھیں۔
گلزار بیگم کی آنکھیں ایک منٹ کے لئے بھی خشک نہیں ہوئی تھیں۔
زوار صدقہ کرنے گیا ہوا تھا۔
جبکہ صفدر علی شاہ ایک کونے میں کھڑے کسی سے فون پر مصروف تھے۔
” ہاں بولو کیا رپورٹ ہے۔ “
صفدر علی شاہ نے پوچھا۔
” سر ان کے گھر میں نکاح کی تیاریاں چل رہیں ہیں ایک ہفتے بعد نکاح ہے اور وہ لڑکی ابھی خریداری کے لئے نکلی ہے اگر آپ حکم کریں تو۔ “
” نہیں لڑکی کو کچھ نہیں ہونا چاہیئے۔ آگے کیا کرنا ہے یہ ہم تمہیں بتا دیں گے۔ بس تم آنکھیں اور کان کھلے رکھو۔ “
صفدر علی شاہ اس کی بات کاٹ کر بولے۔
” جی بہتر۔ “
میرے بیٹے کو اس حال میں پہنچا کر خود اپنے گھر میں شہنایاں بجا رہے ہیں۔ چھوڑوں گا نہیں تباہ کر دوں گا۔
فون رکھ کر وہ دل ہی دل میں بولے۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: