Khwabo Ki Pari Novel By Aaira Shah – Episode 9

0
خوابوں کی پری از آئرہ شاہ – قسط نمبر 9

–**–**–

چوبیس گھنٹے ختم ہونے میں آدھا گھنٹا باقی تھا کہ نرس ان کے لئے زندگی کی نوید لے کر آئی۔
” آپ کے پیشنٹ کو ہوش آگیا ہے۔ “
” یا اللہ تیرا شکر ہے۔ “
سب کے منہ سے بے اختیار نکلا۔
گلزار بیگم نے اپنے ہاتھ سے ایک قیمتی انگوٹھی اتاری اور نرس کو دیتے ہوئے بولیں۔
” تم نے اتنی مبارک خبر ہمیں سنائی ہے۔ یہ تمہارا انعام ہے۔ “
نرس نے کچھ کہنے کے لئے منہ کھولا ہی تھا کہ گلزار بیگم بولیں۔
” بیٹا منع مت کرنا۔ ایک ماں کا پیار سمجھ کر رکھ لو۔ “
وہ اسے زبردستی انگوٹھی پکڑاتی ہوئی بولیں۔
” کیا ہم مل سکتے ہیں اپنے بیٹے سے۔ “
انہوں نے بے قراری سے پوچھا۔
” جی ہم انہیں روم میں شفٹ کر رہے ہیں۔ پھر آپ مل سکتے ہیں۔ “
نرس یہ کہہ کر چلدی۔
” میں ذرا شکرانے کے نفل ادا کرلوں اور مشعل کو بھی خوشخبری سنا دوں۔ “
گلزار بیگم یہ کہہ کر پریئر روم کی طرف چلی گئیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” آپکے پیشنٹ کو روم میں شفٹ کر دیا گیا ہے۔ آپ اب مل سکتے ہیں انہیں۔ “
نرس نے انہیں اطلاع دی۔
وہ سب داور کے کمرے میں داخل ہوئے۔
گلزار بیگم نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر اپنی سسکیوں کا گلا گھونٹا۔
کیونکہ سامنے لیٹا ہوا داور کہیں سے بھی وہ داور نہیں لگ رہا تھا جو دو دن پہلے انہیں اپنی پسند سے آگاہ کر رہا تھا۔ کیسی چمک تھی اسکے چہرے پر۔
اور اب وہ دو دن میں ہی صدیوں کا بیمار لگ رہا تھا۔
” داور میرے شیر۔ “
صفدر صاحب نے اسے پکارا۔
ان کی آواز سن کر اس کی پلکوں میں جنبش ہوئی اور دھیرے دھیرے اس نے اپنی آنکھیں کھولی اور سامنے کھڑے صفدر صاحب کو دیکھ کر نقاہت سے مسکرایا۔
پر وہ باپ تھے ناں اس کی مسکراہٹ میں چھپا درد پہچان گئے۔
” داور میرے بچے میری جان۔ “
گلزار بیگم اسکی جانب بڑھی۔
ان کو دیکھ کر اس نے بیٹھنا چاہا پر اس سے بیٹھا نہ گیا تو آگے بڑھ کر زوار نے اسے سہارا دے کر بٹھایا۔
گلزار بیگم اس کے پاس بیٹھیں اور اسکا ماتھا چوم کر بولیں.
” داور تجھے اپنی بوڑھی ماں کا ایک دفعہ بھی خیال نہ آیا. کیا اس کی دو دن کی محبت ہماری برسوں کی محبت پر غالب آ گئی. “
” اماں سائیں معاف کردیں مجھے میں ہوش میں نہیں تھا. مجھے تو حرام حلال کا فرق بھی بھول گیا تھا۔ اب میں اپنے خدا کو کیا منہ دکھائوں گا. “
داور ان کے سامنے ہاتھ جوڑتے ہوئے سر جھکا کر رو دیا۔ شاید اپنی بتیس سالہ زندگی میں ہوش سنبھالنے کے بعد پہلی مرتبہ رویا تھا.
” نہیں میرے لعل تیری کوئی غلطی نہیں تو دل پر نہ لے.وہ اللہ بہت بڑا ہے وہ سب کو معاف کردیتا ہے. “
وہ اس کے ہاتھ کھولتے ہوئے بولیں.
صفدر صاحب نے آگے بڑھ کر داور کو سینے سے لگایا اور اس کی پیٹھ تھپکتے ہوئے بولے.
” میرے شیر سب ٹھیک ہو جائے گا تو فکر مت کر. “
” میں ٹھیک ہوں بابا سائیں. “
وہ ان سے الگ ہوتا ہوا منہ صاف کرتا ہوا بولا.
پھر اس کی نظر ایک کونے میں کھڑی روتی ہوئی مشعل پر پڑی.
” کیا ہوا میری چڑیل نہیں ملے گی کیا مجھ سے. “
تو مشعل ایک دم سے بھاگ کر اس کے سینے سے لگ گئی اور تیز تیز رونے لگی.
” ارے چڑیل ابھی زندہ ہوں میں خاموش ہو جائو. “
اور اسے خود سے الگ کر کے اسکے آنسو صاف کئے۔.
” دیکھو بالکل ٹھیک ہوں میں اگر تم اور روئی نہ تو زوار مجھ سے ناراض ہو جائے گا کہ میں تمہیں رلا رہا ہوں. “
اس نے ایک نظر زوار کو دیکھا جو اسی کی جانب دیکھ رہا تھا اور شرما کر سر جھکا کے روتے روتے مسکرا دی۔
” ہاں وہ ایسا ہی تھا خود تکلیف میں ہوتے ہوئے بھی روتوں کو ہنسانے والا۔ “
سُدھ بُدھ اپنی
گنوا بیٹھا ہوں
اُلٹ سُلٹ میں جیون
الجھا بیٹھا ہوں
سانس کی ڈور زور لگائے
جیون میرا روز گھٹائے
اکھیاں جو پونچھوں
اکھیاں پھر بھر آئیں
من گھومت گھامت
پھر بھید یہ پائے
تم بن میرا من گھبرائے
پیا تُو مورے جی کو بھائے !!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
داور کو دو دن بعد ہسپتال سے چھٹی مل گئی تھی اور آج وہ دو دن بعد گھر آ رہا تھا۔
زوار اور صفدر صاحب داور کے ساتھ تھے باقی سب کو انہوں نے پہلے ہی گھر روانہ کر دیا تھا۔
گلزار بیگم داور کا کمرہ اپنی سرپرستی میں صاف کروا رہیں تھیں۔ ان دو دنوں میں صفدر صاحب نے اس کے کمرے کو بالکل پہلے جیسا کروا دیا تھا۔
مشعل اس کے لئے پرہیزی کھانا بنوا رہی تھی۔
اسی اثناء میں میں گاڑی کا ہارن بجا دونوں اپنے اپنے کام چھوڑ کر باہر کی جانب بھاگی۔
داور ، زوار کے سہارے چلتے ہوئے حویلی کے اندر داخل ہو رہا تھا۔
” زوار !!! داور کو اس کے کمرے میں لے جائو۔ “
صفدر صاحب زوار سے بولے۔
” جی تایا جان۔ “
یہ کہہ کر زوار داور کو لئے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔ کمرے میں پہنچ کر زوار نے اسے بیڈ کرائون سے ٹیک لگا کر بیٹھا دیا اور بولا۔
” بھائی آپ ایسے تو نہ تھے۔ ایک لڑکی کے لئے آپ نے اپنا یہ حال کر لیا۔ “
” یار تجھے بن مانگے تیری محبت مل گئی ناں اسی لئے ایسا بول رہا ہے۔ مجھے تو ایک دن نہیں ہوا تھا محبت ہوئے کہ مجھے پتا لگا کہ میری محبت تو میری ہے ہی نہیں۔ “
” ہاں فائز اسے بچپن سے پسند کرتا تھا۔ وہ مجھے پر غصہ ہو رہا گا کہ میں نے سب جانتے ہوئے بھی آپ لوگوں۔کو نہیں روکا۔ پر اس نے یہ کبھی نہیں بتایا تھا کہ اس کی منگنی ہو چکی ہے۔ “
” اس کے گھر والوں نے یہی کہا ہے کی اس کی بات فائز سے طے ہے۔ “
” نکاح ہے دو دن بعد انکا۔ “
داور کو اسکے ملازم خاص سے پتا چلا تھا۔
” مطلب اس نے زندگی کا اتنا بڑا فیصلہ لے لیا اور مجھے بتایا بھی نہیں۔ حالانکہ ہم تو اپنی ہر بات ایک دوسرے سے شیئر کرتے تھے۔ “
زوار دکھ سے بولا ۔۔۔
” اچھا تم دکھی نہ ہو۔ تم اس سے مل کر ساری بات کلیئر کر لینا۔ “
وہ ایسا ہی تھا سب کی فکر کرنے والا اپنے غم میں بھی دوسروں کا خیال کرنے والا۔
” اور کام کیسا چل رہا ہے۔ ؟؟؟ وہ اس کا دھیان بٹانے کی خاطر کاروباری باتوں میں مشغول ہو گیا۔
اندر داخل ہوتے ہوئے صفدر صاحب کے قدم ان کی باتوں نے روک لئے۔ یعنی ان لوگوں نے غلط بیانی کی ہم سے۔ اس کے بعد وہ کسی کو فون لگا کر ہدایت کرنے لگے۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: