Kis Jurm Ki Saza Mili Novel by Maham Shoukat – Episode 1

0
کس جرم کی سزا ملی از ماہم شوکت – قسط نمبر 1

–**–**–
جب بہرام خان کمرے میں آیا تو منہا چینج کر کہ سو چکی تھی وہ خود ڈریسنگ ٹیبل کہ سامنے کھڑا ہو گیا بلیک شیروانی میں وہ کسی ملک کا شہزادہ ہی معلوم ہو رہا تھا
اس نے شیشے سے ایک اچٹتی ہوئی نگاہ منہا پہ ڈالی جو سوئی ہوئی اور بھی معصوم لگ رہی تھی
اس نے شادی سے پہلے اسے ایک دفعہ ہی دیکھا تھا اور اب دوسری دفعہ دیکھ رہا تھا تھوڑی دیر تو وہ اس کہ سحر میں مبتلا رہا پھر سر جھٹک کر ڈریسنگ روم میں گھس گیا
❥❥═════❥❥❥
بیٹا اب بس کرو پڑھنا بہت پڑھ لیا تم نے
نہیں بابا ابھی تو اور بھی پڑھنا ہے مجھے میں آپنی تعلیم مکمل کر کہ ہی سانس لوں گی
نہیں بہت ہو گیا آپ اگلی دفعہ اؤ گی تو شادی کر دیں گیں تمہاری
بھیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ خفگی سے بولی
بابا آپ اسے کہیں نہ کہ ایسا نا کہا کرے پتہ بھی ہے نہ مجھے شادی نہیں کرنی
اگر کی بھی تو میں برات لے کر جاؤں گی اور لڑکا گھر آے گا میرے ساتھ ہر دفعہ بیٹیاں ہی کیوں رخصت ہوں
ارے لڑکی کیوں نہیں کرنی شادی پہلے ہی دو لڑکے گھر میں ہیں ان کہ ساتھ رہ رہ کہ لڑکوں والی حرکتیں شروع کر دی ہیں تم نے
بوا آپ تو رہنے دیں گھر کی اکلوتی لڑکی ہوں پھر بھی آپ کبھی میری سائیڈ نہیں لیتی میں نہیں بات کر رہی آپ سے آپ ہمیشہ بھائیوں سے زیادہ پیار کرتی ہیں اور مجھ سے کم
اگر ماما ہوتی تو کبھی ایسا نہ کرتی
بوا تھوڑی روہانسی ہوتی وہاں سے چلی گئی
منہا بیٹا بری بات ہے ایسے نہیں کہتے بچپن سے انہوں نے آپ کو پالا ہے ہمیشہ اپنے بچوں کی طرح چاہا ہے آپ نے بوا کا دل دکھایا ہے
اسلم صاحب نے تھوڑا ڈانٹ کہ کہا
سوری بابا اب نہیں کہوں گی
بابا میں تو کہتا ہوں اب اسے واپس ہوسٹل نہیں بھجنا کیا فائدہ ایسی تعلیم کا جو عزت کرنا ہی نا سکھا سکے آپ کو
احمد نے تردید کو
اچھا بس بس اب اور نہیں میں جا رہی ہوں کل ہی ہوسٹل واپس پھر آپ لوگ ہی فون کرتے ہو منہا بیٹا آ جاؤ دل نہیں لگتا ۔۔۔۔۔۔۔۔
منہا نے مصنوئ ناراضگی سے کہا جس سے دونوں ہنس پڑے ۔۔۔۔۔۔۔۔
❥❥═════❥❥❥
اسلم صاحب کا ایک چھوٹا سا لیکن خوش حال گھرانہ تھا کل پانچ افراد پہ مشتمل تھا دو میاں بیوی دو بیٹے احمد اور فرقان اور ایک بیٹی منہا جس میں سب کی جان بستی تھی
منہا ابھی ایک سال کی تھی جب اس کی والدہ وفات پا گئی احمد بارہ سال کا جب کہ فرقان آٹھ سال کا تھا
مسز اسلم کی وفات کہ بعد بوا نے ہی انہیں پالا تھا اور بلکل ماں جیسا پیار دیا
احمد اور فرقان دونوں نے ہی اعلی تعلیم حاصل کی تھی
منہا کو بھی ہوسٹل بھیج دیا گیا تھا کہ وہ آپنی تعلیم مکمل کر سکے
گاؤں میں زمینوں کہ ساتھ ساتھ شہر میں بھی اسلم صاحب کا بزنس تھا جسے احمد اور فرقان سنبھال رہے تھے
دونوں نے بہت جلدی بزنس کی دنیا میں اپنا نام کما لیا تھا دونوں بھائی بہت ہی سلجھے ہوۓ تھے
اسلم صاحب گاؤں کہ سرپنچ تھے یہ کوئی فرسودہ خیالات کا حامل گاؤں نہیں تھا بلکہ یہ ترقی یافتہ گاؤں تھا اور شہر کہ بلکل قریب تھا یہاں ہر قسم کی آزادی تھی لیکن اس کہ باوجود یہاں ایک قبیہہ رسم موجود تھی یہاں خون بہا کہ طور پر لڑکیوں کو قربان کر دیا جاتا تھا ۔
جرم باپ کرے یا بھائی اس کا خمیازہ بیٹی کو ہی دینا ہوتا تھا اس کی شادی اسی گھر میں کر دی جاتی چاہے وہ مرد شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ
آس پاس کہ گاؤں میں بھی یہی رسم و رواج تھاآج بھی کسی لڑکی کی شادی خون بہا کہ طور پر ہو رہی تھی
اس کا باپ چوہدری اسلم صاحب کہ سامنے ہاتھ بندھے کھڑا تھا
صاحب میری بچی کو بچا لیں وہ پانچ بچوں کا باپ ہے میری بیٹی مر جائے گی صاحب ایسا نا کریں
کریم ایسا ہی ہوتا آیا ہے یہ تو تمھارے بیٹے کو پہلے سوچنا چاہیے تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صاحب کوئی اور راستہ نکال لیں لیکن میری بچی کو بچا لیں وہ ابھی پڑھ رہی ہے
کریم جا سکتے ہو یہاں سے یہ پنچائیت کا فیصلہ ہے اس میں میں تم یا کوئی اور کچھ نہیں کر سکتا
یہ فیصلہ میری مرضی سے نہیں بلکہ سب کی مرضی سے ہوا ہے اس کہ علاوہ بھی ہمیشہ سے یہی ہوتا آیا ہے اب تم جا سکتے ہو
کریم روتا ہوا وہاں سے چلا گیا
بابا کیا ہوا منہا اس کہ جاتے ہی اسلم صاحب کے پاس آئ تھی
کچھ نہیں بیٹا آپ بتایں کب واپس جانا ہے
میں کل صبح فرقان بھائی ساتھ چلی جاؤں گی
لیکن بابا آپ بتایں نہ کہ کون تھا یہ آدمی
بیٹا یہ کریم ہے اس کہ بیٹے نے قتل کر دیا اب خون بہا تو دینا ہی پڑے گا لیکن وہ آپنی بیٹی کی شادی نہیں کرنا چاہ رہا
تو بابا اگر نہیں کرنا چاہ رہا آپ لوح کیوں زبردستی کر رہے ہیں جانے دیں
نہیں بیٹا آیندہ نہیں ایسا کہنا یہ برسوں سے چلا آ رہا ہے
لیکن بابا خدا نہ کرے اگر ہم سے کوئی قتل ہو گیا تو کیا آپ میری بھی ۔۔۔۔۔۔
منہا کچھ کہتے کہتے رک گئی
ایسا کچھ نہیں ہو گا تمہیں پتہ ہے میں خون خرابا پسند نہیں کرتا ہر چیز کو بات چیت سے طے کرتا ہوں
اور اب اپنا دماغ فضول باتوں کی طرف سے ہٹا کر پڑھائی پہ توجھ دو
جی بابا
تبھی ایک ملازم ہکلاتاہوا ہال میں داخل ہوا
تمہیں کیا ہوا
صاحب کریم کی بیٹی نے خود کشی کر لی ہے
منہا جو۔ اونچی آواز سے ہی گھبرا جاتی تھی خودکشی کی خبر سن کر اس کہ ہاتھ پاؤں ہی پھول گئے
اگلی صبح منہا فرقان کہ ساتھ ہوسٹل کہ لئے روانہ ہو گئی لیکن وہ بہت اداس تھی ۔
❥❥═════❥❥❥
منہا تم جب سے واپس آئ ہو اداس کیوں ہو
زویا نے منہا سے پوچھا جو کافی دیر سے خاموش بیٹھی تھی
زویا اس کی دوست تھی جس سے وہ آپنی ہر بات شئر کر تی تھی زویا شہر میں ہی قیام پزیر تھی
اس نے زویا کو کل والا واقعہ بتا دیا جسے سن کر زویا دھنگ رہ گئی
لیکن منہا تمہاری فیملی تو اتنی پڑھی لکھی ہے تو انکل یہ سب ختم کیوں نہیں کر دیتے
میں کیا کہہ سکتی ہوں اس بارے میں ان کا کہنا ہے کہ برسوں سے ایسا ہی چلتا آیا ہے کوئی چاہ کہ بھی اسے ختم نہیں کر سکتا
ہمممممم ۔۔۔۔۔۔۔۔
میرے کزن ہے نہ اسد بھائی ان کہ بھی یہی ہے میں شکر کرتی ہوں کہ ہم گاؤں میں نہیں رهتے
اچھا تم پریشان مت ہو چلو کلاس لینے چلتے ہیں
ہاں چلو
وہ دونوں کلاس کی طرف بڑھ گئی ۔۔۔۔۔
❥❥═════❥❥❥
ابھی منہا کو آے ایک ہفتہ ہوا تھا لیکن منہا کا دل کسی بھی چیز میں نہیں لگ رہا تھا اس نے فرقان کو کال کی
السلام عليكم بھائی
وعلیکم السلام کیسی ہے میری گڑیا
میں تو بلکل ٹھیک آپ کیسے ہیں
پہلے تو ٹھیک نہیں تھا لیکن آپنی گڑیا کی آواز سن کر ٹھیک ہو گیا
اچھا آپ بتایں گھر چلے گئے ہیں یا ادھر ہیں
میں تو آفس میں ہی ہوں کیوں کچھ چاہیے تھا
نہیں بھائی آپ پلیز مجھے جاتے ہوے ساتھ لے جائے گا میں بہت اداس ہوں
میری تو بہت اہم میٹنگ ہے لیکن میں ڈرائیور کو بھیج دیتا ہوں وہ آپ کو یہاں لے آے پھر ہم چلے جایں گیں
اچھا تھنک یو لو یو بھائی اللہ‎ حافظ میں تیار ہو جاؤں
لوو یو ٹو میری گڑیا اللہ‎ حافظ
تھوڑی دیر میں ڈرائیور منہا کہ ہوسٹل کہ باہر تھا تبھی منہا کو وارڈن نے اطلاع دی
منہا نیچے آئ
السلام عليكم انکل کیسے ہیں آپ
بی بی جی میں ٹھیک ہوں
آپ مجھے بی بی جی نہ کہا کریں کتنی دفعہ کہا ہے آپ کو میرا نام منہا ہے
وہ ایسی ہی تھی بہت جلد سب سے گھل مل جانے والے لیکن بہت ہی ڈرپوک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دس منٹ میں وہ آفس میں موجود تھی
آ گئی میری گڑیا
جی بھائی
اچھا کب تک چلیں گیں ہم
بس گڑیا تھوڑی دیر تک ایک میٹنگ ہے اس کہ بعد ہم چلتے ہیں
تم بیٹھو میں تھوڑی دیر تک آیا
میٹنگ ہے ابھی آپ کی
نہیں ابھی تو میں کسی کام سے اوپر جا رہا ہوں تم بیٹھو میں آتا ہوں
پلیز کچھ کھانے کہ لئے بھیجوا دیں بہت بھوک لگی ہے
یہ بیل بجانا اور لڑکا آے گا اس سے منگوا لینا
منہا نے سمجھنے والے تاثر سے سر ہلایا فرقان جا چکا تھا
منہا نے بیل بجائی ایک لڑکا دروازہ کھٹکھٹا کر کمرے میں داخل ہوا منہا نے ایک حیران کن نظر اس پہ دوڑائ
امپریسو
جی
لڑکے نے نا سمجھنے والے تاثر سے دیکھا
بھائی نے تو ٹی بوائے بھی بہت ڈیشنگ رکھے ہوے ہیں
میں آپ کا مطلب سمجھا نہیں
مجھے سمجھانا بھی نہیں ہے پلیز ایک چیز پیزا لا دو ساتھ کوک
جی
لڑکے کہ تاثر بگڑ چکے تھے وہ غصے میں آ چکا تھا
تبھی ایک لڑکا کمرے میں آیا
جی میم آپ کیا لیں گی
اب حیران ہونے کی باری منہا کی تھی جو فرقان کی کرسی پہ براجمان تھی
ک ک کیا مطلب
مطلب کہ ٹی بوائے یہ ہے میں نہیں
جواب اس لڑکے کی طرف سے ملا
میم یہ تو فرقان صاحب کہ ساتھ میٹنگ کہ لئے آے ہیں
منہا نے دانت کہ نیچے زبان دبائ
منہا نے لڑکے کو آرڈر دیا وہ جا چکا تھا
آپ بیٹھ جایں
اس کہ چہرے پہ ابھی بھی ناگواری کہ تاثر تھے
آپ کیا لینا پسند کریں گیں
لڑکے نے کوئی جواب نا دیا ایک اچٹی نگاہ منہا پہ ڈالی اور موبائل میں مصروف ہو گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منہا نے کندھے اچکائے۔۔۔۔۔۔
فرقان صاحب کب تک ایں گیں
منہا نے بھی اس کی طرح ایک نظر اسے دیکھا اور موبائل اٹھا کہ اس میں گم ہو گئی
لڑکے کا تو غصے سے برا حال ہو رہا تھا
اس سے پہلے وہ کچھ کہتا فرقان کمرے میں داخل ہوا
ہے بہرام کیسے ہو ؟
میں اللہ‎ کا شکر ٹھیک تم کیسے ہو
میں بھی ٹھیک سوری یار انتظار کروانا پڑا میں احمد بھائی پاس گیا تھا اس لئے لیٹ ہو گیا
احمد بھائی گھر نہیں گئے ابھی تک
منہا نے پوچھا
نہیں گڑیا آج زیادہ کام ہے اس لئے وہ ابھی ادھر ہیں
اچھا ٹھیک ہے میں بھیا پاس جا رہی ہوں اور پلیز پیزا ادھر بھیجوا دینا بہت بھوک لگ رہی ہے
اچھا ٹھیک ہے جاؤ
بہرام نے نا سمجھنے والے تاثر سے دیکھا
او بہرام یہ میری سسٹر ہے
ہیلو
اور گڑیا یہ بہرام ہے اب ہم نیو کنٹریکٹ سائن کرنے جا رہے ہیں
اوکے آل دی بیسٹ
میں چلتی ہوں
❥❥═════❥❥❥
بابا آپ میرے معملات میں مت بولا کریں یہ میرا بزنس ہے مجھے اپنے طریقے سے کرنے دیں
بیٹا کیا ہو گیا ہے آپنے باپ سے ایسے بات کرتے ہیں کیا
دادو آپ کو پتہ ہے نہ مجھے اپنے معملات میں کسی کی بھی مداخلت پسند نہیں ہے
اگر فرقان کہ ساتھ میں کنٹریکٹ سائن کر رہا ہوں تو اس میں میرا فائدہ ہے
لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن کچھ نہیں بابا مجھے اپنے طریقے سے سب کچھ ہینڈل کرنے دیں
کہتا ہوا وہ وہاں سے چلا گیا
کھانا تو کھا لو
مجھے نہیں کھانا
اس نے بغیر رکے کہا
بہت خودسر اور بدتمیز ہو گیا ہے یہ
ہاشم میں نے کہا تھا اسے بورڈنگ مت بھیجیں تب آپ نے ایک نہیں سنی میری یہ اسی کا نتیجہ ہے
یہ بچپن سے ہی ایسا ہے ضدی اور اکھڑ مزاج ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاشم خان کا غصہ اس وقت آسمان کو چھو رہا تھا ائمہ بیگم نے خاموش رہنے میں ہی آفیت سمجھی ۔۔
❥❥═════❥❥❥
تو کسی لگی آپ کو یہ قسط اپنی آراء کا اظہار ضرور کیجے گا ۔ شکریہ ۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: