Kis Jurm Ki Saza Mili Novel by Maham Shoukat – Episode 10

0
کس جرم کی سزا ملی از ماہم شوکت – قسط نمبر 10

–**–**–

❥❥═════❥❥❥
بہرام کافی دیر تک لیٹا رہا لیکن نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی اس کہ سامنے بار بار منہا کی نفرت انگیز آنکھیں ابھر رہی تھی جنہیں وہ چاہ کر بھی نہیں بھلا پایا
❥❥═════❥❥❥
“منہا ”
امل کی آواز پہ منہا نے چونک کر پیچھے دیکھا
وہ اس کے سامنے رکھی کرسی پہ براجمان ہو گئی
“کیا ہوا ہے جب سے آئ ہو چپ چپ بیٹھی ہو کھانا بھی نہیں کھایا اچھے طریقے سے تم نے ۔۔ ہم کل جا کر مل لیں گیں ”
“نہیں کوئی بات نہیں ہے ویسے ہی طبیعت نہیں ٹھیک ”
منہا نے بہانہ بنایا
“مجھے پتہ ہے کوئی تو بات ہے جاتے ہوے تو کہہ رہی تھی کہ میرے ڈریکولا بھائی تمہیں اچھے لگنے لگے ہیں اور اب وہ وہاں ہیں تم یہاں ”
امل نے بہرام کی طرف اشارہ کیا جو ٹیرس پہ کھڑا اسے دیکھنے میں محو تھا
منہا نے اوپر دیکھا اور پھر سے چہرہ واپس کر لیا بہرام بھی کمرے میں واپس چلا گیا
“منہا اب ہم اچھے دوست ہیں تم شیئر کر سکتی ہو مجھ سے یا پھر تم مجھے اس قابل ہی نہیں سمجھتی ”
امل نے اسے ایموشنل بلیک میل کیا
“نہیں امل ایسی بات نہیں ہے ”
“ایسی ہی بات ہے ”
امل نے بات کاٹ دی اور جانے کہ لئے کھڑی ہو گئی
“اچھا ڈرامہ کوئین بتاتی ہوں بیٹھو ”
منہا نے اس کا ہاتھ پکڑ کر پاس بیٹھا لیا اور موبائل اس کہ سامنے کر دیا
امل نے موبائل پکڑ لیا یہ اس کنٹریکٹ کی تصویر تھی جو منہا نے بنائی تھی
امل نے پڑھا تو اس کے بھی حواس قابو میں نا رہے
“بس دیکھ لو یہ وجہ تھی جو تمہارا بھائی میرا خیال رکھتا تھا ”
منہا کی آنکھوں میں آنسو تھے
“منہا شاید سچ کچھ اور ہو ”
“امل میری دعا ہے کہ یہ جھوٹ ہو لیکن یہی سچ ہے کہ بھائی فرقان نے اور بہرام نے جو پروجیکٹ شروع کیا تھا اس کا سارا پرافٹ بہرام لے گا اور اس کی خاطر بہرام جب تک میں یہاں ہوں میری حفاظت کرے اور میں اسے کچھ اور ہی سمجھ رہی تھی ”
منہا کے آنسوں مزید رواں ہو گئے تھے
“منہا یار پلیز رونا تو بند کرو میں نے اس دن خود تمھارے لئے ۔۔۔۔”
“امل پلیز بس کرو مجھے کچھ نہیں سننا اس کے بارے میں ”
منہا ہائیپر ہو رہی تھی
“کام ڈاؤن میں کچھ نہیں کہتی ٹھیک ہے ”
“اب تم پرومیس کرو کے کسی کو نہیں بتاؤ گی یہ سب ”
“اچھا ٹھیک ہے نہیں بتاتی ۔۔۔ سردی ہو رہی ہے کمرے میں چلو اور صبح واک پہ بھی جانا ہے ”
وہ دونوں اٹھ کر کمرے کی جانب بڑھ گئی
❥❥═════❥❥❥
صبح بہرام کی آنکھ کھلی تو منہا سو رہی تھے آج بہرام نے اسے اٹھانے کہ لئے الارم بھی نہیں لگایا تھا اٹھ کر چنجنگ روم کی طرف بڑھ گیا بلیو ٹریک ڈریس اس پے بہت جچ رہا تھا کانوں میں ایئر فون لگا کر باہر کی جانب بڑھ گیا
تبھی امل اسے آپنی جانب آتی ہوئی دکھائ دی
“بندریا تم کہاں ؟”
“بھائی بس بھی کریں اب تو شادی بھی ہو گئی ہے آپ کی مجھے بندریا نا کہا کریں ”
“ہاہاہا اچھا یہ تو بتاؤ ادھر کیا لینے آ رہی ہو ”
“منہا کو لینے آئ ہوں ہم واک پہ جا رہے ہیں بس یا اور کچھ بھی پوچھنا ہے ”
“بس ایک اور بات بتا دو کل اس کا موڈ اتنا اوف کیوں تھا ؟”
بہرام نے موقع غنیمت جانتے ہوے پوچھا
“بھائی صبح صبح جھوٹ بلوانا ہے مجھ سے آپ ؟”
“تو سچ بتا دو ”
“سوری بھائی میں نے پرومیس کیا ہے میں نہیں بتا سکتی ”
بہرام اثبات میں سر ہلاتا ہوا وہاں سے چلا گیا
امل کمرے کی جانب بڑھ گئی
❥❥═════❥❥❥
“منہا منہا اٹھو جلدی لیٹ ہو رہے ہیں ہم ”
امل نے آتے ہی کمرہ سر پہ اٹھا لیا
“کیا ہوا ہے ”
منہا نے نیند سے خمار آنکھیں کھولی
“کیا مطلب کیا ہوا ؟ ہم واک پہ جا رہے ہیں جلدی کرو ”
“پلیز امل کل سے ”
امل نے اسے زبردستی اٹھا کر چینج کرنے بھیجھا
منہا 5 منٹ میں فریش ہو کر باہر آ گئی اب وہ ڈریسنگ کہ سامنے کھڑے ہو کر بالوں کی ٹیل پونی بنانے میں مصروف تھی بلیک ٹریک ڈریس ساتھ ٹیل پونی اور آنکھوں پہ چشمہ اس کی شخصیت کو اور بھی نکھار رہے تھے
“منہا ”
“ہاں ”
“سمپل ڈریس کی نسبت یہ زیادہ اچھا لگتا ہے تم پے ”
“ہاں میں جینز یا ٹراؤزر ہی پہنتی تھی لیکن یہاں آ کر ۔۔۔۔”
منہا کچھ کہتے کہتے رک گئی
“اچھا چلو لیٹ ہو رہے ہیں ہم ”
امل نے بات کو بدل دیا
“امل کوئی جیکٹ دو مجھے باہر سردی ہو گی ”
“کل لینے تو دی نہیں تھی مجھے اب بھگتو ”
منہا نے منہ بسور لیا
“اچھا اب اتنا برا فیس مت بناؤ کچھ کرتی ہوں ”
اس نے بہرام کو کبرڈ کھولی اور ایک بلیک لیدر کی جیکٹ اس کی طرف اچھال دی
امل نے منہا کو دیکھا جو اسے گھورنے میں مصروف تھی
“اب گھور کیوں رہی ہو مجھے ۔۔۔۔۔۔ پہن لو ”
“ہرگز میں اس ڈریکولا کی جیکٹ نہیں پہنوں گی ”
امل سر پکڑ کر بیٹھ گئی
“منہا لیٹ ہو رہے ہیں چلو میں اور انتظار نہیں کر سکتی اور ”
امل نے غصے سے کہا تھا
منہا نے نا چاھتے ہویے بھی جیکٹ پہن لی
اب ان دونوں کا رخ باہر کی جانب تھا
❥❥═════❥❥❥
منہا جب واپس آئ تو بہرام نماز پڑھ کر فارغ ہوا تھا اس نے ایک نظر منہا پر ڈالی اور اس کی قدم نا چاھتے ہوے بھی منہا کی طرف بڑھ گئے
اس کی نظر منہا کے ہاتھ میں پکڑی جیکٹ کی طرف تھی
“وہ وہ میں ۔۔۔۔”
منہا نے کچھ کہنے کہ لئے ہونٹ کھولے ہی تھے کہ بہرام نے اپنا ہاتھ اس کہ ہونٹوں پہ رکھ دیا
بہرام بہک رہا تھا
منہا اس کا لمس پا کر گھبرا گئی تھی
“ششش۔۔ کچھ بھی مت بولو ۔۔ مجھ پہ میرے دل پہ اس کمرے کی ہر چیز پہ صرف تمہارا حق ہے ”
منہا کہ کانوں میں تو بہرام کی باتیں رس گھول رہی تھی بہرام نے ہاتھ ہٹا کر چشمہ اس کی آنکھوں سے اتار کر سائیڈ پہ رکھ دیا
€ نیند کا ہلکا گلابی سا خمار آنکھوں میں تھا
یوں لگا جیسے وہ شب کو دیر تک سویا نہیں
بہرام نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوے شعر پڑھا
منہا کو اس جیسے شخص سے ایسی امید نہیں تھی
منہا تو جیسے حرکت کرنا ہی بھول گئی ہوش میں تو واپس اس وقت آئ جب بہرام نے اس کی پیشانی پہ اپنا لمس چھوڑا تھا وہ گھبرا کر دو قدم پیچھے ہی گئی
بہرام کو منہا کا اس طرح گھبرانا بہت محضوض کر رہا تھا
“Mr۔ Behram khan stay in your limits ”
منہا کو کنٹریکٹ والی بات یاد آئ تھی
“منہا بات تو سنو ۔۔”
“مجھے آپ کی کسی بات میں کوئی بھی دلچسپی نہیں ہے اس لئے آیندہ سے دھیان رکھئے گا ”
کہتے ہوے منہا واشروم کی طرف بڑھ گئی چینج کر کہ وضو کیا اور نماز پڑھی لیکن اس کا دل ابھی تک وہیں پہ اٹکا ہوا تھا
وہ سچ تھا یا یہ ابھی تک وہ اسی کشمکش میں مبتلا تھی
بہرام اس کا عکس شیشے میں دیکھ رہا تھا جب منہا نے ایک جھرجھری لی تھی مسکراہٹ بہرام کہ لبوں کو چھو کر گزری تھی اور تیار ہو کر باہر چلا گیا
❥❥═════❥❥❥
سب لوگ اس وقت ناشتہ کرنے میں مصروف تھے جب احمد نے خاموشی توڑی
“بابا کیوں نا ہم لوگ آج ڈنر پہ منہا اور بہرام کو بلا لیں اور رات بھی یہیں رک جایں ۔۔ دل بہت اداس ہے بہت عرصہ ہو گیا ہے منہا سے بات کئے ”
“جی بابا بھائی ٹھیک کہہ رہے ہیں بلا لیتے ہیں ہم ”
فرقان نے بھی اس کی تاکید کی
“اچھا ٹھیک ہے میں بہرام سے بات کر لیتا ہوں اگر مان گیا تو ۔۔۔۔”
“مجھے یقین ہے انکار نہیں کرے گا ”
فرقان نے کہا تھا
“پھر ٹھیک ہے میں تیاری کرتی ہوں ڈنر کی اور بوا منہا کا روم صاف کر دے گی ”
چوہدری ولا میں خوشی کا سما تھا سب ملازم رات کی تیاری میں مصروف ہو گئے
❥❥═════❥❥❥
منہا کہ موبائل پہ بار بار بیل ہو رہی تھی لیکن منہا نے فون نا اٹھانے کی قسم کھا رکھی تھی
“منہا کس کی کال ہے اٹھا لو ”
“پتہ نہیں کوئی رونگ نمبر ہے ”
“رونگ نمبر ”
امل نے معنی خیز نظروں سے کہا تھا
تبھی امل کہ فون پے بیل ہوئی
“مجھے پتہ تھا کونسا رونگ نمبر ہے ”
کہتے ہی اس نے کال اٹینڈ کی
“امل منہا کہاں ہے میری کال نہیں اٹینڈ کر رہی ”
“یہ میرے پاس ہی ہے خود ہی پوچھ لیں ”
حنا اور ائمہ بھی ان کی جانب متوجہ ہوئیں جو آن لائن شاپنگ کرنے میں مصروف تھی
امل نے فون اس کی جانب بڑھا دیا وہ ابھی تک صبح والی بات ہی سوچ سوچ کر ہلکان ہو رہی تھی
“کتنی دفعہ کالز کی ہیں اٹینڈ کیوں نہیں کررہی تھی ؟”
بہرام گرج رہا تھا
منہا اچھل کر پھر بیٹھ گئی تھی اس کے گلے کی ہڈی ابھری تھی امل تو جان چکی تھی لیکن حنا اور ائمہ فون بند ہونے کا انتظار کر رہی تھی
منہا کی آنکھوں میں آنسو تھے جنہیں وہ چاہ کر بھی نا چھپا سکی
“شام کو تیار رہنا انکل نے انوائٹ کیا ہے ”
ساتھ ہی بہرام نے فون بند کر دیا
منہا نے فون امل کی جانب بڑھا تھا دیا جو ہنسی روکنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی
“کیا ہوا ہے منہا بیٹا ؟”
ائمہ نے فکر مندی سے پوچھا
“بہرام نے مجھے بہت ڈانٹا ہے کال مس ہو گئی تھی اس ڈریکولا کی ”
دریکولا اس نے دل میں ہی کہا تھا
منہا نے سارا الزام بہرام پہ ڈال دیا تھا امل تو حیرانی سے منہا کو دیکھ رہی تھی جو صاف مکر گئی تھی
“کیا کہہ رہا تھا ”
“بابا نے ڈنر پہ انوائٹ کیا ہے آج شام کو اس لئے کال کر رہا تھا لیکن میرے پاس کوئی ڈریس نہیں ہے جب سے یہاں آئ ہوں کوئی شاپنگ نہیں کی ”
“معاف کرنا بیٹا ہمیں بھی خیال نہیں رہا ”
ائمہ تھوڑا شرمندہ ہوئی تھی
“کوئی بات نہیں ماما شام کو جانا ہے تو ہم اب شاپنگ کر آتے ہیں کیا خیال ہے منہا ؟” حنا نے کہا تھا
“ٹھیک ہے ہم چلتے ہیں ”
امل نے بھی حامی بھری تھی تھوڑی دیر تک تینوں شاپنگ کہ لئے نکل گئی
❥❥═════❥❥❥
شاپنگ سے واپس آ کر منہا امل کو لے کر تیار ہونے چلی گئی
“منہا بلشر تھوڑا اور لگاؤ ”
“نہیں نہیں اوور ہو جائے گا ”
منہا نے اوف وائٹ کلر کی میکسی پہنی ہوئی تھی ساتھ ہلکا سا جوڑا کیا تھا جس کی دونوں سائیڈ سے کچھ بال باہر نکل رہے تھے
“منہا یار بہت پیاری لگ رہی ہو ”
امل پرجوش ہوتے بولی
“تھنک یو ”
“مجھے تو لگتا ہے آج بہرام بھائی ۔۔۔”
ابھی امل کچھ کہتی منہا نے اس کی بات کاٹ دی
“امل تم اچھی طرح سے جانتی ہو نا تو اس ڈریکولا کو کوئی انٹرسٹ ہے اور نا ہی مجھے اس لئے بہتر ہو گا اگلی دفعہ ہم اس موضوع پے بات نا کریں ”
منہا یکدم سیریس ہو گئی تھی
“اچھا یار اپنا موڈ مت خراب کرو اب نہیں کہوں گی پکا سوری ”
“امل تم بھی چلو نہ مزہ آے گا ”
“نہیں تم لوگ جاؤں ویسے بھی میں کباب میں ہڈی نہیں بنوں گی ”
“امل ”
منہا چلائ تھی امل نے ساتھ ہی زبان دانتوں تلے دبا لی
“سوری سوری اب نہیں کہوں گی پکا ”
“مجھے نا تم سے کوئی بات نہیں کرنی ایک تم تنگ کرتی ہو اور اوپر سے تمہارا وہ ڈریکولا بھائی ”
“شکریہ میری تعریف کہ لئے ”
بہرام باہر کھڑا ان کی گفتگو سن رہا تھا اب کمرے میں آیا تھا منہا تو بس آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر بہرام کو دیکھ رہی تھی
“اور تم بھی ساتھ ہی میری اتنی اچھی تعریف سن رہی تھی ”
اس کی توپوں کا رخ امل کی جانب تھا اس سے پہلے امل کچھ کہتی بہرام بول پڑا
“جاؤ یہاں سے ”
منہا آگے بڑھ کر دوپٹہ اٹھانے لگی تھی
“تمہیں نہیں کہا امل کو کہا ہے ”
امل نے تو سر پٹ دوڑ لگا دی لیکن منہا وہیں پہ ساکت ہو گئی
“کال کیوں نہیں اٹینڈ کی میری ۔۔۔ سچ بولنا ”
آج پہلی دفعہ منہا کو اس سے خوف محسوس ہو رہا تھا
منہا کہ پاس کہنے کہ لئے کچھ بھی نہیں تھا
بہرام نے آگے بڑھ کر اس کہ چہرے سے بالوں کو کان کے پیچھے کیا
“میں یہ برداشت نہیں کر سکتا کے تمھارے بال بھی تمھارے چہرے کو چھو جایں ”
منہا کی تو جیسے آواز آنا ہی بند ہو گئی تھی بہرام اس کی گال تھپتھپا کر چنجنگ روم کی طرف بڑھ گیا
❥❥═════❥❥❥
“امل تم بار بار ادھر کیوں دیکھ رہی ہو ”
ائمہ نے امل سے پوچھا جو واپس آ کر کمرے کی جناب دیکھی جا رہی تھی
“ماما وہ نا ۔۔۔”
اس نے ساری بات بتا دی
“اب منہا کا پتہ نہیں کیا حال کریں گے بھائی ”
ائمہ نے اپنا سر پیٹ لیا
تبھی منہا کمرے سے باہر آ گئی امل اسے دیکھتے ہی اٹھ کھڑی ہوئی
“کیا ہوا منہا ؟”
منہا نے ہاتھ کا اشارہ کر کے پانی مانگا
اس نے پانی کا گلاس ایک سانس میں ہی ختم کر دیا
“بچت ہو گئی ہے ”
امل نے کھل کہ سانس لیا ساتھ ہی منہا نے ضد سے کانوں کے پیچھے سے بال نکل کر چہرے پہ کر لئے
احمد اور ہاشم خان آفس سے واپس آ چکے تھے
” کہاں کی تیاری ہے ؟”
اسد نے پوچھا
“بھائی وہ بابا نے بلایا ہے ڈنر پہ وہاں جا رہے ہیں ”
منہا نے جواب دیا جب سے پتہ چلا تھا کہ گولی فرقان کی گن سے نہیں چلی تھی سب کا رویہ ٹھیک ہو گیا تھا بی جان کہ علاوہ
“اللّه تم دونوں کو خوش رکھے ”
ائمہ نے دعا دی
“کوئی ضرورت نہیں ہے دعا دینے کی اسے ابھی مجرم پکڑا نہیں گیا ”
بی جان کے الفاظ منہا کہ کان میں کانچ کی طرح لگے تھے
“واقع آنٹی بی جان ٹھیک کہہ رہی ہیں اس کی ضرورت نہیں ہے ویسے بھی مجھے کونسا یہاں رہنا ہے ہمیشہ کہ لئے جیسے ہی مجرم پکڑا گیا میں یہاں سے چلی جاؤں گی ”
منہا کی بات اوپر سے آتے بہرام نے سن لی تھی لیکن اس نے ظاہر نہیں کیا تھا
بہرام نے بلیک ڈریس کہ ساتھ اوف وائٹ شرٹ پہنی تھی جو منہا کہ ڈریس ساتھ میچ ہو رہی تھی
“چلیں ”
بہرام نے منہا سے کہا اور خود دروازہ کی جانب بڑھ گیا
منہا سب سے مل کر باہر آ گئی
❥❥═════❥❥❥
تو کسی لگی آپ کو یہ قسط اپنی آراء کا اظہار ضرور کیجے گا ۔ شکریہ ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: