Kis Jurm Ki Saza Mili Novel by Maham Shoukat – Episode 11

0
کس جرم کی سزا ملی از ماہم شوکت – قسط نمبر 11

–**–**–

❥❥═════❥❥❥
“تم چلی جاؤ گی مجھے چھوڑ کر ؟”
بہرام کی نگاہیں منہا کہ چہرے کا طواف کر رہی تھی
“جی ”
منہا نے مختصر سا جواب دیا اور باہر دیکھنے لگ گئی
بہرام نے گاڑی کو یکدم بریک لگائی تھی منہا کا سر سامنے لگنے سے بچا تھا اس نے گھور کر بہرام کو دیکھا اور پھر سے اگنور کر کے باہر کی طرف دیکھنے لگی
“منہا مسلہ کیا ہے تمھارے ساتھ میں بات کر رہا ہوں ”
“کوئی مسلہ نہیں بات اب بھی پہلے والی ہے جیسے ہی اصل مجرم پکڑا گیا میں یہاں سے چلی جاؤں گی ”
منہا کا لہجہ تلخ تھا
“لیکن منہا اب بات وہ والی نہیں ہے i love you مجھے اب تمھارے ساتھ رہنا ہے ”
“BUT i don’t love you i want to go back . ”
منہا کی آواز کسی کھائی سے آتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی اس کی آنکھیں نم ہو گئی تھی لیکن اس نے چہرہ دوسری جانب کر لیا
“چلو اب بابا لوگ انتظار کر رہے ہوں گے ”
بہرام نے گاڑی آگے بڑھا دی
راستے میں بہرام نے گاڑی روک کر کچھ چیزیں لیں اور باقی سارا راستہ خاموشی سے طے ہوا
❥❥═════❥❥❥
گھر پہنچ کر سب سے ملنے کہ بعد کھانا کھایا بوا تو بار بار منہا سے پیار کر رہی تھی اتنے عرصہ بعد تو ملی تھی ان سے
سب کے پرزور اسرار پہ انہوں نے وہاں رکنے کا ارادہ بنایا تھا منہا تو پہلے بھی بہت خوش تھی اب تو اور بھی خوش ہو گئی
تھوڑی دیر سب باتیں کرتے رہے پھر بہرام اور فرقان اٹھ کر فرقان کے کمرے میں چلے گئے انھیں آفس کا کچھ کام کرنا تھا
“بہرام چینج کر لو پھر ہم کام کرتے ہیں ریلکس ہو جاؤ تھوڑا ”
“لیکن ہمارا روکنے کا تو کوئی ارادہ نہیں تھا اس لئے میں ساتھ کچھ بھی نہیں لے کر آیا ”
” ڈونٹ وری تم یہ پہن لو ”
بہرام نے ٹراؤزر شرٹ بہرام کی طرف بڑھا دیا بہرام اٹھ کر چینج کرنے چلا گیا بہرام واپس آیا تو فرقان اس کا انتظار کر رہا تھا وہ دونوں کام میں مصروف ہو گئے
❥❥═════❥❥❥
“بابا آپ لوگوں کو میں نے بہت مس کیا”
منہا اس وقت اسلم صاحب کے کمرے میں بیٹھی تھی اس کی آواز میں نمی تھی
“بابا کی جان بابا بھی آپ کو بہت یاد کرتے تھے ساری ساری رات تو یہی سوچنے میں گزر جاتی تھی کے میری بیٹی کیسے رہے گی اتنی نفرت کے درمیان ہم نے تو ہمیشہ اتنا پیار دیا تھا تمہیں ”
اسلم صاحب آج دل ہلکا کر رہے تھے
“بابا بس بی جان زیادہ کرتی تھی باقی گھر والے تو اسما آنٹی اور زویا کی وجہ سے کچھ نہیں کہتے تھے مجھے ”
منہا ان کو خود پہ بیتی سنا کر پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی
“میری جان میں آپنی بیٹی کہ چہرے سے سب کچھ پڑھ سکتا ہوں اس نے کیا کچھ برداشت کیا ہوا گا ”
ساتھ ہی اسلم صاحب نے منہا کی پیشانی پہ بوسہ دیا تھا
“منہا بیٹا یہ ہاتھ پے نشان کیسا ہے ؟”
اسلم صاحب نے اس کا ہاتھ تھامتے ہوے پوچھا
“بابا کچھ یادیں انسان کو بہت تکلیف دیتی ہیں بس یہ بھی ان میں سے ایک ہے اور میں ان باتوں کو یاد کر کے اپنے بابا ساتھ یہ گزرنے والے پل خراب نہیں کر سکتی ”
منہا کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے تھے
“نا میرا بیٹا رونا نہیں ہے بس ہمت سے کام لو ”
منہا نے جلد ہی خود کو سمبھال لیا تھا
“بیٹا ایک بات بتاؤ ؟ بہرام کیسا لڑکا ہے ؟
اسلم صاحب نے زو معنی الفاظ میں پوچھا تھا
“پتہ نہیں بابا میں نے کبھی غور نہیں کیا ؟”
“پھر بھی بیٹا اتنی دیر سے ساتھ رہ رہے ہو تم لوگ ”
“بابا آپ صاف صاف پوچھیں کیا بات ہے ؟”
منہا ان کی بات سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی
“بیٹا تم بہرام کہ ساتھ اپنے تعلقات بہتر کرو لائف پارٹنر کہ طور پہ وہ بہت اچھا ہے ”
اسلم صاحب اب آپنی اصل بات پے آ گئے تھے
“نہیں بابا ایسا نہیں ہو سکتا ”
“بیٹا جب تم گھر آ جاؤ گی تو دوسری شادی کرنی میں بہت دوشواری کا سامنا کرنا پڑے گا ”
“نہیں بابا مجھے اب شادی نہیں کرنی بس ایک دفعہ ہو گیا اگلی بار نہیں ”
اسلم صاحب اسے قائل کرنے کی بھرپور کوشش کر رہے تھے
“اچھا بیٹا اب رات کافی ہو گئی ہے سو جاؤ صبح بات ہو گی ”
“جی بابا ”
منہا اٹھ کر باہر چلی گئی
افشاں کچن سے باہر آ رہی تھی
“منہا سوئی نہیں ابھی تک ”
“نہیں بھابھی بس جا رہی ہوں سونے بابا پاس تھی ”
“اچھا بہرام فرقان کے کمرے میں ہے اسے بلا لینا یہ نا ہو وہ بعد میں راستہ دیکھتا رہے جانا کہاں ہے ”
افشاں نے اسے سمجھانے کے انداز میں کہا
“بھابھی آپ گیسٹ روم میں بھیج دے انھیں ”
منہا لا پرواہی سے کہتی آگے بڑھ گئی
“منہا بری بات ہے بہرام کو لے کر جانا ”
“لیکن بھابھی ”
افشاں نے اس کی بات کاٹ دی
“لیکن کچھ نہیں جو کہا ہے وہ کرو ”
منہا واپس پلٹی تھی
“اچھا ٹھیک ہے اماں جی ”
اس نے پیار سے افشاں کے گرد بازو حائل کئے تھے
“افشاں ”
احمد کی آواز گونجی تھی
“لو آ گیا بلاوا میں چلتی ہوں ”
افشاں اس کے گل تھپتھپآتی ہوئی چلی گئی
منہا کمرے میں چلی گئی تھوڑی دیر تو کمرے میں بیٹھی چیزوں کو دیکھتی رہی
کتابیں ابھی تک سائیڈ ٹبیل پہ ہی پڑی تھی جو نکاح سے دو دن پہلے لے کر آئ تھی اس نے ایک نظر ان کو حسرت سے دیکھا اور وہاں سے اٹھ کھڑی ہوئی اور پھر وارڈروب کی طرف بڑھ گئی جہاں اس کی تمام چیزیں ترتیب کے ساتھ پڑی تھی
ٹراؤزر کے ساتھ ٹوپ پہنا بالوں کا سٹائل وہی تھا گلے میں سٹولر ڈالا اور ہمیشہ کی طرح چشمہ آنکھوں پہ سجائے باہر نکل گئی
❥❥═════❥❥❥
“بھائی اب بس بھی کریں بہت کام کر لیا آپ نے ”
منہا نے کمرے میں آتے ہی فرقان کے گرد پیچھے سے بازو حائل کئے تھے اور ساتھ بیٹھ کر لیپ ٹاپ بند کر کے رکھ دیا
اس کے ہوش تو اس وقت گم ہوے جب وہاں فرقان کی جگہ بہرام اس کے کپڑے پہن کر بیٹھا اسے دیکھ کر مسکرا رہا تھا
“آ آ پ ۔۔۔”
منہا کہ حلق سے با مشکل ہی نکلا تھا
بہرام ٹکٹکی باندھے اسے دیکھنے میں محو تھا منہا اٹھنے ہی لگی تھی لیکن بہرام نے ہاتھ پکڑ کر اسے واپس بیٹھا لیا
“تھوڑی دیر بیٹھ جاؤ پلیز ”
اس سے پہلے منہا کوئی جواب دیتی فرقان کافی کے تین مگ تھامے کمرے میں داخل ہوا
“یہ رہی کافی ”
فرقان کی آواز پے منہا چونک گئی اور کھڑی ہو گئی
“کہاں جا رہی ہو تم بیٹھو میں تمھارے لئے بھی لے کر آیا ہوں ”
“آپ کو کیسے پتہ میں یہاں ہوں ”
منہا جلدی سے فرقان کی طرف بڑھ گئی
“میری پیاری گڑیا میں نے تمہیں آتے ہوے دیکھ لیا تھا اس لئے ”
ساتھ ہی فرقان نے منہا کو پیار کیا تھا
منہا فرقان کے ساتھ ہی بیٹھ گئی
“سوری گڑیا اس دن تم آفس آئ تھی ملنے لیکن میں نہیں تھا ”
بہرام نے منہا کو طرف دیکھا جو اس سے نظرین چرا رہی تھی
وہ لوگ باتوں میں محو ہو گئے جب کہ منہا بہرام کی نظروں سے تزبزب کا شکار ہو رہی تھی
“اچھا بھائی میں چلتی ہوں نیند آ رہی ہے مجھے ”
منہا اٹھ کھڑی ہوئی
“ہاں ٹھیک ہے بہرام تم بھی ریسٹ کر لو باقی کام کل ہو جائے گا ”
“چلیں ”
منہا نے تمیز سے کہا بہرام اس کے ساتھ چل پڑا
کمرے میں پہنچ کر بہرام نے سارے کمرے کا جائزہ لیا منہا بیڈ کی ایک سائیڈ پے لیٹ گئی
بہرام کافی دیر تک منہا کی لگائی گئی تصویروں کو دیکھتا رہا
“اگر تمہارا تجزیہ ختم ہو گیا ہو تو آ کر سو جاؤ ”
بہرام نے اس کی طرف دیکھا اور دوسری سائیڈ پے آ کر لیٹ گیا
“یہ بکس تمہاری ہیں ؟”
بہرام نے سائیڈ ٹیبل پہ پڑی کتابوں کی طرف اشارہ کیا
“ظاہر ہے میرا روم ہے تو بکس بھی میری ہی ہوں گی ”
منہا نے چڑ کر کہا تھا
بہرام کو اس کی کنڈیشن سے بہت مزہ آ رہاتھا
“مجھے ایسے ہی جواب کی امید تھی تم سے ”
“تو پھر نا پوچھتے اب سو جاؤ نیند آ رہی ہے مجھے ”
منہا نے کمبل سر سے پاؤں تک لیا اور سو گئی
❥❥═════❥❥❥
صبح جب منہا اٹھی تو بہرام ابھی تک سو رہا تھا آج پہلی دفعہ منہا بہرام سے پہلے اٹھی تھی منہا اٹھ کر وضو کرنے چلی گئی نماز پڑھی اور پھر واپس آ کر بیٹھ گئی
اس کے دماغ میں اسلم صاحب کی کل والی بات گھوم رہی تھی کہیں نا کہیں بہرام اسے اچھا بھی لگتا تھا لیکن وہ یہی سوچتی رہی کے بہرام صرف پیسوں کی خاطر ایسا کر رہا ہے
اس نے بہرام کو اٹھانے کی کوشش بھی کی لیکن بہرام اٹھنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا
تبھی اس کے دماغ میں آئیڈیا آیا جسے سوچ کر وہ خود بھی مسکرا گئی
اس نے سردی میں ٹھنڈے پانی کا گلاس بہرام پہ الٹا دیا بہرام ہڑبڑا کر اٹھ گیا کہ یہ بن بادل برسات کہاں ہو رہی ہے
منہا اس کے پاس بیٹھی مسکرا رہی تھی
“منہا دماغ ٹھیک ہے تمہارا سردی میں پانی ڈال دیا وہ بھی ٹھنڈا ”
بہرام غصے میں تھا منہا کی تو مسکراہٹ غایب ہو گئی
“انسانوں کی طرح بھی اٹھا سکتی تھی تم ”
“میں نے اٹھایا تھا لیکن آپ اٹھے ہی نہیں ”
“اچھا جاؤ اب فرقان کے روم میں کپڑے پڑے ہیں میرے لے لڑ آؤ ”
منہا پیر پٹختی ہوئی کپڑے لینے چلی گئی
❥❥═════❥❥❥
“یہ کیا کر رہی ہو ؟”
بہرام نے منہا سے پوچھا جو بیگ میں کپڑے ڈالنے میں مصروف تھی
منہا نے سر اٹھا کر بہرام کو دیکھا اور پھر سے کام میں مصروف ہو گئی
“منہا کچھ پوچھ رہا ہوں ”
“کپڑے ہیں میرے۔۔۔ ساتھ لے کر جا رہی ہوں بس یا اور کچھ بھی پوچھنا ہے ”
ساتھ ہی منہا نے بیگ کی زپ بند کی اور باقی کپڑے تہ کرنے لگی
“کیا ضرورت ہے ہم جاتے ہوے شاپنگ کر لیں گیں ”
“اوہ رئیلی ۔۔۔۔ جیسے پہلے بہت کروا دی ہے ”
منہا اسے بہت کچھ باور کروا گئی تھی
“تمھارے گھر والے تو کہتے ہیں بہت اچھی ہو تم بہت پیار سے بات کرتی ہو سب کے ساتھ لیکن مجھے تو تم۔۔۔۔۔”
“میں صرف ان سے بات کرتی ہوں ہوں مجھ سے پیار کرتے ہیں ”
منہا نے بول تو دیا تھا لیکن اب اس نے بہرام کو خود موقع دیا تھا
“تو کیا میں تم سے پیار نہیں کرتا ؟”
اس کی بات پہ منہا کے چلتے ہاتھ رک گئے تھےمنہا نے کپڑے وہیں چھوڑ کر باہر کا رخ کیا
بہرام نے اس کا ہاتھ پکڑ کر آپنی طرف کھینچ لیا اور ایک بازو اس کی کمر کے گرد حائل کر لیا اور دوسرے سے اس کے چہرے پے آے بال کانوں کے پیچھے کئے
منہا کا دل تو حلق میں آنے کو تھا اس کا چہرہ سرخ ہو گیا تھا
اب وہ اس کی باہوں میں سے نکلنے کی نا کام کوشش کر رہی تھی
“پلیز چھوڑیں مجھے ”
“یہ میرے سوال کا جواب نہیں ہے ”
منہا ہنوز خاموش تھی اب اسے نے مزاہمت ترک کر دی تھی اسے معلوم تھا کے وہ اب اس کے حصار سے نہیں نکل سکتی
“میں کچھ پوچھ رہا ہوں ”
بہرام تھوڑا جھکا تھا لیکن منہا کے جسم میں سنسنی پھیل گئی تھی
❥❥═════❥❥❥
ناشتہ کرنے کے بعد انہوں نے اسلم صاحب سے اجازت لی اور گھر واپس آ گئے سارا راستہ خاموشی سے طے ہوا گھر پہنچ کر بہرام کمرے میں چلا گیا لیکن منہا ہال میں بیٹھ کر باقی کے ساتھ باتوں میں مصروف ہو گئی تھوڑی دیر بعد منہا کمرے میں چلی آئ
“یہ موبائل لے لیں میں اپنا لے آئ ہوں ”
ساتھ ہی اس نے موبائل بہرام کی طرف بڑھا دیا اس نے ایک نظر منہا کو دیکھا اور موبائل لے کر اپنے پاس رکھ لیا
منہا اس کی باتوں میں اتنا الجھی تھی اسے یاد ہی نہیں رہا کے کنٹریکٹ پیپر کو تصویر اس کے موبائل میں ہے
❥❥═════❥❥❥
تو کسی لگی آپ کو یہ قسط اپنی آراء کا اظہار ضرور کیجے گا ۔ شکریہ ۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: