Kis Jurm Ki Saza Mili Novel by Maham Shoukat – Episode 12

0
کس جرم کی سزا ملی از ماہم شوکت – قسط نمبر 12

–**–**–

❥❥═════❥❥❥
منہا موبائل پکڑا کر باہر چلی گئی بہرام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہو چکا تھا اب اسے منہا پے غصہ آ رہا تھا
اس نے موبائل اون کیا وہاں کنٹریکٹ پیپر دیکھ کر اس کے ہوش گم ہو گئے
“اچھا تو یہ وجہ تھی اس کے بدلے بدلے انداز کی کچھ تو کرنا پڑے گا اس کا اب ”
بہرام نے اپنا سر پیٹ لیا
اس نے فرقان کو کال کر کے سب کچھ بتا دیا فرقان بھی یہ بات سن کر شوکڈ ہوا تھا
بہرام نے فرقان کو منہا سے بات کرنے کے لیے روک دیا تھا وہ اسے آپنے طریقے سے ہنڈل کرنا چاہتا تھا
❥❥═════❥❥❥
تمام خواتین ہال میں بیٹھی باتوں میں مصروف تھیں
“منہا موبائل نیو لیا ہے کیا ؟”
حنا نے منہا سے پوچھا
“نہیں بھابھی یہ میرا موبائل ہے آج لے کر آئ ہوں گھر پڑا ہوا تھا ”
“اور پہلے والا کہاں ہے جو بہرام نے دیا تھا ؟”
“بھابھی وہ میں نے واپس کر دیا ہے انھیں ”
منہا نے کچھ جھجھکتے ہوے کہا
“منہا بیٹا ایک بات پوچھوں ؟”
“جی آنٹی پوچھیں آپ کو اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے مجھ سے ”
منہا نے ہونٹوں پہ مسکراہٹ سجاتے ہوے کہا
“اگر میری بات بری لگے تو اس ک لیے ابھی سے سوری ”
“آنٹی پلیز ایسا تو نا کہیں آپ بتایں کیا بات ہے ؟”
“بیٹا تم ہمارے پاس ہی رہ لو نا ہمیشہ کہ لیے ”
“نہیں آنٹی اب ایسا تو بلکل بھی ممکن نہیں ہے میں یہاں نہیں رہ سکتی اب ”
منہا نے لگی لپٹی کی بجایے صاف بات کہی تھی
“بیٹا میں جانتی ہوں تم نے ادھر آ کر بہت کچھ برداشت کیا ہے لیکن وہ سب ایک غلط فہمی کے تحت ہوا ۔۔۔ بی جان بھی ٹھیک ہو جایں گئی وقت کے ساتھ ساتھ ”
“جی آنٹی ۔۔۔ لیکن میں یہاں نہیں رہ سکتی جیسے ہی مجرم سامنے آے گا میں یہاں سے چلی جاؤں گئی ”
حنا اور امل ان کی گفتگو سن رہی تھی
“بیٹا پھر بھی ایک دفعہ سوچ ضرور لینا ”
“آنٹی میں آپ کی بہت عزت کرتی ہوں لیکن میں یہ بات نہیں مان سکتی اور آپ نیکسٹ ٹائم ایسا کچھ نا کہئے گا ”
ہال میں ہنوز خاموشی تھی منہا اٹھ کر آپنے کمرے میں چلی گئی
“ماما آپ کو ایسا نہیں کہنا چاہیے تھا آپ حقیقت سے واقف نہیں ہیں ”
امل نے کہا تھا
“کونسی حقیقت امل ؟”
“کچھ نہیں ماما رہنے دیں آپ اگلی دفعہ اس سے بات نا کیجیے گا اگر مجھے پتہ ہوتا کے آپ نے یہ بات کرنی ہے تو میں کبھی بھی آپ کو نا کرنے دیتی ”
“کیا بات ہے امل مجھے بتا کیوں نہیں رہی ؟”
آئمہ اور حنا سہی معنی میں پریشان ہو رہی تھیں
“ماما کچھ نہیں بس اب خیال رکھئے گا آپ ”
امل اٹھ کر آپنے کمرے میں چلی گئی
❥❥═════❥❥❥
ہاشم خان اور آئمہ اس وقت کمرے میں موجود تھی
“آپ نے دیکھا جب سے منہا آئ ہے بہرام بہت بدل گیا ہے بات بات پے غصہ نہیں کرتا ”
آئمہ ہاشم سے بہرام کے اندر آنے والی واضح تبدیلی کے بارے میں بات کر رہی تھی
“یہ تو سچ بات ہے بہت بدل گیا ہے اب کیوں نا ہم منہا کو مستقل طور پے آپنی بہو بنا لیں ”
“میرا بھی یہی خیال تھا لیکن ۔۔۔”
آئمہ چپ ہو گئی
“لیکن کیا ”
“کل میں نے بات کی تھی منہا سے ”
پھر انہیں نے ساری بات ہاشم کو بتا دی
“میں اسلم صاحب سے بات کروں گا ”
“جیسے آپ کو بہتر لگے ”
❥❥═════❥❥❥
موسم کافی ابر آلود تھا بارش کا بھی امکان تھا
منہا اور امل اس وقت لان میں بیٹھی تھی
“منہا سردی ہو رہی ہے اندر چلیں ؟”
“پلیز تھوڑی دیر اور رک جاؤ مجھے بہت اچھا لگتا ہے ایسا موسم خاص کر سردی کی بارش ” اس نے بارش کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملا دئے تھے
امل منہا کی بارش کے بارے میں اچھے اچھے خیالات سن کر فوران بول پڑی تھی
“منہا ڈونٹ ٹیل می کے اگر بارش آئ تو تم بھیگو گئی اس میں ”
“ظاہر ہے بارش آنے تو دو ”
“منہا ایک بات بتاؤں ناراض نا ہونا پلیز ”
“اچھا نہیں۔ ہوتی بتاؤ ”
امل کچھ رک کر بولی تھی
“بہرام بھائی کو بھی بارش بہت پسند ہے ”
منہا نے صرف سر ہلا دیا
“منہا فرقان بھائی۔ سے کنٹریکٹ کے بارے میں کوئی بات کی تم نے ”
کنٹریکٹ کے نام پے منہا کا ماتھا ٹھنکا کا
“امل وہ تصویر ۔۔۔”
منہا بس اتنا کہہ کر اندر کی جانب بھاگ گئی امل نے آواز بھی دی لیکن وہ سنی ان سنی کرتی کمرے میں چلی گئی
❥❥═════❥❥❥
منہا کمرے میں پہنچی تو بہرام کمرے میں نہیں تھا واشروم سے پانی گرنے کی آواز آ رہی تھی اس لیے وہ سمجھ گئی منہا نے جلدی دے موبائل تلاش کیا وہ اسی جگہ پے پڑا ہوا تھا منہا نے شکر کیا اور جلدی سے تصویر ڈیلیٹ کر دی
منہا ٹیرس کی طرف بڑھ گئی امل ابھی تک وہیں پے بیٹھی ہوئی تھی ابھی وہ جانے کہ لیے پلٹی ہی تھی کہ بارش شروع ہو گئی امل نے سر پٹ دوڑ لگا دی جسے دیکھ کر منہا کی ہنسی چھوٹ گئی ایک قہقه بلند ہوا تھا واشروم سے باہر آتے بہرام کے قدم رک گئے تھے منہا کمرے میں موجود نہیں تھی ٹیرس کا دروازہ کھلا تھا بہرام ٹیرس کی جانب بڑھ گیا
بارش تیز ہونے کی وجہ سے منہا جلد ہی بارش میں بھیگ چکی تھی وہ دونوں ہاتھ پھیلائے ٹیرس پہ کھڑی تھی تبھی منہا کو کسی احساس نے گھیرا تھا بہرام اس کے گرد بازو حائل کیے اس کے کندھے پہ تھوڑی اٹکائے سامنے دیکھنے میں محو تھا
منہا نے سر گھما کر بہرام کی طرف دیکھا
بارش کا موسم اور بہرام کی قربت منہا گھبرا رہی تھی اس کی گال سرخ ہو رہی تھی
“بہرام پلیز چھوڑیں ”
بہرام آج پہلی دفعہ اپنا نام منہا سے سن رہا تھا
“ایک دفعہ پھر بہرام بول دو پھر چھوڑ دوں گا ”
منہا گھبرا رہی تھی اس سے دور جانے کہ لیے اس نے جلدی سے اس کا نام لیا بہرام مسکرا رہا تھا اس نے گرفت ڈھیلی کر دی تھی منہا جلدی سے پلٹی تھی بہرام سے کچھ قدم دور ہوئی تھی بہرام اسی رفتار سے اس کی طرف بڑھ رہا تھا منہا بلکل دیوار کہ ساتھ لگی تھی بہرام اس کے سامنے کھڑا تھا دونوں بارش میں بھیگ رہے تھے
منہا کہ جسم میں تو سنسنی پھل گئ تھی سردی کا احساس تو ختم ہو چکا تھا
بادل زور سے گرجا تھا منہا سامنے کھڑے بہرام کے ساتھ لگ گئی بہرام نے بھی اس کے گرد بازو حائل کر لیے اس کا دل بہت بری طرح سے دھڑک رہا تھا
لیکن جلدی ہی منہا اس سے الگ ہوئی تھی اور کمرے کی جانب دوڑ لگا دی بہرام نے اسے روکنا بھی چاہا لیکن وہ جلدی سے واشروم میں بند ہو گئی بہرام اس کی حرکت پہ مسکرا گیا اور خود چنجنگ روم کی طرف بڑھ گیا جب بہرام باہر آیا تو واشروم کا دروازہ کھولا ہوا تھا اس کا مطلب تھا منہا جا چکی ہے
❥❥═════❥❥❥
“امل جلدی سے اپنا کوئی ڈریس دو میں نے پہننا ہے ”
منہا نے کمرے میں داخل ہوتے ہی شور کیا تھا
“لیکن تمہارے کہاں ہیں ”
امل نا سمجھی سے اس کی طرف دیکھ رہی تھی
“امل پہلے ڈریس دو۔ بعد میں پوچھ لینا جو پوچھنا ہوا ”
امل نے منہا کو ڈریس دیا اور منہا چینج کرنے چلی گئی منہا چینج کر کے آئ تو امل نے آتے ہی۔ سوالات کو بوچھاڑ کر دی
“کچھ نہیں ہوا تھا بس بہرام چنجنگ روم میں تھے اور مجھے سردی لگ رہی تھی اس لیے تمھارے پاس آ گئی
منہا نے بات ہی ختم کر دی تھی
“امل ایک اور مہربانی کر دو پلیز ”
امل نے منہا کی طرف دیکھا
“بولو ”
“پلیز انکار مت کرنا مجھے آج آپنے کمرے میں رہنے دو پلیز۔ پلیز ”
“منہا ہو کیا رہا ہے کچھ بتاؤ گئی مجھے ”
“امل پلیز مان جاؤ نا میں میں بتا نہیں سکتی تمہیں بس ایک رات اگر تم نے انکار کیا تو میں گیسٹ روم میں چلی جاؤں گئی ”
کافی اسرار کے بعد امل مان گئی تھی
❥❥═════❥❥❥
اس دن کے بعد سے منہا بہرام سے چھپنے لگی تھی رات کو اس کے سونے کے بعد کمرے میں جاتی اور صبح اٹھنے سے پہلے باہر آ جاتی
ابھی بہرام آفس سے آیا تھا لیکن وہ کمرے میں جانے کی بجایے ہال میں ہی بیٹھ گیا منہا اور امل پہلے سے ہی موجود تھی
“اوھو ”
“کیا ہوا بھائی ؟”
امل نے حیرت سے پوچھا
منہا بھی چونک گئی تھی
“کیا زمانہ آ گیا ہے لڑکے نے لڑکی کو پیسوں کی خاطر چھوڑ دیا ”
امل نے پہلے بہرام اور پھر منہا کی طرف دیکھا منہا نے کندھے اچکائے
“ویسے ایسے لوگوں کو تو معاشرے میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے ”
بہرام منہا کو زچ کر رہا تھا
“واقعی ایسے لوگوں کو تو ڈوب مرنا چاہیے جو کسی کی محبت کا خیال نہیں کرتے ”
منہا تڑک کر بولی
“کیوں تمھارے ساتھ بھی کسی نے ایسا کیا ہے کیا ؟”
بہرام آنکھوں میں شرارت لیے بولا
اب منہا نے اسے با قاعدہ گھورا تھا
❥❥═════❥❥❥
تو کسی لگی آپ کو یہ قسط اپنی آراء کا اظہار ضرور کیجے گا ۔ شکریہ ۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: