Kis Jurm Ki Saza Mili Novel by Maham Shoukat – Episode 13

0
کس جرم کی سزا ملی از ماہم شوکت – قسط نمبر 13

–**–**–

❥❥═════❥❥❥
“منہا بیٹا ”
“جی آنٹی ”
“بیٹا چائے دے آؤ بہرام مجھے کچن میں تھوڑا کام ہے ”
آئمہ منہا کو کپ پکڑا کر خود واپس چلی گئی
“امل یار پلیز ”
منہا نے التجایہ نظروں سے امل کو دیکھا
“منہا اس دفعہ نہیں خود جاؤ دینے ”
“امل۔ آخری دفعہ اس کے بعد نہیں کہوں گئی تمہیں کچھ بھی ”
“اٹس لاسٹ ٹائم اگلی دفعہ ماما کو بتا دوں گی کے خود پوچھ لیں تم سے جو ایک ہفتے سے تم بھائی کو اگنور کر رہی ہو ”
“پلیز آنٹی کو کچھ مت بتانا اس کے بعد کچھ نہیں کہوں گئی ”
امل چائے کا کپ لے کر بہرام کے کمرے کی طرف بڑھ گئی
❥❥═════❥❥❥
امل دروازہ نوک کر کے اندر چلی گئی بہرام لیپ ٹاپ میں کوئی کام کرنے میں مصروف تھا
“بھیم چائے ”
“یہاں رکھ دو ”
امل واپس جانے لگی تو بہرام نے اسے روک لیا
“منہا کہاں ہے ؟”
“وہ نیچے ہال میں ہے ”
“بیٹھو یہاں مجھے بات کرنی ہو تم سے ”
بہرام نے لیپ ٹاپ سائیڈ پے رکھتے ہوے کہا
امل خاموشی سے بیڈ پے بیٹھ گئی
“ناراض ہو مجھ سے ”
بہرام نے اس کا ہاتھ نرمی سے پکڑتے ہوے پوچھا
“نہیں بھائی میں کیوں ناراض ہوں گئی آپ سے ”
امل نے سر نیچے جھکاتے ہوے کہا
“تو۔ پھر کافی دیر سے نوٹ کر رہا ہوں بات بھی نہیں کرتی مجھ سے اب پہلے کی طرح ”
لیکن اب ہنوز خاموشی تھی
“دیکھو امل اگر تم کنٹریکٹ پیپر والی بات سے ناراض ہو تو ایسا کچھ نہیں ہے بس وہ فرقان نے تب سائن کروایا تھا کے منہا کو کوئی پرابلم نا ہو تم یہ بات کونفرم بھی کر سکتی ہو انفکٹ وہ پروجیکٹ تو بہت ٹائم پہلے ہی ختم ہو گیا تھا تمہیں کیا لگتا ہے تمہارا بھائی ایسا کر سکتا ہے ”
امل حیرانی دے اسے دیکھ رہی تھی
“مجھے امید تھی کے میرا بھیم ایسا نہیں کر سکتا ”
“ہاں یہ بات سچ ہے ہم نے کنٹریکٹ پے سائن کیے تھے لیکن میں اب منہا کو پسند کرتا ہوں محبت کرتا ہوں اسے چھوڑ نہیں سکتا اب ”
“لیکن اس میں تو یہ بھی تھا کے آپ منہا کو ۔۔۔”
امل کچھ کہتے کہتے رک گئی تھی
“ہاں اس میں تھا کے میں منہا کو چھوڑ دوں گا لیکن اب میں ایسا نہیں کر رہا میرے اور فرقان کے درمیان بات ہو چکی ہے ”
بہرام نے اسے تفصیل بتاتے ہوے کہا
“تو پھر آپ منہا کو بتا کیوں نہیں دیتے اور فرقان بھائی بات کر لیں منہا سے ”
” نہیں میں چاہتا ہوں کے منہا بھی مجھ سے محبّت کرے”
دونوں بیٹھے رہے پھر امل اٹھ کر جانے لگی
“بھائی ایک بات بتاؤں ؟”
بہرام نے سر اٹھ کر امل کو دیکھا جو آنکھوں میں شرارت لیے کھڑی تھی
“کہیں نا کہیں منہا بھی آپ کو پسند کرتی ہے ”
بہرام ہونقوں کی طرح اس کا چہرہ دیکھ رہا تھا
“اور کیا بتایا اس نے ”
“باقی پھر کبھی سہی ”
کہتے ہی امل نے نیچے دوڑ لگا دی
❥❥═════❥❥❥
“تم اتنی دیر اس ڈریکولا سے کیا بات کر رہی تھی سچ سچ بتانا ”
منہا نے امل پہ آتے ہی سوالات کی پوچھاڑ کر دی
“کیوں تمہیں کیوں بتاؤں ہم بہن بھائیوں کی کوئی پرسنل بات بھی ہو سکتی ہے ”
منہا نے ساتھ ہی آنکھ دبائی
“امل تم بچو اب ”
ساتھ ہی منہا نے کشن امل کو مارا تھا جو اس نے کیچ کر لیا تھا
ان کی جنگ شروع ہو چکی تھی لیکن جنگ زیادہ دیر تک جاری نا رہ پائی زویا کا فون آ یا تھا اور منہا اس سے باتوں میں مصروف ہو گئی تھی
❥❥═════❥❥❥
“السلام عليكم اسلم صاحب ”
ہاشم شاہ نے ہال میں داخل ہوتے کہا
اسلم صاحب ان کی کی اچانک افتاد پہ حیران تھے
ملنے کہ بعد سب لوگ ہال میں بیٹھے تھے
“اسلم صاحب مجھے ضروری بات کرنی تھی آپ سے ”
ہاشم شاہ آپنے اصل مدعا پہ آے تھے
“ہمیں اس سے کوئی اعترض نہیں ہے لیکن ہم منہا کی مرضی سے فیصلہ کریں گیں پہلے بھی اس کے ساتھ بہت زیادتی کی ہے ہم نے اب نہیں کر سکتے ”
“اسلم صاحب آپ کی بات درست ہے لیکن پہلے جو بھی ہوا اس کا افسوس مجھے بھی ہے ہمیں تب فرقان کی بات مان لینی چاہیے تھی اور اس کے بعد جو بھی ہوا اس ک لیے میں معذرت کرتا ہوں آپ سے ”
ہاشم خان تھوڑے شرمندہ تھے
“نہیں انکل آپ کو شرمندہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ”
فرقان نے ان کی شرمندگی بھانپ لی تھی
“میں کوئی بھی بات خفیہ نہیں رکھنا چاہتا آئمہ نے بات کی تھی منہا سے لیکن اس نے صاف انکار کر دیا ”
سب خاموش تھے
“انکل آپ فکر نا کریں بس ایک وجہ ہے اس لیے وہ انکار کر رہی ہے سب ٹھیک ہو جائے گا ”
فرقان نے پر امید انداز میں کہا تھا
تبھی ہاشم خان کا موبائل بجا اگلے کی بات سن کر وہ اٹھ کھڑے ہوے تھے
“لیکن یہ سب ہوا کیسے ”
دوسری طرف موجود انسان نے تفصیل بتائی تھی
“اچھا میں آ رہا ہوں ”
کہہ کر انھوں نے کال کاٹ دی
“کیا ہوا ؟”
اسلم صاحب نے ہاشم خان سے پوچھا جن کے چہرے پہ پریشانی کے تاثر نمایاں تھے
“بہرام پر حملہ ہوا ہے اور اسے گولی لگی ہے ”
کہتے ہوے وہ باہر ک لیے نکل گئے
“انکل ہم بھی ساتھ چلتے ہیں *
احمد نے روکا تھا
اور وہ تینوں باہر کی جانب بڑھ گئے اسلم صاحب کا گھر میں رکنے کا ہی ارادہ تھا رات کے وقت وہ افشاں کو اکیلا نہیں رهنے دیتے تھے
❥❥═════❥❥❥
بہرام ہسپتال میں بیڈ پہ نیم دراز تھا ہاشم شاہ کی آواز پے اس نے آنکھ کھولی
“کیا ہوا؟ کیسے ہو؟ یہ سب کیسے ہوا ؟کون لوگ تھے وہ؟ ”
ہاشم خان نے پریشانی میں آتے ہی ایک سانس میں سارے سوالات پوچھ لیے بہرام آج پہلی دفعہ انھیں آپنے لیے اتنا فکر مند دیکھ رہا تھا
مسکراہٹ اس کے چہرے پہ عیاں تھی
“بابا میں ٹھیک ہوں پریشان نا ہوں آپ بس گولی چھو کر گزری ہے ”
بہرام کے چہرے پہ درد کے اثرات نمایاں تھے
“لیکن یہ سب ہوا کیسے ؟”
“بابا اچانک فائرنگ ہوئی تھی مجھے تو خود بھی سمجھ نہیں آئ لیکن میرے خیال میں یہ وہی ہیں جنہوں نے زین ۔۔۔۔۔”
بس وہ اتنا ہی کہہ سکا اور آنسو اس کی آنکھوں کو دھندھلا گئے تھے
ہاشم خان بھی آپنے جوان بیٹے کی موت کو بھلا نہیں پائے تھے کچھ گرم سیال ان کی آنکھوں کو بھگو رہے تھے احمد اور فرقان نے انھیں حوصلہ دیا بہرام جلد ہی سمبھل گیا
“بابا اچانک وہاں پولیس آ گئی اور ان کا ایک آدمی پولیس کی حراست میں ہے ”
فرقان میں ڈاکٹر سے بات کرتا ہوں تم اسے گھر لے جانا میں اور احمد پولیس سٹیشن چلتے ہیں ”
کہتے ہوے ہاشم خان باہر نکل گئے اور وہ دونوں بہرام کو ساتھ باتوں میں مصروف ہو گئے
❥❥═════❥❥❥
فرقان بہرام کو لے کر گھر میں داخل ہوا فرقان کو دیکھ کر بی جان کے چہرے پہ ناگواری کے تاثرات تھے
لیکن اگلے ہی لمحے ان کے چہرے پہ پریشانی تھی
“بہرام میرا بچہ یہ کیسے ہوا؟ ”
بی جان بہرام کی طرف بڑھی
آئمہ اور حنا بھی کچن سے باہر آ گئی لیکن اس کی نگاہیں منہا کو ڈھونڈھ رہی تھی
“بہرام پہ حملہ ہوا ہے ”
“لیکن کس نے کیا ہے ؟”
“شاید وہی لوگ جنہوں نے زین پہ کیا تھا ”
بی جان کے چہرے پہ اب ناگواری نہیں تھی
“زیادہ تو نہیں لگی ؟”
“بس گولی چھو کر گزر گئی ہے تھوڑا آرام کروں گا بہت تھک گیا ہوں ”
جواب بہرام کی طرف سے آیا تھا
“ہاں بیٹا ٹھیک ہے تم آرام کرو ”
دوا کی وجہ سے تھوڑا نشہ تھا اس لیے فرقان خود اسے کمرے میں چھوڑنے چلا گیا
❥❥═════❥❥❥
آئمہ حنا کو کچھ کچن کی ہدایت کر کے خود امل کی کمرے کی جانب بڑھ گئی
امل اور منہا کوئی مووی دیکھنے میں مصروف تھی
کمرہ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا
آئمہ نے اندھیرے میں سوئچ بورڈ پہ ہاتھ مارا اور لائٹ آن کی
دونوں نے سر اٹھ کر دیکھا
“اوھو ماما آپ نے موڈ خراب کر دیا ”
امل منمنائی تھی
“بہرام کو گولی لگی ”
آئمہ نے بس اتنا ہی کہا تھا کے منہا اچھل کر بیڈ اتری
“کہاں ہے بہرام ؟”
منہا نے بے تابی سے پوچھا
“روم میں ہے ”
منہا کمرے سے دوڑ کر باہر چلی گئی
“ماما میں بھائی سے مل کر آتی ہوں ”
لیکن آئمہ نے جانے سے منع کر دیا اور امل بھی کچھ سمجھتے ہوے رک گئی
❥❥═════❥❥❥
“منہا اس روم میں نہیں رہتی کیا ؟”
فرقان نے منہا کو کمرے میں ندار پا کر پوچھا ۔
“اس دن کے بعد سے بہت کم آتی ہے یہاں ”
فرقان نے اثبات میں سر ہلا دیا
“اچھا تم ریسٹ کرو ”
“پہلے میں چینج کر لوں پھر ریسٹ کرلوں گا ”
“لیکن کیسے ؟”
اس پہلے بہرام کوئی جواب دیتا منہا کمرے میں داخل ہوئی
“کیا ہوا ہے تمہیں تم تم ٹھیک تو ہو نہ ”
منہا کا سانس پھولا ہوا تھا تھا
وہ بہرام کا بازو ہاتھ میں پکڑے کھڑی تھی اور دیکھ رہی تھی کے زخم کہیں اور تو نہیں
جہاں بہرام حیرانی سے اس کا بدلا روپ دیکھ رہا تھا وہیں فرقان بھی حیران کھڑا تھا
“جانب یہاں پہ کوئی اور بھی موجود ہے ”
منہا کی سماعت سے کوئی پہچانی ہوئی آواز ٹکرائی تھی
“بھائی آپ ”
منہا فرقان کے گلے لگ گئی تھی
“ہاں میری گڑیا میں ”
تھوڑی دیر باتیں کرنے کے بعد وہ باہر نکل گیا اور منہا بہرام کی طرف پلٹی جس کی نظروں کا۔ محور صرف منہا تھے
ایک دوا کا نشہ اور اوپر سے منہا بہرام تو مدہوش ہو رہا تھا
❥❥═════❥❥❥
تو کسی لگی آپ کو یہ قسط اپنی آراء کا اظہار ضرور کیجے گا ۔ شکریہ ۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: