Kis Jurm Ki Saza Mili Novel by Maham Shoukat – Episode 14

0
کس جرم کی سزا ملی از ماہم شوکت – قسط نمبر 14

–**–**–

❥❥═════❥❥❥
بہرام چینج کر کے واپس آیا منہا اس کا انتظار کر رہی تھی بہرام بیڈ کی ایک سائیڈ پے آ کر بیٹھ گیا
“کچھ چاہیے آپ کو ؟”
منہا نے پوچھا
“نہیں ”
بہرام نے مختصر سا جواب دیا اور بیڈ پے نیم دراز ہو گیا
“میڈیسن لے لی ؟”
“ہاں لے لی ہے پلیز تم یہاں آ کر بیٹھ جاؤ میرے پاس ”
بہرام نے آنکھیں بند کرتے ہوے کہا
منہا چاھتے ہوے بھی اسے انکار نہیں کر سکی اور اس کے پاس آ کر بیٹھ گی بہرام نے اپنا سر اس کی گود میں رکھ دیا
آنکھیں ابھی تک بند تھیں چہرے پہ تھکن کے آثار واضح تھے منہا اس کے بالوں میں آہستہ آہستہ آپنی انگلیاں چلانے لگی
“زیادہ پین ہو رہا ہے کیا ؟”
“ہمممم۔۔۔۔”
“پین کیلر لے لو کوئی ”
“تم ہو نا میرے پاس پین کیلر کی کوئی ضرورت نہیں ہے اب ”
بہرام نے آنکھیں کھولتے ہوے اس کے بدلتے تاثر دیکھے اور اس کا ہاتھ تھام لیا منہا آپنی نظریں بدل گئی اس کے چلتے ہوے ہاتھ تھم گئے
“اچھا آپ اب سو جایں ”
منہا نے جلدی سے بات بدلی
بہرام نے ہاں میں سر ہلایا اور دوا کے زیر اثر جلد ہی نیند کی وادیوں میں کھو گیا
منہا کافی دیر تک وہیں بیٹھی رہی پھر تکیہ درست کر کے احتیاط سے اٹھ کھڑی ہوئی
❥❥═════❥❥❥
صبح جب منہا کی آنکھ کھولی تو بہرام ابھی تک سو رہا تھا اس نے وضو کیا نماز پڑھی اور ہمیشہ کی طرح باہر کی طرف بڑھ گئی لیکن آج وہ باہر نہیں جا سکی اس نے ایک نظر بہرام کو دیکھا اور واپس جا کر اس کے پاس بیٹھ گئی بیڈ کے ساتھ ٹیک لگا کر آنکھیں موند لی
“آج تم گئی نہیں ؟”
بہرام اٹھ گیا تھا اس کی آواز پہ منہا نے آنکھیں کھولی
“اچھا چلی جاتی ہوں ”
منہا اٹھنے لگی تھی لیکن بہرام نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا
“مذاق کر رہا تھا یار سیریس کیوں ہو رہی ہو ”
اب وہ کافی حد تک ٹھیک لگ رہا تھا
منہا نے ایک نظر اپنے ہاتھ پہ ڈالی اور پھر بہرام کی طرف دیکھا جیسے وہ ہاتھ چھوڑنے کا کہہ رہی ہو
بہرام نے مسکرا کر اپنا ہاتھ پیچھے کر لیا اور واپس لیٹ گیا
“میں ناشتہ لے کر آتی ہوں آپ فریش ہو جایں ”
“ابھی نہیں تھوڑی دیر تک ”
“ڈریسنگ کب کرنی ہے ؟”
“فریش ہو جاؤں پھر کرتا ہوں ”
منہا نے اثبات میں سر ہلا دیا
بہرام اٹھ کر واشروم میں چلا گیا
منہا نیچے ناشتہ کہ لئے چلی گئی
❥❥═════❥❥❥
“بیٹا بہرام اٹھ گیا ہے طبیعت کسی ہے اس کی اب ؟”
“جی آنٹی اب بہتر ہے آپ اس کا ناشتہ بنوا دیں ”
“ایسا کرو تم اوپر جاؤ اسے کسی چیز کی ضرورت ہو گی میں تم دونوں کہ لئے اوپر ہی بھیجوا دوں گی ”
منہا اثبات میں سر ہلاتی ہوئی واپس چلی گئی
“بی جان کیا سوچ رہی ہیں آپ !”
ائمہ نے انھیں کسی سوچ میں غرق دیکھ کر پوچھ
“بس یہی سوچ رہی تھی کے پہلے زین چلا گیا اور اب بہرام پہ اس طرح حملہ ”
“جی بی جان ہاشم ابھی تک گھر نہیں آے وہ بھی بہت پریشان ہیں سمجھ نہیں آ رہی کے حملہ کون کروا سکتا ہے ”
“مجھے تو سب بدر الدین کا کیا دھرا لگ رہا ہے ”
بی جان نے کچھ سوچتے ہوے کہا
“لیکن بی جان وہ معاملہ تو پنچائیت نے سلجھا دیا تھا تو اب کیسے وہ یہ سب کر سکتا ہے ؟”
ائمہ نے پریشانی سے کہا
“لیکن یہ بھی تو دیکھو ہر دفعہ سرپنچ انہی کے خاندان سے بنتا آیا ہے لیکن اس دفعہ ہاشم کو بنا دیا اتنی آسانی سے تو نہیں چھوڑ سکتا وہ ”
دونوں کے چہرے پہ پریشانی کے آثار نمایاں تھے
“کوئی آدمی پکڑا تو گیا ہے اب دیکھیں کون ہے وہ ”
ائمہ نے بی جان کی پریشانی کم کرتے ہوے کہا
❥❥═════❥❥❥
منہا کمرے میں واپس آئ تو بہرام مرر کے سامنے کھڑا تھا
منہا نے دیکھتے ہی آنکھیں بند کر لی
“انسان شرٹ ہی پہن لیتا ہے پتہ بھی ہے کے روم دو لوگ شیئر کر رہے ہیں ”
بہرام مسکرا گیا تھا
“مجھے لگا تھا دوسرا انسان ہمیشہ کی طرح اب روم میں نہیں آے گا ”
بہرام کا انداز شرارتی تھا
“اوکے فائن اب نہیں آؤں گی میں تو پاگل تھی جو آ گئی ”
منہا نے باہر کی جانب قدم بڑھا دیئے
“مذاق کر رہا ہوں بات تو سنو ”
بہرام نے اسے پکڑ کر آپنی طرف کھینچ لیا
“پلیز بہرام چھوڑ دیں مجھے ”
“ادھر دیکھو میری طرف”
منہا اسے دیکھنے سے گریز کر رہی تھی
“مجھے نہیں دیکھنا آپ کی طرف بس آپ چھوڑ دیں مجھے ”
“ایک شرط پہ اگر تم باہر نا گئی تو ”
“اچھا ٹھیک ہے نہیں جاتی اب چھوڑ دیں ”
بہرام نے آپنی گرفت ڈھیلی کر دی منہا پلک جھپکتے ہی کاؤچ پہ بیٹھ گئی
ایک دفعہ پھر مسکراہٹ اس کے لبوں کو چھو گئی
بہرام پھر سے ڈریسنگ کرنے کی طرف متوجہ ہو گیا
اس نے پٹی اتار تو لی تھی لیکن دائیں بازو میں گولی لگنے کی وجہ سے بائیں بازو سے ڈریسنگ نہیں ہو رہی تھی
منہا کافی دیر تو اسے دیکھتی رہی پھر اس کے پاس چلی گئی
“لاؤ میں کر دوں ”
ساتھ ہی منہا نے اس کے ہاتھ سے بینڈایج لے لی
ڈریسنگ کر کے اس نے باکس بند کیا اور بہرام واپس جا کر صوفہ پہ بیٹھ گیا
منہا سامان سمیٹ کر اس کے پاس جا کر بیٹھ گئی تبھی ملاذمہ ناشتہ رکھ کر چلی گئی
“کھانا بھی کھلا دو ”
بہرام نے منہا کے چہرے کا طواف کرتے ہوےکہا
“کھلا دوں گی ”
منہا کے چہرے پہ کوئی بھی تاثر نہیں تھا منہا نے ناشتہ کروا کر خود بھی ناشتہ کیا اور بہرام کو میڈیسن دی
“کہیں تمہیں مجھ سے پیار تو نہیں ہو گیا ؟ جو اتنی کیئر کر رہی ہو ”
بہرام کا انداز شرارت سے بھر پور تھا
منہا کے ماتھے پہ کچھ شکن ابھر آے
“کسی بھی خوش فہمی میں مت رہنا مسٹر بہرام خان جب میں بیمار ہوئی تھی تو تم نے میرا خیال رکھا بس یہ اسی کا بدلہ ہے ”
“یار ایک تو نا تم ۔۔۔ تم سے آپ تک آنے میں ایک سیکنڈ بھی نہیں لگاتی اچھی بیوی شوہر کو آپ کہتی ہے ”
“YOU just go to hell”
“تم قابل ہی نہیں ہو کسی عزت کے ”
منہا زچ ہو گئی تھی
بہرام اس کی حالت سے بہت لطف اندوز ہو رہا تھا منہا نے برتن سمیٹے اور اٹھا لڑ باہر کی جانب بڑھ گئی
“دیکھ لینا آپ بھی جلدی ہی میرے عشق میں گرفتار ہونے والی ہیں مسز بہرام خان ”
بہرام خود سے ہمکلام تھا
❥❥═════❥❥❥
ہاشم خان اور اسلم صاحب اس وقت پولیس سٹیشن میں موجود تھے
“انسپیکٹر صاحب کچھ پتہ چلا کون ہے وہ؟ ”
“نہیں اسلم صاحب بہت پکا بندہ ہے زبان ہی نہیں کھول رہا ”
“کیا ہم مل سکتے ہیں اس سے ؟”
“ہاں ہاں کیوں نہیں چلیں ”
انسپیکٹر انھیں لے کر جیل کی طرف چلا گیا
“کریم تم ؟”
اسلم صاحب کے چہرے پہ حیرانی کے تاثر تھے
“ہاں میں ”
“لیکن تم نے ایسا کیوں کیا ؟”
اسلم صاحب ابھی تک شوک میں تھے
“بس میں آپنی بیٹی کی موت کا بدلہ لینا چاہتا تھا جو آپ جیسے امیر لوگوں کے فیصلے سے ہوئی تھی ”
کریم کے چہرے پہ ذرا بھی شرمندگی نہیں تھی
“ہمیشہ سے ہی ایسا ہوتا آیا ہے اور تمہاری بیٹی نے آپنی مرضی سے خود کشی کی تھی اس کا بدلہ مجھ سے کیوں لیا ؟”
اب ہاشم خان کی آواز بلند ہوئی تھی
لیکن الٹ ہوا ساتھ ہی کریم کا قہقہ بلند ہوا تھا
“تمہیں کیا لگتا ہے کے میں نے قتل کیا ہے تمھارے بیٹے کو نہیں ایسا نہیں ہے ہرگز نہیں مجھ سےبھی اوپر ہے کوئی جس کا بدلہ پورا ہوا ہے ہم نے ایک تیر سے دو نشانے لگاے ہیں ”
“کون ہے وہ جلدی بتا ؟”
“میں نہیں بتاؤں گا کون ہے ابھی تو اسے تمہاری اگلی نسل بھی ختم کرنی ہے پھر اسے سکون ملے گا ”
“بکواس بند کرو آپنی ”
“بکواس تو میں نے ابھی شروع ہی نہیں کی
ابھی تو مجھے اسلم صاحب کی بیٹی کو اور بھی تڑپتا دیکھنا تھا لیکن سب الٹ ہو گیا
ویسے اسلم صاحب تمہاری بیٹی تو بہت چال باز نکلی اور ہاشم خان تمہارا بیٹا دل پھینک ”
ساتھ ہی ایک زناٹے دار تھپڑ کریم کے منہ پہ بجا تھا
اس کا چہرہ پاس پڑے بنچ پہ لگا تھا اور ہونٹ سے خون رسنے لگا تھا
“آپنی زبان کو لگام دو تمہاری ہمت کیسے ہوئی میری بیٹی کے بارے میں ایسی بات کرنے کی ”
ہاشم خان نے اسلم صاحب کو روکا تھا
“انسپیکٹر صاحب اگلوائیں اس سے کون ہے جو اس کے ساتھ ملا ہوا ہے ”
” اسے ٹارچر سیل میں منتقل کرو ”
انسپیکٹر سپاہی کو حکم دیتا ہوا ان دونوں کو لے کر باہر آ گیا
“آپ لوگ فکر نا کریں ہم بہت جلد اس تک پہنچ جایں گیں ”
“ایسا ہی ہونا چاہیے نہیں تو یاد رکھنا یہ وردی لٹکی ہی رہ جائے گی ”
ہاشم خان کہتے ہوے وہاں سے چلے گئے
❥❥═════❥❥
“بابا کچھ پتہ چلا کون ہے ؟”
فرقان نے پوچھا
“ہاں بیٹا ایک تو ہمارے گاؤں کا ہی ہے اور جو اسے سپورٹ کر رہا ہے اس کی دشمنی ہاشم خان سے ہے ”
اسلم صاحب نے ساری تفصیل بتاتے ہوے کہا
“بابا مجرم تو پکڑا جائے گا اب ”
“ہاں بیٹا بہت جلد سلاخوں کے پیچھے ہوا گا ”
“فرقان ”
“جی بابا ”
“بیٹا مجھے معاف کر دینا مجھے تم پہ اعتبار کرنا چاہیے تھا ”
“نہیں بابا پلیز آپ ایسا نا کہیں ”
اسلم صاحب نے فرقان کو اپنے گلے لگا لیا
“کیا ہو رہا ہے جناب بہت پیار آ رہا ہے آج آپ کو اپنے بیٹے پر ”
احمد نے ہال میں داخل ہوتے ہی کہا
“کیوں میرا بیٹا ہے اور بہت پیارا ہے مجھے ”
“کبھی ہم پہ بھی آپنی محبت نچھا ور کر دیا کریں ”
احمد شرارتی اندز میں بولا
❥❥═════❥❥❥
تو کسی لگی آپ کو یہ قسط اپنی آراء کا اظہار ضرور کیجے گا ۔ شکریہ ۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: