Kis Jurm Ki Saza Mili Novel by Maham Shoukat – Episode 15

0
کس جرم کی سزا ملی از ماہم شوکت – قسط نمبر 15

–**–**–

❥❥═════❥❥❥
دو ہفتہ بعد
“کورٹ بدر الدین آغا کو عمر قید جب کے کریم حیدر کو دس سال کی قید با مشقت کی سزا سناتی ہے ”
جج کے فیصلہ سے سب نے سکون کا سانس لیا تھا
“NOW the court is over ”
سب لوگ عدالت سے باہر نکل رہے تھے پولیس ان دونوں کو ہتھکڑیاں لگا کر باہر لے جا رہی تھی
“اب آگے کیا کرنا ہے ؟”
ہاشم خان نے کہا
سبھی مرد حضرات وہیں موجود تھے
“منہا تو کسی بھی صورت وہاں رہنے کے لئے رضا مند نہیں ہے ”
“میرے پاس ایک پلان ہے اگر آپ سب رضا مند ہوں تو ۔۔”
فرقان نے پلان ترتیب دیا سب لوگوں نے اس کی حامی بھر لی
❥❥═════❥❥❥
“مبارک ہو بیٹا ہم کیس جیت گئے اور زین کے قاتل کو سزا مل گئی ”
سب لوگ دوپہر کے کھانے پہ موجود تھے
“جی بی جان بس اللّه پاک کی کرم نوازی ہے ”
“منہا ”
ہاشم خان نے اسے مخاطب کیا
“جی انکل ”
“بیٹا تم دو دن بعد گھر جا سکتی ہو اپنے اگر کہو تو ہم چھوڑ آتے ہیں یا پھر کوئی لینے آ جائے گا ”
منہا کا نوالہ تو مانو حلق میں ہی اٹک گیا تھا
“جی ”
بامشکل ہی اس کی آواز نکلی تھی
“اب منہا واپس جا رہی ہے تو میرا خیال ہے کے بہرام کی شادی کر دینی چاہیے ہمیں کیا خیال ہے آپ سب کا ”
سب نے ان کی حامی بھری تھی منہا کو وہاں ہونا وجود ناگزیر محسوس ہو رہا تھا
“لیکن دادو ۔۔۔”
“لیکن کیا اب تم وہی کہو گے کے مجھے شادی نہیں کرنی وغیرہ وغیرہ ”
بی جان نے اس کی بات درمیان میں ہی کاٹ دی تھی
“اگر تم بھی باقی کی طرح سر جھکا کر میری بات مان لو تو اچھا ہو گا رات کو کچھ مہمان آ رہے ہیں مجھے امید ہے تم مایوس نہیں کرے گے مجھے ”
کہتے ہی بی جان اٹھ کر چلی گئی
❥❥═════❥❥❥
اسلم صاحب کی فیملی زویا کے گھر موجود تھی
“انکل آپ منہا کو بھی لے آتے ؟”
“بیٹا منہا ابھی وہیں پہ ہے دو دن بعد آنا ہے اس نے ”
زویا نے اثبات میں سر ہلایا
“وقار صاحب میرا خیال ہے کے اب بچوں کی شادی کر دینی چاہیے جو . مسائل تھے وہ تو اب حل ہو گئے ہیں ”
اسلم صاحب اب اصل مدعا پہ آئے تھے
“مجھے بھی کوئی اعترض نہیں ہے ”
“ٹھیک ہے پھر اگلے ہفتے منگنی کی رسم کر لیتے ہیں اور پیپرز کے بعد ایک مہینہ کے وقفہ سے شادی ”
اسلم صاحب نے ساری ترتیب بتا دی
“کیا خیال ہے بیگم ؟”
وقار شاہ نے ائمہ سے پوچھا
“جیسے آپ لوگوں کو مناسب لگے تب تک ثمر بھی آ جائے گا اور شادی اٹینڈ کر لے گا ”
سب رضا مند تھے اور اگلے اتوار منگنی کی رسم ادا ہونا قرار پائی تھی
❥❥═════❥❥❥
شام کو مہمان آ چکے تھے کھانے کے بعد چائ کا دور شروع ہوا تھا
لیکن منہا اپنے کمرے سے نہیں نکلی تھی
“امل منہا کو بلا کر لاؤ ”
“جی ماما ”
منہا تاکید میں سر ہلاتی ہوئی وہاں سے چلی گئی
منہا پیکنگ کرنے میں مصروف تھی امل ناک کر کے اندر بڑھ گئی
“منہا باہر آؤ گیسٹ تم سے ملنا چاھتے ہیں ”
“بہرام ہے نا وہاں ٹھیک ہے کونسا میرا رشتہ دیکھنے آئے ہیں ”
“don’t be silly yar …. hurry up ….”
“امل پلیز مجھے نہیں جانا ”
“منہا ضد مت کرو اور چلو میرے ساتھ ”
منہا ناچارا اس کے ساتھ چلنے کہ لئے رضا مند ہو گئی
“ہال میں بہرام ایمان کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا ادھر منہا کے دل میں ایک ٹیس اٹھی تھی
منہا نے سب کو سلام کیا اور پاس بیٹھ گئی
“بہرام ایمان کو اپنا گھر تو دکھاؤ ”
“جی بی جان ”
بہرام ایمان کو لے کر وہاں سے چلا گیا
وہ منہا کو بلکل اگنور کر رہا تھے اور منہا سے یہ برداشت نہیں ہو رہا
“ویسے تو بہت کہتا تھا کے محبت کرتا ہوں محبت کرتا ہوں یہ تھی محبت پل میں ہی لڑکی دیکھ کر بدل گیا”
“منہا کیا ہوا طبیعت تو ٹھیک ہے تمہاری ”
“جی آنٹی ٹھیک ہے بس تھکاوٹ ہے تھوڑی ”
منہا اٹھ کر اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی
“بیٹا بیٹھو تم کہا جا رہی ہو ”
مہمان عورت نے کہا
“نہیں آنٹی مجھے کچھ کام ہے ”
اس کے آثار کسی سے بھی چھپے نہیں تھے وہ تیز تیز قدم اٹھاتی اندر آ گئی
کمرے میں آ کر ٹیرس کی جانب بڑھ گئی
آنسو اس کے چہرے کو بھگو رہے تھے
تبھی بہرام ایمان کو لے کر کمرے میں داخل ہوا
“واو تمہارا روم بہت خوبصورت ہے ”
بہرام کی نظر ٹیرس پہ گئی منہا وہاں کھڑی تھی
“اچھا ایمان تم جاؤ میں تھوڑا ضروری کام ہے اتا ہوں بعد میں”
ایمان نیچے چلی گئی اور بہرام ٹیرس کی جانب بڑھ گیا
“غم منا رہی ہو میری دوری کا ؟”
اس پہلے منہا کوئی جواب دیتی بہرام کا فون بجا تھا
“ہاں فرقان پیسے ٹرانسفر کروا دینا میرے اکاؤنٹ میں ”
تھوڑی سی بات کر کے بہرام نے فون بند کر دیا
منہا نے جلدی سے آنسوصاف کئے تھے
“ہاں تو میں نے کیا پوچھا تھا تم سے ”
بہرام نے آپنی بات شروع کی
“دور ان سے ہوا جاتا ہے جن کے کبھی ہم قریب ہوں آئ سمجھ ”
“ہم اب قریب ہو جاتے ہیں ”
بہرام نے منہا کے گرد بازو حائل کئے
منہا نے پیچھے ہٹ کر تھپڑ بہرام کہ منہ پہ مارا تھا
“تمہاری ہمت کیسی ہوئی مجھے ہاتھ لگانے کی ”
بہرام پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا
“تم نے مجھے تھپڑ مارا بہرام خان کو ”
بہرام دھاڑا تھا
منہا اس کی آواز سے سہم گئی تھی
بہرام کمرے میں واپس آیا تھا اور چابی اٹھا کر باہر کی طرف بڑھ گیا منہا وہیں پہ ساکت کھڑی رہی
اسے خود بھی یقین نہیں آ رہا تھا کے وہ ایسا کر سکتی ہے
ساری رات منہا وہیں پہ بیٹھی رہی
ساری رات بہرام گھر نہیں آیا تھا منہا نے اسے کال کرنے کا سوچا لیکن وہ کس حق سے کال کرتی
اب منہا کو خود پہ غصہ آ رہا تھا
اس نے جلدی جلدی پیکنگ کی اور فرقان کو میسج کیا کے صبح ہی وہ اسے لینے آ جائے وہ بہرام کے واپس آنے سے پہلے جانا چاہتی تھی
صبح اسے پتہ چلا کے ایک مہینہ بعد بہرام کی شادی ہے
❥❥═════❥❥❥
منہا کو گھر واپس آئے ہوے دو دن ہو چکے تھے کل زویا کی منگنی تھی لیکن اس کا دل اور دماغ وہیں پہ اٹکا ہوا تھا
بار بار یہی سوچ رہی تھی کل بہرام کو کیسے فیس کرے گی
آخر اس نے بہرام کو سوری کا میسج کیا اور موبائل سائیڈ اوہ رکھ کر سونے کے لئے لیٹ گئی
نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی بہرام نے کوئی بھی جواب نہیں دیا تھا
اب وہ لیٹے کل کی تقریب کے بارے میں سوچ رہی تھی
❥❥═════❥❥❥
صبح سے رات ہو گئی تھی منگنی کی رسم بھی شروع ہو چکی تھی
بہرام اسے مسلسل اگنور کر رہا تھا اور سارا ٹائم ایمان کے ساتھ گزار رہا تھا
بہرام ایسے ظاہر کر رہا تھا جیسے منہا کبھی اس کی زندگی میں آئ ہی نہیں تھی
اور یہی بات منہا کو اند ہی اندر ختم کر رہی تھی
بہرام کو لان میں ندار پا کر وہ اندر کی جانب بڑھ گئی
بہرام کسی سے فون پہ بات کرنے میں مصروف تھا کال ختم کر کے واپس پلٹا تو منہا اس کی کال ختم ہونے کا انتظار کر رہی تھی
منہا کو ایک نظر دیکھ کر وہ آگے بڑھ گیا
“بہرام پلیز بات سن لیں میری ام رئیلی سوری میں اس دن بی ہائپر ہو گئی تھی ”
“اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے ہمارے درمیان ایسا کوئی رشتہ نہیں ہے کے تم سوری کرو مجھ سے ”
“بہرام میں ابھی بھی تمہاری بیوی ہوں ”
اوہ رئیلی ۔۔۔ بس وہ کاغذی رشتہ ہے کچھ دن میں ختم ہو جائے گا ”
منہا کو تو جیسے سانپ سونگھ گیا تھا
تبھی ایمان وہاں آ گئی
“بہرام تم یہاں ہو میں تمہیں وہاں ڈھونڈھ رہی تھی مجھے گھر چھوڑ دو لیٹ ہو رہی ہوں ”
“ہاں ہاں چلو ”
بہرام ایمان کا ہاتھ پکڑ کر باہر نکل گیا
منہا کی آنکھوں میں آنسو تھے جسے وہ جلدی سے صاف کر کے باہر چلی گئی
تقریب ختم ہو چکی تھی سب مہمان جا رہے تھے
“منہا کہاں غایب ہو یار کب سے ڈھونڈھ رہی ہوں تمہیں ”
امل اس کے پیچھے کھڑی تھی
“سوری یار بس ٹائم نہیں دے پائی بزی تھی ”
“کوئی بات نہیں ۔۔۔۔۔ تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے نہ ”
امل نے اس کے چہرے کی طرف دیکھا جہاں خوشی کے آثار ڈھونڈھنے سے بھی نہیں مل رہے تھے
“ہاں میں ٹھیک ہوں ”
“اچھا میں چلتی ہوں ”
امل منہا سے مل کر گھر کی طرف روانہ ہو گئی
❥❥═════❥❥❥
دن جلدی سے گزر رہے تھے گھروں میں شادی کی تیاری عروج پہ تھی شادی میں صرف ایک ہفتہ باقی تھا
منہا بھی سب کچھ بھول کر تیاری میں مصروف ہو گئی تھی اس شادی کا منہا نے بہت بے صبری سے انتظار کیا تھا
آج بھی وہ لوگ بازار آئے تھے
زویا کے کہنے پہ اس نے ہیوی ڈریس لیا تھا الموسٹ برائیڈل ڈریس سے بہت تھوڑا سا ہی مختلف تھا
مال میں ان کا ٹکراؤ امل سے ہوا
“امل تم یہاں کیسے ؟”
منہا خوش دلی سے اس کے ساتھ ملی تھی
“بھائی کی شادی کی تیاری میں مصروف ہوں ”
ساتھ ہی منہا کا چہرہ اتر گیا تھا
لیکن جلدی ہی اس نے خود کو نارمل کر لیا
کافی دیر باتیں کرنے کے بعد امل ان سے مل کر چلی گئی
“زویا گھر چلیں باقی شاپنگ کل کر لیں گیں ”
“لیکن منہا ابھی کافی شاپنگ رہتی ہے دن بھی کم ہیں ”
“ابھی طبیعت نہیں ٹھیک ہم شام کو آ جایں گے ”
منہا بضد تھی جانے کے لئے اور وہ دونوں باہر نکل گئی
❥❥═════❥❥❥
“کیا ہوا تم لوگ تھوڑی دیر پہلے تو نکلے تھے اب آ بھی گئی ہو ”
اسما ان کے اتنی جلدی گھر آنے پہ حیران ہوئی تھی
“ماما منہا کی طبیعت نہیں ٹھیک شام کو ہم جایں گیں پھر ”
زویا موبائل میں مصروف ہو گئی
“کیا ہوا ہے منہا ٹھیک تو ہو نا ”
اسما نے فکر مندی سے پوچھا
“جی آنٹی ٹھیک ہوں روز روز بازار کے چکر لگا کر تھک گئی ہوں اس لئے ”
“اچھا کھانا کھا کر ریسٹ کر لو پھر شام میں چلی جانا اور احمد کو منع کر دو آج تمہیں ما لینے آے ”
منہا اثبات میں سر ہلاتی احمد کا نمبر ملانے لگی
منہا ہر روز احمد کے ساتھ شہر آتی تھی ساتھ افشاں بھی کبھی کبھی آتی تھی افشاں باقی کام دیکھ رہی تھی اس لئے روز نہیں آتی تھی اور شام کو احمد ساتھ واپس چلی جاتی
❥❥═════❥❥❥
تو کسی لگی آپ کو یہ قسط اپنی آراء کا اظہار ضرور کیجے گا ۔ شکریہ ۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: