Kis Jurm Ki Saza Mili Novel by Maham Shoukat – Episode 16

0
کس جرم کی سزا ملی از ماہم شوکت – قسط نمبر 16

–**–**–

❥❥═════❥❥❥
شام کو وہ لوگ شاپنگ مال میں گھوم رہی تھی زویا مسلسل موبائل پہ لگی تھی منہا ذچ ہو رہی تھی
“زویا اگر تم نے موبائل بند نا کیا تو میں ابھی گھر چلی جاؤں گی ”
منہا سہی معنی میں تپ گئی تھی
“اچھا اچھا بس یہ لاسٹ میسج کر لوں ”
زویا نے میسج کر کے موبائل بیگ میں ڈال دیا اور دونوں شاپ میں چلی گئی ولیمہ اور برات کی شاپنگ تقریباً مکمل ہو چکی تھی بس کچھ ہی چیزیں رہتی تھی
اب وہ دونوں مہندی کے لئے ڈریس سلیکٹ کر رہی تھی ڈریس لے کر اب ان کا رخ باہر کی جانب تھا تبھی منہا کا تصادم کسی زور دار چیز سے ہوا تھا
اس کے سامنے بہرام کھڑا تھا اور ساتھ ایمان
زویا خوش دلی سے ملی تھی
جب کے منہا کو بہرام نے اگنور کیا تھا جیسے وہ وہاں موجود ہی نا ہو
“بہرام بھائی آپ یہاں ؟”
“ہاں بس شادی کی شاپنگ کر رہے تھے ”
“کیسی جا رہی ہے تیاری اور ایمان تم خوش ہو ؟”
“تیاری بھی بہت اچھی جا رہی ہے اور میں بھی بہت خوش ہوں ”
ایمان نے چہکتے ہوے جواب دیا تھا
لیکن ادھر منہا کے دل پہ تو جیسے کسی نے نوک دار چیز سے وار کر دیا ہو
بچھڑنا یوں ضروری ہو گیا تھا
گلی کوچوں میں چرچا ہو چلا تھا
کڑی تھیں ساتھ رہنے کی شرائط
محبت میں خسارہ ہو رہا تھا
کوئی تھا جس کی آنکھوں میں نمی تھی
کسی سے رات جھگڑا ہو رہا تھا
ہواؤں کے سندیسے آ رہے تھے
میں تیری راہ میں تھک پڑا تھا
زویا ان کے ساتھ باتوں میں مصروف ہو گئی تھی
“زویا میرا خیال ہے اب ہمیں چلنا چاہیے ”
منہا نے زویا کو مخاطب کیا تھا بہرام نے ایک نظر منہا کو دیکھا
جینز پہ شارٹ ٹاپ بال شانوں پہ بکھرے ہوے گلے میں ہلکا سا بنڈنٹ ایک سائیڈ پہ دوپٹہ لڑکھ رہا تھا اور لائٹ سا میک اپ اس میں وہ غضب ڈھا رہی تھی
بہرام نے دل میں ایک بیٹ مس کی تھی
زویا ان کو خدا حافظ کہتے ہوۓ وہاں سے چلی گئی
بہرام کی نظروں نے دور تک اس کا تعاقب کیا تھا
“بہرام چلی گئی ہے وہ اب چلو ”
ایمان نے اس کا مبہوت توڑا تھا
“ہاں ہاں چلو ”
وہ دونوں شاپ کے اندر بڑھ گئے
❥❥═════❥❥❥
شاپنگ سمیٹ کر انہوں نے ڈنر کیا اور زویا کے کمرے کی جانب بڑھ گئیں
“اب ایک چکر اور لگے گا بازار کا اور پھر جان چھوٹ جائے گی ”
منہا نے کہا
“ہاں یار بہت مشکل ہے یہ شاپنگ مجھے تو بہت مزہ اتا تھا شاپنگ کرنے میں لیکن عقل تو اب ٹھکانے پہ لگی ہے ”
ساتھ ہی منہا ہنسی تھی
“منہا ایک بات پوچھوں تم سے مجھ سے جھوٹ مت بولنا ”
زویا نے کچھ سنجیدگی سے کہا تھا
“ہاں پوچھوں ”
منہا کی ساری توجہ زویا کی طرف تھی
” تم بہرام بھائی سے ۔۔۔۔”
“زویا پلیز مجھے اس ٹوپک پہ کوئی بات نہیں کرنی ”
“لیکن مجھے کرنی ہے تمہاری طبیعت تو بلکل ٹھیک تھی لیکن جیسے ہی امل نے شادی کی بات تمہارا موڈ اوف ہو گیا اور اب بھی ہمارا ارادہ ڈنر باہر کرنے کا تھا لیکن بہرام بھائی اور ایمان کو دیکھنے کے بعد تمہارا موڈ پھر اوف ہو گیا ”
“ایسا کچھ نہیں ہے زویا ”
“بلکل ایسا ہی ہے جب تک تم مجھے نہیں بتاؤ گی تب تک میں تمہاری جان نہیں چھوڑوں گی ”
زویا کی اتنی ضد کی وجہ سے منہا اسے سب کچھ بتاتی گئی
اور ساتھ ہی آنسو اس کے چہرے کو تر کر رہے تھے
“منہا کنٹریکٹ کا اتنا ایشو تو نہیں تھا جتنا تم نے بنا لیا معملہ سورٹ اوٹ بھی ہو سکتا تھا ”
“لیکن منہا وہ کونسا مجھ سے محبت کرتا تھا صرف پیسوں کے لئے اس نے میرا اتنا خیال رکھا اگر مجھے کنٹریکٹ والی بات پہلے پتہ ہوتی میں کبھی اتنا آگے نا بڑھتی اب ایمان کے ساتھ میں یہ برداشت نہیں کر سکتی ”
منہا کے آنسو تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے
“اور جو تھپڑ مارا ہے تم نے بہرام بھائی کو وہ ”
“ایمان کے ساتھ وہ شادی کر رہا تھا اور مجھے چیٹ یہ چیز مجھ سے برداشت نہیں ہوئی تب میں ہائپر ہو گئی تھی تم نے دیکھا نہیں وہ کتنا خوش ہے ایمان کے ساتھ ”
زویا نے اسے آگے بڑھ کر گلے سے لگا لیا کافی دیر تک منہا روتی رہی زویا نے بھی چاہا کے وہ دل ہلکا کر لے
منہا آنسو صاف کر کے الگ ہوئی
” میں اب باہر چلی جاؤں گی آپنی اسٹڈیز کے لئے اور کبھی یہاں واپس نہیں آؤں گی ”
“منہا یہ کیسے پوسیبل ہے تم ایک انسان کی خاطر باقی کو کیوں چھوڑ کر جا رہی ہو ”
“وہ کسی اور کے ساتھ رہے میں یہ نہیں دیکھ سکتی ”
“بہرام بھائی نے اتنی دفعہ اعتراف کیا تم سے آپنی محبت کا اگر تم نہیں مانی تو اس میں ان کا کوئی قصور نہیں ہے ”
“وہ نہیں کرتا مجھ سے محبت وہ صرف پیسوں کے لئے مجھے خوش رکھ رہا تھا ”
زویا کا سمجھانا بیکار تھا اس لئے وہ خاموش ہو گئی
❥❥═════❥❥❥
اگلے دن منہا شاپنگ مکمل کی زویا مایوں بیٹھ چکی تھی منہا گھر واپس آ چکی تھی
رات کو منہا ہال میں بیٹھی ہوئی تھی سارے گھر میں سناٹا تھا سب لوگ سو رہے تھے گھڑی رات کا ایک بجا رہی تھی
اسلم صاحب پانی پینے کے لئے کچن میں آے لیکن منہا کو ہال میں دیکھ کر ٹھٹھک گئے
“منہا بیٹا خریت یہاں بیٹھی ہو ”
“جی بابا بس نیند نہیں آ رہی تھی تو یہاں بیٹھ گئی کمرے میں دل گھبرا رہا تھا ”
“بیٹا طبیعت تو ٹھیک ہے نا تمہاری ”
اسلم صاحب نے پاس بیٹھتے ہوے پوچھا
“جی بابا میں بلکل ٹھیک ہوں بس تھک گئی ہوں ”
منہا نے اپنا سر ان کے کندھے پہ ٹکا دیا
“میری بیٹی اتنی بڑی ہو گئی ہے کے اب اپنے بابا سے بھی باتیں چھپائے گی ”
“نہیں بابا ایسی کوئی بات نہیں ہے ”
“تو پھر کیسی بات ہے ؟”
اسلم صاحب نے اس کی پیشانی پہ بھوسہ دیتے ہوے کہا
“بابا آپ میرے ڈائیورس پیپرز بنوا دیں ”
منہا کی اس بات پہ اسلم صاحب چونک گئے تھے
“میں باہر جانا چاہتی ہوں بابا اسٹڈیز کے لئے آپ پلیز میرے پیپرز بنوا دیں ”
اسلم صاحب پریشان ہو گئے تھے
“اچھا جیسے میرا بیٹا خوش ہو گا وہی ہو گا بس فرقان کی شادی سے فری ہو جائیں تو پھر آپ کے کام بھی کر دوں گی ”
“تھنک یو بابا ”
منہا نے ان کے گلے میں باہیں ڈالتے ہوے کہا
“اچھا اب سو جاؤ بہت دیر ہو گئی ہے ”
“جی بابا ”
منہا اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی ور اسلم صاحب وہیں بیٹھ کر اس کی باتوں میں ڈوب گئے پھر تھوڑی دیر بعد وہاں سے اٹھ کر کمرے میں چلے گئے
❥❥═════❥❥❥
منہا کمرے میں چلی گئی لیکن نیند ابھی بھی کوسوں دور تھی
اس نے لیپ ٹاپ اون کیا ور فیس بک کھول کر بیٹھ گئی نا چاھتے ہے بھی اس نے بہرام کی پروفائل کھولی جہاں آج کے فنگشن کی تصویر تھی
وائٹ کرتا شلوار گلے میں پیلے رنگ کی پٹی بال جل کے ساتھ سٹ کئے ہوے کسی کو بھی زیر کرنے کا ہنر رکھتا تھا
منہا کے دل میں ایک بیٹ مس ہوئی تھی
لیکن اگلی تصویر نے اس کا دل جلا دیا
ایمان کے ساتھ تصاویر تھی
منہا کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو نکلے تھے
اس نے لیپ ٹاپ سائیڈ پہ رکھ دیا اور سونے کے لئے لیٹ گئی جلد ہی نیند اس پہ مہربان ہوئی تھی
❥❥═════❥❥❥
آج مہندی کا فنکشن تھا منہا اور افشاں صبح سے بزی تھی
اسلم صاحب اس وقت ہال میں بیٹھے تھے ان کے دماغ میں منہا کی رات والی باتیں ہی گردش کر رہی تھی
“بابا خریت آپ پریشان لگ رہے ہیں صبح سے ”
فرقان نے پوچھا
“میں منہا کی وجہ سے پریشان ہوں ”
انہوں نے رات والی بات اسے بتا دی
“بابا آپ فکر نا کریں سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا بس یہ شادی کے دو دن گزر جائیں ”
فرقان نے انہیں تصلی دی
منہا تھک کر صوفہ پہ گرنے کے انداز میں بیٹھی تھی
“کیا میری گڑیا کو ”
“کچھ نہیں بھائی بہت تھک گئی ہوں ”
تبھی افشاں بیگ اٹھا کر ہال میں آئ
“منہا اٹھو اب چلیں ”
“کہاں جا رہے ہیں آپ لوگ بھابھی ؟”
“پالر جا رہے ہیں اگر یہ آج کی تاریخ میں اٹھ گئی تو ”
منہا نے افشاں کی طرف دیکھا اور اٹھ کھڑی
“چلیں ”
دونوں باہر کی جانب بڑھ گئی
پہلے ایمان کی مہندی تھی جو شام میں ہی شروع ہو گئی تھی بارہ بجے زویا اور فرقان کی مہندی کا فنکشن کا تھا
❥❥═════❥❥❥
منہا اور افشاں پالر میں تھیں زویا پہلے سے ہی وہاں موجود تھی ٹھیک ساڑھے گیارہ وہ لوگ تیار تھی
منہا نے ڈرائیونگ سیٹ سمبھالی اور زویا آگے اس کے ساتھ بیٹھ گئی
افشاں بیک سیٹ پہ تھی
منہا نے پانچ منٹ ڈرائیو کر کے گاڑی روک دی
“یار نہیں چل رہی اتنا تیار ہو کر ”
“جب کہا تھا ڈرائیور کو بلوا لیں تب تم نے بات نہیں مانی اب چلاؤ ”
افشاں نے کہا تھا
“منہا ہم لیٹ ہو رہے ہیں جلدی کرو ”
منہا نے گاڑی پھر سے سٹارٹ کی اب وہ بہت آہستہ چلا رہی تھی جیسے کوئی دھکا لگا رہا ہو بارہ بج چکے تھے اور احمد کی کال آنی شروع ہو گئی تھی
“منہا پلیز میری مہندی ہے آج جلدی چلا لو ”
منہا نے دوبارہ سے گاڑی روک دی
“اب کیا ہو گیا ہے ؟”
وہ دونوں زچ ہو رہی تھی
“یہ گجرے اتارو ”
منہا نے اپنے ہاتھ آگے بڑھا دئے
منہا نے زویا کی طرف اشارہ کیا
زویا نے پہلے اس کی طرف دیکھا اور پھر افشاں کی طرف افشاں نے ہاں میں سر ہلا دیا
زویا نے اتار کر ڈش بورڈ پہ رکھ دئے
منہا نے اپنا کام دار دوپٹہ اتار کر زویا کی گود میں رکھ دیا
زویا اور افشاں اس کی حرکت نوٹ کر رہی تھی اس نے چوڑیاں اتار کر ڈش بورڈ پہ رکھ دی
بال کچر میں قید کئے اور گاڑی سٹارٹ کر دی پندرہ منٹ کا فاصلہ اس نے دو منٹ میں طے کیا
دونوں ہونقوں کی طرح منہا کو دیکھ رہی تھیں
“اب میری شکل کیا دیکھ رہی جو اترو ”
منہا نے ہنستے ہوے کہا
“آپنی حالت درست کرو پہلے ”
زویا نے بامشکل ہنسی کنٹرول کی تھی
“تم لوگ چلو میں آتی ہوں ”
افشاں زویا کو لے کر اندر چلی گئی
منہا نے چوڑیاں پہن لی لیکن گجرے پہننے کی ناکام کوشش کر رہی تھی
اس نے دوپٹہ سیٹ کیا موبائل اور گجرے اٹھا کر گاڑی لاک کی موبائل گاڑی پہ رکھ کر پھر سے پہننے کی ناکام کوشش کی اسے بہرام اور ثمر آتے دکھائی دئے
وہ بہرام کو نیچا دکھانے کا سوچ رہی تھی
“ثمر بھائی بات سن لیں پلیز ایک منٹ ”
“کیا ہوا ؟”
اس نے گجرے آگے کر دئے
ثمر کے ساتھ ساتھ بہرام بھی سمجھ چکا تھا
بہرام نے جلدی سے موبائل پہ ثمر کو کال کی ثمر نے اس کا نمبر دیکھا اورمنہا سے ایکسکیوز کرتا ہوا وہاں سے چلا گیا اب وہاں صرف منہا اور بہرام تھے بہرام قدم اٹھاتا ہوا اس کے پاس آ گیا اور گجرے اس کے ہاتھ سے لے لئے
لیکن منہا کو اس پہ شدید غصہ تھا
اس نے گجرے اس کے ہاتھ سے کھینچ کر توڑ دئے بہرام تو حیرانی سے اسے دیکھ رہا تھا
“تمھارے ہاتھ سے پہننے سے بہتر ہے میں اسے توڑ دوں ”
اور وہاں سے واک آوٹ کر گئی
بہرام نے آگے بڑھ کے اس کا ہاتھ تھام لیا گرفت اتنی مضبوط تھی کے چوڑیاں ٹوٹ کر اس کے ہاتھ میں لگ گئی
“بہرام مجھے درد ہو رہی ہے چھوڑو”
اس کی آنکھوں میں نمی تھی
“اگر نا چھوڑوں تو ”
“مجھے چھوڑو اور جاؤ ایمان کے پاس انتظار کر رہی ہو گی تمہارا ”
بہرام کے ہونٹوں پہ دلفریب مسکراہٹ تھی
اس نے منہا کا ہاتھ چھوڑ دیا جس میں سے خون نکل رہا تھا بہرام کی مسکراہٹ غایب ہو گئی تھی
“یہ یہ ۔۔۔”
“پلیز بہرام جانے دو ”
منہا ہاتھ چھوڑا کر وہاں سے بھگ گئی بہرام کو خود پہ افسوس ہو رہا تھا
❥❥═════❥❥❥
تو کسی لگی آپ کو یہ قسط اپنی آراء کا اظہار ضرور کیجے گا ۔ شکریہ ۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: