Kis Jurm Ki Saza Mili Novel by Maham Shoukat – Episode 17

0
کس جرم کی سزا ملی از ماہم شوکت – قسط نمبر 17

–**–**–

❥❥═════❥❥❥
منہا ہال میں ایک سائیڈ پہ آکر بیٹھ گئی چوڑی کافی گہرائی میں لگی تھی خون نکلنا بند نہیں ہو رہا تھا
اس کی آنکھوں میں آنسو تھے
افشاں نے منہا کو دیکھا اور وہ اس کے پاس آ گئی
“منہا کیا ہوا ہے رو کیوں رہی ہو ”
منہا نے اپنا ہاتھ آگے بڑھا دیا
“اوہو یہ کیسے ہوا ؟”
“بھابھی ہاتھ دیوار میں لگ گیا تھا ”
منہا جان بوجھ کر سچ چھپا گئی تھی
“تم ڈاکٹر پاس چلی جاؤ بینڈایج کروا کر آ جانا ”
افشاں زخم دیکھ کر سچ میں پریشان ہو رہی تھی
“بھابھی بس جا رہی ہوں اگر کوئی فری ہوا تو ”
منہا کو عفان آتا ہوا دکھائی دیا عفان اس کی خالہ کا بیٹا ہے کزن ہونے کے ساتھ ساتھ بہت اچھا دوست بھی ہے
منہا نے عفان کو اپنے پاس بلایا
“عفان پاس ہی ہسپتال ہے میرے ساتھ چلو گے مجھے بینڈایج کروانی ہے ”
عفان نے اس کا ہاتھ دیکھا جہاں سے ابھی بھی خون نکل رہا تھا
“پہلے نہیں بتا سکتی تھی تم ”
عفان نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا
اور اسے باہر کی طرف لے گیا
“بھابھی پاپا اور زویا کو بتا دینا بس ابھی آتی ہوں میں ”
منہا نے جاتے ہوئے کہا
بہرام ابھی تک باہر گاڑی کے بونٹ پہ بیٹھا منہا کے بارے میں ہی سوچ رہا تھا
عفان منہا کا ہاتھ پکڑ کر پارکنگ میں لے آیا ہسپتال پاس ہی تھی اس لئے انہوں نے پیدل جانے کا فیصلہ کیا
بہرام کی نظر منہا پہ پڑی پھر اس کے ساتھ لڑکے پہ اور پھر منہا کے ہاتھ کی طرف جسے دیکھ کر بہرام جھلس گیا تھا کیوں کے عفان نے اس کا ہاتھ تھاما ہوا تھا
بہرام اتر کر ان کی طرف بڑھ گیا
“کہاں جا رہی ہو ؟”
“تمہیں اس سے کوئی مطلب نہیں ہونا چاہیے میں جہاں مرضی جاؤں ”
عفان نا سمجھی سے ان دونوں کو دیکھ رہا تھا وہ چار سال بعد آپنی اسٹڈیز مکمل کر کے آیا تھا آج صبح ہی آیا تھا اس لئے وہ پاکستان میں ہونے والے اس واقع سے بلکل نا واقف تھا
“یہ کون ہے ؟”
بہرام نے عفان کو طرف اشارہ کیا
منہا نے چہرہ دوسری جانب کر لیا جیسے اسے بہرام سے کوئی بات نہیں کرنی
“چلو آؤ میرے ساتھ میں لے جاتا ہوں بینڈ ایج کروانے ”
بہرام نے عفان سے ہاتھ چھوڑوا کر خود پکڑ لیا
“چھوڑو میرا ہاتھ ”
منہا نے ایک جھٹکے میں ہی ہونا ہاتھ کھینچ لیا خون کی رفتار زیادہ ہو گئی تھی
“زخم دے کر مرہم لگانے کی باتیں اچھی نہیں لگتی مسٹر بہرام خان ”
اتنا کہہ کر اس نے عفان کا ہاتھ پکڑا اور واک آؤٹ کر گئی
سارے راستہ منہا اور عفان نے اس بارے میں کوئی بات نہیں کی
دس منٹ تک وہ لوگ واپس آ گئے تھے
اب وہ دونوں ایک ٹبیل پہ بیٹھے تھے
“کون تھا وہ ؟”
“عفان ابھی مجھے اس کے بارے میں کوئی بات نہیں کرنی گھر جا کر سب بتا دوں گی ابھی ہم انجوائے کرتے ہیں ”
“جیسی تمہاری مرضی ”
وہ دونوں اٹھ کر اسٹیج کی جانب بڑھ گئے
زویا جاتے ہی منہا پہ برس پڑی تھی منہا نے اسے ہاتھ دکھایا تو زویا چپ ہو گئی
منہا نے سارے فنکشن میں بہرام کو مکمل طور پہ اگنور کر دیا اور عفان کے ساتھ اس نے بھر پور انجوائے کیا
مہندی کا فنکشن اختتام کو ہوا اور سب لوگ گھر چلے گئے
❥❥═════❥❥❥
منہا چینج کر کے نیچے آ گئی
سب لوگ سو چکے تھے عفان فرقان اور منہا ہال میں بیٹھے تھے سردی کافی ہو رہی تھی پہلے انہوں نے چائے پی اور پھر باتیں کرنے لگے
“منہا کون تھا وہ ؟”
“بہرام ”
پھر منہا نے اسے سب کچھ بتا دیا فرقان خاموش بیٹھا اس کی گفتگو سن رہا تھا
منہا سب بتا کر خاموش ہو گئی
پھر فرقان نے اسے اس کنٹریکٹ کے بارے میں بھی سب بتا دیا
منہا کا دماغ کام کرنا بند کر گیا وہ اٹھی اور اپنے کمرے میں چلی گئی
لیکن اب ان سب کا کوئی فائدہ نہیں تھا کل ایمان اور بہرام کو شادی ہونے والی تھی وہ روتے روتے سو گئی
❥❥═════❥❥❥
آج برات تھی منہا صبح سے بوجھل طبیعت کے ساتھ کام کر رہی تھی
شام کے پانچ بجے منہا زویا اور افشاں پالر میں تھی منہا نے موبائل آن کیا اور فیس بک کھول کر بیٹھ گئی اس کے تو ہوش اڑ گئے جب اس نے بہرام کی پروفائل پہ ایمان کی شادی کی تصاویر دیکھی
“اس کا مطلب بہرام نے واقعی شادی کر لی
مجھ سے محبت کے دعوے کرتا تھا اور اب آسانی سے کسی اور کا ہو گیا ”
منہا کی آنکھوں میں آنسو سے
“میم ”
پالر والی لڑکی نے اس کا مبہوت توڑا
“اگر آپ اس طرح روتی رہیں تو میک اپ کرنا مشکل ہو گا ”
منہا نے ہاں میں سر ہلا دیا
“منہا کیا ہوا ہے ؟”
افشاں نے پوچھا زویا بھی اس کی طرف متوجہ تھی
“کچھ نہیں بھابھی ”
منہا نے سر نفی میں ہلا کر پالر والی کو اشارہ کیا اور خود آنکھیں بند کر کے ٹیک لگا لی
زویا اور افشاں اچھی طرح جانتی تھی کے کس وجہ سے ایسا ہو رہا ہے
بہت کوشش کے باوجود بھی منہا کی آنکھیں بھیگ جاتی تھیں
❥❥═════❥❥❥
سب لوگ ہال میں آ چکے تھے
مہمان بھی آ چکے تھے
زویا رائل بلیو ٹیل گاؤن پہن رکھا تھا فرقان نے اوف وائٹ شیروانی پہن رکھی تھی جس میں ہلکا سا رائل بلیو ٹچ تھا جس میں وہ بہت جچ رہا تھا
دونوں کی جوڑی کو سب نے بہت سراہا تھا
منہا نے پیچ کلر کی میکسی زیب تن کی ہوئی تھے بالوں کا جوڑا کیا ہوا تھا دونوں سائیڈ سے کچھ لٹیں باہر نکل کر اس کے چہرے کو چھو رہی تھی
آنکھوں کے ڈورے ابھی بھی سرخ تھے
“تم یہاں کیوں کھڑی ہو ؟”
“ویسے ہی دل نہیں کر رہا ”
منہا نے جواب دیا
“منہا ایک بات یاد رکھنا جو کبھی ہمارا نہیں ہو سکتا نا اس کے بدلے کبھی آپنی لائف خراب مت کرو ”
“لیکن جب دل ہی اس کے حق میں ہو تو کیا کیا جا سکتا ہے ”
“تم نے وہ گانا نہیں سنا
دل تو بچا ہے
تھوڑا کچا ہے ”
ساتھ ہی دونوں کا قہقہ بلند ہوا تھا
“ہستی رہا کرو اچھی لگتی ہو ”
“I’ll take its as a complement ”
تبھی ایمان اور بہرام ہال میں داخل ہوے تھے بہرام منہا کو دیکھ کر ٹھٹھک گیا تھا
ایمان نے اس کی نظروں کا تاقب کے تھا
“بہرام چلو اب یا یہیں کھڑے رہنا ہے ”
ایمان زچ ہو گئی تھی
“ہاں چلو ”
بہرام اور ایمان مہمانوں سے مل رہے تھے
بہرام کی نظر بار بار منہا کی طرف اٹھ رہی تھی
منہا عفان کے ساتھ اسٹیج پہ موجود تھی
ساری رسم ہو چکی تھی اب لاسٹ پہ دودھ پلائی کی رسم باقی تھی
زویا کو تو کوئی بہن نہیں تھی اس لئے یہ رسم امل نے کی
“بھائی ایک لاکھ چاہیے مجھے تو ”
“اگر پیسے لینے تھے تو پہلے بتا دیتی میں دودھ ہی نا پیتا ”
فرقان نے کہا اور سب ہنس پڑے
“بھائی یہ تو کوئی بات نہیں ہوئی ”
امل روہانسی ہو گئی
“اگر دودھ کے بدلے پیسے لینے ہیں تو ہم ابھی آپ لوگوں کو دودھ واپس کر دیتے ہیں کیا خیال ہے ”
سب لڑکے والوں نے حامی بھر لی
لیکن اسلم صاحب کی مداخلت کی وجہ سے فرقان نے امل کو پیسے دئے اور امل شور کرتی ہوئی نیچے آ گئی
❥❥═════❥❥❥
گھر پہنچ کر رسم وغیرہ ہوئی تو منہا اور افشاں زویا کو روم میں بیٹھا کر خود باہر آگئی فرقان اندر جانے لگا تو انہوں نے راستہ روک لیا عفان بھی ان کے ساتھ ہی تھا ان کے علاوہ عفان کی سسٹر بھی وہیں موجود تھی
“پیسے دو اور راستہ لو ”
منہا نے علان کیا اور باقی تینوں نے اس کی حامی بھری
“پہلے وہ امل کنگال کر چکی ہے اب تم چاروں آ گئے ہو ”
“جو بھی سمجھو
ساڈا حق اتھے رکھ ”
عفان نے بلند آواز میں نعرہ لگایا
“یہ پکڑو اور جانے دو مجھے ”
فرقان نے بیس ہزار ان کو تھما دئے
“اوہ ہیلو مسٹر فرقان پانچ ہزار میں تو میرا کچھ نہیں بننا اور دو ”
عفان نے ہانک لگائی
تبھی احمد بھی وہیں پہ آ گیا
“شکر بھائی آپ آ گئے جان چھوڑوا دیں ان سے میری پلیز ”
“کتنے دئے ہیں ؟”
“بھیا صرف بیس ہزار مطلب سب کے لئے صرف پانچ پانچ ہزار ”
منہا نے کہا
“کم تو نہیں ”
ان کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کے احمد بتا رہا ہے یا پوچھ رہا ہے
افشاں نے احمد کو گھوری سے نوازہ
“چلو فرقان خود ہی نبٹ لو اب تو ”
احمد نے فوراً کہا
“بھائی یہ کیا بات ہوئی آپ بھابھی سے ڈر گئے ”
“ڈرتا نہیں ہوں بس پیار کرتا ہوں کیا خیال ہے ”
ساتھ ہی احمد نے آنکھ دبا کر افشاں کی طرف اشارہ کیا
افشاں سب کے سامنے تھوڑی شرمندا ہوئی تھی
“اچھا یہ لو دس ہزار اور اب تو جانے دو ”
فرقان نے جلد ہی بات بدل دی
اس نے پیسے دئے اور باقی نے راستہ چھوڑ دیا اور اپنے اپنے کمرے میں چلے گئے
منہا نے جا کر چینج کیا اور سونے کہ لئے لیٹ گئی لیکن اس کی آنکھوں میں ابھی بھی بہرام اور ایمان گھوم رھے تھے اس نے سر جھٹک دیا
اس کے کانوں میں عفان کی آواز گونجی
❥❥═════❥❥❥
تو کسی لگی آپ کو یہ قسط اپنی آراء کا اظہار ضرور کیجے گا ۔ شکریہ ۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: