Kis Jurm Ki Saza Mili Novel by Maham Shoukat – Episode 2

0
کس جرم کی سزا ملی از ماہم شوکت – قسط نمبر 2

–**–**–

❥❥═════❥❥❥
“السلام عليكم بابا ”
منہا نے اسلم صاحب کہ گرد بازو حائل کئے
“ارے میرا بچہ کیسا ہے؟” اسلم صاحب نے پیار بھری نگاہ سے دیکھا
“میں بلکل ٹھیک بابا ! آپ کیسے ہیں ”
“اپنے بیٹے کو دیکھ لیا خوش ہو گیا”
“خریت اتنی جلدی واپس آ گئی ”
“جی بابا بس بہت اداس ہو رہی تھی دل بھی نہیں لگ رہا تھا اس لئے آ گئی ”
“کب آے آپ لوگ ”
“بابا کافی لیٹ ہو گئے تھے میں آئ تھی لیکن آپ سو چکے تھے”
“ہاں بیٹا میں کافی تھک گیا تھا “ان کہ چہرے پہ تھکن کہ اثرات ابھی تک موجود تھے
“چلو ناشتہ کریں”
“جی بابا ”
ناشتہ کر کہ وہ فارغ ہوۓ تو منہا نے فرمائیش کی
“بابا مجھے آج کھیتوں میں جانا ہے بہت دل کر رہا ہے باہر جانے کو ”
“اچھا ٹھیک ہے احمد اور فرقان کہ ساتھ چلی جانا اتوار ہے وہ گھر ہی رہیں گیں”
“کہاں جانے کی تیاری ہو رہی ہے ” احمد نے محبت پاش نظروں سے منہا کو دیکھا
“بھیا مجھے باہر جانا ہے کھیتوں میں گھومنے کہ لئے پلیز آپ لوگ چلیں میرے ساتھ

منہا نے لاڈ لڈاتے ہوۓ کہا
“میری پرنسیس جہاں کہے گی وہیں جایں گے ”
“تھنک یو سو مچ بھائی ”
“لیکن اک شرط پہ ”
“کونسی ؟” منہا نے حیرت سے پوچھا
“یہ جینز اور شرٹ نہیں اس کی جگہ کوئی اور ڈریس پہن لو ”
منہا بلیک جینز کہ اوپر گھٹنوں تک آتے پنک ٹوپ میں تھی بال کندھے پہ بے اختیاری سے پھیلے ہوۓ تھے گلے میں سکارف جھول رہا تھا اور آنکھوں پہ چشمے کا پہرا تھا جس کی وجہ سے اکثر فرقان اسے چشمیش بولتا تھا اس نے ایک نظر اپنے وجود پہ ڈالی اور بولی
“اچھا ٹھیک ہے آپ بٹھیں میں ابھی تیار ہو کر آتی ہوں”
منہا اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی
“جلدی آ جانا”
“آتی ہوں اب تیار ہونے میں تھوڑا ٹائم تو لگے گا”
❥❥═════❥❥❥
“منہا بیٹا کب اؤ گی واپس اب”
“بابا اب تو شاید ایک مہینہ لگ جائے ” منہا جو ناشتہ کرنے میں مصروف تھی بغیر سر اٹھائے جواب دیا
“کیوں بیٹا اتنی دیر کیسے رہو گی ” اسلم صاحب نے فکر مندی سے پوچھا
“جی بابا لیکن ایگزیمز کی وجہ سے جلدی واپس نہیں آ سکتی ” منہا بھی تھوڑا اداس ہو گئی تھی کبھی بھی وہ دو ہفتے سے زیادہ ہوسٹل نہیں رہی
وہ گھر سے زیادہ دیر تک دور کہیں نہیں رہی تھی اگر جاتی تو دو دن بعد ہی واپس آ جاتی
“بیٹا ہم اداس ہو جاتے ہیں یہ تو پھر بھی ایک مہینہ ہے ”
“کوئی بات نہیں بابا آپ فکر نا کریں ہم ملتے رہیں گیں اس سے ”
احمد نے تسلی دی
“جی بابا بس پانچ منٹ کی ڈرائیو پہ تو ہوسٹل ہے اس کا ”
فرقان نے مزید کہا
” ٹھیک ہے ” اسلم صاحب نے ایک ٹھنڈی آہ بھرتے ہوۓ کہا
“اچھا بابا ہم چلتے ہیں لیٹ ہو رہے ہیں ”
احمد نے اٹھتے ہوۓ کہا
“فرقان تم نہیں جا رہے ” اسلم صاحب نے فرقان سے کہا جو ابھی تک ٹراوُزر شرٹ میں تھا
“بابا نہیں میں تھوڑا لیٹ جاؤں گا ”
“اچھا بوا اللہ‎ حافظ ”
“اللہ‎ حافظ! اللہ‎ میری بچی کو اپنے حفظ و ایمان میں رکھے ”
منہا اور احمد جا چکے تھے ۔۔۔۔۔۔
❥❥═════❥❥❥
” منہا بہت بد تمیز ہو تم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں اب تم سے بات نہیں کر ہی ”
زویا نے اسے دیکھتے ہی بولا
“کیوں یار میں نے کیا کہا ہے ”
“میڈم جی جاتے ہوے بتا تو دیتی گھر جا رہی ہو جو مووی دیکھنے کا پلین کیا تھا سارا خراب کر دیا تم نے ”
“سوری سوری یار مجھے یاد نہیں رہا پلیز سوری ”
منہا نے التجایہ انداز میں کہا
“کوئی سوری نہیں بس بہت ہو گیا اب نہیں ”
“پلیز مان جاؤ نہ اگلی دفعہ ایسا نہیں ہو گا پکا”
وہ دونوں زیادہ دیر تک ناراض نہیں رہ سکتی تھی اس لئے جلد ہی مان گئی
“اچھا یہ بتاؤ پپرز کی تیاری ہو گئی تمہاری”
“ہاں ہو گئی ہے بس اب اچھے مارکس آ جایں اور کچھ نہیں”
“ڈونٹ ووری یار ہمیشہ کی طرح ہمارا رزلٹ بہت اچھا آے گا ”
“انشااللہ‎ ”
“اچھا مجھے لائبریری جانا ہے تم بھی چلو ہاں چلو ”
“اب کل سے میں یونی نہیں آ رہی”
” کیوں ”
منہا نے حیرت سے پوچھا
‘یار پیپرز ہیں کلاسز تو ہو نہیں رہی ٹائم ہی ضائع کرنا ”
“لیکن میں کیا کروں گی اکیلی ”
“پریشان کیوں ہو رہی ہو ہمارے گھر آ جانا
ٹھیک میں بھیا سے پوچھ کے بتا دوں گی ”
اس نے کچھ سوچتے ہوے کہا
“اب چلیں”
“ہاں چلو”
پتہ ہی نہیں چلا کیسے پیپرز ختم ہو گئے
فرقان اور احمد گاہے بگاہے اسے ملنے آتے رہے آج اس نے واپس جانا تھا زویا اس سے ملنے ہوسٹل آئ تھی
“یار اب کب آؤ گی ملنے زویا تم اب گاؤں آنا پھر میں تمہیں اپنا گاؤں دکھاؤں گی ”
“ضرور آؤں گی آپنی دوست سے ملنے ”
فرقان نیچے اسے لینے کہ لئے کھڑا تھا
دونوں نے نیچے آ کر فرقان کو سلام کیا زویا اپنے گھر روانہ ہو گئی اور وہ دونوں گاؤں کی طرف نکل پڑے
❥❥═════❥❥❥
السلام عليكم!
آواز سنتے ہی اس کہ چہرے پہ مسکراہٹ چاہ گئی
وعلیکم السلام !
“کیسے مزاج ہیں جناب کہ؟”
“بس آپ کا خیال ہے ”
متبادل اگے سے مسکرا گیا
“جھوٹ”
“لو جی جھوٹ کیوں واقع تمہیں یاد کر رہا تھا میں”
اس کے ماتھے پہ شکن آ گئے
“اچھا جی تو آپ بتانا پسند کریں گے کہ کیوں یاد کیا جا رہا تھا ”
“آپ کو یاد کرنے کہ لیے کوئی وجہ درکار نہیں ہے دن کا چین رات کا سکون سب آپ نے برباد کیا ہے ”
وہ آپنی ہنسی دبانے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔
“اہ یہ کیا چیپ ڈائلاگ ہیں ”
“ہاہاہاہا”
دوسری جانب سے قہقه بلند ہوا
لیکن دوسری طرف سے غصے میں آواز ابھری
“آپ۔۔۔۔۔۔”
“کتنی دفعہ کہا ہے ایسے ڈائلاگ مت بولا کرو میرے ساتھ ”
“اچھا تو آپ بتایں نہ کہ کسی باتیں کیا کروں آپ کہ ساتھ! ابھی تو شادی نہیں ہوئی ”
“تم کسی دن مرو گے میرے ہاتھوں ”
“یار بات تو سنو”
“اتنا شرماتی کیوں ہو دوسری لڑکیوں کی طرح بات کیا کرو جیسے وہ کرتی ہیں ”
“کیا مطلب آپ کا۔ کس کس سے بات کرتے ہیں آپ ”
” اچھا جی تو اب مجھ پے شک کرو گی۔ تم ”
اس نے شرارتی انداز میں کہا
” مجھے کوئی بات نہیں کرنی آپ سے ” خفگی سے کہا
“چڑیل بات تو سنو میری ”
لیکن تب تک فون بند ہو چکا تھا
اس نے مسکرا کر فون سائیڈ پہ رکھ دیا
❥❥═════❥❥❥
” ہیلو میڈم کہاں غائب ہو تم ”
منہا کی چیختی ہوئی آواز تھی
“کہیں نہیں یار بس خالہ کہ پاس گئی تھی ادھر بزی بہت تھی ٹائم نہیں ملا”
“او سہی کیسا رہا پھر”
“بہت مزے کا تھا بہت انجوئے کیا میں نے ”
“تو پھر کب آ رہی ہو میرے پاس ”
“ابھی تو نہیں کچھ دن تک ضرور آؤں گی ”
“لیکن کیوں ؟میں بہت اداس ہوں آ جاؤ نا تم جلدی پلیز”
“ماما بابا نے تو اجازت دے دی ہے لیکن ۔۔۔۔”
اس نے جملہ ادھورا چھوڑ دیا
“لیکن کچھ نہیں بس آ رہی ہو تم ”
“میں کیسے آؤں بابا گھر نہیں ہیں اور بھائی بھابھی کہ ساتھ گئے ہیں ”
“مجھے کچھ نہیں سننا بس جلدی آؤ
میری آنٹی ساتھ بات کرواؤ تم ”
اس نے کچھ سوچتے ہوے کہا
“ماما کو۔ کیا کہنا ہے تم نے ”
نا سمجھنے والے تاثر سے کہا
“بس کرواؤ بتاتی ہوں ”
“روکو کرواتی ہوں ۔۔۔۔ ماما یہ منہا سے بات کر لیں ”
سلام دعا کہ بعد منہا نے اپنا مدعا بیان کیا
“لیکن بیٹا یہ آے گی کس کہ ساتھ ؟گھر کوئی نہیں ہے ”
“اسی لیے تو آپ سے بات کر رہی ہوں پلیز انکار مت کیجیے گا ”
اچھا بولو
“فرقان بھائی ساتھ آ جائے گی بس وہ آفس سے نکلنے والے ہوں گے ۔۔ آنٹی پلیز۔ ”
منہا کا لہجہ بہت التجایہ تھا وہ انکار نہیں کر سکی
“اچھا بیٹا لیکن اس کا دھیان رکھنا بہت لاپرواہ ہے یہ ”
اسما نے تاکید کی
“آنٹی آپ بلکل فکر نا کریں میں بھی اس جیسی ہوں ” ساتھ ہی منہا نے قهقه لگایا
اسما نے بھی ساتھ دیا زویا عجیب نظروں سے اسما کو دیکھ رہی تھی
“چلو۔ اللہ‎ حافظ بیٹا اپنا خیال رکھنا زویا تیاری کر لے ”
” جی آنٹی بہت بہت شکریہ آپ نے اجازت دے دی ”
” کوئی بات نہیں بیٹا ”
“اللہ‎ حافظ ”
منہا نے فون کر کے فرقان کو سب بتا دیا اور کہا کہ زویا کو ساتھ لے کر آے
فرقان کہ چہرے پہ ایک جاندار مسکراہٹ تھی
❥❥═════❥❥❥
“السلام عليكم آنٹی کیسی ہیں آپ ؟”
فرقان نے داخل ہوتے ہی کہا جو لاؤنج میں بیٹھی ٹی وی پہ کوئی شو دیکھنے میں مصروف تھیں
“وعلیکم السلام ! میں ٹھیک !تم کیسے ہو ”
“میں بھی ٹھیک ہوں ”
“بیٹھو بیٹا میں کچھ کھانے کہ لیے لے کر آتی ہوں ” انھوں نے کچن کی جانب رخ کیا
فرقان کی نگاہیں کسی اور کی تلاش میں تھی
کچھ دیر بعد اسما کچھ کھانے کہ سامان ساتھ باہر آئ
انھوں نے لوازمات فرقان کے سامنے رکھے اور خود سائیڈ پہ بیٹھ گئی
“آنٹی ہم لیٹ جو جایں گیں آپ زویا کو بلا دیں ”
فرقان نے گھڑی کی طرف دیکھا جو 6 بجانے کو تھی
“بیٹا چائے تو ختم کرو میں بلواتی ہوں ”
تبھی زویا کمرے سے باہر آتی دکھائ دی
“لو آ گئی ”
اسما نے اسے دیکھتے ہی کہا
جہاں فرقان زویا کو دیکھ کر مبہوت کھڑا رہا وہیں زویا اسے دیکھ کر ٹھٹھک گئی
فرقان نے اسما کا خیال کر کہ آپنی نگاہیں بدل لی
زویا اور فرقان اسما کہ ساتھ باہر آ گئے زویا خلاف توقع پیچھے بیٹھ گئی فرقان نے گاڑی سڑک پہ دوڑا دی تھوڑی دور جا کر اس نے گاڑی روک دی اور باہر نکل کر پچھلا دروازہ کھول دیا
“باہر نکلو ”
فرقان نے غصے سے کہا
زویا سہم گئی
“ل ل لیکن کیوں ”
“میں تمہارا ڈرائیور نہیں ہوں جو پیچھے بیٹھی ہو اگے آ کر بیٹھو نہیں تو یہیں پہ اتار دوں گا”
زویا نے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا اور نا چاھتے ہوۓ بھی آگے بیٹھ گئی
فرقان کہ۔چہرے پے اب غصے کی جگہ ایک جاندار مسکراہٹ تھی
❥❥═════❥❥❥
تو کسی لگی آپ کو یہ قسط اپنی آراء کا اظہار ضرور کیجے گا ۔ شکریہ

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: