Kis Jurm Ki Saza Mili Novel by Maham Shoukat – Episode 3

0
کس جرم کی سزا ملی از ماہم شوکت – قسط نمبر 3

–**–**–

❥❥═════❥❥❥
زویا گھر پہنچ چکی تھی سب سے ملنے کہ بعد ہال میں ہی بیٹھ کہ چائے پی اور وہی پے بیٹھی تھی تبھی بوا آئ
“بیٹا سامان گیسٹ روم میں رکھ دوں ”
بوا نے پوچھا
“ارے نہیں نہیں بوا میرے کمرے میں رکھیں ہم روم شیئر کر لیں گیں !کبرڈ سیٹ کر دیں آپ”
اچھا بیٹا ٹھیک ہے بوا ملاذمہ کو سامان کا کہہ کر اوپر چلی گئی
“جب میری گیسٹ آئ تھی میں نے بھی تو کہا تھا اس کہ ساتھ روم شیئر کر لو اسے اکیلے سونے کی عادت نہی ہے تب تو تم نے بہت صاف انکار کر دیا تھا کہ عادت نہیں ہے مجھے ”
زویا نے ابرو اچکا کر فرقان کو دیکھا اور ماتھے پہ کچھ شکن پڑ گئے
“بلکل کسی کہ ساتھ شیئر نہیں کر سکتی لیکن یہ میری بہت اچھی دوست اور بہن ہے اس لئے اس کہ ساتھ کوئی پرابلم نہیں ہے مجھے ”
“اچھا جی”
“ہاں جی جی ”
زویا بہت محو ہو کر دونوں کی گفتگو سن رہی تھی
“زویا چلو آ جاؤ فریش ہو جاؤ پھر ڈنر کرتے ہیں”
“ہاں چلو”
منہا زویا کو لے کر کمرے کی جانب بڑھ گئی
“واؤ منہا بہت خوبصورت کمرہ ہے تمہارا ”
زویا نے تاسف سے کہا
بیڈ کی بیک وال پہ منہا کی بڑی سی تصویر لگی تھی سائیڈ وال پہ ایک عورت گود میں کسی بچی کو اٹھاۓ ہوئی تھی ساتھ اسلم کی تصویر تھی جس سے وہ سمجھ گئی کہ یہ منہا کی ماما تھیں
ساتھ ہی ایک تصویر میں احمد اور فرقان تھے جو اس کے بال کھینچ رہے تھے ساتھ ہی کچھ بچپن کی بھی تھی
کچھ تصاویر زویا کہ ساتھ بھی تھی جو مختلف مواقع پہ لی گئی تھی اور ایک تصویر بوا کہ ساتھ تھی
زویا بہت دلچسپی سے ان تصاویر کو دیکھ رہی تھی منہا نے اس کا سحر توڑا
“زویا پتہ ہے تمہیں بس یہی لوگ میری کل کائنات ہیں ان کہ علاوہ کوئی نہیں ہے میرے پاس ”
ساتھ ہی منہا تھوڑی روہانسی ہوئی تھی کچھ آنسو اس کی آنکھوں سے چھلک پڑے تھے
بوا کمرہ سٹ کر کے جا چکی تھی
“میں نے ماں کے پیار کو زندگی میں بہت محسوس کیا ہے بابا بھائی بوا انہوں نے بہت پیار دیا مجھے کبھی ماما کی کمی نہیں محسوس ہونے دی لیکن ماما کہ لمس کہ لئے بہت ترسی ہوں میں ”
منہا اس کہ چہرے کو بغور دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“اچھا چلو فریش ہو جاؤ میں بھی کونسی باتیں لے کر بیٹھ گئی ہوں اگر ڈنر کہ لئے لیٹ ہو گئے تو ڈانٹ پڑے گی ”
منہا نے آنسو صاف کئے زویا واشروم کی طرف بڑھ گئی منہا کچھ دیر وہاں کھڑی رہی پھر سر جھٹک لیا

سب لوگ ڈنر پہ موجود تھے فرقان کہ علاوہ
پندرہ منٹ اوپر ہو چکے تھے لیکن وہ ابھی تک کمرے سے نہیں نکلا تھا
اسلم صاحب کہ چہرے سے صاف معلوم ہو رہا تھا کہ آج فرقان کی خیر نہیں
تبھی فرقان کمرے سے باہر آیا بلیک ٹراؤزر شرٹ میں ملبوس تھا خوبصورت وجاہت کا مالک زویا نے دل میں ایک بیٹ مس کی لیکن جلد ہی سمبھل گئی
“آج یہ تو گیا کام سے”
منہا نے سر گوشی کی
زویا نے نا سمجھنے والے تاثر سے منہا کو دیکھا
“پورے پندرہ منٹ لیٹ آیا ہے یہ ”
فرقان اسلم صاحب کا تاثر دیکھ چکا تھا اس لئے کسی کہ بھی کچھ کہنے سے پہلے بول پڑا
“سوری بابا تھوڑا لیٹ ہو گیا تھک گیا تھا تو آنکھ لگ گئی”
” تھوڑا لیٹ نہیں پورے پندرہ منٹ لیٹ ہی برخوردار”
اسلم صاحب نے گھڑی کی طرف اشارہ کیا
اس نے زویا کی طرف دیکھا جو آپنی ہنسی روکنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی
“بابا مہمان کا ہی کچھ خیال کر لیں پلیز ”
“نہیں نہیں انکل کوئی بات نہیں آپ جاری رکھیں ”
زویا جھٹ سے بولی
فرقان نے کھا جانے والی نظروں سے اسے دیکھا
سب کا ایک ساتھ قہقہ بلند ہوا
اسلم صاحب نے اسے بیٹھنے کی اجازت دی کھانا بلکل خاموشی سے کھایا گیا
❥❥═════❥❥❥
“بہرام ”
جی دادو
“ہم سب سوچ رہے ہیں کہ تمہاری شادی کر دیں اب ”
“کیوں”
بہرام نے ناگواری سے پوچھا
“زین کی شادی مجھ سے پہلے ہونی چاہیے مجھ سے بڑا ہے”
“کیوں کہ وہ تمہاری طرح اکھڑ مزاج اور بد تمیز نہیں ہے” ہاشم خان نے غصے سے کہا جو ابھی تک اس دن والی بات پہ برہم تھے
“شکریہ تعریف کرنے کہ لئے”
طنز سے کہتے ہوۓ وہاں سے اٹھ gya
“اماں جی دیکھ لیا آپ نے کتنا بدتمیز ہے یہ کسی کی پرواہ نہی کرتا آنے والی پتہ نہیں کیسے اس کہ ساتھ گزارا کرے گی ”
“اب ایسی بھی بات نہیں ہے سمجھ دار ہے ”
ائمہ نے کہا
“تم ہر وقت اس کی وکالت مت کیا کرو ابھی سمجھ داری کا ثبوت دے کر ہی تو گیا ہے ”
ہاشم نے قدرے غصے سے کہا
ہاشم صاحب ویسے تو تحمل سے کام لیتے تھے لیکن بہرام کہ معاملے میں کچھ زیادہ ہی سخت تھے
بہرام بچپن سے ہی تھوڑا اکھڑ مزاج تھا بہت جلد برہم ہو جاتا تھا اس کی یہ عادت ختم کرنے کہ لئے اسے بورڈنگ بھیج دیا گیا لیکن وہاں جا کر اور زیادہ بگڑ گیا
❥❥═════❥❥❥
زویا کو آے ہوے دو دن ہو چکے تھے انہوں نے خوب مستی کی تھی
“منہا چائے بنا دو پلیز ”
“یار بوا سے کہہ دو پتہ ہے نہ مجھے نہیں بنانی آتی ”
“بوا گھر نہیں ہیں اور چائے کی شدید طلب ہو رہی ہے مجھے ”
“لیکن مجھے نہیں آتی بنانی ”
“روکو میں بنا دیتی ہوں” زویا اٹھ کھڑی ہوئی
“لیکن زویا”
منہا نے روکنا چاہا
“ارے کچھ نہیں ہوتا ”
زویا جا چکی تھی
“منہا مجھے ایک بات کرنی تھی تم سے ”
“کیا ہوا بھائی بتایں ”
“کسی کو بتاؤ گی تو نہیں ”
“پہلے کبھی بتایا ہے کسی کو کبھی کچھ بھروسہ رکھیں نہیں بتاتی”
I’m in love
سنتے ہی منہا کہ منہ سے بے ساختہ چیخ نکلی تھی
زویا کچن سے بھاگ کر باہر آئ
“کیا ہوا منہا ٹھیک تو ہو ”
فرقان ابھی تک سکتے میں بیٹھا اسے دیکھ رہا تھا
“ہاں ہاں ٹھیک ہوں میں ”
فرقان نے غصے سے منہا کو دیکھا
“تو یہ چیخ کیوں ?”
“یار بس ڈر گئی تھی بھائی نے ڈرا دیا ”
“افففففف ۔۔۔۔۔۔۔ یار ”
زویا منہا کو گھورتی ہوئی کچن میں چلی گئی
“منہا اس چیز کی امید نہیں تھی تم سے ”
فرقان ابھی بھی غصے میں تھا
“اچھا بھائی سوری بتایں کون ہے ”
“میں نہیں بتا رہا ”
فرقان لپ ٹاپ میں مگن ہو گیا
“پلیز پلیز بتا دیں ”
منہا نے اس کا لپ ٹاپ اٹھا کر سائیڈ پہ کر دیا
“منہا اب اگر چیخ ماری تو دیکھ لینا تم ”
“زویا”
اس سے پہلے منہا دوبارہ چیخ مارتی فرقان نے اس کہ منہ پے ہاتھ رکھ دیا
“پہلے کیوں نہیں بتایا آپ نے ”
“بتانے ہی والا تھا سہی وقت کا انتظار کر رہا تھا”
“زویا بھی انٹرسٹڈ ہے کیا ؟” منہا سب کچھ پوچھنے پہ تلی تھی
“ہاں لیکن وہ ناراض ہے مجھ سے’
“لیکن کیوں بھائی”
منہا نے پریشانی سے پوچھا
“بس یار ۔۔۔ اچھا بتاؤ مناؤں کیسے ”
“وہ کچن میں ہے جایں منا لیں اسے”
منہا نے جھٹ سے کہا
“اگر مار پڑی تو بچا لینا آ کر “فرقان کا انداز شرارت سے بھرپور تھا
“فکر نہ کریں نہیں کچھ کہتی “منہا نے ہستے ہوے کہا
❥❥═════❥❥❥
زویا کسی کی اہٹ پا کر پیچھے موڑی تو فرقان کان پکڑے کھڑا تھا
زویا اسے نظر انداز کر کہ دوبارہ چائے بنانے میں مصروف ہو گئی
“پلیز مان جاؤ نہ سوری”
“آپ کون ؟” زویا کا لہجہ شرارت سے بھر پور تھا
“زویا سچ میں کسی لڑکی سے بات نہیں کرتا میں صرف تم واحد ہو میری زندگی میں ”
محبت سے چور لہجہ میں کہ رہا تھا
“میں کیسے مان لوں آپ نے اس دن کہا تھا کہ باقی لڑکیوں کی طرح بات کیا کرو آپ کو کیسے پتہ کہ باقی لڑکیاں کیسے بات کرتی ہیں ”
“سچ میں آئیڈیا ہی لگا کر کہا تھا سچ میں مجھے نہیں پتہ تھا تم سیریس ہو جاؤ گی”
اب وہ تھوڑا سنجیدہ تھا
فرقان نے مظبوطی سے اس کے ہاتھ تھام لئے
زویا گھبرا گئی تھی
“فرقان چھوڑیں کوئی آ جائے گا ”
“کوئی نہیں آتا بےفکر رہو بس اتنا بتا دو اب تو نہیں ناراض مجھ سے ”
“ناراض پہلے بھی نہیں تھی بس شکوہ تھا اب کچھ نہیں ہے”
زویا نے شرم سے سر جھکا لیا
“یار جان لو گی کیا اس غریب کی آج! تم شرمآتی رہا کرو ہر وقت بہت حسین لگتی ہو تم”
“فرقاا ا ا ا ا ان ۔۔۔۔۔”
زویا چلائ
“بند کرو چیپ ڈائلاگ ”
“یار اب بندہ محبت کا اظہار بھی نا کرے “فرقان نے ساتھ ہی آنکھ دبائ
زویا کہ دل میں پھر سے بیٹ مس ہوئی تھی
❥❥═════❥❥❥
“منہا مان جاؤ یار خدا کا واسط ہے ”
زویا پچھلے دو گھنٹے سے اسے منانے کی کوشش میں لگی تھی
“مجھے بات نہیں کرنی تم سے جاؤ یہاں سے” منہا بضد تھی
“سچ میں منہا میں بتانے والی تھی تمہیں پلیز مان جاؤ ”
بلا آخر منہا کو منانے میں کامیاب ہو گئی تھی تبھی اس کہ موبائل پہ رنگ ہوئی
“کہاں ہو تم ؟ ‘
کال کرنے والے کی آواز میں ہنوز غصہ تھا
“میں آپنی فرینڈ کہ پاس آئ ہوں گاؤں میں
کیا مطلب ہے تمہارا اکیلی گئی ہو تم وہ بھی اتنے دنوں کہ لئے ”
آواز پہلے سے زیادہ غصیلی تھی
“نن نہیں بس کل واپس آ جانا ہے ”
زویا تھوڑا گھبرا گئی تھی
“یہی بہتر ہے اور اگلی دفعہ جانے سے پہلے سو بار سوچنا ”
ساتھ ہی فون بند ہو گیا تھا
زویا ابھی تک گھبرائ ہوئی تھی
“کیا ہوا زویا”
منہا اس کی حالت دیکھ کر فکرمند تھی
“کچھ نہیں یار وہی ہوا جس کا ڈر تھا بھائی کو پتہ چال گیا کے میں اکیلی یہاں آئ ہوں ”
“لیکن ثمر بھائی نے تو کبھی کچھ نہیں کہا جانے سے کہیں بھی”
“ارے ثمر بھائی نہیں میرے ایک ڈریکولا کزن ہیں وہ ”
“لیکن جب تمہاری فیملی کو پرابلم نہیں تو اسے کیوں ہے”
“اسے چھوڑو وہ ہے ہی ایسا میری اس کہ ساتھ بہت اچھی دوستی ہے لیکن ان چیزوں پے کبھی بھی کمپرومائیز نہیں کرتا ”
ہمممممم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
❥❥═════❥❥❥
“احمد بھائی آپ شادی کر لیں نہ ”
زویا کب سے یہی رٹ لگا کر بیٹھی تھی
“کیوں میں کیوں کروں! یہ تو وہی ہوا آ بیل مجھے مار ”
“بیٹا زویا ٹھیک کہہ رہی ہے اب شادی کر لو گھر میں بھی کوئی رونق لگے”
“ہاں بھائی جلدی کریں پھر ہی میری باری آئے گی ”
فرقان نے شوخی سے کہا
“بیٹا اگر کوئی پسند ہے تو بتا دو نہیں تو میں کوئی رشتہ دیکھ لوں”
“بابا وہ ۔۔۔۔۔۔”
احمد کہتے کہتے رک گیا
“ہاں بیٹا بولو کیا بات ہے”
“بابا افشاں ہے آفس میں ہی جاب کرتی ہے”
“اوہ تیری احمد افشاں سعید ”
“ہاں ہاں وہی ”
‘آہن بھیا آپ تو بہت ہی چھپے رستم نکلے ”
زویا نے ابرو اچکائے
“اگر تمہیں پسند ہے تو مجھے کوئی اعترض نہیں ہے”
“لیکن بابا” ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ احمد تھوڑا پریشان ہو گیا تھا
“لیکن کیا بیٹا ”
“بابا وہ زیادہ امیر نہیں ہیں بس نارمل سی فیملی ہے پتہ نہیں آپ کو پسند آے یا نہ”
“بیٹا میں اس چیز کا پابند نہیں ہوں اگر تمہیں پسند ہے تو سب ٹھیک ہے امیری غریبی تو اللہ‎ کی طرف سے ہے”
“جی بابا ”
“کب چلیں ہم ان کہ گھر ”
منہا بہت اکسائیٹڈ تھی
“میری پرنسیس چلے جایں گے ایسا بھی کیا” جلدی ہے احمد نے پیار سے کہا
“بابا مجھے بھی ایک بات کرنی ہے آپ سے ”
موقع اچھا تھا منہا نے فرقان اور زویا کہ لئے بات کرنے کا سوچا
“بابا زویا کیسی لگی آپ کو ”
فرقان کو خطرے کی گھنٹی محسوس ہوئی
“بہت اچھی بچی ہے وہ بہت پیاری ”
“تو بابا کیوں نہ اسے ہم اپنے گھر ہی لے آیں ”
اسلم صاحب خوش ہو گئے اگر فرقان کی مرضی ہو تو یہ عمل بھی کر لیتے ہیں
“مجھے کوئی اعترض نہیں ہے بابا ”
فرقان نے جھٹ سے کہا
اس کی اتنی جلدی پہ سب نے قہقہ لگایا فرقان تھوڑا شرمندہ ہوا
❥❥═════❥❥❥
احمد کا نکاح بہت سادہ طریقے سے ہوا لیکن والیمہ بہت دھوم دھام سے ہوا
فرقان اور زویا کہ مطلق زویا کی پڑھائی مکمل ہونے کہ بعد ہی سب کچھ طے ہونا تھا صرف رشتہ ہوا تھا اس کا بھی کسی کو معلوم نہیں تھا صرف زویا اور فرقان کے گھر والوں کو پتہ تہ
چوہدری ولا میں ساری خوشیاں واپس آ چکی تھی لیکن کوئی یہ نہیں جانتا تھا کہ یہ خوشیاں صرف کچھ دیر کہ لئے ہیں
❥❥═════❥❥❥
“دو دن تک کام ہو جانا چاہیے ”
“آپ فکر نا کریں میری بیٹی تڑپ تڑپ کر مری تھی اس کا بدلہ لینے کا وقت آ گیا ہے اب اس کی بیٹی بھی جائے گی خون بہا کہ طور پر” ساتھ ہی ایک نفرت بھرا قہقہ بلند ہوا تھا
“ہاشم خان کو بھی سبق سکھانے کا وقت آ گیا ہے اس نے جو میرے ساتھ کیا اس کا بدلہ اب اس کی اولاد کو چکانا ہو گا”
❥❥═════❥❥❥
تو کسی لگی آپ کو یہ قسط اپنی آراء کا اظہار ضرور کیجے گا ۔ شکریہ ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: