Kis Jurm Ki Saza Mili Novel by Maham Shoukat – Episode 4

0
کس جرم کی سزا ملی از ماہم شوکت – قسط نمبر 4

–**–**–

صبح ناشتہ کہ بعد فرقان آپنی گن لے کر ہال میں کھڑا تھا
“بابا میں جا رہا ہوں”
“دیہان سے جانا ”
“بابا ہر دفعہ جاتا ہوں یہ کنسا پہلی بار ہے آپ ٹنشن نہ لیں اور مجھے امید ہے ہر دفعہ کی طرح میں ہی جیتوں گا ”
“بلکل لیکن ضروری تو نہیں ہر دفعہ کی طرح اب بی تم ہی جیتو ”
“آپ کو پتہ ہے نہ بابا مجھے ہارنا پسند نہیں ہے ”
“بلکل بیٹا لیکن آپنی خوشی کہ لیے کبھی بھی کسی کا نقصان نا کرنا ”
اسلم صاحب نے فرقان کو تنبیہ کی تھی
“بابا آپ کا بیٹا ہوں کبھی ایسا نہیں ہو گا ”
ابھی وہ جانے کی تیاری میں ہی تھا کہ منہا نے ساتھ جانے کی رٹ لگا لی
” گڑیا میں نہیں لے جا رہا شکار پہ آپ کو ”
“لیکن کیوں مجھے جانا ہے بس میں نے کہہ دیا ”
منہا جانے کہ لئے بضد تھی
” منہا میری گڑیا دیکھو وہاں خطرہ ہوتا ہے گولی لگ گئی تو ”
فرقان اسے سمجھانے کی ناکام کوشش کر رہا تھا
“منہا ضد نہیں کرتے! بیٹا فرقان ٹھیک کہ رہا ہے وہ جگہ کسی بھی قسم کہ خطرے سے خالی نہیں ہے ”
اسلم نے پیار سے سمجھایا جسے وہ سمجھ چکی تھی
“اچھا ٹھیک ہے میں چلتا ہوں اپنا خیال رکھیے گا ” فرقان وہاں سے نکل چکا تھا
صبح ناشتہ کہ بعد فرقان آپنی گن لے کر ہال میں کھڑا تھا
“بابا میں جا رہا ہوں”
“دیہان سے جانا ”
“بابا ہر دفعہ جاتا ہوں یہ کنسا پہلی بار ہے آپ ٹنشن نہ لیں ”
ابھی وہ جانے کی تیاری میں ہی تھا کہ منہا نے ساتھ جانے کی رٹ لگا لی
” گڑیا میں نہیں لے جا رہا شکار پہ ”
“لیکن کیوں مجھے جانا ہے بس میں نے کہہ دیا ”
منہا جانے کہ لئے بضد تھی
” منہا میری گڑیا دیکھو وہاں خطرہ ہوتا ہے گولی لگ گئی تو ”
فرقان اسے سمجھانے کی ناکام کوشش کر رہا تھا
“منہا ضد نہیں کرتے! بیٹا فرقان ٹھیک کہ رہا ہے وہ جگہ کسی بھی قسم کہ خطرے سے خالی نہیں ہے ”
اسلم نے پیار سے سمجھایا جسے وہ سمجھ چکی تھی
“اچھا ٹھیک ہے میں چلتا ہوں اپنا خیال رکھیے گا ” فرقان وہاں سے نکل چکا تھا
❥❥═════❥❥❥
“زویا کچھ پریشان لگ رہی ہو خریت تو ہے نہ ”
وقار صاحب نے پوچھا جو کافی دیر سے زویا کو نوٹ کر رہے تھے وہ تھوڑی بےچین لگ رہی تھی
” جی بابا سب ٹھیک ہے لیکن مجھے تھوڑی گھبراہٹ ہو رہی ہے ایسا لگ رہا ہے جیسے کچھ بہت برا ہونے والا ہے ”
” نہیں میری جان اللہ‎ پہ بھروسہ رکھو کچھ نہیں ہو گا بس وہم ہے تمہارا ”
” جی بابا اللہ‎ کرے ایسا ہی ہو ”
❥❥═════❥❥❥
فرقان شکار والی جگہ پہ پہنچ چکا تھا وہاں پے پہلے سے اور بھی لوگ موجود تھے کھیل شروع ہو چکا تھا
ہرن کو کھیتوں میں چھوڑ دیا گیا تھا فرقان اور مقابل اس کا شکار کرنے کی دھن میں آگے بڑھ رہے تھے وقفے وقفے سے گولی کی آواز گونج رہی تھی سب لوگ شور کر کہ انھیں داد دے رہے تھے لیکن اگلے پل کہ لئے سب لوگ بے خبر تھے
مقابل نشانہ بناے کھڑا تھا اس سے پہلے فرقان کی گن سے گولی چلی تھی اس کہ ساتھ ہی مقابل زمین پہ گر کر تڑپ رہا تھا کچھ پل میں ہی اس کا وجود ٹھنڈا پڑھ گیا تھا ادھر فرقان کی سانس اٹک رہی تھی
سب لوگ شک کی نگاہ سے فرقان کو دیکھ رہے تھے گولی تو فرقان نے چلائی تھی لیکن اسی وقت ایک اور گولی بھی چلی تھی کسی اور کی بندوق سے جو سائلنس موڈ پہ تھی جس وجہ سے کسی کا بھی دیھان وہاں نہیں جا سکا
تبھی تماشائی میں سے ایک آدمی پکار اٹھا
“ہارنے کہ ڈر سے چوہدری فرقان نے مقابل کو مار دیا ”
فرقان جو ابھی تک سکتے میں تھا اس کی آواز پہ گھبرا گیا
“میں نے نہیں مارا اسے آپ لوگ یقین کریں میرا ”
لیکن سب کچھ آنکھوں دیکھا تھا کوئی بھی اس کی بات پہ یقین نہیں کر رہا تھا
اس سے پہلے وہاں کھڑے لوگ کچھ کرتا انتطامیہ نے اس کہ گرد گھراو ڈال لیا
❥❥═════❥❥❥
ہاشم خان کہ گھر میں کہرام برپا تھا وہ فرقان کو مارنے کہ لیے جنونی ہو رہا تھا لیکن پنچائیت
کی وجہ سے خاموش ہو گیا تھا
فرقان کو ایک ہفتے کہ لیے مسجد میں نظر بند کر دیا گیا تھا
ادھر زویا لوگوں تک بھی خبر پہنچ چکی تھی اس کا وہم حقیقت کا روپ دھار چکا تھا فرقان کو اور منہا کو لاتعداد کالز کر چکی تھی لیکن دونوں میں سے کسی نے بھی فون نہیں اٹھایا
سب لوگ اس وقت ہاشم شاہ کہ گھر موجود تھے
زین کی تدفین سے فارغ ہو چکے تھے
“اسد بھائی یہ سب کیسے ہوا ؟ کچھ پتہ چلا ”
“ہاں پتہ چل گیا ہے چوہدری فرقان ہے ساتھ والے گاؤں کو سرپنچ کا بیٹا اس نے قتل کیا ہے ”
زویا کہ سر پہ تو جیسے پہاڑ ٹوٹ تھا وہ ناقابلے یقین آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی تبھی اسے سمجھ آ گیا تھا کہ وہ لوگ بات کیوں نہیں کر رہے
“لیکن بھائی وہ ایسا کیوں کرے گا کیا کوئی دشمنی تھی زین ساتھ ”
منہا نے کچھ سمبھلتے ہوۓ پوچھا
“اسے جیتنے کا کچھ زیادہ ہی جنون ہے لیکن اس دفعہ وہ ہار رہا تھا ”
زویا کو تو ابھی بھی یقین نہیں آ رہا تھا فرقان ایسا بھی کر سکتا ہے
❥❥═════❥❥❥
چوہدری اسلم اس وقت فرقان کہ پاس آے تھے
“بابا پلیز میرا یقین کریں میں نے کچھ نہیں کیا آپ تو یقین کریں مجھ پے ”
فرقان کو امید تھی کہ اسلم صاحب یقین کر لیں گے لیکن اس کی امید یہاں ٹوٹ چکی تھی
“میں نے کہا تھا نہ کہ آپنی خوشی کہ لیے کبھی کسی کا نقصان نا کرنا لیکن تم نے تو ۔۔۔۔ ”
اسلم صاحب افسردہ لہجے میں بول رہے تھے
“بابا آپ بھی پلیز آپ تو مت کہیں ایسا میں کبھی ایسا نہیں کر سکتا ”
“تم پہ یقین کروں یا پھر ان لوگوں پہ جس نے تمہیں دیکھا تھا ”
“بابا ایک دفعہ بھروسہ کریں مجھ پے ”
“اچھا اب میں چلتا ہوں منہا اور افشاں پریشان ہو رہی ہوں گی احمد بھی گھر نہیں ہے ”
اسلم صاحب وہاں سے چلے گئے تھے
❥❥═════❥❥❥
اس واقع کو ایک ہفتہ ہو چکا تھا آج پنچائیت تھی
سب لوگ پنڈال میں جمع تھے دونوں گاؤں کہ لوگ آ چکے تھے
ایک طرف بہرام اور اسد ہاشم خان کہ ساتھ کھڑے تھے دوسری طرف اسلم صاحب احمد ساتھ کھڑے تھے
فرقان ایک سائیڈ پر سکون کھڑا تھا
تین گاؤں کہ سرپنچ بیٹھے ہوے تھے باقی دو سرپنچ میں سے کسی ایک کہ حق میں فیصلہ ہونا تھا
“فرقان کیا تمہیں آپنے حق میں کچھ کہنا ہے ”
ان میں سے ایک سرپنچ بولا
“جی مجھے یہی کہنا ہے کہ میں نے کوئی جرم نہیں کیا اس دن بھی یہی کہا تھا اور آج بھی یہی کہوں گا آگے جو فیصلہ آپ لوگوں کا ہو گا مجھے منظور ہے ”
“فیصلہ کیا کرنا ہے ظاہر ہے اسلم چوہدری کی بیٹی خون بہا کہ طور اور ہاشم خان کہ گھر جائے گی ”
حاضرین میں سے ایک آدمی بولا
فرقان کا تو حلق خشک ہو گیا تھا جب کہ اسلم صاحب اور احمد کی حالت اس سے مختلف نہیں تھی
اسلم صاحب کے کانوں میں منہا کی آواز گونجی
” لیکن بابا خدا نہ کرے اگر ہم سے کوئی قتل ہو گیا تو کیا آپ میری بھی ۔۔۔۔۔۔”
“ایسا نہیں ہو سکتا کبھی بھی نہیں میں آپنی گڑیا ساتھ ایسا نہیں ہونے دوں گا ”
فرقان چلایا
“ٹھیک ہے اگر خون بہا نہیں دینا تو قتل کہ جرم میں پھانسی ہو گی ”
ایک سرپنچ بولا
“ٹھیک ہے اگر آپ لوگوں کو لگتا ہے کہ قتل میں نے کیا ہے تو میں اس کہ لیے تیار ہوں لیکن آپ اس کی سزا میری گڑیا کو نہیں دے سکتے ”
فرقان نے دو ٹوک لہجے میں کہا تھا
سرپنچ نے اسلم صاحب کی طرف دیکھا جو ان کہ جواب کا انتظار کر رہے تھے
“کیا اس کہ علاوہ کوئی اور راستہ نہیں نکل سکتا ”
اسلم صاحب نے بے بسی سے پوچھا
“کیوں جب ہماری بیٹیوں کی دفعہ کوئی اور راستہ نہیں ملتا تو آپ کی بیٹی کی دفعہ کیوں ملے گا ”
اب بھی جواب حاضرین نے دیا تھا سب نے اس کا ساتھ دیا تھا
“جی اسلم صاحب تو کیا فیصلہ ہے آپ کا ”
ایک دفعہ پھر اسلم نے ہاشم کو دیکھا تھا
“جو فیصلہ آپ لوگ کریں مجھے کوئی اعترض نہیں ہو گا ”
ہاشم خان نے ایک طرف صاف لفظوں میں انکار کیا تھا
“پھر ٹھیک ہے میں خون بہا دینے کہ لیے تیار ہوں”
“نہیں بابا پلیز میری بات سنیں آپ ایسا نہیں کر سکتے ”
“فرقان چپ رہو تم ”
اسلم صاحب کا غصہ اس وقت آسمان کو چھو رہا تھا
“ہاشم خان تم کیا کہتے ہو ”
ان میں سے ایک نے پوچھا
“میں آپنے بیٹے بہرام کا نکاح ان کی بیٹی سی کرنے کہ لیے تیار ہوں ”
“لیکن بابا میں نہیں تیار ”
بہرام بولا لیکن ہاشم خان نے ہاتھ اٹھا کر اسے چپ کروا دیا
“ٹھیک ہے دو دن بعد ان کا نکاح ہے ”
پنچائیت ختم اب سب لوگ جا سکتے ہیں
❥❥═════❥❥❥
“بھائی آپ آ گئے مجھے پتہ تھا آپ کبھی کچھ غلط نہیں کر سکتے ”
منہا فرقان کہ ساتھ لپٹ کر رونے لگی تھی
“ہاں گڑیا میں آ گیا ہوں ”
فرقان آپنے آنسو ضبط کیے ہوے تھا
“منہا مجھے معاف کر دو ”
“لیکن بھائی کیوں آپ مجھ سے کیوں معافی مانگ رہے ہیں ”
منہا کو کچھ شک ہوا تھا
“میری جان کہ بدلے بابا تمہارا نکاح ۔۔۔،”
وہ کچھ کہتے کہتے رک گیا
“بابا پلیز آپ کچھ بول کیوں نہیں رہے بتایں نہ کہ بھیا جھوٹ بول رہے ہی”ں
“نہیں بیٹا یہی سچ ہے پرسوں بہرام سے تمہارا نکاح ہو گا ”
“لیکن بابا ایسا کیوں ”
گناہ بیٹا کرے یا باپ ہر دفعہ سزا بیٹی کو ہی کیوں ملے پلیز بابا رحم کریں مجھ پہ آپ ایسا نہیں کر سکتے میرے ساتھ ”
اسلم صاحب کی آنکھوں سے آنسوں رواں تھے
“صدیوں سے ایسا ہی ہوتا آیا ہے خون بہا تو دینا پڑے گا فرقان کی جان یا تم ۔۔۔۔۔”
“مجھے معاف کر دینا بہت بے بس ہوں بیٹا
مجبور ہوں میں”
“بس بابا آپ آپنے اس فرسودہ رسومات کو مجبوری کا نام مت دیں ”
“میں تیار ہوں آپ کی عزت کی خاطر اس رسم کہ بھنٹ چڑھنے کہ لیے ۔۔۔۔۔۔”
احمد اسے بازار لے جاؤ اور کچھ نکاح کہ کپڑے لے اؤ
اسلم صاحب نے کہا
“جی بابا ”
“لیکن مجھے نہیں جانا بس ایک سفید ڈریس لا دینا مجھے ۔۔۔۔۔۔۔ اب گھر سے جاؤں گی تو مرنے والوں کی طرح کبھی بھی لوٹ کہ نہیں اوں گی”
منہا نے بیدردی سے آنسو صاف کیے اور وہاں سے چلی گئی
❥❥═════❥❥❥
تو کسی لگی آپ کو یہ قسط اپنی آراء کا اظہار ضرور کیجے گا ۔ شکریہ ۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: