Kis Jurm Ki Saza Mili Novel by Maham Shoukat – Episode 5

0
کس جرم کی سزا ملی از ماہم شوکت – قسط نمبر 5

–**–**–

“بابا مجھے نہیں کرنی شادی ”
“کیوں نہیں کرنی تمھارے تو اچھے بھی کریں گیں شادی ”
ہاشم خان کا غصہ آسمان سے باتیں کر رہا تھا
“اس کی بیٹی کو اتنی اذیت دوں گا جتنی میرے بیٹے نے برداشت کی تھی ”
“لیکن بابا یہ بھی تو ہو سکتا ہے نہ فرقان نے نا مارا ہو اسے ”
بہرام کسی بھی صورت اس رشتہ کو نہیں مان رہا تھا
“تم اس کی طرفداری کرنا بند کر دو اور جو بزنس کا معملات ہیں وہ بھی جلد از جلد ختم کر دو ”
“سوری بابا میں آپ کی یہ بات نہیں مان سکتا میرا بزنس ہے میں آپ کو پہلے بھی کہہ چکا تھا کہ میرے بزنس میں کوئی بھی دخل اندازی مت کرے ”
کہتے ہوے بہرام وہاں سے چلا گیا
کمرے میں جاتے ہی اس نے دروازہ زور سے بند کیا تھا اس کی آنکھوں کہ سامنے اچانک اس معصوم لڑکی کا چہرہ آیا تھا جس سے وہ آفس دن میں ملا تھا
❥❥═════❥❥❥
“زویا زویا پلیز میرے پاس آ جاؤ مجھے بہت ضرورت ہے تمہاری ”
منہا زارو قطار رو رہی تھی
“منہا میری جان چپ کرو آخر کیا ہوا ہے جو اتنا رو رہی ہو فرقان تو ٹھیک ہے نہ”
زویا فکر مند ہو رہی تھی پاس بیٹھے اسما اور وقار بھی پریشان ہو رہے تھے
“زویا میری زندگی برباد ہو گئی ہے سب کچھ ختم ہو گیا کچھ بھی باقی نہیں رہا ۔۔۔۔۔ میں میں اب زندہ نہیں رہ سکتی”
“منہا تم ایسا کچھ نہیں کرو گی بس میں ابھی ماما بابا سے پوچھ کہ آ رہی میری جان اب رونا نہیں بس میں آ رہی ہوں تم خود کو کوئی نقصان نہیں پہنچاو گی ”
ساتھ ہی زویا نے فون بند کر دیا
“بیٹا سب ٹھیک تو ہے نہ ”
وقار نے پوچھا
“بابا مجھے منہا کہ پاس جانا ہے وہ بہت رو رہی ہے آپنی زندگی ختم کرنے کی بات کر ہی ہے ۔۔۔۔۔۔ بابا اس کہ پاس نا بہن ہے اور نا ہی ماں ”
“لیکن بیٹا تم سب حقیقت سے واقف ہو تو پھر اس طرح جانا ۔۔۔۔۔”
وقار کا اشارہ فرقان کی طرف تھا
“بابا میں صرف منہا کہ لئے جا رہی ہوں بابا اسے میری ضرورت ہے مجھے اجازت دے دیں ”
وقار نے اسما کی طرف دیکھا جو ابھی تک اپنے بھانجے کی موت کو نہیں بھولی تھی
“جاؤ چلی جاؤ لیکن آج کہ بعد فرقان سے تمہارا کوئی رشتہ نہیں ہے ”
اسما نے قدرے نفرت سے کہا تھا
“ماما مجھے فرقان پہ بھروسہ ہے وہ کبھی گناہ نہیں کر سکتا ”
“بس کرو زویا اس کی محبت میں اندھی مت ہو جانا ”
“ماما جو بھی ہے مجھے اس پہ بھروسہ ہے اس نے کچھ نہیں کیا اور وہ جو بھی کہہ رہا ہے سچ ہے سب اس نے زین کا قتل نہیں کیا ”
“زویا بیٹا جاؤ تیاری کرو منہا کو ضرورت ہو گی آپ کی اور جہاں تک رہی فرقان کی بات وہ سب بعد میں دیکھا جائے گا ”
وقار نے کہا اور زویا اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی
تھوڑی دیر تک وہ گاؤں کہ لئے نکل چکی تھی
❥❥═════❥❥❥
فرقان منہا کہ پاس آیا تھا وہ گھٹنوں کہ بل بیٹا اس سے معافی مانگ رہا تھا
“منہا مجھے معاف کر دو میری وجہ سے تم اتنی مصیبت میں ہو میں نے بابا سے کہا بھی تھا لیکن وہ نہیں مانے میری گڑیا اگر ہو سکا تو معاف کر دینا مجھے ”
“بھائی پلیز آپ ایسا نا کریں مجھے تکلیف ہو رہی ہے جہاں آپ نے میری اتنی خواہشات پوری کی کیا میں آپ کی زندگی کہ لئے یہ بھی نہیں کر سکتی ”
منہا نے بیدردی سے اپنے آنسو صاف کئے
“میری گڑیا تم تم یہاں سے کہیں چلی جاؤ میں بہت جلد سچ کا پتہ لگوا لوں گا اور پھر تم واپس آ جانا ”
فرقان اس سے التجاہ کر رہا تھا
“نہیں بھائی میں ایسا کر کہ بابا کو دکھ نہیں دے سکتی ”
“اگر تمہارا فیصلہ یہی ہے تو ٹھیک ہے میں بہت جلد سچ کا پتہ لگوا کر تمہیں واپس لے اوں گا یہ میری گڑیا سے وعدہ ہے میرا ”
“مجھے انتظار رہے گا آپ کا بھائی ”
فرقان نے اس کہ گھٹنوں پہ اپنا سر رکھ لیا تبھی کسی تیسرے نے انہیں اپنا احساس دلایا
“زویا تم ” کہتے ہی منہا اس کہ گلے لگ کر بے تہاشا رو رہی تھی
“زویا میری جان ادھر دیکھو میری طرف کیا ہوا ہے کچھ بتاؤ بھی مجھے ”
منہا نے سارا واقع اس کو بتا دیا زویا کبھی منہا کو دیکھتی اور کبھی فرقان کو جو پہلے والا فرقان نہیں لگ رہا تھا بال اٹکے ہوے آنکھیں سوجی اور کپڑے لگ رہا تھا تھا دو دن دے تبدیل نہیں کئے
“زویا ایک وعدہ کرو مجھ سے تم بھائی کو کبھی چھوڑ کہ مت جانا ”
فرقان سر جھکا کر نیچے بیٹھا تھا کیوں کہ وہ جانتا تھا کہ سب کی طرح زویا بھی اس پر یقین نہیں کرے گا لیکن زویا سب کہ برعکس تھی
“مجھے فرقان پہ پورا بھروسہ ہے اس نے ایسا کچھ نہیں کیا ”
فرقان نے سر اٹھا کر بے یقینی سے دیکھا
“اور جہاں تک نکاح کی بات ہے میں بہرام سے بات کرتی ہوں کیا پتہ وہ مان جائے ”
منہا اور فرقان کی جان میں کچھ جان آئ تھی
“اور یہ تم نے کیا حالت بنا رکھی ہے یہ نہ ہو کہ میں واقع انکار کر دوں ”
زویا نے شرارتی انداز میں کہا اس نے ماحول کو دیکھ کر کچھ تناو کم کیا تھا
تبھی بوا مشروب لے کر کمرے میں آئ
بوا واپس جا چکی تھی
“تم لوگ باتیں کرو میں چینج کر کہ آتا ہوں ”
زویا نے بہرام کو فون کیا لیکن اس نے کال اٹینڈ نہیں کی
“منہا میں فریش ہو جاؤں “زویا واشروم کی طرف بڑھ گئی تھوڑی دیر میں ہی فون کی بیل ہوئی تھی
“زویا کال آ رہی ہے کسی کی ”
“کس کا نمبر ہے؟ ”
“پی ٹی سی ایل نمبر ہے ”
“اچھا تم اٹینڈ کر لو میں آتی ہوں تھوڑی دیر تک ”
منہا نے کچھ سوچتے ہوے کال اٹھا لی
“السلام علیکم ”
“وعلیکم السلام ! جی کون ؟”
“زویا؟ ”
” نہیں میں اس کی فرینڈ ہوں آپ کون ؟
“زویا کہاں ہے کال آ رہی تھی اس کی میں اس کا کزن بہرام ”
نام سنتے ہی زویا گھبرا گئی اس نے فون بند کر دیا
ہیلو ہیلو لیکن ادھر سے کال کٹ چکی تھی
“کون تھا منہا ”
زویا واشروم سے باہر آ چکی تھی اور منہا فون ہاتھ میں لئے اسے گھور رہی تھی
“بہرام ”
“اچھا تو تم نے بات کیوں نہیں کی بھائی سی اچھا تھا تم خود بات کر لیتی ”
“زویا پاگل ہو یا مجھے لگ رہی ہو تم ”
منہا نے اس دن آفس والی بات بھی ایسے بتا دی زویا کا تو ہنس کہ برا حال ہو رہا تھا منہا اسے خون خوار نظروں سے دیکھ رہی تھی
“اچھا لاؤ مجھے دو میں بات کرتی ہوں بھائی سے ”
زویا نے موبائل لے کر نمبر ڈائل کیا دو بیل کہ بعد ہی فون اٹھا لیا
سلام دعا کہ بعد بہرام نے اس سے منہا کہ بارے میں پوچھا
“اس کہ بارے میں بعد میں بتا دوں گی پہلے یہ بتایں آپ یہ نکاح کیوں کر رہے ہیں اس سے کسی کی زندگی خراب ہو سکتی ہے ”
“تمہیں اس کی بہت فکر ہے میری نہیں ہے ”
بہرام نے شکوہ کیا
“نہیں بھائی مجھے آپ دونوں کی فکر ہے انکل اپنا بدلہ لینے کہ لئے اس پر ظلم بھی کریں گیں آپ تو یہ بات مجھ سے بہتر جانتے ہیں ”
“تم اسے کیسے جانتی ہو ؟”
“جس لڑکی نے پہلے کال اٹھائی تھی وہ منہا ہے جس سے دو دن بعد آپ کا نکاح ہے ”
“تم تم وہاں کیا کررہی ہو ؟”
زویا نے بہرام کو سب کچھ بتا دیا بس فرقان کہ بارے میں کچھ نہیں بتایا
“بھائی آپ اس شادی سے انکار نہیں کر سکتے کیا ؟”
“میں نے کوشش کی تھی لیکن بابا نے میری ایک نہیں سنی ”
“اچھا بھائی ٹھیک ہے پھر بات کریں گیں ”
منہا سب کچھ سن چکی تھی اس لئے کوئی بھی سوال نہیں کیا ادھر بہرام کہ سامنے ایک بار پھر اس کا چہرہ گھوم آیا تھا
❥❥═════❥❥❥
رات کو منہا اسلم صاحب کہ کمرے میں موجود تھی اسلم صاحب آرام دہ کرسی پہ آنکھیں موندیں لیٹے تھے
“بابا ” منہا نے آہستہ سے پکارا
اسلم صاحب نے جلدی سے آنسو صاف کئے وہ منہا کہ سامنے کمزور نہیں پڑنا چاھتے تھے
“آؤ وہاں کیوں کھڑی ہو ”
“مجھے فرقان بھائی کے بارے میں بات کرنی ہے ”
منہا کا لہجہ نا چاھتے ہوے بھی سخت تھا
“بولو ”
“میں جا رہی ہوں اس گھر سے ہمیشہ کہ لئے لیکن آپ کو مجھ سے وعدہ کرنا ہو گا ۔۔۔۔ آپ کبھی بھی فرقان بھائی کو یہ یاد نہیں کروائیں گے کہ میں ان کی وجہ سے وہاں ہوں ”
منہا چپ کر گئی
“بس مجھے یہی کہنا تھا اور کچھ نہیں ”
منہا واپس جانے لگی تبھی اسلم صاحب نے روکا
“مجھ سے کوئی بات نہیں کرو گی کوئی گلہ نہیں کرو گی اپنے بابا سے ”
اسلم صاحب اٹھ کھڑے ہوے تھے
“نہیں بابا کوئی بات نہیں کرنی مجھے کوئی شکوہ نہیں ہے آپ سے اگر آپ کی جگہ کوئی اور ہوتا تو وہ بھی یہی کرتا ”
منہا خود کو مضبوط ظاہر کر رہی تھی لیکن اندر سے وہ ٹوٹ چکی تھی
“ویسے بھی بابا ہمیشہ سے یہی ہوتا آیا ہے بیٹیاں چاہے جان بھی دے دیں والدین کو ہمیشہ بیٹا ہی عزیز رہے گا ”
“نہیں بیٹا ایسا نا کہو تم جانتی ہو میں نے ہمیشہ ان دونوں پہ تمہیں ترجیح دی ہے لیکن بیٹا اب میں بے بس ہوں کوئی اور راستہ نہیں ملا مجھے ہو سکے تو معاف کر دینا مجھے ”
“نہیں بابا ایسا نا کہیں ”
“تم مجھے دل سے معاف کر دو تا کہ جو زندگی بچی ہے سکون سے گزار سکوں ”
“بابا اللہ‎ نا کرے میری تو دعا ہے آپ ہمیشہ سلامت رہے میرے دل میں کوئی شکوہ نہیں ہے آپ کہ لئے ”
€شکر ہے دل صرف سنتا ہے
اگر بولتا تو قیامت ہوتی
اسلم صاحب نے منہا کو خود سے لگا لیا اور نا جانے کب تک دونوں آنسو بہاتے رہے
❥❥═════❥❥❥
“بوا کیا ہو پریشان کیوں ہیں ”
زویا نے بوا سے پوچھا جو کھانے کی ٹرے اٹھاے آ رہی تھی
“زویا بیٹا فرقان بیٹے نے کل سے کھانا نہیں کھایا کہتا ہے بھوک نہیں ہے ”
“اچھا آپ پریشان نا ہوں یہ مجھے دیں ”
“لیکن انہوں نے منع کر دیا ہے اور کہا ہے کوئی نہیں آے گا ”
“بوا کوئی بات نہیں آپ دیں مجھے ”
وہ کھانے کی ٹرے لے کر فرقان کہ کمرے کی طرف بڑھ گئی
اس نے دروازہ ناک کیا
“میں نے کہا نا نہیں کھانا مجھے کیوں بار بار تنگ کر رہی ہیں جایں یہاں سے ”
زویا کمرے میں داخل ہو گئی
“کیا میں بھی نہیں آ سکتی ؟”
“زویا تم یہاں ”
فرقان اسے دیکھتے ہی کھڑا ہو گیا
“جی بلکل میں اور جلدی سے یہ کھانا ختم کریں نہیں تو میں آپ سے بات نہیں کررہی ”
زویا نے ایک ہی سانس میں سب کچھ کہہ دیا
فرقان مسکرا گیا
“زویا ایک بات تو بتاؤ ۔۔۔۔۔۔ کیا تم میرا انتظار کرو گی ”
“مرتے دم تک وعدہ رہا میرا آپ سے ” زویا نے پر یقین انداز میں کہا
“اور اگر میں ثابت نا کر سکا تو پھر ”
“نا امیدی کی باتیں نہیں کرتےمجھے تم پہ پورا یقین ہے ”
اس نے مسکرا کر کہا
“اللہ‎ کا شکر ہے کوئی تو مجھ پے یقین رکھتا ہے مجھے اب اور کسی کہ یقین کی ضرورت نہیں ہے ”
اس نے زویا کا ہاتھ تھام لیا
“منہا کہ لئے پریشان نا ہونا میں بہرام بھائی سے بات کروں گی ابھی آپ اس کا سمسٹر فریز کروا دیں بعد میں وہ دوبارہ شروع کر لے گی ”
“تھنک یو سو مچ ”
“اگر اب تھنک یو بولا تو جان لے لوں گی ”
منہا نے مصنوئ ناراضگی سے کہا
“اچھا اب کھانا کھا لیں میں منہا پاس جا رہی ہوں ”
❥❥═════❥❥❥
آج منہا اور بہرام کا نکاح تھا منہا نے سفید رنگ کا ہی جوڑا پہنا ہوا تھا جو کل احمد اور افشاں لے کر آے تھے
افشاں اور زویا کہ بہت اسرار پر اس نے لال رنگ کی چنری اوڑھ رکھی تھی میک اپ بھی ہلکا سا کیا تھا لیکن اس میں بھی وہ حسین لگ رہی تھی سفید رنگت گہری کالی آنکھیں جس میں کوئی بھی ڈوب سکتا ہے جس پہ چشمہ لگا کر کسی کو بھی مد ہوش کر سکتی تھی
لیکن آج زویا کی ضد کی وجہ سے چشمہ نہیں لگایا تھا
آنکھیں سوجی ہوئی تھی جس میں لال ڈورے تھے جو اس بات کا ثبوت دے رہے تھے کہ منہا بہت دیر سے روتی رہی ہے
نکاح ہو چکا تھا اب وہ منہا اسلم شاہ سے منہا بہرام خان بن چکی تھی رخصتی کہ وقت اس کا ایک بھی آنسو نہیں بہا تھا نا جانے اس وقت سارے آنسو کہاں چکے گئے تھے
سب سے ملنے کہ بعد فرقان سے ملی تھی
“بھائی میں انتظار کروں گی آپ کا”
ساتھ ہی گرم سیال اس کی آنکھوں سے بہ نکلے تھے
“ضرور ۔۔۔۔۔۔۔۔ میں آپنی گڑیا کو لینے ضرور آؤں گا ”
منہا رخصت ہو کر نئے گھر میں آ چکی تھی زویا بھی اس کہ ساتھ ہی آ گئی تھی
❥❥═════❥❥❥
تو کسی لگی آپ کو یہ قسط اپنی آراء کا اظہار ضرور کیجے گا ۔ شکریہ ۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: