Kis Jurm Ki Saza Mili Novel by Maham Shoukat – Episode 6

0
کس جرم کی سزا ملی از ماہم شوکت – قسط نمبر 6

–**–**–

❥❥═════❥❥❥
“زویا مجھے نیند آ رہی ہے اب میں ریسٹ کرنا چاہ رہی ہوں ”
زویا جو ابھی اسے بہرام کہ کمرے میں چھوڑنے آئ تھی اس کی بات سن کر حیران رہ گئی
“منہا دماغ تو ٹھیک ہے نہ بہرام بھائی آنے والے ہی ہوں گے تھوڑی دیر انتظار کر لو ”
“زویا پلیز مجھے کسی کا انتظار نہیں کرنا واشروم بتا دو کہاں ہے اور ڈریسنگ روم بھی مجھے چینج کرنا ہے ”
منہا کا لہجہ تلخ تھا
“اچھا یہ رہا واشروم اور ساتھ ہی ڈریسنگ روم ہے ”
زویا نے کھڑے کھڑے ہی سب بتا دیا
“اور میرا ڈریس کہاں ہے ؟”
زویا نے وہاں پڑے بیگ میں سے اسے ڈریس نکل کر دیا جو زویا ساتھ لے کر آئ تھی
“تم یہ چینج کرو میں باقی چیزیں کبرڈ میں سٹ کر دیتی ہوں
“اچھا ٹھیک ہے ”
منہا چینج کرنے چلی گئی تھی جبکہ زویا اس کی الماری سٹ کر رہی تھی
منہا جب فریش ہو کر آئ تب تک زویا کبرڈ سٹ کر چکی تھی
“اچھا اب میں چلتی ہوں تم ریسٹ کر لو گڈ نائٹ ”
وہ اسے پیار سے گلے لگاتی ہوئی باہر نکل گئی منہا نے ایک نظر کمرے کو دیکھا بہت صلیقے سے سٹ کیا گیا تھا سائیڈ ٹیبل پہ ایک فوٹو فریم تھا جس میں بہرام کی تصویر تھی ڈریسنگ ٹبیل پہ مختلف پرفیومز پڑے تھے جن میں منہا کی جان بستی تھی لیکن اس وقت اسے خوشبو سے نفرت ہو رہی تھی اس نے سر جھٹک کر تکیہ سیدھا کیا اور لیٹ کر چھت کو گھورنے لگی دو دنوں سے وہ سوئی نہیں تھی اس لئے جلد ہی نیند کی آ گوش میں چلی گئی ۔۔۔
❥❥═════❥❥❥
جب بہرام خان کمرے میں آیا تو منہا چینج کر کہ سو چکی تھی وہ خود ڈریسنگ ٹیبل کہ سامنے کھڑا ہو گیا بلیک شیروانی میں وہ کسی ملک کا شہزادہ ہی معلوم ہو رہا تھا
اس نے شیشے سے ایک اچٹتی ہوئی نگاہ منہا پہ ڈالی جو سوئی ہوئی اور بھی معصوم لگ رہی تھی
اس نے شادی سے پہلے اسے ایک دفعہ ہی دیکھا تھا اور اب دوسری دفعہ دیکھ رہا تھا تھوڑی دیر تو وہ اس کہ سحر میں مبتلا رہا پھر سر جھٹک کر ڈریسنگ روم میں گھس گیا
❥❥═════❥❥❥
“خالہ جان کیا ولیمہ نہیں ہوا گا بھائی کا ”
زویا نے ائمہ سے پوچھا
ائمہ نے حیرت سے زویا کو دیکھا پھر اسما کو ہاشم خان بھی اس کی بات سن کر ٹھٹھک گئے تھے
“اپ اس کی باتوں پہ دھیان نا دیں یہ تو ہے ہی پاگل ”
اسما نے غصے سے زویا گھورا
“یہ شادی عام شادی جیسی نہیں ہے یہ خون بہا کہ طور پہ ہوئی ہے اس لئے کوئی بھی تقریب نہیں ہو گی ” ہاشم خان نے دو ٹوک الفاظ میں کھا تھا
“لیکن خالو جان شادی تو شادی ہے عام ہو یا خاص ”
ابھی جوان بیٹے کی موت کا غم کم نہیں ہوا تھا اوپر سے دوسرے بیٹے کی اس طرح شادی اور زویا کی بے تکی باتیں
اس سے پہلے کوئی کچھ بولتا اسما نے زویا کو وہاں سے بھیج دیا
“جاؤ جا کر پیکنگ کرو ہم نے واپس بھی جانا ہے ”
زویا منہ برا بناتی ہوئی وہاں سے چلی گئی
“اگر آپ لوگ برا نا مانے تو ایک بات کہنی تھی آپ سے ”
اسما زویا کہ جانے کہ بعد ان دونوں سے مخاطب تھی
“آپی بتایں کیا بات ہے ”
“دیکھو جو ہونا تھا وہ تو ہو گیا خدا کو شائد یہی منظور تھا لیکن منہا بہت اچھی لڑکی ہے اور بہت حساس بھی اپ لوگ تھوڑا خیال رکھنا اس کا ۔۔۔۔ بچپن سے ماں کے پیار سے محروم رہی ہے دونوں بھائیوں نے اور اسلم صاحب نے بہت لاڈ اور پیار سے پلا ہے اسے اپ لوگ بھی کوشش کرنا کہ اسے تکلیف نا ہو ”
اسما آپنی بات ختم کر کے ان کہ جواب کی منتظر تھی
“ہم کوشش کریں گیں لیکن میں بی جان کا کچھ نہیں کہہ سکتا ”
ہاشم خان کا دل اسما کی بات سن کر تھوڑا نرم پڑ چکا تھا ہاشم منہا سے مل چکا تھا وہ واقع گڑیا جیسی نرمو نازک تھی بلکل کانچ کی طرح جو زرا سی ٹھوکر سے ٹوٹ سکتی تھی
❥❥═════❥❥❥
“کیا میں اندر آ سکتی ہوں ؟”
زویا دروازے پاس کھڑی تھی
“ہاں آ جاؤ ”
بہرام نے کہا جو لپ ٹاپ میں کوئی کام کرنے میں مصروف تھا منہا بیڈ پہ بیٹھی تھی زویا منہا کہ پاس آ کر بیٹھ گئی
“بہرام بھائی بس بھی کریں آپ اب کل تو شادی ہوئی ہے اور آپ کہ کام ہی نہیں ختم ہو رہے میری دوست کو بور کر رہے ہیں آپ ”
زویا نے مصنوئی ناراضگی سے کہا تھا
بہرام نے ایک نظر منہا کو دیکھا جو ہنوز اسی پوزیشن میں بیٹھی تھی
“آپ لوگ باتیں کرو میں آتا ہوں تھوڑی دیر تک ”
بہرام باہر جا چکا تھا
“منہا میں جا رہی ہوں آج ”
زویا نے نرمی سے کہا
“پلیز ایک دو دن رک جاؤ تم میں تو گھر میں کسی کو جانتی بھی نہیں ہوں ”
منہا روہانسی ہو گئی تھی
“فکر نا کرو ماما نے کہا ہے وہ خالہ سے بات کریں گیں ”
“اب تم واپس کب آؤ گی ؟”
“منہا اب تو ایک ماہ لگ جائے گا یو نی میں کلاسز سٹارٹ ہو گئی ہیں پچھلے دو ہفتہ سے چھٹی پہ ہوں اب مڈ ہونے والی ہے ”
یونی کا سن کر منہا کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے تھے
“منہا میری جان پلیز رو مت ۔۔۔۔۔۔۔ بہرام بھائی بہت اچھے ہیں وہ تمہارا بہت خیال رکھیں گیں”
منہا نے ہاں میں سر ہلایا
“اچھا اب رونا بند کرو اور ایک اچھی سی سمائل دے دو مجھے ”
منہا ہنس پڑی تھی لیکن اس کی آنکھوں سے صاف ظاہر تھا وہ صرف اس کا دل رکھ رہی ہے تبھی بہرام اسما اور ائمہ کمرے میں داخل ہوئی
“منہا اگر کسیبھی چیز کی ضرورت ہو توخالہ سے کہہ دینا ”
“جی ”
منہا نے بس مختصر جواب دیا بہرام خاموش کھڑا ان کی باتیں سن رہا تھا
“اچھا منہا بیٹا اب ہم چلتے ہیں پھر ملاقات ہو گی خیال رکھنا اپنا ”
زویا سے ملتے وقت چاھتے ہوے بھی آنسو روک نا پائی لیکن جلد ہی اس نے خود پہ ضبط کر لیا تینوں ان کو چھوڑنے باہر تک آے تھے ان کہ جانے کہ بعد وہ لوگ ہال میں واپس آ گئے
❥❥═════❥❥❥
دو دن ہو چکے تھے لیکن منہا اور بہرام کہ درمیان ابھی تک بات بھی نہیں ہوئی تھی
صبح بہرام اٹھ کر واک پہ چلا گیا جب واپس آیا تو منہا ابھی تک سو رہی تھی اس نے ایک دو دفعہ اسے اٹھانے کی کوشش بھی کی لیکن منہا تو گھوڑے بیچ کر سو رہی تھی بہرام دو منٹ کا الارم سٹ کر کہ خود فریش ہونے چلا گیا
منہا الارم کی آواز سن کر بوکھلا گئی تھی وہ سمجھ چکی تھی الارم بہرام نے ہی لگایا ہو گا
تب تک بہرام فریش ہو کر آ چکا تھا منہا اٹھ کر ڈریسنگ روم کی طرف بڑھ گئی فریش ہو کر آئ تو بہرام آفس کہ لئے تیار تھا
منہا نے ابھی اپنے بال ہی سٹ کئے تھے
“یہ موبائل ہے تمہیں ضرورت ہو گی اس میں میرا زویا اور فرقان کا نمبر سیو ہے ”
منہا بی یقینی سے اس کی طرف دیکھ رہی تھی
“چلو آ جاؤ میں لیٹ ہو رہا ہوں ناشتہ کر لیں ”
کہتے ہی بہرام باہر کی طرف بڑھ گیا منہا بھی خاموشی سے اس کے پیچھے چل دی
سب لوگ ناشتہ کرنے میں مصروف تھے دونوں نے سلام کیا بہرام کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا منہا ابھی وہیں کھڑی تھی
“آؤ بیٹا ناشتہ کرو بیٹھو ”
ائمہ نے قدرے نرمی سے کہا ابھی منہا نے قدم اٹھایا ہی تھا بی جان بول پڑی
“اے لڑکی ! ایک قدم بھی مت اٹھانا تم ہرگز یہاں بیٹھ کر کھانا نہیں کھا سکتی جاؤ یہاں سے ”
بی جان نے قدرے نفرت کا اظہار کیا تھا
منہا کو تو اپنا وجود بے جان ہوتا محسوس ہو رہا تھا
“دادو پہلی بات اس کا نام منہا بہرام خان ہے اور دوسری بات یہ میری بیوی ہے اس لئے یہ بھی بھابھی کی طرح ہمارے ساتھ ہی کھانا کھایا کرے گی ”
بہرام نے غصے سے کہا تھا
اس نے منہا کو اپنے ساتھ خالی پڑی کرسی پہ بیٹھنے کا اشارہ کیا تھا منہا خاموشی سے بیٹھ گئی سب نے چپ کر کہ ناشتہ کیا منہا کہ حلق سے نوالہ ہی نہیں گزر رہا تھا
ناشتہ کرنے کہ بعد بہرام آفس کہ لئے نکل گیا کچھ دیر تک اسد اور ہاشم خان بھی جا چکے تھے
منہا اپنے کمرے میں واپس آ گئی
❥❥═════❥❥❥
“سکینہ جو لڑکی آئ ہے اسے بلا کر لاؤ ”
بی جان نے قدرے نفرت سے کہا
“جی بی جان ” وہ فرما برداری سے کہتی ہوئی چلی گئی
منہا کمرے میں چیزیں سٹ کر رہی تھی جب ملاذمہ نے آ کر پیغام دیا منہا اس کے ساتھ ہی لاؤنج میں آ گئی
“جی آپ نے بلایا ”
منہا نے نرمی سے کہا
“کیوں میں نہیں بلا سکتی ”
بی جان کہ لہجے سے ہی نفرت چھلک رہی تھی ادھر منہا ہونقوں کی طرح بی جان کو دیکھ رہی تھی
“یہ سارا لاؤنج صاف کرو پہلے ڈسٹنگ کرو اور پھر فرش صاف کر دو ”
بی جان نے بے نیازی سے کہا
“لیکن مجھے کچھ نہیں کرنا آتا ”
منہا نے ڈرتے ڈرتے کہا
“مجھے کوئی غرض نہیں ہے یہ آج سے تمھارے ذمہ ہے جیسے مرضی کرو یہ مت بھولو کہ تم ونی کہ طور پہ یہاں لائی گئی ہو ”
منہا کہ چہرے پہ کچھ ننھے قطرے چھلک پڑے تھے
اس نے آئمہ کی طرف دیکھ
“بی جان آپ ایسا نا کریں اسی واقع کوئی کام نہیں آتا ہو گا ”
آئمہ نے کہا
“تم اس کی وکالت مت کرو اب تم مجھے بتاؤ گی مجھے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں ”
آئمہ چپ سدھار گئی
“اب یہاں کیوں کھڑی ہو جاؤ یہاں سے اور کم پہ لگ جاؤ ”
سارا دن بی جان نے منہا کو کمرے میں نہیں جانے دیا وہ بلکل ادھموئی ہو گئی تھی
شام کو بہرام کہ آنے سے پہلے بی جان نے اسے کمرے میں بھیج دیا
کمرے میں آتے ہی اس نے زویا کو فون کیا اور رو رو کر سارا حال بیان کر دیا
“بی جان سے تو کسی بھی چیز کی امید کی جا سکتی ہے میں خالہ جان کو بھیجتی ہوں تمھارے پاس کال کر کے “”
تھوڑی دیر میں آئمہ منہا کہ پاس تھی منہا بخار سے تپ رہی تھی
“منہا بیٹا کیا ہوا ہے مجھے بتادیتی میں خود آ جاتی ”
کچھ دیر وہ اس سے باتیں کرتی رہی اور وہ بی جان کہ رویہ سے تھوڑی شرمندہ بھی تھی
ملاذمہ نے آ کر اسے اطلاع دی ہاشم صاحب بلا رہے ہیں
“سکینہ تم منہا کہ لیے کچھ کھانے کو اور ساتھ گرم دودھ اور دوا لا کر دو ”
سکینہ اثبات میں سر ہلاتی وہاں سے چلی گئی
“منہا دوا لے لینا بلکل ٹھیک ہو جاؤ گی ”
“جی شکریہ ”
آئمہ کہ جانے کہ بعد اس کہ آنسو تھم ہی نہیں رہے تھے
سکینہ دوا اور دودھ رکھ کر جا چکی تھی
دودھ پڑا پڑا ٹھنڈا ہو گیا تھا اسے بھائی بابا اور بوا کی بہت یاد آئ جو اس کی تھوڑی سی تکلیف سے بے چین ہو جاتے تھے
اسی وقت بہرام کمرے میں داخل ہوا ساتھ ہی اس کا فون بجا تھا زویا سے بات کر کہ موبائل سائیڈ پہ رکھ دیا
منہا ابھی تک ویسے ہی بیٹھی تھی اسے بہرام کی موجودگی سے کوئی فرق نہیں پڑا بہرام نے ایک نظر منہا کو دیکھا جس کہ آنسو ابھی تک رواں تھے پھر اس نے کھانے کی ٹرے دیکھی جو ویسے ہی پڑی ہوئی تھی
کوٹ اتار کر سائیڈ پہ رکھ دیا اور خود ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کر کہ اس کہ پاس بیٹھ گیا
“کیا ہوا ہے طبیعت کسی ہے اور کھانا کیوں نہیں کھایا ابھی تک ”
بہرام نے ایک ہی سانس میں سارے سوال کر ڈالے تھے
نا چاھتے ہوۓ بھی اس کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے
“وہ وہ بی جان ۔۔۔۔”
کہتے کہتے منہا بری طرح رو رہی تھی بہرام نے آگے بڑھ کر آنسو صاف کیے اس کا جسم بخار سے تپ رہا تھا
“مجھے زویا نے بتا دیا ہے سب کچھ میں دادو سے بات کرتا ہوں ”
منہا نے اثبات میں سر ہلا دیا
“اچھا کھانا کھاؤ میں فریش ہو کر آتا ہوں ”
بہرام فریش ہو کر واپس آیا تو کھانا بھی ویسے ہی پڑا تھا اور منہا بھی اسی پوزیشن میں بیٹھی تھی
“کھانا کیوں نہیں کھایا ؟”
بہرام کا لہجہ تھوڑا سخت تھا
“دل نہیں کر رہا میرا ”
“کیا مطلب دل نہیں کر رہا جلدی کھانا کھاؤ پھر دوا لے کر ریسٹ کرو ٹھیک ہو جاؤ گی ”
“تا کہ صبح پھر کام کر سکوں ہے نا ”
منہا نے طنز سے کہا بہرام اس کہ لہجہ سے ٹھٹھک گیا
“جو سمجھنا ہے سمجھو لیکن جلدی کھانا ختم کرو اور پھر دوا لو ”
❥❥═════❥❥❥
تو کسی لگی آپ کو یہ قسط اپنی آراء کا اظہار ضرور کیجے گا ۔ شکریہ ۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: