Kis Jurm Ki Saza Mili Novel by Maham Shoukat – Episode 7

0
کس جرم کی سزا ملی از ماہم شوکت – قسط نمبر 7

–**–**–

❥❥═════❥❥❥
“بابا ” ایک چیخ کہ ساتھ ہی منہا ہڑ بڑا کر اٹھی تھی بہرام بھی ہکلا گیا تھا وہ بھی فوراً اٹھ کر بیٹھ گیا اس نے منہا کو دیکھ جو پسینے سے شرابو تھی
“منہا کیا ہوا ٹھیک تو ہو تم ؟”
بہرام نے فکر مندی سے پوچھا
منہا نے کوئی جواب نا دیا بہرام نے سائیڈ ٹبیل سے پانی کا گلاس اٹھا کر منہا کو دیا جو اس نے ایک ہی سانس میں ختم کر دیا بہرام نے ہاتھ آگے بڑھا کر بخار چیک کیا کافی حد تک اتر چکا تھا
“Minha are you ok?”
بہرام نے نرمی سے پوچھا
“بابا ۔۔۔۔۔۔۔ بہرام مجھے بابا پاس جانا ہے پلیز مجھے بابا پاس لے جاؤ ” منہا رو رہی تھی
بہرام اس کہ انداز سے پریشان ہو گیا تھا
“منہا ہم کل چلے جایں گیں تم ریلکس رہو ”
بہرام نے تسلی دیتے ہوۓ کہا
“آپ لے کر جایں گیں نہ مجھے ”
منہا نے بے یقینی سے دیکھا
“ہاں لے جاؤں گا کل شام میں تیار رہنا ۔۔۔۔۔۔۔۔ اب سو جاؤ ”
❥❥═════❥❥❥
سب لوگ ناشتہ کے ٹبیل پہ موجود تھے جب انہیں بہرام آتا دکھائی دیا
“بیٹا منہا نہیں آئ طبیعت تو ٹھیک ہے نا اس کی ؟”
ائمہ نے پوچھا
“تمہیں اس کی فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ”
بی جان نے نفرت کا اظہار کیا
“دادو اب منہا سے کوئی کام نہیں کروائیں گی آپ پہلے ہی آپ کی وجہ سے اس کی طبیعت بہت خراب ہوئی ہے ۔۔۔۔۔ گھر میں بہت ملازم ہیں اگر آپ کہیں تو دو تین اور رکھوا دوں گا لیکن آج کہ بعد منہا ملازموں والے کوئی کام نہیں کرے گی ”
اس نے برہمی سے کہا
“اب تم اس کل آنے والی لڑکی کہ لئے بی جان سے بد تمیزی کرو گے ”
ہاشم نے قدرے غصے سے کہا
“بابا مجھے سمجھانے کی بجائے آپ دادو کو یہ بات بتا دیں کہ منہا میری اب بیوی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ جو مقام ہمارے نزدیک حنا بھابھی کا ہے وہی منہا کا ہو گا ”
“بس بہت ہوا وہ لڑکی کبھی اس گھر کی بہو نہیں بن سکتی اور تم حنا کا مقابلہ اس لڑکی سے کر رہے ہو جس نے تمھارے بھائی کو موت کی گھاٹ اٹھار دیا ”
“دادو پلیز بس کریں آپ لوگ۔۔۔۔۔۔ اگر فرقان نے زین کو مارا بھی ہے تو اس میں منہا کا کوئی قصور نہیں ہے اس کی سزا منہا کو کیوں دیں ہم لوگ ”
بہرام تو جیسے اپنے حواس کھو بیٹھا تھا
“بہرام بہت ہو گیا اب تم حد سے بڑھ رہے ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور کچھ نہیں سننا مجھے “بی جان کی آنکھوں سے شعلے برس رہے تھے
“بھابھی آپ پلیز منہا کو دیکھ لیجےگا ” حنا نے اثبات میں سر ہلا دیا
بہرام کہتا ہوا باہر نکل گیا ائمہ اسے آواز دیتی رہی لیکن وہ ان سنی کرتا باہر نکل گیا
اسد ہمیشہ کی طرح خاموش بیٹھا رہا وہ بی جان اور ہاشم خان کے ہر فیصلہ کے آگے سر خم کر دیتا حنا بھی ان کا ہی انتخاب تھی
❥❥═════❥❥❥
“اب ہاشم خان کو اگلا سبق دینے کا وقت آ گیا ہے ”
آغا نے ہنستے ہوے کہا
“نہیں دادا ابھی نہیں ۔۔۔ ابھی تو چوہدری کی بیٹی کو روز مرنا ہو گا روز جینا ہو گا ہاشم کی ماں نے اس کا جینا دو بھر کر رکھا ہے ۔۔۔۔ اگر انھیں پتہ چل گیا کے حملہ ہم نے کروایا ہے تو چوہدری آپنی بیٹی کو واپس لانے میں دیر نہیں کرے گا ۔۔۔ میں چاہتا ہوں جو تکلیف میری بیٹی نے برداشت کی چوہدری کی بیٹی ہر روز اس قرب میں سے گزرے ”
“اچھا تو کہتا ہو تو مان لیتا ہوں تیری بات لیکن زیادہ وقت نہیں بس چھ سات مہینے ”
“شکریہ دادا اب میں چلتا ہوں ”
وہ آغا سے ہاتھ ملاتا ہوا باہر نکل گیا
❥❥═════❥❥❥
“ہیلو بہرام اگر فری ہو تو میرے آفس آ سکتے ہو تھوڑی دیر کہ لئے ”
“بھائی اگر بابا آفس میں ہیں تو میں نہیں آ رہا ”
“نہیں بابا میٹنگ کہ لئے گئے ہیں تم آ جاؤ جلدی دے ”
“سچا میں آ رہا ہوں ”
ہاشم خان نے بہرام کو اس کی ضد اور خود سری کی وجہ سے الگ بزنس سٹارٹ کر کہ دیا خود اسد کہ ساتھ ایک ہی بزنس کرتے تھے
دس منٹ کہ بعد بہرام اس کہ آفس میں تھا
“اچھا کیا لو گے چائے یا کافی ”
“بھائی آپ کو پتہ ہے اس وقت میں کچھ نہیں لیتا آپ بات بتایں کیا ہوا ہے جو آپ نے بلایا یہاں ”
اسد نے ایک ٹھنڈی آہ بھری
“بہرام مجھے تم سے صبح کہ حوالے سے بات کرنے ہے تم نے بہت بد تمیزی کی ہے دادو اور بابا ساتھ ”
اسد نے بات کو گھمانے کی بجاے سیدھی بات کی تھی
“بھائی آپ بتایں کیا دادو کو ایسا کرنا چاہیے تھا منہا کہ ساتھ ؟ ”
“میں مانتا ہیں دادو نے ٹھیک نہیں کیا لیکن تم جانتے ہو خون بہا کے طور پےآئ لڑکی کو کبھی بھی گھر کی بہو نہیں تسلیم کیا جاتا ”
“بھائی لیکن ان سب میں منہا کا کوئی قصور نہیں ہے کسی کہ جرم کی سزا اسے کیوں ملے ”
بہرام نے نفس پے قابو کرتے ہوے کہا
“بہرام ایک بات سچ سچ بتانا منہا کہ ساتھ تم ۔۔۔۔۔۔۔۔”
اسد نے آپنی بات ادھوری چھوڑ دی
“نہیں بھائی ایسی کوئی بات نہیں ہے ۔۔۔۔۔ میں صرف انسانیت کہ ناطے سب کہہ رہا ہوں ویسے بھی منہا زویا کی دوست ہے کچھ اس لئے ”
بہرام نے ڈھکے چھپے الفاظ کی بجاے صاف صاف کہا تھا
“اچھاااااا تو منہا زویا کی فرینڈ ہے”
اسد نے حیرانگی سے کہا تھا
جی بھائی ”
“اگر آپ کی تفتیش ہو گئی ہو تو میں جاؤں بہت کام ہے مجھے “بہرام اجازت لیتا ہوا وہاں سے چلا گیا
❥❥═════❥❥❥
“طبیعت کسی ہے اب تمہاری ”
بہرام نے کمرے میں داخل ہوتے ہی منہا سے پوچھا جو صوفہ پہ آنکھیں موندے لیٹی تھی
بہرام کی آواز سن کر وہ جلدی سے بیٹھ گئی
“ٹھیک ہوں ”
منہا نے مختصر سا جواب دیا
“تم تیار نہیں ہوئی ہمیں جانا تھا آج ؟”
اس نے منہا کو دیکھا جو معمولی سے حلیہ میں تھی
“کہاں ؟”
“کیا مطلب کہاں تم نے خود ہی رات کہا تھا کہ تمہیں انکل پاس جانا ہے اور اب ہم نے جانا ہے ”
بہرام کہ چہرے پہ ناگواری تھی
“مجھے کہیں نہیں جانا ۔۔۔۔ رات تو بس ویسے ہی بول دیا تھا میں نے ”
منہا نے آرام سے کہا لیکن بہرام کہ غصے کو وہ ہوا دے چکی تھی
“میں پاگل ہوں جو آفس کا کام چھوڑ کر آیا ہوں ” بہرام دھاڑ ا تھا اس سے پہلے وہ کچھ اور کہتا منہا صوفہ پہ گر چکی تھی
“منہا منہا ”
بہرام اس کی طرف لپکا تھا
“منہا آنکھیں کھولو کیا ہوا ہے ”
منہا بیہوش ہو چکی تھی بہرام نے اسے بازؤں میں اٹھا کر بیڈ پہ لٹایا ایک دفعہ پھر وہ اس کہ سحر میں مبتلا ہو چکا تھا لیکن جلدی ہی سیدھا ہو گیا اس نے ڈاکٹر کو فون کیا
“یہ ٹھیک ہیں لیکن سٹریس اور فیئر کی وجہ سے بیہوش ہو گئی ہیں آپ یہ میڈسن دے دیں ٹھیک ہو جائے گی ”
“ہوش کب تک آے گا ؟”
“تھوڑی دیر تک فکر نا کریں آپ ”
ڈاکٹر اپنے پروفیشنل انداز میں کہتی ہوئی وہاں سے چلی گئی
“بہرام کیا ہوا ہے اسے تمھارے آنے سے پہلے تو ٹھیک تھی ”
ائمہ نے بہرام سے پوچھا
“ماما وہ بس تھوڑا ڈانٹ دیا تھا ”
بہرام نے تھوڑی شرمندگی سے کہا
“شرم کرو بہرام صبح تک تو بی جان کو کہہ رہے تھے اور اب خود شروع ہو گئے یہ امید نہیں تھی تم سے مجھے ”
ائمہ نے خفگی سے کہا
“ماما نیکسٹ ٹائم نہیں ہو گا پکا ۔۔۔ اچھا اب بہت بھوک لگی ہے کچھ کھلا دیں مجھے ”
“تم چینج کرو میں بھیجواتی ہوں ”
ائمہ بیگم باہر چلی گئی اور بہرام چینج کرنے چلا گیا
بہرام جب چینج کر کہ آیا تو ملاذمہ کھانا رکھ کہ جا چکی تھی
اس نے کھانا کھایا اور بیڈ پہ لیٹ گیا اس نے ایک نظر منہا کو دیکھا جس کہ چہرے پہ کچھ آوارہ لٹیں شرارت کر رہی تھی اس نے ہاتھ بڑھا کر ان کو کان کہ پیچھے کیا کسی کا لمس پا کر منہا نے آنکھ کھولی اس نے جلدی سے ہاتھ پیچھے کھینچ لیا
بہرام کو اتنے نزدیک پا کر وہ گھبرا گئی تھی جلدی سے اٹھ کر واشروم میں چلی گئی
اسے ہوش تو تبھی آ گیا تھا جب ملاذمہ کھانا دینے آئ تھی
جب منہا واپس آئ تو بہرام وہیں لیٹا ہوا تھا منہا ڈریسنگ کہ سامنے کھڑی ہو گئی اور بال سلجھانے لگی
بہرام اس کہ پاس آ گیا منہا نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر سے اپنے کام میں مصروف ہو گئی
“Im sorry
مجھے اور ری ایکٹ نہیں کرنا چاہیے تھا ”
“اس سے کیا فرق پڑتا ہے ہو تو تم اسی خاندان کے کچھ بھی کر سکتے ہو ”
منہا کہ لہجہ میں طنز اور آنکھوں میں صرف نفرت تھی جو بہرام کو غصہ دلانے کہ لئے کافی تھی لیکن وہ چپ کر کے کمرے سے جا چکا تھا کیوں کہ اگر کچھ کہتا تو منہا پھر بیہوش ہو جاتی
❥❥═════❥❥❥
“فرقان دبئی کب جا رہے ہو تم ؟”
افشاں نے پوچھا جو کھانا کھانے میں مصروف تھا
“بھابھی اب نہیں جا رہا مجھے کچھ کام ہے بہرام جائے گا ”
“بہرام ب بھی تمھارے ساتھ بزنس کر رہا ہے ؟”
اسلم صاحب نے حیرانگی سے پوچھا
“جی بابا ”
اس نے بس مختصر سا جواب دیا
“ملے ہو اس سے کبھی اس واقع کہ بعد ”
“جی بابا ایک دو دفعہ ہوئی ہے ملاقات ”
“منہا کیسی ہے ؟”
اسلم صاحب کی آواز میں نمی تھی
“بابا ہم صرف بزنس کی بات کرتے ہیں اور کچھ نہیں لیکن زویا سے بات ہوئی تھی بتا رہی تھی ٹھیک ہے وہ ”
“ھمممم”
دونوں دوبارہ کھانے میں مصروف ہو گئے
❥❥═════❥❥❥
منہا جب اٹھی تو سفری بیگ بیڈ پہ پڑا ہوا تھا اس نے کچھ نا سمجھی سے اِدھر اُدھر دیکھا لیکن وہاں کوئی نہیں تھا منہا وضو کرنے چلی گئی آ کر نماز پڑھی اور ٹیرس کی طرف بڑھ گئی نیچے بہرام کسی سے فون پہ بات کر رہا تھا
بہرام فون بند کر کہ کمرے میں آیا منہا اٹھ چکی تھی بہرام نے پیکنگ کی منہا چپ کر کہ اسے دیکھتی رہی شاید وہ اسے بتا دے لیکن بہرام ابھی کل والی بات پہ برہم تھا
“میں کچھ دن کہ لئے دبئی جا رہا ہوں جلد واپس aa جاؤ گا ”
بہرام نے بتایا تو منہا سکتے سے باہر آئ
“کب تک جانا ہے ؟”
بس تھوڑی دیر تک نکلنا ہے اس سے پہلے منہا کوئی اور سوال کرتی بہرام چنجنگ روم کی طرف بڑھ گیا
❥❥═════❥❥❥
بہرام کو گئے پانچ دن ہو چکے تھے لیکن اس نے ایک دفعہ بھی منہا کی خریت معلوم نہیں کی تھی ادھر بہرام کے جاتے ہی بی جان نے اس کو آڑے ہاتھوں لے لیا تھا گھر کہ سارے کام منہا کہ سپرد کر دئے منہا کو کوئی بھی کام نہیں آتا تھا لیکن بی جان کہ سامنے وہ بے بس تھی ائمہ اور ہاشم خان کہ کہنے کا بھی کوئی اثر نہیں ہوا تھا
منہا بلکل کمزور ہو گئی تھی اس کی سفید گلابی رنگت زرد پڑ چکی تھی آنکھوں کہ گرد حلقے پڑ گئے تھےوہ تو سب سے بے خبر آپنی ہی دھن میں اپنے پوتے کی موت کا بدلہ لے رہی تھی
“کہاں مر گئی ہو تم چائے کا کہا تھا تم سے ”
بی جان غصے میں دھاڑ رہی تھی
منہا تبھی چائے لے کر آ گئی
“کبھی کوئی کام ڈھنگ سے بھی کر لیا کرو ”
منہا ان کہ سامنے سر خم کئے کھڑی تھی اسے تو بس فرقان کا انتظار تھا کہ کب وہ اسے لینے آے گا
ابھی وہ ان سوچوں میں ہی تھی کہ منہا کو اپنا ہاتھ جھلستا ہوا محسوس ہوا
بی جان نے ائمہ اور حنا کہ روکنے کہ باوجود بھی چائے کا کپ منہا کہ ہاتھ پہ انڈھیل دیا تھا
منہا کہ منہ سے ایک دل خراش چیخ نکلی جس نے حویلی کہ درو دیوار ہلا دئے
منہا بھاگ کر اپنے روم میں چلی گئی
حنا اور ائمہ نے پیچھے جانا چاہا لیکن بی جان نے منع کر دیا
تبھی بہرام ہال میں داخل ہوا بہرام کو دیکھ کر جہاں حنا اور ائمہ پریشان تھی وہیں بی جان کی بھی سانس اٹک رہی تھی
“کیا ہوا آپ لوگ ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں مجھے ”
بہرام نے مذاق میں کہا
“تم تو کچھ دن بعد انے والے تھے ”
بی جان نے پوچھا
“اب اگر آ گیا ہوں تو کیا واپس چھلا جاؤں ”
“مجھے یاد آیا آپ لوگوں کہ لئے ایک بندریا لے کر آیا ہوں ”
بہرام بہت کم ایسا مذاق کرتا تھا
سب نے ہال کہ دروازے کی طرف دیکھا امل وہاں جینز اور ساتھ شارٹ شرٹ بال کھلے سن گلاسز بالوں میں اٹکایے کھڑی مسکرا رہی تھی
ائمہ بیگم کی آنکھوں سے آنسو روں تھے
امل سے مل کر سب ہال میں ہی تھے اسد اور ہاشم آفس میں تھے
“ماما میں تھوڑی دیر تک آتا ہوں ”
کہتے ہوے بہرام کھڑا ہو گیا
” نن نہیں ابھی تم تھوڑی دیر اور بیٹھ جاؤ ”
بی جان کا تو دل پھٹنے کو تھا
“نہیں دادو ابھی آتا ہوں میں ”
منع کرنے کہ باوجود بھی وہ وہاں سے چلا گیا اسے منہا سے ملنے کی جلدی کی جیسے ہی کمرے کا دروازہ کھولا اس کہ ہوش اڑھ گئے منہا بے ہوشی کی حالت میں فرش پہ پڑی تھی
“منہا منہا اٹھو کیا ہوا ہے تمہیں آنکھیں کھولو جلدی ”
اس نے منہا کا سر آپنی گود میں رکھا اس کی سانسیں بہت آہستہ چل رہی تھی وہ پہلے والی منہا کہیں سے بھی نہیں لگ رہی تھی اس کی نظر منہا کہ ہاتھ پہ پڑی جو جلا ہوا تھا اسے آہستہ آہستہ سب سمجھ آنے لگا تھا تبھی امل حنا اور ائمہ کمرے میں داخل ہوئی
حنا اور ائمہ تو پریشان ہو گئی تھی لیکن امل حیرانگی سے کبھی بہرام اور کبھی اس لڑکی کو دیکھتی جسے بہرام اٹھانے کی کوشش کر رہا تھا
“منہا ؟”
ائمہ آگے بڑھی لیکن بہرام کی گرج دار آواز نے اسے وہیں روک دیا
“ایک قدم بھی آگے مت ایں آپ دفعہ جو جاؤ یہاں سے سب لوگ ”
ملازم بھی باہر کھڑے تھے
وہ منہا کو اٹھا کر نیچے لے آیا
“ڈرائیور گاڑی نکالو جلدی ”
اس نے منہا کو تھری سٹر صوفہ پہ لٹایا اور خود نیچے بیٹھ کر اسے پھر سے اٹھانے کی کوشش کرنے لگا
“صاحب جی آ جایں گاڑی تیار ہے ”
ڈرائیور نے اطلاع دی
منہا کو اٹھانے کہ لئے جھکا لیکن پھر سیدھا کھڑا ہو گیا اس کی نظرین شعلہ برسا رہی تھی
“دادو ایک بات یاد رکھیں اگر منہا کو کچھ ہوا نا تو آپ لوگ میرا چہرہ کبھی نہیں دیکھ پائیں گی اور نا ہی میں کبھی معاف کروں گا آپ کو ”
منہا کو اٹھا کر باہر جانے لگا تو حنا نے روکا
“میں آپ کہ ساتھ چلوں ؟”
“تم سب لوگ بھاڑ میں جاؤ *
کہتا ہوا باہر نکل گیا سارے راستے وہ اسے اٹھانے کی کوشش کرتا رہا لیکن شاید منہا سب سے بیگانا سو رہی تھی
❥❥═════❥❥❥
تو کسی لگی آپ کو یہ قسط اپنی آراء کا اظہار ضرور کیجے گا ۔ شکریہ ۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: