Kis Jurm Ki Saza Mili Novel by Maham Shoukat – Episode 8

0
کس جرم کی سزا ملی از ماہم شوکت – قسط نمبر 8

–**–**–

❥❥═════❥❥❥
“ڈاکٹر صاحب منہا کیسی ہے اب ؟”
بہرام نے بے تابی سے پوچھا
“ان کا نروس بریک ڈاؤن ہوا ہے ابھی ہوش میں نہیں ہے اگلے 24 گھنٹے بہت اہم ہے ان کے لیے آپ دعا کریں ان ک لیے ”
ڈاکٹر کہتا ہوا وہاں سے چلا گیا
بہرام سر تھام کر وہاں بیٹھ گیا تبھی زویا وہاں آ گئی
“بہرام بھائی منہا کیسی ہے کہاں ہے وہ ” اس نے آتے ہی سوالات کی بوچھاڑ کر دی
“نروس بریک ڈاؤن ہوا ہے ابھی ہوش میں نہیں ہو وہ ”
بہرام کی آواز میں نمی تھی زویا اس کی بات سن کر حیران ہو ہے
“لیکن یہ یہ سب ہوا کیسے ؟”
“زویا میں دبئی گیا تھا ایک ہفتہ کہ لیے امل کی یونی کی کلوزنگ تھی اور کچھ بزنس کہ سلسے میں منہا گھر تھی تو۔ دادو نے ۔۔۔۔۔۔۔ ”
اس نے جان بوجھ کر بات ادھوری چھوڑ دی
“اوہ مائی گاڈ بی جان ۔۔۔ ڈاکٹرز نے کیا کہا ہے ”
“اگلے۔ 24 گھنٹے کا ٹائم دیا ہے اگر ہوش میں آ گئی تو۔ ٹھیک نہیں تو قومہ میں جا سکتی ہے”
بہرام کہ چہرے پہ پریشانی کہ تاثرات واضح تھے
زویا تو شوکڈ تھی
“آپ گھر چلے جایں میں یہاں ہوں ریسٹ کر کہ واپس آ جایئے گا ”
“نہیں میں ٹھیک ہوں منہا کو ہوش آ جائے تو پھر ”
❥❥═════❥❥❥
رات کو امل ہاشم اور آئمہ کہ پاس کمرے میں موجود تھی
“آپ بتا کیوں نہیں رہے وہ لڑکی کون ہے اور بھیم اسے لے کر اتنا پریشان کیوں تھے ؟”
امل بہرام کو پیار سے بھیم کہتی تھی
“بیٹا اس کا نام منہا ہو اور ”
انھوں نے ساری حقیقت امل کو بتا دی امل تو جیسے شوک میں آ گئی تھی
“یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ لوگ کسی نے بھی مجھے بتانا بھی گوارہ نہیں کیا ”
“ہم کیا بتاتے ہم تو خود بہت پریشان ہیں اوپر سے بہرام کا اس۔ کہ ساتھ اتنا لگاؤ کچھ سمجھ نہیں آ رہی ”
ہاشم خان کی پریشانی واضح تھی
“تو اب کیا ہو گا ؟”
“پتہ نہیں لیکن تم ابھی بہرام سے پوچھو کب تک واپس آ رہے ہیں وہ لوگ اور طبیت کیسی ہے منہا کی میری تو کال ہی رسیو نہیں کر رہا ”
“اچھا آپ فکر با کریں میں کرتی ہوں ”
امل نے تین چار دفعہ کال کی لیکن جواب ندار تھا
❥❥═════❥❥❥
“بہرام بھائی اب ہم چلتے ہیں کل میرا پیپر ہے ”
اسما بھی ہسپتال آ گئی تھی
“پیشنٹ کو ہوش آ گیا ہے”
ڈاکٹر نے آ کر بتایا ابھی وہ تینوں باتوں میں ہی مصروف تھے
“ہم مل سکتے ہیں کیا ان سے ”
بہرام نے بے تابی سے پوچھا
“ابھی نہیں لیکن تھوڑی دیر تک مل سکتے ہیں آپ ان کے بابا کو بلوا لیں پیشنٹ ان کو بہت دیر سے یاد کر رہی ہے بیہوشی کی حالت میں بھی صرف ان کو بلا رہی تھی ”
ڈاکٹر وہاں سے جا چکا تھا تینوں نے خدا کا شکر ادا کیا
“میں انکل کو کال کر دوں وہ آ جایں ”
زویا نے موبائل اٹھاتے ہوے کہا
“نہیں نہیں تم انھیں کچھ نہیں بتاؤ گی ”
بہرام نے فوراً کہا
“لیکن بھائی منہا انہیں یاد کر رہی ہے ”
اسما نے بھی زویا کا ساتھ دیا
“نہیں خالہ میں انھیں نہیں بلا سکتا مجبوری ہے میری ”
بہرام نے التجایۂ انداز میں کہا تو انھوں نے بھی ضد نہیں کی
“میں منہا کہ لیے اور تمھارے لیے کچھ کھانے کو بھجواتی ہوں ”
اسما نے پیار سے کہا
زویا اور اسما گھر چلی گئیں بہرام منہا کہ کمرے کی جانب بڑھ گیا
کمرے کا دروازہ کھولا تو منہا دوا کہ زیر اثر سو رہی تھی بہرام نے امل کو کال کی
“ہیلو امل ۔”
“کیسے ہیں آپ اور منہا کیسی ہے ؟”
“میں ٹھیک ہوں اور منہا کو تھوڑی دیر پہلے ہوش آیا ہو لیکن اب وہ دوا کہ اثر سے سو رہی ہے ”
بہرام نے اسے تفصیل سے بتاتے ہوئے کہا
“کب واپس آنا ہے آپ نے ؟”
” ابھی نہیں پتہ اور تم ڈرائیور سے میرا ایک ڈریس بھجوا دو”
اس سے پہلے امل کچھ اور پوچھتی اس نے کل بند کر دی
منہا کہ پاس آ کر بیٹھ گیا اس نے منہا کا ہاتھ تھام لیا اور دوسرے ہاتھ سے اس کہ بال سہلانے لگا
منیجر کو کال کر کہ بتا چکا تھا دو دن نہیں آے گا کام وہ خود دیکھ لے
❥❥═════❥❥❥
“تم کہاں جا رہی رہی ہو اتنی صبح صبح ”
بی جان نے امل سے پوچھا جو بیگ لے کر نیچے آئ تھی سب لوگ ناشتہ۔ کر رہے تھے
“میں بھیم کہ پاس جا رہی ہوں ”
کہہ کر وہ خود بھی ناشتہ میں مصروف ہو گئی
“پہلے بہرام کم تھا جو اب تم بھی اس کی خیر خوا بن رہی ہو ”
بی جان نے اسی کھٹور لہجے میں کہا امل اس وقت کسی بحث کے موڈ میں نہیں تھی اس لیے چپ کر کہ ناشتہ میں مصروف ہو گئ
“بی جان آپ کو ایسے نہیں کرنا چاہیے تھا ”
ہاشم خان نے کہا
“اچھا تو اب تم لوگ مجھے بتاؤ گے کہ میں غلط کر رہی ہوں یا صحیح ”
“نہیں بی جان ایسی بات نہیں ہے میں نے ویسے ہی کہا تھا ”
ہاشم خان نے بات کو دبا دیا
“اچھا میں اب چلتی ہوں اللہ‎ حافظ ”
کہتے ہوے وہ بیگ اٹھا کر کھڑی ہو گئی
“تم ہمارے ساتھ چلی جانا ابھی کل تو آئ ہو سیف نہیں ہے تمہارا اکیلے جانا ”
اسد نے کچھ سوچتے جوے کہا
“نہیں بھائی میں خود چلی جاؤں گئی ویسے بھی بھیم نے منع کیا ہے کسی کو انے سے ”
امل باہر کی طرف بڑھ گئی
❥❥═════❥❥❥
بہرام منہا کو ناشتہ کروا کر فارغ ہوا تھا منہا کی آنکھوں میں وہی نفرت تھی جو مزید بڑھ چکی تھی ڈاکٹر میڈیسن دے کر جا چکی تھی
منہا کہ ہاتھ پہ ٹیوب لگی ہوئی تھی وہ مسلسل آپنے ہاتھ کو گھور رہی تھی
“طبیعت کسی ہے اب ”
بہرام نے ناشتہ سے فارغ ہو کر پوچھا
“تمہیں اس سے کوئی غرض نہیں ہونی چاہیے میں مروں یا جیوں ”
منہا نے غصے سے کہا تھا
“کیوں مجھے غرض کیوں نہیں ہو گئی شوہر ہوں تمہارا ”
“ہوں شوہر ”
منہا نے منہ دوسری طرف کر لیا
“ادھر دیکھو میری طرف بات سنو میری ”
بہرام نے اس کا چہرہ آپنی طرف کیا
ایک ہاتھ پہ ڈرپ اور دوسرے پہ زخم کی وجہ سے وہ اس کا ہاتھ ہٹا نا پائی لیکن اس کی خون خوار نظریں اسی بات کا اشارہ کر رہی تھی
بہرام نے اپنا ہاتھ پیچھے کر لیا
“اس میں میری کوئی غلطی نہیں ہے یقین کرو میرا ”
بہرام نے نرمی سے کہا
“یقین اور وہ بھی تم لوگوں کا کبھی نہیں اگر تم مجھے آپنی بیوی سمجھتے ہوتے تو نوبت یہاں تک انے نہیں دیتے میں تمہاری بیوی نہیں ہوں میں تو خون بہا کہ طور پہ آئ ہوں لیکن خیر ہو تو تم اسی خاندان کے تم بھی تو آپنے بھائی کی موت کا بدلہ لو گے مجھ سے ”
اب تو اس کی آنکھیں شعلہ برسا رہی تھی وہ کبھی بھی ایسی نہیں تھی لیکن ایک ماہ میں ہی وہ تلخ ہو گئی تھی حالات نے ایسا کرنے پہ مجبور کر دیا تھا
“منہا بات تو سنو میری ”
“مجھے کوئی بات نہیں کرنی آپ سے مسٹر بہرام خان ”
اس نے چہرے کا رخ دوسری جانب کر لیا
تبھی امل کمرے میں آ گئی
“السلام عليكم ”
“کیسی ہو منہا ”
امل نے آتے ہی منہا کو مخاطب
منہا نے پہلے اس لڑکی کی جانب دیکھا پھر بہرام کی طرف
“ٹھیک ہوں ”
اس نے ہمیشہ کی طرح مختصر سا جواب دیا
“شکر ہے تمہیں ہوش آ گیا مجھے تو لگا تھا کہ ”
اس پہلے وہ کچھ اور بولتی بہرام نے اسے ٹوک دیا
“میرا ڈریس لائی ہو ؟”
امل نے اسے ڈریس دے دیا بہرام نے اسے اشارے میں ہی چپ رہنے کا کہا تھا
بہرام ڈریس لے کر باہر چلا گیا
❥❥═════❥❥❥
منہا کو گھرآئے دو دن ہو چکے تھے اس دن کہ بعد منہا اور بہرام کہ درمیان کوئی بات نہیں ہوئی تھی بس وہ اس کی طبیعت کا پوچھتا اور آپنے کام میں مصروف ہو جاتا
امل اس کی دوا کا خیال رکھتی کوئی بھی اس کہ کمرے میں نہیں اتا تھا امل کے سوا
اس دن کہ بعد وہ سب سے کھچا کھچا رہتا تھا
سارا ٹائم آفس میں گزرتا اور رات کو کھانا کھا کر سو جاتا یا پھر کام میں مصروف ہو جاتا
منہا کو اپنے اس دن والے رویہ پر تھوڑی شرمندگی تھی لیکن اس نے بہرام سے کچھ نہیں کہا
سب لوگ ناشتہ کہ ٹبیل پہ موجود تھے
“میں سوچ رہی ہوں امل کی پڑھائی بھی مکمل ہو گئی ہے اور بہرام بھی سیٹل ہو چکا ہے تو اب ان کی شادی کی فکر کرنی چاہیے ”
بی جان نے گویا ان کہ سر پہ بم پھوڑا تھا
“بی جان میں باہر سے اس لیے نہیں پڑھ کہ آئ۔ کہ آپ میری شادی کر دیں باقی آپ بھیم سے پوچھا لیں ”
کہتے ہوے وہاں سے اٹھ کر چلی گئی
“میرے خیال میں میری شادی ہو چکی ہے ہوئی تو آپ لوگوں کی مرضی سے تھی لیکن اب میری مرضی ہو گئی ”
دونوں کہ صاف انکار نے بی۔ جان کو تپا دیا تھا
“ہاشم میں بتا رہی ہوں یہ دونوں بہت ضدی اور خود سر ہیں اس سے پہلے پانی سر سے اونچا ہو کچھ کر لو ”
ہاشم نے سر ھلانے پے اکتفا کیا وہ جانتا تھا کہ ان سب سے کوئی فائدہ نہیں ہو گا
❥❥═════❥❥❥
ادھر فرقان اصلی مجرم تک پھنچنے کہ لیے تگ و دو کر رہا تھا اس نے زین کو لگنے والی بلٹس کہ شیل کولیکٹ کروا کر آپنے اور زین کے بلٹس سے میچ کرواے تھے رپورٹ سے ظاہر تھا کہ زین کو لگنے والی بلٹ اس سے مختلف ہے جس سے ظاہر ہو گیا تھا وہاں کوئی تیسرا بھی تھا جس نے زین پہ گولی چلائ تھی
❥❥═════❥❥❥
تو کسی لگی آپ کو یہ قسط اپنی آراء کا اظہار ضرور کیجے گا ۔ شکریہ ۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: