Kis Jurm Ki Saza Mili Novel by Maham Shoukat – Episode 9

0
کس جرم کی سزا ملی از ماہم شوکت – قسط نمبر 9

–**–**–

❥❥═════❥❥❥
اس دن کہ بعد سے بی جان اور منہا کا سامنا نہیں ہوا تھا
منہا کھانا بھی زیادہ تر اپنے کمرے میں کھاتی تھی
زویا پیپرز سے فارغ ہو چکی تھی
زویا لوگ گاؤں آے ہوے تھے اس وقت زویا اور امل منہا کہ کمرے میں موجود باتوں میں مصروف تھی
“منہا میں نے بہت مس کیا تمہیں اب دل نہیں لگتا یونی میں ”
منہا اس کی بات سن کر افسردہ ہو گئی تھی
“بس یہی تھا قسمت میں میری ”
ایک لمبی خاموشی تھی
“پتہ نہیں ہم بیٹیاں ہی کیوں قربانی دیتی ہیں سب کچھ بیٹے ہوتے ہیں اور جب عزت کی بات آتی ہے تو بیٹیوں کو آگے کر دیا جاتا ہے ”
منہا اب خاموش ہو گئی تھی کچھ آنسو اس کہ رخسار پہ بہ نکلے تھے
“منہا پلیز سینٹی نا ہو یار اللّه کہ ہر کام میں بہتری ہوتی ہے ”
امل نے حوصلہ دیا تھا
“منہا سمسٹر فریز کروا دیا تھا تم جوائن کر لینا نیکسٹ ائیر سے ”
زویا نے تو اس کے سر بم پھوڑا تھا
“کیا مطلب ہے تمہارا ”
“مطلب یہ کہ فرقان اور بہرام بھائی نے کروایا تھا نکاح سے کچھ دن بعد ”
زویا نے تفصیل بتائی تھی
“فرقان بھائی کیسے ہیں ؟
اس سے پہلے زویا کوئی جواب دیتی
“تم فرقان کو کیسے جانتی ہو ”
امل نے فوراً جوابی حملہ کیا
“وہ وہ ۔۔۔۔۔”
زویا گھبرا گئی تھی
“زویا جھوٹ بولنے کی کوشش مت کرنا مجھ سے جلدی بتاؤ ”
زویا نے اپنے اور فرقان کہ بارے میں بتا دیا ساتھ ہی درخواست
“امل پلیز کسی کو بھی نا بتانا صرف ماما بابا کو پتہ ہے اس بارے میں اور کسی کو نہیں ”
“زویا اب بچو مجھ سے ”
امل زویا پہ جھپٹی تھی زویا اپنے بچاو کہ لئے صوفہ پہ کھڑی ہو گئی پلو اور کشن سے جنگ جاری تھی کمرہ اس وقت میدان جنگ بنا ہوا تھا منہا اس سے بچ کر دروازہ کی جانب بھاگی تھی تبھی اس کا زور دار تصآدم کسی چیز سے ہوا تھا منہا سر پکڑ کر نیچے بیٹھ گئی
“بہرام بھائی آپ ”
زویا کہ منہ سے نکلا تھا منہا کو لگنے والا کشن بہرام کو لگا تھا
منہا نے سر اٹھا کر دیکھا تو بہرام اس کہ سر پہ کھڑا خون خوار نظروں سے انہیں دیکھ رہا تھا
“بہ بہ بھائی وہ وہ ہم ”
امل کی تو آواز ہی بند ہو گئی تھی
“اگر تم لوگوں کی جنگ عظیم ختم ہو گئی ہو تو نیچے آ جاؤ انکل اسلم آے ہیں ”
“سچ ”
منہا اپنا درد بھول کر خوشی سے اٹھی تھی لیکن اس دفعہ پھر وہ پاس کھڑے بہرام سے ٹکرائ تھی
منہا وہیں پہ ساکت ہو گئی تھی بہرام مسکراتا ہوا وہاں سے چلا گیا
“اب چلو بھی یا بھائی کہ خیالوں میں ہی گم رہنا ہے ”
امل نے اسے ہوش میں واپس بلایا
اس نے امل کو گھوری سے نوازا تھا
وہ تینوں نیچے چلی گئی ہال میں سب جمع تھے فرقان کہ علاوہ
سب کہ علاوہ دو پولیس آفیسرز اور باقی تین سرپنچ بیٹھے تھے انھیں نے بتایا کہ زین کو گولی فرقان کی نہیں بلکے کسی اور کی گن سے لگی تھی
سب کہ چہرے پہ خوشی تھی لیکن ساتھ ہی غم کی لہر تھی کہ زین کو کس نے مارا
“بابا میں سامان لے آؤں ”
منہا کمرے کی جانب بڑھ گئی
“نہیں بیٹا آج نہیں ”
اسلم صاحب نے کہا
“بابا اب تو پتہ چل گیا ہے نہ تو پھر ”
“جب تک اصلی مجرم نہیں پکڑا جاتا تب تک یہیں رہو ہم بس اس لئےآے تھے کہ اب تم پہ اور ظلم نہ ہو ”
ساتھ ہی اسلم صاحب نے ایک نظر بی جان کودیکھا تھا سب اپنے جلد بازی والے فیصلہ پہ شرمندہ تھے جو انہوں نے منہا کہ ساتھ کیا
سب لوگ چلے گئے تو ان تینوں کا رخ امل کہ کمرے کی جانب تھا
“تم لوگ کہاں جا رہی ہو ”
ایک گرج دار آواز نے ان کے قدم روکے تھے
“کمرہ کون صاف کرے گا جسے میدان جنگ بنا کر آئ ہو تم لوگ ”
بہرام اس وقت کسی کو بھی بخشنے کے موڈ میں نہیں تھا بہرام نے منہا کو معنی خیز نظروں سے دیکھا وہ ابھی اوپر والی بات سے ہی پزل تھی اور اب بہرام کی ایسی نگاہیں
“ہم کر دیتے ہیں ”
امل نے کہا اور وہ تینوں کمرہ کی جانب بڑھ گئ
❥❥═════❥❥❥
منہا امل کہ ساتھ لان میں بیٹھی تھی کافی دیر باتیں کرنے کہ بعد کمرے میں آ گئی
امل کہ ساتھ اس کی کافی اچھی دوستی ہو گئی تھی وہ اکثر آپنی باتیں اس سے شئیر کرتی تھی
وہ بہرام کہ پاس تھوڑے فاصلہ سے بیٹھ گئی بہرام لیپ ٹاپ میں کچھ کام کرنے میں مصروف تھا
“سوری ”
منہا نے کچھ جھجھکتے ہوے کہا اس نے آج پہلی دفعہ اسے خود مخاطب کیا تھا
بہرام نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر سے کام میں مصروف ہو گیا
“میں آپ سے بات کر رہی ہوں ”
منہا نے ایک دفعہ پھر اس کہ کام میں مداخلت کی
“سن لیا ہے میں نے ”
بہرام نے کچھ نا گواری سے کہا
اس بار بہرام کی نظرین لیپ ٹاپ پہ ہی تھی منہا کچھ بھی کہے بغیر وہاں سے باہر آ گئی
اب منہا کا رخ اب امل کہ کمرے کی جانب تھا
“کیا ہوا منہا خریت تو ہے نہ تمہارا منہ کیوں بنا ہوا ہے ”
منہا کا موڈ بہرام کی وجہ سے خراب ہو گیا تھا
“کچھ نہیں ہوا بس وہ تمہارا ڈریکولا بھائی سمجھتا پتہ نہیں کیا ہے خود کو ”
“یار مجھے سمجھ نہیں آتی ایک تو تم جب بہرام بھائی کمرے میں ہوں میرے پاس آ جاتی ہو ان کو اگنور کر دیتی ہو اور دوسرا اب سوری بول ہی دیا تھا تو منا لیتی “امل نے کہا
“لیکن امل ”
امل نے درمیان میں ہی بات کاٹ دی
“لیکن کچھ نہیں جاؤ جا کے بات کرو ”
“نہیں امل اب اس کی ضرورت نہیں ہے بس کچھ دن تک ثابت ہو جائے گا کے زین کا قتل بھائی نے نہیں کیا پھر میں چلی جاؤں گی یہاں سے ”
منہا آج خوش تھی اور پولیس نے بھی ڈیکلیر کر دیا تھا کہ گولی کسی اور گن سے چلی ہے
“منہا ایک بات کہوں ”
“پوچھ کیوں رہی ہو بولو کیا بات ہے میں بہت خوش ہوں آج ”
“مجھے لگتا ہے بہرام بھائی تمہیں پسند کرتے ہیں اس دن جب تم بیہوش حالت میں تھی تو بھائی جنونی ہو رہے تھے تمہیں دیکھ! کر اس دن میں نے ان کی آنکھوں میں تمھارے لئے بہت کچھ دیکھا تھا ”
“امل پلیز اب کچھ مت کہنا”
کہتے ہوے وہاں سے چلی گئی امل نے اسے روکنے کی بھی کوشش کی تھی لیکن وہ ان سنی کرتے چلی گئی
❥❥═════❥❥❥
“منہا کیا سوچ رہی ہو ”
امل نے اسے کسی سوچ میں غرق دیکھتے ہوے پوچھا
“کچھ نہیں بس تمہاری اس دن والی باتوں پہ غور کر رہی تھی
“اچھا تو اب میڈم کو میرے ڈریکولا بھائی سے پیار ہو گیا ہے ”
امل نے اسے چڑاتے ہوے کہا
“نہیں پیار تو نہیں بس تھوڑے تھوڑے اچھے لگنے لگے ہیں ”
ساتھ ہی اس نے پلکیں جھکا لی
“امل بات سنو ”
منہا نے امل سے کہا جو کوئی مووی دیکھنے میں بزی تھی
“ہاں بتاؤ کیا ہوا ہے ؟”
“مجھے شہر جانا ہے ؟
منہا کی بات پہ وہ چونک گئی تھی
“کیوں خریت؟”
“ہاں ہاں سب خریت ہے تم جلدی سے اٹھو مجھے بھائی فرقان سے ملنا ہے چار ماہ ہو گئے ہیں ان کو دیکھا نہیں بات تک نہیں کی پلیز چلو ”
“اچھا میں یہ دیکھ لوں پھر چلتے ہیں ”
“نہیں نہیں ابھی چلو ”
منہا نے اس کا لیپ ٹاپ بند کرتے ہوے کہا
“لیکن ایک شرط ہے میری ۔۔۔”
“اب کیا ہے ؟”
منہا جھنجھلا کر بولی
“ہے روز صبح میرے ساتھ واک پے جایا کرو گی اگر منظور ہے تو ٹھیک نہیں تو خود ہی جانا ”
“اچھا پکا میں جاؤں گی لیکن ابھی تو چلو ”
وہ دونوں چابی اور موبائل اٹھا کر باہر کی جانب بڑھ گئی
❥❥═════❥❥❥
“منہا تم مل لو میں تب تک ٹریک ڈریس لے آؤں تمھارے لئے ”
“بعد میں لے لیں گیں تم بھی چلو یار ”
“نہیں تم جاؤ باہر آ کر کال کر دینا میں وہ سامنے والے شاپنگ مال میں ہوں ”
امل کہتی ہوئی وہاں سے چلی گئی منہا آفس کی طرف چلی گئی
“فرقان یا احمد بھائی ہیں اندر؟ ”
“نہیں میم فرقان صاحب نہیں ہیں بس کچھ دیر تک آنے والے ہیں اور احمد صاحب چھٹی پے ہیں ” ریسپشنسٹ نے بتایا
منہا فرقان کہ آفس کی طرف بڑھ گئی
کچھ دیر ٹہلنے کہ بعد وہ فرقان کی کرسی پہ بیٹھ گئی تبھی اس کی نظر ایک پیپر پہ پڑی وہ کوئی کنٹریکٹ پیپر تھا جسے پڑھ کہ منہا کی آنکھوں سے آنسو آ گئے
وہ وہاں سے باہر نکل گئی باہر جا کر امل کو فون کیا جلدی آ جاؤ
دو منٹ میں وہ وہاں آ گئی
“منہا شاپنگ بھی نہیں کرنے دی ابھی اپر لینا تھا تمھارے لئے صبح سردی ہو گی ”
امل نے اسے گاڑ ی میں بیٹھتے ہی کہا
“امل پلیز جلدی گھر چلو ”
“منہا کیا ہوا ہے تم ملی نہیں بھائی سے ؟”
منہا نے نا میں سر ہلا دیا اور آنسو اس کہ رخسار پہ بہ نکلے تھے
اس سے پہلے امل کچھ اور پوچھتی منہا نے اسے روک دیا
“امل پلیز ابھی کچھ نہیں گھر چلو بس ”
امل نے ہاں میں سر ہلا دیا اور چپ کر کہ آگے بڑھ گئی
❥❥═════❥❥❥
منہا گھر آ کر کمرے سے باہر نہیں نکلی امل حنا ائمہ نے بھی کہا لیکن اس نے طبیعت ٹھیک نا ہونے کا کہہ کر سو گئی
رات کو جب اٹھی تو سر تھوڑا بوجھل ہو رہا تھا
بہرام چینج کر کہ باہر نکل رہا تھا اس نے ایک نفرت بھری نگاہ بہرام پہ ڈالی اور واشروم میں گھس گئی
بہرام کو اس کا رویہ بہت عجیب لگا بہرام نے کبھی بھی اپنے لئے اتنی نفرت اس کی آنکھوں میں نہیں دیکھی تھی
منہا فریش ہو کر باہر آئ اور نیچے چلی گئی کھانا کھا کر بہرام تو کمرے میں واپس آ گیا لیکن منہا چائے کا کپ لے کر لان میں چلی گئی
بہرام کو منہا کا اس طرح اگنور کرنا تکلیف دے رہا تھا
❥❥═════❥❥❥
تو کسی لگی آپ کو یہ قسط اپنی آراء کا اظہار ضرور کیجے گا ۔ شکریہ ۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: