Kis Jurm Ki Saza Mili Novel by Maham Shoukat – Last Episode 18

0
کس جرم کی سزا ملی از ماہم شوکت – آخری قسط نمبر 18

–**–**–

❥❥═════❥❥❥
منہا سو کر اٹھی تو دس بج رہے تھے
“اوہ شٹ آج تو بابا سے ڈانٹ پکی ”
منہا بڑبڑاتی ہوئی اٹھی اور کپڑے نکال کر فریش ہونے چلی گئی
فریش ہو کر واپس آئ بال ڈرائی کئے چشمہ لگا کر باہر چلی گئی
ہال میں عجیب گہما گہمی تھی
مہمانوں سے مل کر کچن میں چلی گئی
“بوا کس کے لئے ناشتہ بنا رہی ہیں مجھے بھی بنا دیں ”
“بیٹا عفان کے لئے ہے ”
“کیوں ابھی اٹھا نہیں وہ ”
منہا نے تھوڑی حیرانی سے پوچھا کیوں کے وہ اسے اچھی طرح جانتی تھی ہمیشہ سے ٹائم کا پابند
“تھوڑی دیر پہلے اٹھا ہے سب نے ناشتہ کر لیا بس تم دونوں رهتے ہو ”
“اچھا بوا آپ بنا دیں ہم اکٹھے کریں گیں میں اسے بلا کر لاتی ہوں ”
کہتے ہوے منہا عفان کے کمرے کی طرف بڑھ گئی
تھوڑی دیر بعد واپس آئ تو بوا ناشتہ لگا چکی تھی
دونوں ناشتہ میں مصروف ہو گئے ساتھ وقفے وقفےسے باتیں بھی کر رہے تھے عفان اسے ہنسانے میں مصروف تھا
تبھی ایک جانی پہچانی آواز منہا کی سماعت سے ٹکرائی
منہا نے سر اٹھا کر دیکھا تو سامنے بہرام فرقان سے ملنے میں مصروف تھا
بہرام نے ایک اچٹتی نگاہ ان دونوں پہ ڈالی
“میں اوپر جا رہی ہوں ”
منہا نے پلیٹ سائیڈ پہ کرتے ہوے کہا
“آرام سے بیٹھ کر ناشتہ کرو تم ”
“لیکن عفان ”
“لیکن کچھ نہیں بیٹھو ”
عفان نے پلیٹ اس کے آگے کر دی
وہ سر جھکا کر ناشتہ میں مصروف ہو گئی
ہال میں صرف منہا کے ننھیال والے تھے اس لئے زیادہ مسلہ نہیں ہوئی سب جانتے تھے کے منہا کی شادی کن حالت میں ہوئی ہے
لیکن اس کے تایا اور چچی جو باہر رهتے تھے وہ اس بارے میں کچھ نہیں جانتے تھے انہیں صرف یہی معلوم تھا کا بہرام کے دادا (جو کے پہلے ہی گزر چکے ہیں) کی طبیعت ناساز سے اس لئے نکاح امیرجنسی میں کرنا پڑا
خدا کا کرنا چچی وہاں آ گئی
“ارے منہا شوہر آیا ہے تمہارا اور تم وہاں بیٹھی ناشتہ کر رہی ہو ”
منہا کی خالہ تھوڑی پریشان ہو گئی
“بس چچی ناشتہ کر کے آنے ہی والی تھی ”
منہا نے چڑ کر کہا
عفان کی تو ہنسی نہیں رک رہی تھی
“عفان میں نے تمھارے ڈانٹ توڑ دینے ہیں ”
عفان نے کندھے اچکائے جیسے کہہ رہا ہو اس میں میں کیا کر سکتا ہوں
بوا بہرام کے لئے چائے لے آئ فرقان اٹھ کر کمرے میں چلا گیا
تھوڑی دیر بعد جب فرقان واپس آیا تو اس کے ہاتھ میں کوئی فائل تھی منہا سمجھ گئی کے آفس کے کام سے آیا ہے
بہرام نے فائل لی اور ہاتھ ملاتا ہوا باہر نکل گیا
منہا نے ناشتہ ختم کیا اور آ کر آپنی خالہ پاس بیٹھ گئی
“منہا اب آگے کیا کرنا ہے واپس جاؤ گی یا پھر ۔۔۔۔”
خالہ نے جان بوجھ کر بات ادھوری چھوڑ دی
“خالہ اب وہاں نہیں جانا اس نے شادی کر لی ہے ”
خالہ بے یقینی سے منہا کو دیکھ رہی تھی
ابھی وہ کچھ اور پوچھتی منہا نے انھیں روک دیا
“خالہ مجھے اس بارے میں کوئی بھی بات نہیں کرنی ”
انہوں نے بھی خاموش رہنا مناسب سمجھا
“میں زویا کو دیکھ کر آتی ہوں ”
منہا زویا کے کمرے کی جانب بڑھ گئی
ھما وہاں پہلے سے ہی موجود تھی عفان کی سسٹر
“ھما تمہیں شاید نیچے کوئی بلا رہا تھا ”
ھما باہر چلی گئی
“کیا بات ہے منہا پریشان لگ رہی ہو ”
زویا نے اس کے تاثر دیکھ کر کہا
“نہیں کچھ نہیں ہوا تم بتاؤ ٹھیک ہو ؟”
منہا نے جلدی سے بات بدلی
“ہیں میں ٹھیک ہوں لیکن پہلے یہ بتاؤ کیا ہوا ہے ”
“وہ بہرام آیا تھا نیچے ”
کہتے ہی منہا نے چشمہ اتار کر سائیڈ پہ رکھ دیا اور آنکھوں پر بازو رکھ کر صوفہ پہ نیم دراز ہو گئی
“منہا دیکھو اب یہ سب کیوں کر رہی ہو ؟”
“زویا وہ صرف ایک دفعہ مجھ سے کہہ دیتا کے منہا یہ کنٹریکٹ کچھ نہیں ہے بس ایک دفعہ زویا ”
منہا رو دینے کو تھی
“اس کا مطلب ہے تمہیں بہرام بھائی سے پیار ہو گیا ہے ”
منہا نے کوئی جواب نہیں دیا
“لیڈیز کیا چل رہا ہے ؟”
فرقان نے کمرے میں آتے ہی پوچھا اور بیڈ پہ بیٹھ گیا
“کچھ نہیں بھائی ”
منہا نے جلدی سے چشمہ آنکھوں پہ لگایا
“میری گڑیا کو کچھ تو ہوا ہے ”
منہا صرف مسکرا کر رہ گئی
“زویا تین بجے پالر کی اپائنٹمنٹ ہے جانا ہے ہم نے ”
کہتے ساتھ منہا باہر جانے کے لئے اٹھ کھڑی ہوئی
لیکن فرقان نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے پاس بیڈ پہ بیٹھا دیا
“تمہیں کیا لگتا ہے کے چشمہ لگا کر مجھ سے آنسو چھپا لو گی ”
فرقان نے اس کا چشمہ اتار کر سائیڈ پہ رکھ دیا
“اب بتاؤ میری گڑیا پریشان کیوں ہے ؟”
منہا فرقان کے گلے لگ کر رو دی تھی
“بھائی پلیز مجھے جتنی جلدی ہو سکے باہر بھیج دیں مجھے یہاں نہیں رہنا اب ”
“فرقان اصل بات سمجھ چکا تھا اس لئے اس نے خاموش رہنا مناسب سمجھا
❥❥═════❥❥❥
افشاں ھما زویا اور منہا پالر میں تھیں
عفان انھیں لینے کے لئے باہر کھڑا تھا
“یار بہت اوور لگ رہا ہے ”
منہا نے خود کو مرر میں دیکھا
بلیک کلر کی ٹیل میکسی بال کھولے ہوے جن کے آخر پہ ہلکے ہلکے کرل پڑ رہے تھے کام دار دوپٹہ اور میک اپ اس مہارت سے کیا گیا تھا اگر صرف بال کسی سٹائل میں ہوتے تو برائیڈل لُک لگتی
زویا نے ریڈیش کلر کا ڈریس زیب تن کیا ہوا تھا ان دونوں کی ڈریس کسی حد تک ایک جیسی تھی
“نہیں منہا اوور نہیں ہے بہت اچھی لگ رہی ہو ”
“آپ پلیز تھوڑا لائٹ کر دیں ”
اس نے پالر والی کو کہا
“نہیں نہیں تم چلو عفان باہر ویٹ کر رہا ہے ”
“لیکن زویا سچ میں ایسے لگ رہا ہے جیسی میری شادی ہو ”
“ہاں تو تمہاری شادی ہے نا ”
“کیا مطلب ہے تمہارا ”
“مذاق کر رہی تمہاری نہیں تو تمھارے بھائی کی تو ہے نا چلو اب ”
چاروں باہر کی طرف بڑھ گئی
❥❥═════❥❥❥
ہوٹل پہنچ کر ھما اور افشاں زویا کو لے کر ہال میں چلی گئی
“اب اترو بھی ”
“دیکھو اتنی اوور لگ رہی ہوں اور میں بہرام کو فیس نہیں کر سکتی ”
“اوہ اچھا تو یہ بات ہے ویسے منہا غضب ڈھا رہی ہو تم چار پانچ تو ایک اشارے سے گرا سکتی ہو ”
منہا نے گھور کر عفان کو دیکھا جو دانٹ نکال رہا تھا
“شرم تو نہیں آتی تمہیں کوئی آپنی بیسٹی کے بارے میں ایسے کہتا ہے کیا ”
“یار تعریف کر رہا ہوں چلو اترو اب ”
منہا باہر نکل کر کھڑی ہو گئی تبھی احمد وہاں آ گیا
“اب آ جاؤ اور کتنی دیر روکو گی دولہا انتظار کر رہا ہے ”
“کیا مطلب ؟”
منہا ٹھٹھک گئی
“مطلب کے فرقان انتظار کر رہا ہے چلو اب ”
ایک سائیڈ پہ احمد تھا دوسری سائیڈ پہ عفان ان دونوں کے ساتھ ہال میں داخل ہوئی
“اس کی نظر سامنے اسٹیج پہ پڑی جہاں زویا بیٹھی تھی ایک سائیڈ پہ بہرام اور دوسری پہ فرقان بیٹھا تھا بہرام کے ساتھ ایمان صوفہ پہ براجمان تھی
انھیں دیکھ کر اس کا موڈ اوف ہو گیا
“یہ صوفہ اتنا بڑا کیوں ہے انہوں نے بیٹھنا تھا یا پھر لیٹنا ”
منہا چڑ گئی تھی دونوں نے آپنی ہنسی دبائی
“اب چلو زویا لوگ انتظار کر رہے ہیں ”
“مجھے نہیں جانا وہاں آپ لوگ جائیں ”
منہا دوسری جانب بڑھنے لگی تو عفان نے ہاتھ پکڑ لیا “چلو ہمارے ساتھ ”
دوسرا ہاتھ احمد نے پکڑا اور اسے اسٹیج کی طرف لے کر آئے فوٹو گرافر نے وہ لمحات اپنے کیمرے میں قید کئے اب وہ تینوں اسٹیج کے پاس موجود تھے بہرام یک ٹک اسے دیکھ رہا تھا
“اچھا اب بس بھی کرو آ گئی ہے تمھارے پاس ”
ایمان نے اسے کہنی ماری تھی
ایمان اور بہرام کھڑے ہو گئے سب بڑھے بھی وہاں آ گئے ایمان سائیڈ پہ ہو گئی
بہرام نے آگے ہو کر آپنی کشادہ ہتھیلی منہا کے سامنے پھلا دی منہا نا سمجھی سے سب کی طرف دیکھ رہی تھی بہرام کے چہرے پہ مسکراہٹ تھی
اسلم صاحب نے آگے بڑھ کر منہا کو پیار کیا اور اشارہ کیا کے اس کا ہاتھ تھام لے
منہا نے بہرام کی طرف دیکھا اور اس کا ہاتھ تھام لیا چہرے پہ ابھی بھی نا سمجھی والے تاثر تھے سب نے مل کر ہوٹینگ کی
اب وہ دونوں فرقان اور زویا کے ساتھ براجمان تھے
“ایمان چلیں ”
ایک لڑکا وہاں آیا تھا جس نے ایمان کا ہاتھ تھام لیا
“منہا میٹ مائے ہسبنڈ حیدر اور آج میری واپسی کی فلائٹ ہے ہم شادی کرنے کے لئے پاکستان آئے تھے ”
منہا پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی
سب واپس آپنی آپنی جگہ پہ چلے گئے تھے
“ENJOY your life & congratulation have a happy married life ”
ایمان اپنے ہسبنڈ کا ہاتھ تھام کر چلی گئی
“کیسا لگا سرپرائز مائی ڈئیر وائف ؟”
بہرام نے اس کے کان میں سرگوشی کی
منہا نے کھا جانے والی نظروں سے اسے دیکھا
“زویا یہ سب کیا ہے ؟”
منہا زویا سے مخاطب تھی
“یہ سب ایک پلان تھا تم راضی ہی نہیں ہو رہی تھی اس لئے ”
“کیا مطلب پلان تھا تم لوگوں نے میرے ایموشنز کے ساتھ کھیلا ہے میں کسی کو بھی نہیں معاف کروں گی ”
منہا وہاں سے اٹھ کھڑی ہوئی
“کہاں جا رہی ہو میڈم ؟”
عفان کی آواز آئ تھی
“تم تو آپنی چونچ بند ہی رکھو تم تو میرے دوست تھے بتا سکتے تھے تم مجھے ”
“یقین کرو منہا مجھے بھی دو دن پہلے ہی پتہ چلا ہے ”
منہا نے ان کو غصے سے دیکھا اور وہاں سے واک آؤٹ کر گئی اس کا رخ ڈریسنگ روم کی جانب تھا
“فرقان اب کیا ہو گا ؟”
“بہرام بھائی مناؤ جا کر اسے اور کیا ہونا ہے ”
منہا نے کہا
بہرام اٹھ کر اس کے پیچھے چل دیا
منہا ڈریسنگ روم میں جا کر مرر کے سامنے کھڑی ہو گئی اس کے آنسو تھم نہیں رہے تھے
“منہا سوری ”
بہرام دروازے کے پاس کھڑا تھا
“پلیز بہرام جاؤ مجھے کوئی بات نہیں کرنی تم سے ”
“لیکن مجھے تو کرنی ہے نا ”
بہرام اس کے قریب آیا تھا
بہرام نے اس کی کمر کے گرد بازو حائل کئے تھے
“بہرام چھوڑ دو پلیز ”
“اس دن بھی یہی کہا تھا تم نے اس دن اگر نا چھوڑا ہوتا تو آج یہاں نا ہوتے ہم ”
بہرام کا اشارہ بارش والے دن کی طرف تھا
“دیکھو منہا میں یہ نہیں جانتا کے تمہیں مجھ پے اعتبار ہے یا نہیں لیکن یہ ضرور کہوں گا کے اپنے بابا کا اعتبار مت توڑو سب کو یہی پتہ ہے کے آج تمہاری برات آئ ہے ”
بہرام کا لہجہ کچھ دھیما تھا
بہرام اسے چھوڑ کر باہر چلا گیا
باہر جا کر بہرام کے چہرے پہ مسکراہٹ تھی اس نے امل کو بیجھا
“امل تم ”
“سارا میک آپ خراب کر لیا ہے بیٹھو ادھر ”
امل نے اس کا ہاتھ پکڑ کر پاس بیٹھا لیا اور میک آپ ٹھیک کیا اسے لے کر باہر آ گئی
بہرام جاندار مسکراہٹ لئے بیٹھا تھا
امل نے منہا کو ساتھ بیٹھا دیا
“منہا ”
زویا نے اسے بلایا تھا
“منہا پلیز میں اس وقت کسی سے بھی بات کرنے کے موڈ میں نہیں ہوں اس لئے یہی بہتر ہے کے بات مت کرو مجھ سے ”
بہرام نے اسے اشارہ سے چپ رہنے کا کہا
❥❥═════❥❥❥
منہا رخصت ہو کر گھر آ گئی تھی ہال میں تمام رسم ادا کی گئی
“منہا بیٹا ہو سکا تو معاف کر دینا مجھے میں نے بہت غلط کیا ہے تمھارے ساتھ ”
بی جان منہا کے پاس کھڑی تھیں
“کوئی بات نہیں ”
منہا کو انہوں نے گلے لگا لیا سب لوگ خوش تھے
بہرام منہا کو لے کر کمرے کی جانب بڑھ گیا
“تمہیں کیا چاہیے اب ؟”
امل دروازہ بند کر کے سامنے کھڑی تھی
“MONEY ”
“امل بس کرو پچھلے دو دن سے لوٹ رہی ہو مجھے اب تو بخش دو مجھے ”
“بس اب پیسے دو اور جاؤ نہیں تو یہیں کھڑے رہو ”
“افففف ۔۔۔۔”
بہرام نے اسے پیسے دئے اور وہ راستہ چھوڑ کر نیچے چلی گئی
“چلیں ؟”
“نہیں مجھے نہیں جانا تمھارے ساتھ مجھے گیسٹ روم میں چھوڑ کر آؤ ”
منہا تنک کر بولی تھی بار بار کہنے کے باوجود بھی وہ وہاں سے نا ہلی
“اچھا تم نہیں مانو گی ٹھیک ”
بہرام نے اسے اپنی باہوں میں بھر لیا اور کمرے میں لے گیا
وہ بولتی رہی لیکن بہرام نے ایک بھی نہیں سنی
بہرام نے اسے کمرے میں اتار کر دروازہ بند کر دیا
منہا نے کمرے کا جائزہ لیا
پھولوں کی بھنی بھنی خوشبو آ رہی تھی کمرہ پھولوں سے سجایا ہوا تھا ریڈ کلر کے ہارٹ شیپ بیلونز چھت پہ لگائے تھے ہر لحاظ سے کمرہ خوبصورت لگ رہا تھا
“اگر کمرے کا جائزہ ہو گیا ہو تم ہم بات کر لیں ”
“نہیں مجھے کوئی بات نہیں کرنی تم سے مجھے نیند آ رہی ہے سونے جا رہی ہوں ”
چینجنگ روم کی طرف بڑھ گئی
“ٹھیک ہے سو جاؤ کمرہ تو میں نے آپنی گرل فرینڈ کے لئے ڈیکوریٹ کروایا ہے نا ”
بہرام چڑ کر بولا تھا
منہا کے قدم وہیں پہ رک گئے تھے
منہا نے تکیہ اٹھا کر بہرام کو مارا تھا جسے اس نے بڑی مہارت سے کیچ کر لیا
“تم تم بہت ہی فضول آدمی ہو مجھے آنا ہی نہیں چاہیے تھا ”
باقی لفظ اس کے منہ میں ہی رہ گئے تھے بہرام نے آگے بڑھ کر اس کے منہ کو قفل لگایا تھا
منہا سر جھکا گئی تھی
“پلیز آخری دفعہ معاف کر دو ”
“ایک شرط پہ ”
“تمہاری ہر شرط منظور ہے بولو ”
“خون بہا کی رسم کو ختم کروا دو اگر تم لوگ چاھتے ہو کے میں تمھارے ساتھ رہوں تو ”
“ٹھیک ہے ہو جائے گا اب معاف کر دو مجھے
بہت پیار کرتا ہوں تم سے اب نہیں رہ سکتا تمھارے بغیر
I love you
بہرام محبت سے چور لہجے میں کہہ رہا تھا
“I love you too ”
کہتے ہی منہا نے اپنا سر بہرام کے کندھے پہ رکھ دیا اور بہرام نے اس لے گرد اپنا گہراو تنگ کر لیا
❥❥═════❥❥❥
تو کسی لگی آپ کو یہ قسط اپنی آراء کا اظہار ضرور کیجے گا ۔ شکریہ ۔۔

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: