Kisi Aur Ka Hun Filhal Novel By Suhaira Awais – Episode 1

0
کسی اور کا ہوں فی الحال از سہیرا اویس – قسط نمبر 1

–**–**–

اس کے چہرے پر پڑنے والے۔۔ تقی کے۔۔زور دار تھپڑ نے۔۔جہاں اس کے ملائمت سے مزین چہرے پر اپنی سخت انگلیوں کے نشان گاڑھے تھے۔۔وہیں اس کو اندر تک دہلا دیا تھا۔۔
اسے تقی سے ایسے رسپانس کی قطعاً کوئی توقع نہیں تھی،
تھپڑ پڑنے کی تکلیف اور ہتک کے احساس سے اس کی آنکھوں سے آنسو ابل پڑے۔۔۔
اور ساتھ ہی اسے تقی کے غضب سے خوف آنے لگا۔۔
اس نے آج تک اسے اتنا غضب ناک نہیں دیکھا۔۔
اس نے پھاڑ کھانے والے لہجے میں نداحل کو مخاطب کیا۔۔
“شرم نہیں آئی تمہیں۔۔؟؟؟
ذرا شرم نہیں آئی۔۔مجھ سے یہ سب کہتے ہوئے؟؟
ارے کچھ تو لحاظ کر لیتیں۔۔ اپنی اور میری عمر کا۔۔
کچھ تو مان رکھ لیتیں۔۔میرے اور تمہارے رشتے کا۔۔
بہن کا درجہ دیتا آیا تھا میں تمہیں۔۔پر اب نہیں دوں گا۔۔
کیونکہ تم اس کے لائق ہی نہیں ہو۔۔!!
کوشش کرنا کہ اب مجھے تمہاری شکل نہ نظر آئے۔۔” تقی کا غصہ عروج پر تھا۔۔
اس سے پہلے کہ وہ مزید بدلحاظ ہوتا۔۔ اس نے اپنی زبان بند کی اور اس کے روم سے نکل آیا۔
اس کے جاتے ہی نداحل نے روتے ہو ہی دروازہ بند کیا۔۔ اور ناتواں سی ہوتی ہوئی وہیں۔۔ دروازے کے آگے گرنے کے انداز میں بیٹھی۔۔
اس کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ اپنے دل کا فیصلہ مان کر وہ اتنی رسوا ہو جائے گی۔۔
وہ تقی کی نظروں میں رسوا ہی تو ہوئی تھی۔۔
کتنی ذلت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔۔
کاش کہ وہ اپنے دل کی بات دل میں رکھتی۔۔
کاش وہ مہرین اور عائشہ کے مشورے پر عمل نہ کرتی۔۔
کاش وہ تقی کو اپنا حالِ دل نہ سناتی۔۔ تو اسے آج اس کے سامنے اس طرح ذلیل نہ ہونا پڑتا۔۔!!
وہ اس طرح بے مول نہ ہوتی۔۔
پر اب کیا ہو سکتا تھا۔۔
اب تو جو ہونا تھا وہ ہوگیا تھا۔۔
اب تو وہ اپنے مقام و مرتبے سے گر چکی تھی۔۔
ندامت کے آنسو بہنے لگے تھے۔۔!! بغیر تھمے اور بغیر رکے۔۔
نداحل انیس برس کی سمارٹ سی لڑکی تھی۔۔
رنگ روپ کی بات کی جائے تو وہ ناقابل بیان حد تک دلکش حسن کی مالک تھی۔۔
اس کی exceptional بیوٹی کا کمال تھا کہ آج تک وہ سکول، کالج میں اپنی اس کی خوبی کی وجہ سے سب سے زیادہ famous اسٹوڈینٹ رہی تھی۔۔
نداحل کی فیملی کچھ آپسی اختلافات کی وجہ سے۔۔علیحدہ ہوگئی تھی اس لیے نداحل جب پانچ سال کی تھی تو اس کے بابا یعنی جاوید احمد اسے اور اس کی مما کو لے کر ، دوسرے شہر میں شفٹ ہوگئے تھے۔۔
اس کے ایف ایس سی کے ایگزامز چل رہے تھے۔۔
وہ اپنا لاسٹ پیپر دے کر آئی تھی اور بہت خوش تھی۔۔
وہ لنچ ٹائم میں اپنے مما بابا کو۔۔ اپنے پیپر کے متعلق بتا رہی تھی اور اپنی vacations کے لیے پلینز بھی بنا رہی تھی۔۔کہ اچانک اس کے بابا کا فون بجا،
فون سننے کے بعد۔۔تو اس کے بابا کا رنگ ہی اڑ گیا تھا۔۔
ایک دم وہ پریشانی سے اپنی جگہ سے اٹھے۔۔
نداحل کی مما کے استفسار پر انہوں نے بتایا کہ ان کے بڑے بھائی کا فون تھا۔۔ ان کے ابا یعنی نداحل کے دادا کو ہارٹ اٹیک آیا ہے اور وہ ہاسپٹل میں ایڈمیٹ ہیں۔۔ ان کی کنڈیشن بہت کریٹیکل ہے۔۔ انہیں فوراً وہاں کے لیے نکلنا ہوگا۔۔
جاوید صاحب کا تو خود کو سنبھالنا ہی مشکل ہو رہا تھا۔۔
ان کے ابا، احمد فرقان چودہ سالوں سے ، انہیں جھگڑا ختم کر کے واپس گھر آنے کا کہتے رہے تھے۔۔
پر انہوں نے ایک نہیں سنی۔۔ ان اپنی مرضی کرتے رہے۔۔آج تک۔۔وہ اپنے آبائی گھر 🏠 نہیں لوٹے تھے۔۔
انیلا بیگم ان کی پریشانی دیکھتے ہوئے جلدی سے اٹھیں اور چند ضرورت کی چیزیں پیک کر کے یہ لوگ ساہیوال کے لیے روانہ ہوئے۔۔
اگلے پانچ گھنٹوں میں جاوید صاحب اپنے والد کا ہاتھ تھامے ۔۔ ان کے سراہنے ، سر جھکائے بیٹھے تھے۔۔
نداحل کے دادا کی طبیعت اب کچھ سنبھل چکی تھی۔
نقاہت کی وجہ سے انہیں بات کرنے میں مشکل پیش آرہی تھی،
اس کے باوجود بھی وہ جاوید صاحب کے ساتھ محو گفتگو تھے، آخر کو وہ ان کے سب سے زیادہ لاڈلے بیٹے تھے۔۔۔ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک۔۔!
احمد صاحب کی خوشی دیدنی تھی۔۔
ان کی یہ خوشی دیکھتے ہوئے۔۔
ابوبکر یعنی نداحل کے تایا نے ایک بار پھر اپنے چھوٹے بھائی کی طرف صلح کا ہاتھ بڑھایا۔۔
اس بار انہوں نے بغیر کسی پس و پیش کے ان کی پیشکش قبول کی۔۔
اور دونوں بھائیوں نے ایک دوسرے کو گلے لگاتے۔۔اپنے سارے سابقہ گلے شکوے بھلا دیے۔۔
ہاسپٹل میں دادا کے روم میں ہی یہ ساری کارروائی ہورہی تھی۔۔
نداحل بھی وہیں موجود تھی۔۔
بظاہر تو وہ وہیں تھی۔۔ لیکن اس کا دماغ کہیں اور ہی اٹک کر رہ گیا تھا۔۔
اس نے اب تک اس شخص کو دوبارہ وہاں نہیں دیکھا جس نے انہیں ہاسپٹل کے گیٹ پر ریسیو کیا تھا اور دادا کے روم تک لایا تھا۔۔
نہ وہ نام جانتی تھی نہ اسے پہچان پائی۔۔
اسے بس اتنا معلوم تھا کہ وہ اس کے تایا کے تین بیٹوں میں سے کوئی ایک ہے۔۔
پتہ نہیں کیا تھا اس کی شخصیت میں۔۔جو وہ نداحل کا سارا دھیان اپنی طرف کھینچے ہوئے تھا۔۔
اگر خوبصورتی کی بات کی جائے تو وہ اس خاندان کی میراث تھی۔۔
لیکن یہ کوئی ایسی خاص خوبی نہیں تھی جو نداحل کو متاثر کرسکتی۔۔
پھر کیا تھا وہ۔۔!! جس نے نداحل کی تمام تر سوچوں کو اپنی طرف کھینچ لیا تھا۔۔
نداحل ، اپنے اردگرد ہونے والی گفتگو اور دوسری سرگرمیوں کوئی دلچسپی نہیں لے پا رہی تھی۔۔
گاہے بگاہے، وہ اپنی نظریں کمرے کے داخلی راستے پر دوڑا رہی تھی ۔۔
جیسے وہ اس کے آنے کا انتظار کر رہی ہو۔۔
وہ ابھی اس کے متعلق سوچ ہی رہی تھی کہ وہ کمرے میں داخل ہوا۔۔
اسے نظروں کے سامنے دیکھ کر نداحل کو اپنے اندر عجیب سرشاری کی کیفیت محسوس ہوئی۔۔۔
اس کی یہ کیفیت بالکل غیر معمولی اور نئی تھی پر اس نے دھیان نہیں دیا۔۔
وہ اپنے ہاتھ میں موجود دواؤں اور فروٹس کو ٹیبل پر رکھ چکا تھا۔۔
نداحل کو اس کا لب و لہجہ بہت اٹریکٹ کر رہا تھا۔۔ جس طرح وہ تایا سے۔۔ دادا سے اور باقی لوگوں سے گفتگو کر رہا تھا۔۔وہ لہجہ ۔۔۔ وہ طرزِ کلام ۔۔ بہت خوبصورت اور دل کو موہ لینے والا تھا۔
یہی تو وہ وصف تھا کہ جس نے نداحل کو بہت گہرائی سے متاثر کیا تھا۔۔ اس کی اچھی ، نرم اور شریفانہ طبیعت۔۔اس کے ہر لفظ میں جھلک رہی تھی۔۔
اور وہ بہت محویت سے اس کے ہر لفظ پر کان لگائے بیٹھی تھی۔۔
بغیر سوچے سمجھے۔۔ وہ خود کو کچھ انجانے راستوں پر چلانے جا رہی تھی۔۔!!
تقی لمحہ لمحہ اس کے دل میں اتر رہا تھا۔۔
اور وہ ۔۔۔ اپنے اندر پلتی ان تبدیلیوں سے بے خبر، کسی مستقبل کی پرواہ کئے بغیر، صرف اپنے حال میں جی رہی تھی۔۔ جو فی الوقت اسے بہت حسین لگ رہا تھا۔
وہاں سارے دادا کی تیمارداری اور آپسی گفتگو میں بہت اچھے سے مصروف تھے۔۔
اور نداحل وہاں ویسے ہی خاموشی سے کونے میں دبکی بیٹھی تھی۔۔۔کسی کا دھیان اس کی طرف نہیں گیا سوائے تقی کے۔۔
تقی نے بہت خوش مزاجی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسکرا کر اسے مخاطب کیا۔۔
“ارے محترمہ۔۔آپ بھی اپنے دادا کی کچھ تیمارداری کر کے ثواب کمالیں یا کم سے کم اپنے خاندان والوں سے گپے ہی لگا لیں۔۔”
تقی کے ایک دم مخاطب کرنے پر وہ ذرا چونکہ تھی پر اس کی بات سن کر وہ مسکرا دی۔۔
“اماں جانی ویسے یہ ہے کون۔۔؟؟ مجھے تو ایسا لگ رہا ہے کہ میری گڑیا کی پھپھو مل گئی شاید۔۔ امامہ بے چاری کو کب سے پھوپھو کا شوق تھا،” تقی نے شوخی سے کہا ۔۔
اس کی بات پر سبھی مسکرا دیے۔۔
“ہاں بیٹا یہ تمہاری چچازاد نداحل ہے۔۔ اور تمہاری بہن بھی۔۔اور میری پوتی تو واقعی اسے دیکھ کر بڑی خوش ہوگی!!”تائی امی نے خوش ہوتے ہوئے کہا،
تقی کی بیٹی کے متعلق سن کر نداحل کا تو سانس اٹک کر رہ گیا تھا۔۔ اس نے اس وقت سوچا ہی نہیں کہ اس کے تایا کا بڑا بیٹا میرڈ ہے اور پانچ سالہ بچی کا باپ بھی ہے۔۔
وہ جب سے وہاں آئی تھی۔۔ اسے کسی تیسری چیز کے متعلق سوچنے کا موقع ہی نہیں ملا۔
پر اب اس نے سن بھی لیا تھا اور اسے سمجھ بھی آگئی تھی۔۔ سو اس نے اپنے دل کی ہوچکی بغاوت سے بے خبر۔۔ اپنی سوچوں کو لگام لگائی۔۔
اور خود کو کمپوز کیا۔۔
اب وہ بالکل نارمل طریقے سے ہی اسے ٹریٹ کررہی تھی۔۔
اگرچہ دادا کی طبیعت سنبھل چکی تھی مگر پھر بھی ڈاکٹرز کی ہدایات تھیں کہ مریض کے گرد جھمگھٹا نہ لگایا جائے۔۔
اس لیے تقی ، نداحل کو،اپنی چچی کو اور اپنی اماں جانی کو لے کر گھر آگیا تھا۔
ڈاکٹرز حیران تھے کہ اتنے شدید اٹیک اور اتنی زیادہ عمر ہونے کے باوجود بھی۔۔احمد فاروق اتنی تیزی سے ریکور کررہے تھے۔
انہیں اپنے بیٹے کے آنے کی خوشی تھی۔۔جس کی وجہ سے وہ اس قدر ہشاش بشاش نظر آنے لگے تھے۔۔
یہ سب دیکھتے ہوئے۔۔ جاوید صاحب نے مستقل طور پر ، دوبارہ “احمد ولا” شفٹ ہونے کا فیصلہ کیا۔۔
سب نے ان کے اس فیصلے کو بہت سراہا۔۔ دلوں میں کوئی بغض تو باقی رہا نہیں تھا۔۔ سو اس لیے سب ایک دوسرے کے لیے خوشی ہی خوشی محسوس کررہے تھے۔۔
سب کی خوشی اپنی جگہ پر نداحل کا معاملہ ایسا تھا کہ بن مانگے ہی من چاہی نعمت مل گئی ہو۔۔!!
وہ اپنے کسی اندورنی احساس۔۔کسی اندرونی طاقت ۔۔ کے ہاتھوں مجبور۔۔ خود کو تقی کی طرف مائل ہونے سے نہیں روک پا رہی تھی۔۔
اور قیامت تو یہ تھی کہ وہ ۔۔۔ اپنے ہی حال دل سے آشنا نہیں تھی۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: