Kisi Aur Ka Hun Filhal Novel By Suhaira Awais – Episode 10

0
کسی اور کا ہوں فی الحال از سہیرا اویس – قسط نمبر 10

–**–**–

وہ اپنی اس محبت سے جتنا دور بھاگنا چاہ رہا تھا۔۔
وہ اتنا ہی اسے اپنے بس میں کر رہی تھی۔
تقی سارا دن گھر میں خاموش خاموش سا رہا۔
وہ کسی بھی کام میں دلچسپی نہیں لے پا رہا تھا۔۔۔
آمنہ نے کئی بار پوچھا بھی۔۔ مگر وہ ٹال گیا۔۔
تقی کے والدین کو بھی اس کا بدلا، الجھا اور پریشان رویہ تشویش میں مبتلا کررہا تھا۔۔
انہوں نے بھی استفسار کیا۔۔ مگر تقی نے یہاں بھی بات گول کردی۔
اب وہ کیا بتاتا کہ کس مشکل سے دوچار ہے وہ۔۔
دل کی ڈوبتی حالت اس کے بس سے باہر ہوتی جارہی تھی۔۔
اور خود کو لاکھ روکنے کے باوجود بھی۔۔
دل تھا کہ محبت کی شدتوں میں اضافہ ہی کرتا گیا۔
اس کے دونوں چھوٹے بھائی بھی اس کی اس عجیب کنڈیشن کو لے کر متجسس تھے۔۔
وہ سب کے لاکھ پوچھنے پر بھی۔۔ اپنی اس حالت سے مکرتا گیا۔
وہ ان میں سے کسی کو کچھ نہیں بتا سکتا تھا۔
اسے تو اپنے آپ سے ہی شرم آنے لگی تھی۔۔
اپنے آپ سے چودہ سال، عمر میں چھوٹی لڑکی سے محبت۔۔ اس کے لیے باعث شرمندگی تھا۔۔
پر وہ کیا کرتا۔۔
محبت بھلا کب عمروں کا لحاظ کرتی ہے۔۔
محبت کو بھلا کیا پرواہ کہ تقی بیوی، بچوں والا ، چونتیس سالہ مرد ہے۔۔اور نداحل۔۔ صرف انیس سال کی نازک سی لڑکی۔۔ جو دیکھنے میں تو تقریباً بچی ہی لگتی ہے۔
تقی کا دل بری طرح ڈوب رہا تھا۔۔
اسے نہیں پتہ تھا کہ وہ اپنی اتنی پیاری سی فیملی کے ہوتے ہوئے۔۔ کسی اور کے عشق میں مبتلا ہو جائے گا۔۔
اس کے لیے سکون کا سانس لینا محال ہوگیا تھا۔۔
وہ سب سے نظریں بچائے چھت پر گیا۔۔
رات کا وقت تھا۔۔ اور موسم کی خوشگواری کے باعث ، بہت مزے کی ہوا چل رہی تھی۔۔
یہاں آنے سے تقی کی طبیعت پر کافی اچھا اثر پڑا تھا۔۔
وہ وہیں اپنے موبائل میں سونگ سیٹ کرکے۔۔
کانوں میں ہینڈ فری لگائے، اس سے لطف اندوز ہونے لگا تھا۔۔
اس نے موبائل اپنی جینز کی پاکٹ میں ڈالا۔۔
ہینڈ فری کی وائر لمبی ہونے کی وجہ سے اسے کوئی دقت نہیں ہوئی۔۔
اب وہ سونگ کے لیرکس پر سارا دھیان لگائے۔۔
بہت انہماک سے گانا سننے میں مصروف تھا۔۔
ساتھ میں اس کی چہل قدمی بھی جاری تھی۔۔
اور سگریٹ کا تو وہ ویسے ہی شوقین تھا۔۔سو اس نے ، اس کا اہتمام بھی ضروری سمجھا۔۔
گانے کے بول، اس کے دل و دماغ میں، ایک عجیب سی سرشاری گھول رہے تھے۔۔
تیرے بن جینا ہے ایسے،
❤️ دل دھڑکا نہ ہو جیسے۔۔
یہ عشق ہے کیا۔۔۔ دنیا کو!!
ہم سمجھائیں کیسے۔۔
آ۔۔۔۔ دلوں کی راہوں میں۔۔!!
ہم کچھ ایسا کر جائیں..
اک دوجے سے بچھڑیں تو۔۔
سانس لیے بن مر جائیں۔۔۔
او۔۔۔۔ خدا۔۔!!
بتادے کیا لکیروں میں لکھا؟؟
ہم نے تو۔۔۔۔!! ہم نے تو بس عشق ہے کیا۔۔!!
او۔۔۔ خدا۔۔!!
بتادے کیا لکیروں میں لکھا؟؟
ہم نے تو۔۔۔۔!! ہم نے تو بس عشق ہے کیا۔۔!!
❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️
اسے احساس ہی نہیں ہوا۔۔ کہ وہ کتنی دفع repeat کرکے سنتا گیا۔۔ نہ وقت گزرنے کا پتہ چلا۔۔ اور نہ ہی کوئی ارد گرد کی خبر تھی اسے۔۔
وہ نیم مدہوشی کی حالت میں۔۔
خود سے کیے سارے وعدے توڑ کر۔۔
خود پر قابو پانے کی ساری کوششیں ایک طرف رکھ کر۔۔
بس سحر زدہ سا ٹہلتا رہا۔۔
آج وہ اتنا کھویا ہوا تھا کہ۔۔
اگر آمنہ اسے بلانے نہ آتی۔۔
تو وہ شاید۔۔ آج کی ساری رات اپنی اس کیفیت کے نام کردیتا۔۔۔
تقی نے اپنے جذبے کی بڑھتی شدت کے پیشِ نظر۔۔ نداحل سے فاصلہ اختیار کرلیا تھا۔۔
دن پر دن گزرتے گئے اور تقی کی حالت میں اضطراب میں بھی اضافہ ہی ہوتا گیا۔۔
نداحل، سمجھ نہیں پارہی تھی کہ اب تو وہ اسے معاف کرچکا تھس۔
تو پھر بھلا کیوں وہ اب اس سے کھینچا کھینچا رہتا ہے۔۔
اب نداحل کو کیا معلوم کہ جس شخص محبت سے وہ کنارہ کر چکی تھی۔۔
اپنے معصوم دل کو بہلا چکی تھی۔۔
وہی اس کی چاہت میں پاگل ہوتا جا رہا تھا۔۔۔
اسے خوف آنے لگا تھا۔۔ نداحل سے۔۔ اپنی محبت سے۔۔
اب وہ کہیں سے بھی پہلے والا ہنس مکھ تقی نہیں رہا تھا۔۔
وہ دیکھنے میں کوئی نفسیاتی مریض لگنے لگا تھا۔۔
گھر والے علیحدہ ہی فکرمند تھے اس کے لیے۔۔
پر وہ تو جیسے اپنے سب ہوش و حواس ہی کھو چکا تھا۔۔
اسے یاد رہتی تھی تو صرف نداحل۔۔
وہ اپنی فیملی کو بھی اگنور کرنے لگا تھا۔۔
اس لیے آمنہ بھی کچھ خفا سی ہوگئی تھی۔۔
ایک اور چیز تھی۔۔ جو تقی کا دماغ خراب کئے رکھتی تھی۔۔
اور وہ تھی۔۔ ملک عمیر کی نداحل میں دلچسپی۔۔
اس دن کے بعد سے۔۔ عمیر ہر تیسرے دن ، اس کے اور نداحل کے آنے سے پہلے یونیورسٹی میں موجود ہوتا۔۔
اور ان کا راستہ روک کر۔۔
سلام دعا کے بہانے نداحل کو باتوں میں لگا لیتا۔۔
نداحل لاکھ بچ نکلنے کی کوشش کرتی ۔۔ پر وہ اس باتوں کے کھلاڑی کے آگے جیت نہیں پاتی تھی۔۔
تقی کی ہمت۔۔ عمیر کی حرکتیں سہنے سے قاصر تھی۔۔
سو جس دن بھی ۔۔ عمیر سے اس کا سامنا ہوتا۔۔ وہ دن کوئی اخیر۔۔ برا گزرتا۔۔
ان سب چکروں میں تقریباً ایک مہینہ گزر چکا تھا۔۔۔
اور وہ اس ایک مہینے میں ایک اچھے بھلے، آدمی سے اجڑے عاشق بن گیا تھا۔۔
اب تو اس کے بھائی بھی اسے چھیڑنے لگے تھے۔۔
اور آمنہ کو بھی تقی کی اس حالت کے پیچھے چھپی وجہ کی بھنک پڑ چکی تھی۔۔
پر وہ کیا کرتا۔۔ وہ اپنی حالت قابو کرنے کے قابل نہیں تھا۔۔ اس سے یہ ہوتا ہی نہیں تھا۔۔
تقی اور نداحل کی۔۔ آج ہی ایک بار پھر ملک عمیر سے ملاقات ہوئی تھی۔۔
اس کا موڈ اس وجہ سے خراب تھا۔۔
اور وہ سڑا ہوا منہ لے کر گھر میں گھوم رہا تھا کہ ڈرائنگ روم کے سامنے سے گزرنے پر۔۔اسکی ہوائیاں ہی اڑ گئیں۔۔
وہاں کوئی اور نہیں۔۔ بلکہ ملک عمیر بیٹھا تھا۔۔ اور اس کے ساتھ وہ شائستہ سی۔۔ سادہ سی بزرگ خاتون۔۔شاید اس کی ماں تھیں۔۔
تقی کو اس کی موجودگی پر بری طرح شاک لگا تھا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: