Kisi Aur Ka Hun Filhal Novel By Suhaira Awais – Episode 12

0
کسی اور کا ہوں فی الحال از سہیرا اویس – قسط نمبر 12

–**–**–

آمنہ تقی کے سامنے ہی بیڈ پر بیٹھے۔۔ اسے کڑی نظروں سے گھور رہی تھی۔
“کیا مسئلہ ہے آپ کے ساتھ ۔۔؟؟ میں کافی دنوں سے دیکھ رہی ہوں کہ آپ گھر کے معاملات میں کوئی انٹرسٹ نہیں لے رہے۔۔! بتائیں کیا وجہ ہے؟” آمنہ نے ذرا برہم ہو کر پوچھا۔
“نہیں تمہیں غلط فہمی ہوئی ہوگی۔۔ ورنہ ایسی تو کوئی بات نہیں۔۔”
تقی نے نظریں چراتے۔۔
جھوٹ بولنے کی نحیف سی کوشش کی۔۔ جو بالکل کامیاب نہیں ہوئی۔
“تقی۔۔!! دیکھیں اگر کوئی مسئلہ ہے تو بتائیں۔۔ ہم دونوں مل کر حل نکال لیں گے۔۔ پر آپ کچھ کہیں تو سہی۔۔” آمنہ نے اب اپنا لہجہ اس بار نرم رکھا۔۔
کیوں کہ تقی کی پریشان اور الجھی حالت۔۔ اسے بھی تکلیف دے رہی تھی۔۔
وہ اس کی بیوی تھی۔۔
اسے بے انتہا چاہنے والی بیوی۔۔
بھلا وہ بغیر کوئی وجہ جانے۔۔ ایسے کیسے بگڑ جاتی۔۔!!
اور اسے واقعی تقی کی منتشر سی کیفیت ، تشویش میں مبتلا کررہی تھی۔
“آمنہ میں نے کہا ناں کہ کوئی بات نہیں ہے۔۔
پلیز مجھے insist مت کرو۔۔” تقی نے اس بار تھوڑا برہمی سے ٹالنا چاہا۔۔
“یار۔۔ کیا آپ بار بار جھوٹ بولے جارہے ہیں۔۔
آپ کیا سمجھتے ہیں کہ میں اندھی ہوں۔۔
کچھ نظر نہیں آتا مجھے۔۔؟؟
تقی۔۔ آپ یہ بےوقوف۔۔ کسی اور کو جا کر بنائیں۔۔
بلکہ مجھے تو کیا۔۔ سب کو ہی نظر آرہا ہے۔۔!!
امی، انیلا آنٹی۔۔ دادا جی۔۔ سب مجھ سے بار بار پوچھتے ہیں کہ تم دونوں کے درمیان کوئی اختلاف چل رہا ہے۔۔!!
اب انہیں کیا بتاؤں کہ اختلاف نہیں۔۔
بلکہ سراسر اگنور کرنے کی مشقیں کی جارہی ہیں۔۔!!
اب سیدھی طرح بتائیں۔۔ کیا مسئلہ ہے۔۔” آمنہ، تقی کے بار بار کے انکار پر اکتا گئی تھی۔۔
اس لیے اس نے لحاظ بالائے طاق رکھ کر۔۔
سیدھے طریقے سے اپنا موقف بیان کیا۔
آج تو وہ بضد تھی۔۔
کہ ہر حال میں تقی کی اس ڈیپریسڈ سچویشن کے متعلق پتہ کر کے ہی دم لے گی۔
“آمنہ ضد مت کرو۔۔ میں نے جب کہا ہے کوئی بات نہیں ہے تو بس مان لو۔۔ میں مزید کسی سوال کا جواب نہیں دوں گا۔۔اب دوبارہ کچھ مت پوچھنا۔۔!!”
تقی کے لہجے میں rudeness در آئی تھی۔
وہ اپنی بات کہتا۔۔وہاں سے اٹھ کر جانے لگا۔
آمنہ تو اس کے اس قدر اکھڑ رویے پر بہت ششدر تھی۔۔
پر فی الحال۔۔ اسے اپنا نہیں بلکہ تقی کا احساس کرنا تھا۔
اس نے تقی کا ہاتھ تھام کر جانے سے روکا۔
وہ اس کے ساتھ ہی اس کے سامنے کھڑی تھی۔۔
تقی کے چہرے پر بکھری، بدحواسیاں۔۔ اسے بھی مضطرب کر گئیں۔۔
“تقی۔۔ میری طرف دیکھیں۔۔” آمنہ نے پیار سے اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیا۔
“آپ۔۔ آپ کسی سے محبت کرنے لگے ہیں ناں۔۔!
بتائیں یہ سچ ہے۔۔؟؟
دیکھیں۔۔ جب تک آپ بتائیں گے نہیں۔۔ تب تک۔۔ میں آپ کے لیے کچھ نہیں کر سکتی۔۔!” آمنہ نے دل پر پتھر رکھتے۔۔ اپنے اندازوں کو لفظوں کا جامہ پہنا ہی دیا۔
تقی ۔۔اس کے اس قدر accurate تکے پر ، ہونقوں کی طرح دیکھ رہا تھا۔۔
“تم میں سچ سننے کی ہمت ہے؟؟ آئی۔۔ مین۔۔ یار میں تمہیں ہرٹ نہیں کرنا چاہتا۔۔ تمہیں اپ سیٹ نہیں کرنا چاہتا۔۔” تقی نے شکستہ سے لہجے میں کہا۔
“تقی۔۔!! اپ سیٹ تو میں ویسے ہی ہوچکی ہوں۔۔اور رہی بات ہرٹ ہونے کی۔۔ تو ایسا بالکل نہیں ہوگا۔۔!!
آپ کھل کر اپنی بات کہیں۔۔ کم سے کم۔۔ دل کا بوجھ ہلکا کرنے کو ہی کچھ کہہ دیں۔۔” آمنہ ملتجی سی ہوکر کہنے لگی۔۔
“یار۔۔ پتہ نہیں کیا مسئلہ ہے میرے ساتھ۔۔ میرا یقین کرو۔۔ میں ایسا بالکل نہیں چاہتا تھا۔۔!! میں نے خود کو بہت روکا۔۔
But I failed,
I couldn’t stop me from falling in love with her..
میں نہیں روک پایا خود کو۔۔”
تقی اب دوبارہ سے بیڈ کی سائیڈ پر گرنے کے انداز میں بیٹھا تھا۔۔
اس نے اپنا چہرہ ہاتھوں میں چھپا لیا۔۔
کیونکہ وہ رونے لگا تھا۔۔
اور نہیں چاہتا تھا کہ آمنہ اس کے آنسو دیکھے۔۔
اسے پرواہ تو آمنہ کی بھی بہت تھی۔۔
وہ اس کی اپنے لیے محبت سے بخوبی واقف تھا۔۔
پر وہ کیا کرتا۔۔ نداحل کی محبت نے اسے بری طرح توڑا تھا۔۔
آمنہ کا دل کٹا تھا۔۔
پر اس نے ہمت کی۔۔اور لمبا سانس کھینچتے ہوئے پوچھا۔۔ “اوکے۔۔ اب بتائیں۔۔ میں کیا ہیلپ کروں۔۔؟؟
اگر آپ شادی کرنا چاہتے ہیں تو مجھے کوئی اعتراض نہیں۔۔،”
تقی نے اس کی اعلیٰ ظرفی پر حیران ہو کر دیکھا۔۔
“کیا مطلب۔۔؟؟ تمہیں برا نہیں لگا؟؟”
“نہیں۔۔ برا لگنے والی کونسی بات ہے اس میں؟؟
میں جانتی ہوں ۔۔
محبت پر کوئی اختیار تھوڑی ہوتا ہے انسان کا۔۔
آپ بس بتائیں۔۔
میں آپ کی کیا مدد کروں۔۔” آمنہ نے بظاہر۔۔ پر سکون ہو کر۔۔ آرام سے کہا تھا۔۔
اس کے اندر کیا ہلچل ہوئی تھی۔۔ کیا درد اٹھا تھا۔۔۔ وہ یہ سب چھپا گئی۔۔
بہت اعلیٰ ظرف تھی ناں وہ۔۔
اور تقی سے سچی محبت کرتی تھی۔۔
وہ ایک اچھی بیوی تھی۔۔ جس کا مقصد۔۔ ہر حال میں شوہر کو سپورٹ کرنا تھا۔۔ اس کی خوشی کو اپنی اولین ترجیح بنانا تھا۔۔
“نہیں۔۔ آمنہ۔۔ بہت شکریہ۔۔
تم نے اتنی بڑی بات کہ کر۔۔ مجھے سہارا دیا۔۔
لیکن اس معاملے میں تم میری کوئی ہیلب نہیں کر سکتیں۔۔
انفیکٹ۔۔ میں بھی کسی شادی وادی کا سوچ بھی نہیں سکتا۔۔
کیونکہ تم اور امامہ میری فیملی۔۔ میری فرسٹ priority ہو۔۔
میں کوئی شادی نہیں کرنا چاہتا اور نہ ہی یہ ممکن ہے۔۔” اس کے چہرے پر آمنہ کے لیے ستائش۔۔ تشکر۔۔ اور اسکی اپنی بے بسی کے آثار صاف نمایاں تھے۔
“تو پھر آپ کیا چاہتے ہیں۔۔؟؟
اور میں آپ کو بتادوں کہ کچھ بھی ناممکن نہیں ہوتا۔۔
تقی۔۔ میں آپ کو دیکھ رہی ہوں۔۔ پر یقین کریں۔۔ آپ کی یہ بے قراری۔۔ آپ کا مجھے اور امامہ پر۔۔ اپنی اس الجھن کی وجہ سے توجہ نہ دینا۔۔
یہ مجھ سے برداشت نہیں ہوتا۔۔
آپ بس اس لڑکی کا نام بتائیں۔۔
میں خود کچھ کرلوں گی۔۔” آمنہ کا لفظ لفظ، تقی کی محبت میں گھلا ہوا تھا۔
وہ تقی کو راحت پہنچانے کے لیے۔۔ اس کی بے چینی ختم کرنے کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار تھی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: