Kisi Aur Ka Hun Filhal Novel By Suhaira Awais – Episode 13

0
کسی اور کا ہوں فی الحال از سہیرا اویس – قسط نمبر 13

–**–**–

وہ تقی کو راحت پہنچانے کے لیے۔۔ اس کی بے چینی ختم کرنے کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار تھی۔
“بس کرو آمنہ۔۔ یہ فضول باتیں بند کرو۔۔
کس مٹی کی بنی ہو تم۔۔؟؟ شوہر کی دوسری شادی کرانے پر تلی ہوئی ہو۔۔!!” تقی اس کے اس قدر اصرار پر۔۔ خلوص پر جھنجھلا گیا تھا۔۔
اس کی بے پناہ محبت کے آگے اسے اپنا آپ مجرم محسوس ہوا۔
“یار میں کیا کروں۔۔؟؟
مجھے بتائیں کہ میں کیا کروں؟؟
مجھ سے آپ کی اذیت نہیں دیکھی جاتی۔۔
آپ کا اگنور کرنا برداشت نہیں ہوتا۔۔”
آمنہ دھیرے دھیرے ضبط کھونے لگی تھی۔۔
اس کی آنکھوں میں پانی جمع ہورہا تھا۔۔
“آمنہ listen
Don’t cry
پلیز مت رو” تقی نے ہاتھ بڑھا کر اس کے چہرے پر بہتے آنسو صاف کیے۔
“آمنہ۔۔ دیکھو۔۔ میں کسی سے شادی نہیں کرنا چاہتا۔۔
صرف اور صرف تم میری بیوی ہو اور رہو گی۔۔
ان فیکٹ میں دوسری شادی تو کر ہی نہیں سکتا۔۔
بس تم سے اتنی درخواست ہے کہ میری ہیلپ کرو۔۔ اس phase نکلنے میں میرا ساتھ دو۔۔
اور اب دوبارہ شادی کی کوئی بات نہیں کرنا۔۔
میں کسی صورت نداحل سے شادی نہیں کرنا چاہتا۔”
تقی اسے واضح طور پر ،سب کلیئر کر گیا۔۔
اس نے آمنہ سے کچھ نہیں چھپایا۔۔
اور چھپاتا بھی کیوں۔۔؟؟
اسے معلوم تھا۔۔ کہ ایک وہ ہی تو ہے۔۔ جس کے سامنے اپنا حالِ دل کہہ کر۔۔اسے قرار مل سکتا ہے۔۔
آمنہ سے سب شئیر کر کے۔۔ اس کے دل سے ایک بھاری بوجھ اتر گیا تھا۔
جب کہ آمنہ۔۔ نداحل کا نام سننے پر گنگ سی ہوگئی تھی۔
اب واقعی اس میں سکت نہیں تھی کہ وہ اسے دوبارہ انسسٹ کرے۔۔
اسے خوشی ہوئی کہ تقی ہر حال میں۔۔۔ صرف اور صرف اس کے ساتھ sincere ہے۔
پر اب وہ مزید کچھ کہنا سننا نہیں چاہتی تھی۔۔
کیوں کہ تقی کو دیکھ کر لگ رہا تھا کہ اسے اس وقت تنہائی کی سخت ضرورت ہے۔۔
سو اس لیے وہ اسے کمرے میں چھوڑ کر۔۔ خود باہر چلی آئی۔
عمیر اور اس کی والدہ جب چلے گئے تو نداحل اپنے روم میں آئی۔۔
اسے عجیب سی بے چینی ہورہی تھی۔۔
وہ عمیر کے لیے صاف انکار کرنا چاہ رہی تھی۔۔
پر پتہ نہیں کیا چیز تھی کہ جس نے اس سے انکار کی ہمت چھین چکی تھی۔
اسے بہت گھبراہٹ ہو رہی تھی۔۔
بار بار تقی کی شکل آنکھوں کے سامنے آرہی تھی۔۔
گزرے دنوں میں تقی کا رویہ۔۔ اس کا احتراز برتنا۔۔سب اسے بےچین کر رہا تھا۔
تقی کا دیکھنے کا انداز۔۔ وہ ڈرائنگ روم سے نکلتے ہوئے۔۔ اس نداحل کے چہرے پر، کھوئی کھوئی سی نظر ڈالنا۔۔ نداحل کو بے چین کرگیا تھا۔۔
وہ کوئی فیصلہ نہیں کرپارہی تھی۔
پر خیر۔۔ فی الحال کوئی ایسا فیصلہ لینے کی کوئی خاص نوبت نہیں آئی تھی کیوں کہ نداحل کے پیرینٹس نے ابھی ہاں نہیں کی تھی۔۔ انہوں نے وقت مانگا تھا۔
یہ بات سوچ کر۔۔ نداحل کی کچھ ٹینشن کم ہوئی۔۔
وہ یوں ہی کمرے میں ٹہلتی ٹہلتی اکتا چکی تھی۔۔
اس لیے ، اس نے ڈریس چینج کیا۔۔ وضو کیا اور عصر کی مغرب کی نماز پڑھی۔۔۔ جو تقریباً قضا ہونے ہی والی تھی۔
نماز پڑھ کر باہر لان میں آئی تو۔۔
وہاں شاہ میر اور منیب بیٹھے خوش گپیوں میں مصروف تھے۔۔ اور ساتھ میں امامہ کے ساتھ کھیلنے میں مصروف تھے۔۔
نداحل کو انہیں وہاں دیکھ کر خوشگوار حیرت ہوئی تھی۔۔
عموماً۔۔ وہ دونوں ہی اسے گھر میں کہیں نظر نہیں آتے۔۔ کیوں کہ ایک تو ان کی نائن ٹو فائیو جابز۔۔ پھر آفس سے آنے کے کچھ دیر بعد دوستوں کے ساتھ باہر نکل جانے کی وجہ سے۔۔ نداحل کا ان سے ، سامنا ہی نہیں ہوتا تھا۔۔
یہی وجہ تھی کہ وہ ان سے تھوڑی سی بھی فرینک نہیں تھی اور نہ ہی اسے ان دنوں کی نیچر کا پتہ تھا۔
ویسے نیچر کے حوالے سے وہ دونوں تقی کے برعکس تھے۔۔۔
شاہ میر جو کہ تقی سے چار سال چھوٹا تھا۔۔ وہ اس کی نسبت بے حد سنجیدہ اور reserved انسان تھا۔۔
اپنے کام سے کام رکھنے والا۔۔
اور منیب۔۔ جو شاہ میر سے دو سال چھوٹا تھا۔۔وہ تو سنجیدگی میں شاہ میر کا بھی باپ تھا۔
یہ دونوں نداحل کے اندازے تھے۔۔ ورنہ ابھی تک اسے ان دونوں کے متعلق بالکل کچھ نہیں پتہ۔
نداحل نے اب تک ۔۔ ان دونوں کو۔۔ امامہ کے علاؤہ کسی کے ساتھ ہنستے ہوئے بات کرتے نہیں دیکھا تھا۔۔
اس لیے وہ۔۔جھجھک کے مارے دور کھڑی انہیں دیکھ رہی تھی۔ وہ واپس مڑ کر جانے ہی لگی تھی کہ شاہ میر نے اسے آواز دے کر روکا۔
“کہاں جائیں رہی ہو بھئی؟؟
ہم بھی تمہارے کزن ہیں۔۔
غلطی سے آج گھر پر ہیں۔۔
تھوڑی کمپنی ہمیں بھی دے دو۔۔”
اسے شاہ میر سے اتنی خوش مزاجی کی امید نہیں تھی۔۔
دیکھنے میں وہ اسے کھڑوس لگتا تھا۔۔
وہ ابھی بھی اپنی جگہ پر کھڑی تھی۔۔
“ارے امامہ۔۔ اپنی پھوپھو کو بلاؤ۔۔
دیکھو انہیں۔۔ ایسے دیکھ رہی ہیں ، جیسے ہم کھا جائیں گے انہیں۔۔ ” منیب نے قہقہہ لگایا۔
“پھپھو آئیں ناں۔۔ ہم سب مل کر اکڑ بکڑ کھیلتے ہیں۔۔
اور آپ ڈریں نہیں۔۔ میرے چاچو نہیں کھاتے کسی کو کبھی۔۔ آپ کو پتہ ہے یہ دونوں تو میرے بابا سے بھی زیادہ سویٹ ہیں۔۔” امامہ بھاگ کر نداحل تک گئی تھی۔۔
اس کا ہاتھ پکڑ کر وہاں تک لائی۔۔ اور لاتے ہوئے ہی معصومیت سے اپنے چچاؤں کی صفات بیان کیں۔
اس کے انداز پر نداحل کو ہنسی آئی تھی۔
خیر اب وہ چاروں اکھٹے بیٹھے اکڑ بکڑ کھیلنے لگے۔۔
شاہ میر اور منیب ساتھ ساتھ اس سے باتیں بھی کررہے تھے۔
نداحل تھوڑی دیر تو ان کمفرٹیبل رہی۔۔ لیکن پھر۔۔وہ بھی ان کے ساتھ گھل مل گئی۔۔
اب وہ دونوں کے ساتھ گفتگو میں بھرپور حصہ لے رہی تھی۔۔
اور اس کے انٹرسٹ لینے کی دیر تھی۔۔
شاہ میر اتنی جلدی، نا محسوس انداز میں، اس کی
طرف اٹریکٹ ہونے لگا تھا۔۔
بات بات پر نداحل کی جاندار مسکراہٹ۔۔
اس کا طلسمی حسن۔۔
خوبصورت طرز کلام۔۔
اور ہر بات میں نداحل کی جھلکتی ذہانت ۔۔سب اسے نداحل کا اسیر کررہی تھی۔
وہ اس کی کمپنی میں اچانک بہت خوشی محسوس کرنے لگا تھا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: