Kisi Aur Ka Hun Filhal Novel By Suhaira Awais – Episode 14

0
کسی اور کا ہوں فی الحال از سہیرا اویس – قسط نمبر14

–**–**–

وہ اس کی کمپنی میں اچانک بہت خوشی محسوس کرنے لگا تھا۔
نداحل کے پیرینٹس نے ابھی عمیر کے پروپوزل کے لیے رضامندی ظاہر نہیں کی تھی۔۔
پر وہ جلد ہی یہ کرنے والے تھے۔۔
بس ایک دفع نداحل کی مرضی جان کر اور عمیر کی تھوڑی چھان بین کروانی تھی۔۔
باقی انہیں یہ رشتہ بالکل معقول لگا تھا۔۔۔
شام کا وقت کا وقت تھا۔۔
سب گھر والے، لان میں محفل جمائے ،شام کی چائے سے لطف اندوز ہورہے تھے،
نداحل اپنے روم سے نکلی ہی تھی کہ وہاں سامنے سے آتی ، آمنہ اسے ہاتھ پکڑ کر واپس روم میں لے آئی۔
وہ دراصل باہر سب کی گفتگو سن کر آ رہی تھی جو نداحل کے رشتے کے متعلق ہی تھی۔
اس سلسلے میں اسے کچھ ضروری بات کرنی تھی،
بلکہ نداحل سے ریکوئسٹ کرنی تھی کہ وہ بالکل اس رشتے سے انکار نہ کرے۔
کیوں کہ اس نے نداحل سے باتوں باتوں میں، اس کی مرضی پوچھنے کی کوشش کی اور نداحل کا رسپانس عمیر کے حق میں نہیں تھا۔
“یہاں بیٹھو مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے۔۔” آمنہ نے نداحل کو بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
نہ چاہتے ہوئے بھی اس کا لہجہ سخت تھا۔
اتنا بہت تھا کہ وہ اس وقت اسے برداشت کررہی تھی۔۔۔
تقی کی خاطر تو وہ کچھ بھی کر سکتی تھی۔
“آپی۔۔ کیا بات ہے۔۔؟؟”نداحل نے گھبراتے ہوئے پوچھا۔
اسے لگا کہ تقی نے شاید اسے۔۔ نداحل والی بات بتادی۔
لیکن اگلے ہی لمحے اس نے، اپنے اس فضول خیال کو جھٹکا، کیوں کہ ایسا ممکن ہی نہیں تھا تقی ایسا کچھ کرتا۔
وہ پھر بھی دل تھامے، آمنہ کی طرف پوری طرح متوجہ تھی۔
“تمہیں عمیر کیسا لگتا ہے۔۔؟؟ اگر تم سے اس کے لیے کوئی رائے مانگی جائے تو تم کیا جواب دو گی؟؟” آمنہ نے ہنوز سرد مہری کا مظاہرہ کیا۔
نداحل کو آمنہ کا بدلا ہوا رویہ کھٹک رہا تھا پر اس وقت اس نے، اس کے رویے پر تحقیق کی بجائے جواب دینا ضروری سمجھا۔
“آپی۔۔ میں نے ابھی تک کچھ خاص سوچا نہیں ان کے بارے میں۔۔ اور جہاں تک میری رائے کی بات ہے۔۔ تو میں۔۔ کم سے کم رشتے والے معاملے میں انکار کر نے کا سوچ رہی تھی۔” نداحل نے ساری بات بتائی۔
“اور۔۔ انکار کی کوئی خاص وجہ؟؟”
“ہاں۔۔ وہ۔۔ میرے خیال سے عمیر۔۔ تقی بھائی کو نہیں پسند۔۔ وہ کہتے ہیں کہ ایسے سیاسی بندوں کا کریکٹر نہیں اچھا ہوتا۔۔”
نداحل کی بات پر آمنہ کا دل کٹ کر رہ گیا۔۔ کیوں اسے سمجھ آرہی تھی کہ تقی کو عمیر کا کریکٹر کیوں نہیں اچھا لگا۔۔
“انہیں تو اب تم میں دلچسپی لینے والے کسی بھی مرد کا کریکٹر اچھا نہیں لگنا” آمنہ نے دل میں سوچا۔
“یہ تو کوئی بات نہ ہوئی..!! دیکھو۔۔ میں نے تم سے تمہاری رائے کا پوچھا کہ تم کیا فیل کرتی ہو اس کے لیے۔۔” آمنہ نے ضبط کرتے ہوئے نسبتاً نرم لہجے میں پوچھا۔
“آپی۔۔! میں نے بھلا کیا فیل کرنا ہے۔۔!!
مجھے تو اب کسی کے بارے میں کچھ نہیں فیل ہوتا۔۔
جہاں تک عمیر کی بات ہے۔۔ تو اس بندے کی شخصیت میں ایک کشش سی ہے۔۔ اور بس جب وہ سامنے ہوتا ہے تو میں خود کو اس کی طرف راغب ہونے سے روک نہیں پاتی۔۔ابھی تک اس کے علاوہ۔۔ اور کچھ محسوس نہیں کیا میں نے..” نداحل کے ذہن میں۔۔ ایک دفع پھر عمیر کا تصور تازہ ہوا۔۔
“اچھا صحیح ہے۔۔ لیکن اب میری بات سنو۔۔
اور پلیز۔۔ مجھے سمجھنے کی کوشش کرنا۔۔” آمنہ ملتجی سی ہوکر کہنے لگی۔
“آپی، آپ بتائیں تو صحیح۔۔ کیا بات ہے؟؟”
“نداحل۔۔!! دیکھو۔۔ اگر سب گھر والے عمیر کے پروپوزل کے لیے حامی بھر دیتے ہیں تو پلیز تم انکار مت کرنا۔۔”آمنہ نے نداحل کا ہاتھ تھام کر بہت شدت سے request کی۔۔
آمنہ کی حالت یہ تھی کہ اسکے آنسو بہنے لگے تھے۔۔
“آپی۔۔ یہ کیا۔۔؟؟ آپ رو کیوں رہی ہیں۔۔ اور بتائیں کہ میں کیوں انکار نہ کروں۔۔ آخر میرا حق ہے کہ میں اپنی مرضی سے فیصلہ کروں۔۔” نداحل کو آمنہ کی بات بہت عجیب لگی۔۔
اس نے۔۔ حیران و پریشان سی ہوکر اس کی بات ہضم کرنے کی کوشش کی۔
“نداحل۔۔!! یار۔۔ تقی تم سے محبت کرنے لگے ہیں۔۔
پلیز یہ بات کسی کو بتانا مت۔۔
اور تقی سے تو بالکل کچھ مت کہنا۔۔
ورنہ وہ تم سے نظریں نہیں ملا پائیں گے۔۔
پتہ ہے۔۔
کافی دنوں سے وہ ایک بہت ہی عجیب کشمکش میں تھے۔۔
دیکھ کر ایسا لگتا تھا کہ جیسے کسی بڑی اذیت سے گزر رہے ہوں۔۔
ان کا رویہ بھی بہت strange ہوگیا تھا۔۔
آخر پرسوں ۔۔میرے بہت زیادہ پوچھنے پر انہوں نے۔۔ بتایا کہ وہ تم سے محبت کرنے لگے ہیں۔۔
میری طرف سے انہیں کھلی اجازت تھی کہ وہ دوسری شادی کرنا چاہتے ہیں تو کر لیں۔۔
پر انہوں نے انکار کردیا۔۔
تم تقی کو بھائی مانتی ہوناں۔۔ شاید اس لیے انہوں نے منع کردیا۔۔” آمنہ بڑی دل گرفتگی سے ایک ایک بات بتاتی گئی۔۔
نداحل کو تو سمجھ نہیں آیا کہ اس کے ساتھ ہوکیا رہا ہے۔۔!!
تقی اس کو چاہنے لگا ہے۔۔یہ بات نداحل کے اوسان خطا کرنے کے لیے کافی تھی۔۔
اس کی زبان تو ایسے ہوگئی تھی کہ جیسے کبھی ہل نہیں پائے گی۔۔
لیکن زبان تو ہلانی تھی۔۔
بات تو آخر کرنی ہی تھی۔۔
سو۔۔ اس نے بہت مشکل سے۔۔ بہت تکلیف سے لب ہلائے۔۔
“اچھا۔۔ ٹھیک ہے۔۔!! آپ بتائیں کہ اب میں کیا کروں؟؟” اس نے ایسے کہا جیسے اسے یہ بات کچھ خاص حیران کن نہیں لگی۔۔ یا اسے کوئی شاک نہیں لگا۔۔
حالانکہ وہ جس قدر شاکس تھی۔۔ اس کا تو اندازہ بھی نہیں لگایا جا سکتا تھا۔۔
“بتایا تو ہے۔۔ تم۔۔ تم ناں بلاوجہ عمیر کے لیے نہ مت کرنا۔۔
دیکھو۔۔ اگر تم تقی کو بھائی مانتی ہو۔۔ یہ میرے اور ان کے رشتے کی سلامتی۔۔ تقی کی سلامتی چاہتی ہو تو۔۔۔ پلیز۔۔ نہ مت کرنا۔۔
کیوں کہ میں جانتی ہوں کہ جب تک تم اس گھر میں۔۔
تقی کے آس پاس رہو گی۔۔ تب تک ان کے لیے اس اذیت سے نکلنا بہت مشکل ہوگا۔۔ وہ نہیں چاہتے کہ وہ میرے اور امامہ کہ علاوہ، کسی کو اپنی زندگی میں سب سے زیادہ اہمیت اور توجہ دیں۔۔ لیکن تمہارے ہوتے ہوئے۔۔ان کے لیے یہ سب۔۔ یہ سب کرنا بہت مشکل ہوگا۔۔
اب تم مجھے بتاؤ۔۔ تم انکار تو نہیں کرو گی ناں؟؟”
آمنہ نے بہت امید ۔۔ بہت آس سے، اپنی روتی ہوئی آنکھوں سے نداحل کی طرف دیکھا۔۔
یہ تقی کی محبت میں بہنے والے آنسو تھے۔۔ جو تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔۔
ان آنسوؤں کی شدت نے نداحل کو بھی رونے پر اکسایا۔۔
“آپی۔۔ آپ بے فکر رہیں۔۔ دنیا ادھر کی ادھر ہوجائے۔۔ پر میں انکار نہیں کروں گی۔۔!!” نداحل نے رندھی ہوئی آواز میں کہا۔
آمنہ کو امید نہیں تھی کہ وہ اتنی جلدی اور اتنی آسانی سے اس کی بات سمجھ جائے گی۔۔
وہ خود کو، اس وقت ، اس کا بہت احسان مند محسوس کررہی تھی۔
جب کہ نداحل کا تو دماغ پھٹنے کو ہو گیا۔۔
اسے آمنہ کی باتوں پر یقین نہیں آ کے دیا۔۔
پر یقین تو کرنا تھا۔۔
آمنہ کا لب و لہجہ۔۔ تقی کے لیے اس کی تڑپ۔۔ ہر چیز اس کے سچا ہونے کی تصدیق کررہی تھی۔
جب سے آمنہ اس کے کمرے سے گئی تھی۔۔ تب سے وہ یوں ہی اپنے بیڈ کے کنارے پر گم سم سی۔۔ بہت پریشان سی ہو کر بیٹھی تھی۔۔
شکر تھا ٹ کوئی اس کے حال احوال پوچھنے نہیں آیا۔۔
اس لیے وہ آرام سے۔۔ اپنی اب تک کی کہانی۔۔ کا از سر نو جائزہ لینے لگی۔۔
وہ سمجھتی تھی کہ اسے تقی سے محبت ہے۔۔
بعد میں اسے لگنے لگا کہ شاید وہ عمیر کی طرف متوجہ ہورہی ہے۔۔
عمیر کے پروپوزل لانے پر۔۔ اس نے یہ سوچا کہ شاید عمیر اس سے محبت کرتا ہے۔۔
اور پھر گزرے دو دنوں میں شاہ میر کا اس پر غیر ضروری اور غیر معمولی توجہ دینا۔۔ یہاں بھی کچھ اسی قسم کے ادراکات ہوئے۔۔
پر آج اس نے محسوس کیا کہ اس کے سب ادراکات بے بنیاد تھے۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: