Kisi Aur Ka Hun Filhal Novel By Suhaira Awais – Episode 15

0
کسی اور کا ہوں فی الحال از سہیرا اویس – قسط نمبر 15

–**–**–

پر آج اس نے محسوس کیا کہ اس کے سب ادراکات بے بنیاد تھے۔۔
کیوں کہ ان میں سے کسی کو اس سے محبت نہ تھی اور نہ ہی اس کو کسی سے تھی۔
دراصل ہمارے معاشرے کا المیہ ہے کہ ہم ہر وقتی لگاؤ کو محبت کا نام دے دیتے ہیں،
جب کہ ایسا بالکل نہیں ہوتا۔
محبت اتنی عام نہیں ہوتی۔۔ کہ ہر کسی کو ہوجائے۔۔
اور نہ ہی اتنی آسانی سے ہوتی ہے۔۔
لیکن یہ حقیقت ہے کہ ہے کہ ہے کہ ہے کہ ہے کہ ہے کہ ہے کہ ہے کہ ہے کہ فطری طور پر دو مخالف جنسیں ایک دوسرے کے لیے بے تحاشہ کشش رکھتی ہیں۔۔
اور ہم اس کشش کو، اس اٹریکشن کو۔۔ جو محض اٹریکشن ہی ہوتی ہے۔۔ محبت سمجھ کر۔۔ اپنا بہت نقصان کر بیٹھتے ہیں۔
جب ایک مرد اور عورت کا آپس میں انٹرایکشن ہوتا ہے تو عموماً، بہت چانسز ہوتے ہیں کہ وہ آپس میں ایک دوسرے کے لیے پسندیدگی کے جذبات محسوس کرنے لگیں۔۔
اب اس پسندیدگی کو محبت سمجھنا بھلا کہاں کی دانشمندی ہے۔۔!!
مگر پھر بھی۔۔ ہماری سوسائٹی کا عقل و دانش سے کیا لینا دینا۔۔
سوسائٹی ٹرینڈز کو فالو کرتی ہے۔۔ پھر چاہے وہ ٹرینڈز وہ رجحانات کتنے ہی برے کیوں نہ ہوں۔۔!!
کتنے ہی تباہ کن کیوں نہ ہوں!!
ہمیں اس بات کا اندازہ ہی نہیں کہ آزاد خیالی اور ماڈرنیزم کے نام پر مردوں عورتوں کا آزادانہ میل جول کتنے فتنے پیدا کرتا ہے۔۔!!
اب یہیں دیکھ لیں۔۔
اگر نداحل اور تقی میں اتنی frankness نہ ہوتی۔۔ تو بہت ممکن تھا کہ نداحل اس سے اظہار محبت کرنے کی جرأت بھی نہ کرتی۔۔
اور خود کو اس سے ، بے وجہ متاثر ہونے سے بھی روکتی۔۔
یہی معاملہ تقی کے ساتھ بھی ہے۔۔
اگر اس نے شروع سے ہی خود کو نداحل سے دور رکھا ہوتا۔۔تو شاید آج وہ اتنا بے سکون نہ ہوتا۔۔!!
اسی طرح عمیر اور شاہ میر، اگر خود کو نظریں نیچی رکھنے والے اصول پر کاربند رہتے اور نداحل نے خود بھی خود کو اللّٰه کی مرضی کے خوبصورت خول میں بند کر کے۔۔ ان نامحرموں سے چھپا کر رکھا ہوتا تو آج وہ ان کے دل مچلانے کا سبب نہ بنتی۔۔
پر افسوس۔۔ وہ آج بھی اس نہج پر پہنچ کر کچھ سوچنے سمجھنے سے قاصر تھی۔
اس کی سوچ اس کے ادراکات کے سطحی پہلوؤں تک ہی جا سکی۔
اس نے سوچا تو بس اتنا۔۔ کہ یہاں سب کی محبتوں میں کھوٹ تھا۔۔ سب ظاہری شخصیت سے متاثر تھے۔۔
کسی کی محبت میں خلوص نہیں تھا۔۔
آمنہ کی تقی کے لیے محبت اور تڑپ دیکھ کر اسے سچی محبت اور جھوٹے جذبات کا فرق معلوم ہوا۔۔۔
اور آمنہ سے ، اپنے لیے تقی کی فیلینگز کا سن کر اسے دھچکا سا لگا تھا۔۔ ساتھ ہی اسے اندازہ ہوا کہ تقی۔۔ نداحل کے لیے، اپنے دل میں موجود عارضی جذبوں کو مستقل محبت میں بدلنے کے مراحل سے گزر رہا ہے۔
وہ اپنے اندازوں پر بہت پریقین تھی۔۔
لیکن وہ نہیں چاہتی تھی کہ ایسا ہو۔۔
یہ سچ ہے کہ ایک وقت تھا۔۔ جب اسے ہر حال میں تقی کا ساتھ چاہیے تھا۔۔
پر اب بہت کچھ بدل چکا تھا۔۔
اب وہ بہت حد تک حقیقت پسند بن چکی تھی۔۔
اب اسے کوئی ایسا فیصلہ لینا تھا کہ جس سے وہ تقی اور آمنہ کا رشتہ بچا سکے۔۔
وہ تقی کو اس اذیت سے نکال سکے۔۔
وہ تقی کو مکمل طور پر آمنہ کا ہی رہنے دے۔۔
کیونکہ وہ بالکل بھی، ان دونوں کے درمیان کسی قسم کی۔۔ ناچاقیوں کی متمنی نہیں تھی۔۔
وہ آمنہ کو اپنی بہن ماننے لگی تھی۔۔ اس لیے اب اسے ، اس کی خاطر تقی کو اپنی محبت میں گرفتار ہونے سے روکنا تھا۔۔
اور اس کی نظر میں اس مسئلے کا فقط ایک ہی حل تھا۔۔ کہ وہ کسی طرح تقی کی پہنچ سے۔۔ بہت دور چلی جائے۔۔
وہ اسے اپنی شکل تک نہ دکھائے۔۔ تاکہ وہ باآسانی اس سے اپنا پیچھا چھڑا سکے۔۔
تاکہ وہ اپنی سابقہ زندگی کی طرف لوٹ سکے۔۔
پہلے کی طرح خوش رہے۔۔ پر سکون رہے۔۔
اور یہ سب کرنے کے لیے، سب سے زیادہ مناسب اور بہترین طریقہ ملک عمیر سے شادی کرنے کا تھا۔۔
وہ سوچ چکی تھی کہ وہ اب انکار نہیں کرے گی۔۔
نداحل کی رضامندی ملنے پر اس کے والدین نے فوراً ہی عمیر اور اس کی والدہ کو دعوت پر مدعو کرکے ،
عمیر کے پروپوزل کے لیے ہاں کی۔
کھانے کی ٹیبل پر ہی ہاں ہوئی اور گفتگو کا سلسلہ بھی جاری تھا۔۔
وہاں تقریباً سارے گھر والے ہی موجود تھے۔۔
شاہ میر تھا۔۔ جسے اس سب کارروائی سے کوئی خاص فرق نہیں پڑا۔۔ کیوں کہ وہ کونسا نداحل کے لیے کوئی deep فیلینگز رکھتا تھا۔۔!!
اس لیے اس نے بھی سب کی طرح عمیر کو خوشدلی سے مبارک باد دی۔۔
تقی تھا۔۔ جسے ایک چبھن سی محسوس ہو رہی تھی۔۔ جیسے اس کی کوئی بہت ہی قیمتی چیز۔۔ اس سے چھینی جا رہی ہو۔۔!!
اس وقت تقی کے ایکسپریشنز کافی دلگیر تھے۔۔ جسے عمیر نے بہت ہی زیادہ انجوائے کیا۔۔
وہ دراصل شروع ہی سے تقی کو بے حد ناپسند کرتا تھا کیوں کہ اسے تقی جیسے ایمانداروں سے سخت نفرت تھی۔۔
آخر اس نے رشوت لے کر اس کے بھائی کو پاس کرنے سے منع جو کیا تھا۔۔
اب ایسے لوگوں کا۔۔ ملک عمیر کی گڈ بکس میں بھلا کیا کام..؟؟
اوپر سے اس کی عقابی نظریں۔۔ فوراً سے پہلے ہی، نداحل کے لیے اس کا concern بھانپ گئی تھیں۔۔
سو اس لیے اس نے اپنی دلچسپی نداحل میں بہت حد تک بڑھا دی اور نتیجتاً آج وہ اسے خود سے منسوب کر کے تقی کو دل ہی دل میں ایک طرح سے مات دے چکا تھا۔۔۔
تقی بھی کوئی دودھ پیتا بچہ تو تھا نہیں۔۔جو اس کی حرکات نہ سمجھ پاتا۔۔
وہ بھی خود کو عمیر سے ہارتا محسوس کررہا تھا۔۔
اسے تھوڑا پچھتاوا ہوا کہ وہ آمنہ کی پیشکش پر غور کر لیتا۔۔ گھر والوں کو کسی طرح راضی کر لیتا۔۔ تو آج کم سے کم عمیر کی جیت کے نشے میں چور نظریں۔۔ سے گھائل نہ کر رہی ہوتیں۔۔
پر اب کچھ نہیں ہوسکتا تھا۔۔
اس نے اپنے آپ کو اپنے پچھتاوے کو قابو کیا۔۔
اس نے خود کو یقین دلایا کہ نداحل کا اس کی زندگی سے دور چلے جانا ہی بہتر ہے۔۔
اور اسے دور بھیجنے کے چکر میں وہ اتنا بےحس ہوگیا تھا کہ عمیر کے کریکٹر سے واقف ہونے کے باوجود بھی اس نے گھر والوں کو کچھ نہیں بتایا۔۔ نہ ہی اپنی کوئی رائے دی۔۔ نہ کوئی مشورہ۔۔!!
بس خود کو نداحل سے دور کرنے کے لیے وہ چپ سادھے سارا تماشہ دیکھتا رہا۔
سب کچھ فائنل ہونے کے بعد گھر میں زور و شور سے نداحل کی شادی کی تیاریاں شروع ہوئیں۔۔
ہر کوئی بہت خوش اور ایکٹیو تھا۔۔ حتیٰ کہ شاہ میر بھی۔۔۔!!
یہاں بس تقی ہی ایک ایسا بندہ ۔۔ جو نداحل کی شادی کے سوگ سے نکل ہی نہیں پارہا تھا۔۔۔ اور نداحل ۔۔۔ اس کی حالت تو سب سے عجیب تھی۔۔ وہ کچھ محسوس ہی نہیں کر پارہی تھی۔۔ نہ کوئی خوشی۔۔ نہ کوئی دکھ۔۔!!
اس نے خود کو مکمل طور پر اپنی قسمت۔۔ اپنے نصیب کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔
عمیر کے لیے ہلکی پھلکی سی کشش۔۔ اس کی طرف مائل ہونے کا احساس۔۔ اس کی طرف اٹریکشن۔۔ اسے تو اب یہ بھی محسوس نہیں ہورہا تھا۔
اسے لگا کہ جیسے اس کی ساری حِسیں جواب دے گئیں ہوں۔۔!!

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: