Kisi Aur Ka Hun Filhal Novel By Suhaira Awais – Episode 16

0
کسی اور کا ہوں فی الحال از سہیرا اویس – قسط نمبر 16

–**–**–

اسے لگا کہ جیسے اس کی ساری حِسیں جواب دے گئیں ہوں۔۔!!
آج نداحل کی مہندی تھی،
دوپہر سے ہی سب تیاریوں میں بزی تھے،
ہر کوئی اپنے اپنے کام نمٹانے میں مصروف تھا،
شاہ میر بھی کسی کام کے سے، گھر سے باہر نکلا تھا،
واپسی پر، وہیں، سامنے اسے اس کا دوست آتا دکھائی دیا ، جو دو اسٹریٹس چھوڑ کر، انہی کے ٹاؤن میں رہتا تھا۔
شاہ میر، رک کر بہت خوشی سے، اس وحید سے سلام دعا کرنے لگا،
وحید نے اس کی ایک دو باتوں کا جواب دینے کے بعد اپنے دماغ میں کھلبلاتا سوال پوچھا۔۔ “یار۔۔ وہ میں پوچھنا چاہ رہا تھا کہ تیرے گھر پر سب خیریت تو ہے ناں” لہجہ بہت متفکر اور پریشان سا تھا۔
“ہیں۔۔؟؟ یہ کیا سوال ہوا بھائی۔۔!! تو بتا۔۔ تجھے کیا گڑبڑ محسوس ہوئی ہے جو تو ایسے بول رہا ہے۔۔؟؟” شاہ میر کو وحید کا سوال بالکل احمقانہ اور عجیب لگا۔
“یار۔۔ وہ میں نے ملک عمیر کی جیپ تم لوگوں کے گھر کے باہر دیکھی تھی۔۔ تو مجھے لگا شاید کوئی مسئلہ ہوا ہے۔۔ ویسے بھی وہ بندہ جہاں ہو، وہاں سے خیر کی امید تو رکھی نہیں جا سکتی۔” شاہ میر کا رسپانس سن کر وحید کو تسل ہوئی،
اس لیے اس نے ہلکے پھلکے لہجے میں ، اپنے خدشے کی وجہ بتائی،
یہ وجہ سننے پر تو شاہ میر، اچھا خاصا متعجب ہوا تھا،
عمیر کے متعلق ایسی بات اسے پریشان کرگئی،
اس کے چہرے پر تعجب، حیرانی اور پریشانی یک دم ظاہر ہوئی،
“تو جانتا ہے اس کو؟؟” شاہ میر نے پوچھا۔
“لو۔۔ یہ کیا بات ہوئی۔۔؟؟ تجھے اس کا نہیں پتہ؟؟ سارا شہر جانتا ہے اس کو یار!!” وحید کو اس کی لاعلمی پر بہت حیرت ہوئی، مگر اس نے اپنی حیرت کم کی اور شاہ میر کے جنرل نالج میں اضافہ کیا۔
“پتہ ہے۔۔!! شہر بھر میں دندناتا پھرتا ہے۔۔ یہ اور اس کا چھوٹا بھائی۔۔ دونوں ایک نمبر کے عیاش ہیں۔۔ اور بےچارے معصوم لوگوں کی ناک میں دم کئے رکھتے ہیں۔۔!!”
شاہ میر کا تو دماغ ابل کر رہ گیا،،
کس گند میں پھنسنے جارہی تھی اس کی کزن۔۔!! اف۔۔!!
اسے تو یقین نہیں آیا۔۔
وہ ایک دفع عمیر سے خود بھی ملا تھا۔۔ اور اس ملاقات میں اسے وہ کہیں سے بھی، اس طرح کا بدمعاش اور کریکٹر لیس آدمی نہیں لگا۔۔
“یار یہ کیا بکواس کر رہا ہے تو۔۔!! میں اس سے خود ملا ہوں اور وہ مجھے کہیں سے بھی ایسا نہیں لگا۔۔ مجھے ٹھیک ٹھیک بتا کہ تو سچ کہ رہا ہے؟؟”
“ہاں بھئی!! مجھے کیا ضرورت ہے مذاق کرنے کی۔۔
تو بےشک کسی اور سے کنفرم کر لے۔۔
اور یار تو اس سے کیوں ملتا پھر رہا ہے۔۔؟؟ بہت خطرناک آدمی ہے وہ۔۔
چل چھوڑ۔۔ابھی مجھے ذرا جلدی ہے۔۔ باقی سوال جواب بعد میں کر لیں گے۔۔ ٹھیک ہے۔۔؟؟” وحید کہ کر چلتا بنا۔
اور شاہ میر کا وہاں کھڑے کھڑے پسینہ چھوٹ گیا۔۔
وہ بہت پریشان سا ہو کر گھر کی طرف تیزی سے بڑھا۔۔
اسے جلد از جلد گھر پہنچنا تھا۔۔
جو بھی تھا۔۔ وہ ایسے اپنی کزن کی زندگی برباد ہوتے نہیں دیکھ سکتا تھا کیونکہ عام طور پر کوئی بھی انسان ہو۔۔ وہ کسی اپنے کو ایسے تباہ ہوتے کیسے دیکھ سکتا ہے۔۔!!
شاہ میر نے گھر پہنچتے ہی، دادا، اپنے والدین، چچا، چاچی، تقی اور نداحل کو، اپنے روم میں اکھٹا کر کے ساری بات بتائی،
وہ باہر کھلے عام ایسے نہیں کہہ سکتا تھا کیونکہ شادی والا گھر تھا سو اس مناسبت سے وہاں کافی مہمان جمع تھے،
منیب اور آمنہ انہیں ہی ڈیل کرنے میں مصروف تھے۔
شاہ میر کی بات سن کر تقی کے علاؤہ سب کو شاک لگا،
ایک تقی تھا۔۔ جس نے چپ چاپ۔۔ بے تاثر ہوکر ، بے حس ہوکر۔۔ اس کی بات کو ، صرف سننے کی حد تک اہمیت دی۔
جاوید صاحب، یعنی نداحل کے پاپا کا تو بی پی ہی لو ہو گیا۔۔ اور اس کی امی الگ دل پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ گئیں۔۔
ان کو تو یقین نہیں آرہا تھا کہ آخر عمیر ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔۔!!!
پریشانی کی بات تھی۔۔ اور سب پریشان بھی تو تھے۔۔ مگر یہ وقت صرف پریشان ہونے کا نہیں۔۔ بلکہ مسئلے کا حل تلاشنے کا تھا۔۔
انہیں ، فوری طور پر کوئی فیصلہ کرنا تھا۔۔
“ہم لوگ عزت سے انکار کر دیتے کہ ہمیں نہیں دینی ان کو اپنی بیٹی۔۔!!” تایا جان نے رائے پیش کی۔۔
“ہاں۔۔ آپ لوگ انکار کریں گے اور وہ ٹھنڈا ہوکر بیٹھ جائے گا۔۔ا ہیں ناں؟؟” تقی نے بالآخر اپنی بے حسی کا خول اتارا۔۔
وہ بھی بھلا ، کیسے۔۔۔ نداحل کو غلط ہاتھوں میں بھیجنا گوارا کرتا۔۔!!
اس نے سوچا کہ وہ صرف اپنے سکون کی خاطر کیسے اس کی زندگی خراب کر سکتا ہے۔۔!!
پر افسوس۔۔ یہ احساس اسے بہت دیر سے ہوا تھا۔۔
اسے بروقت اپنی رائے دے کر معاملہ یہاں تک پہنچنے ہی نہیں دینا تھا۔۔
پر اب تو وہ غلطی کر چکا تھا۔۔
“ہممم تقی صحیح کہہ رہا ہے۔۔ ایسے لوگ آسانی سے پیچھا نہیں چھوڑتے۔۔ وہ لڑکا کسی صورت نہیں مانے گا۔۔ ویسے شاہ میر بیٹا۔۔ آپ نے اس خبر کی تصدیق کروائی ہے کہ نہیں۔۔؟؟ کیوں کہ ہو سکتا ہے۔۔ اس بچے کو عمیر کے متعلق کوئی غلط فہمی ہوئی ہو۔۔” نداحل کے پاپا، بہت ہی دھیمے لہجے میں، ہلکے ہلکے سے سانس لیتے ہوئے بولے۔۔
“چاچو۔۔ میں نے تو کوئی کنفرمیشن نہیں کرائی۔۔ پر مجھے یقین ہے کہ وحید نے غلط بیانی نہیں کی۔۔!!” شاہ میر نے بھی اسی فکر بھرے لہجے میں کہا۔
“تصدیق کرانے کی ضرورت نہیں۔۔ میں جانتا ہوں اسے ۔۔ وہ ایسا ہی ہے۔۔” تقی گردن جھکائے۔۔ بالکل سپاٹ لہجے میں، سب کو ایک اور شاک دے گیا۔۔
سب حیرت اور صرف حیرت سے تقی کا منہ دیکھ رہے تھے کہ آخر یہ کہہ کیا رہا ہے۔۔!!
اگر یہ اس کو جانتا تھا تو اس نے پہلے۔۔ کیوں کچھ نہیں بتایا۔۔!!

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: