Kisi Aur Ka Hun Filhal Novel By Suhaira Awais – Episode 17

0
کسی اور کا ہوں فی الحال از سہیرا اویس – قسط نمبر 17

–**–**–

اگر یہ اس کو جانتا تھا تو اس نے پہلے۔۔ کیوں کچھ نہیں بتایا۔۔!!
“بیٹا۔۔!! اگر آپ اس کو پہلے سے جانتے ہیں تو آپ نے کیوں نہیں بتایا۔۔” اس کی امی نے حیرانی سے پوچھا۔۔
اس کی بات سن کر نداحل کے دل کو کچھ ہوا تھا۔۔
مطلب۔۔ وہ اس کے ساتھ ایسا کیسے کر سکتا ہے۔۔!!
اس نے عمیر کی اصلیت کیوں سب کو نہیں بتائی۔۔!!
شروع شروع میں وہ اس سے کتنی خار کھاتا تھا۔۔
اس سے عمیر کا نداحل کو دیکھنا تک برداشت نہیں ہوتا تھا۔۔
اور اب۔۔!!
اب وہ اتنا عجیب ہوگیا تھا کہ بغیر چوں چراں کیے۔۔ بغیر کچھ کہے۔۔ سب کچھ جانتے بوجھتے۔۔ بس سب دیکھتا رہا۔۔
اس نے یہ تک نہیں سوچا کہ نداحل کی شادی اس سے ہو جاتی تو کیا ہوتا۔۔!!
نداحل اس سے بہت بدگمان ہوچکی تھی۔۔!!
اس کے لیے، تقی کی موجودگی میں وہاں بیٹھنا مشکل ہو گیا تھا۔۔
سو وہ۔۔۔ خاموشی سے وہاں سے اٹھ کر چلی گئی۔۔
سب نے اس کا ایسے اٹھ کر جانا محسوس کیا ۔۔ پر کوئی کچھ بولا نہیں۔۔
اور یہ شاہ میر بھی بے وقوف تھا۔۔ نداحل کو سب کے ساتھ اکھٹا کر کے وہاں بلالیا۔۔
ایسے سب کی موجودگی میں۔۔ دلہن کے سامنے بھی کوئی اس طرح کی بات بتاتا ہے۔۔!!
“بس مجھے خیال نہیں آیا۔۔” تقی نے اپنی امی کے سوال پر بے تکا سا جواز پیش کیا۔۔
اس کے تیور دیکھ کر لگ رہا تھا کہ وہ مزید کسی ایسے سوال کا جواب دینے کے موڈ میں نہیں۔۔
سو کسی نے اس بارے میں مزید کوئی ایسا سوال نہیں کیا۔۔
فی الحال وہ سب، اپنی توجہ اصل مسئلے پر مرکوز رکھنا چاہتے تھے۔۔
یہ الگ بات تھی کہ سب کو تقی کا انکشاف بہت برا لگا تھا۔۔ انہیں اس جیسے اچھے آدمی سے اس گھٹیاپن کی امید نہیں تھی۔۔ اس کے والد تو ابھی تک، اسے کاٹ کھانے والی نظروں سے گھور رہے تھے۔۔
اور یہ ہر چیز سے بے پرواہ۔۔ گردن جھکائے اپنی ہی بات کہہ رہا تھا۔۔
“دیکھیں۔۔۔ جسے مجھ سے ناراض ہونا ہے۔۔ ہوجائے۔۔
پر آپ سب میری بات سن لیں۔۔!! عمیر، نداحل کو ایسے نہیں چھوڑے گا۔۔ آپ لوگ۔۔!! آپ نداحل کا نکاح کسی اور سے کرادیں۔۔ ورنہ وہ بالکل بھی شادی کیے بغیر ٹک کر نہیں بیٹھے گا۔۔”
“پر اتنی جلدی۔۔ ہم لوگ کہاں سے اس کے لیے لڑکا ڈھونڈیں۔۔ بتاؤ۔۔” نداحل کی امی غصے اور دکھ کی ملی جلی کیفیت میں گویا ہوئیں۔
ان کا دل تو چاہ رہا تھا کہ ایک دو تھپڑ لگا دیں اسے۔۔
پر اس وقت وہ کسی اور ہنگامے کی شروعات نہیں کرنا چاہتی تھیں۔۔
سب کی طرح انہیں بھی۔۔ اس وقت۔۔ صرف اور صرف نداحل کی فکر تھی۔۔۔
انیلہ بیگم کے سوال پر سب ، ایک نئے سرے سے پریشانی میں گھر گئے۔۔
سب کی اس پریشانی کو دادا جی نے اپنے نادر مشورے سے ذرا ہلکا کیا۔۔۔ “لڑکے کا کوئی مسئلہ نہیں۔۔ ماشاءاللّٰه سے منیب اب شادی کے لائق ہے۔۔ ہم اس سے نداحل کا نکاح کرادیتے ہیں۔۔”
(دادا جی نے منیب کا نام اس لیے لیا کیونکہ شاہ میر کا، ڈیڑھ سال پہلے سے ہی اس کی ایک خالہ زاد یعنی کزن سے نکاح ہوا تھا۔۔ اسی لیے تو، اس نے نداحل پہ زیادہ سنجیدگی سے توجہ نہیں دی۔۔ اسی لیے تو اس کی شادی فائنل ہونے پر اسے کوئی فرق نہیں پڑا)
دادا جی کی بات پر سب نے سکھ کا سانس لیا۔۔ اور جاوید صاحب کی بھی ٹینشن کم ہوئی۔۔ کیوں کہ تقی کے والد نے بھی اس فیصلے سے متفق ہونے کا عندیہ دیا۔
جہاں سب دادا کے اس مشورے پر سکون ہوئے وہیں تقی کو جیسے جھٹکا سا لگا۔۔
مطلب جس لڑکی سے وہ جلد از جلد چھٹکارا حاصل کرنے کے چکر میں اس کا پورا مستقبل خطرے میں ڈالنے والا تھا۔۔
اب وہ ساری زندگی کے لیے اس کے گھر کا مستقل فرد بن کر۔۔ اس کا سکون غارت کرے گی۔۔!!
وہ مزید کوئی ایسی بات سننے کی حالت میں نہیں تھا۔۔
اس کا دل کیا کہ وہ خود کو آگ لگا دے۔۔ اور اس بے چینی بھری اذیت سے اپنی جان آزاد کرا لے۔۔
پر ایسا ہو نہیں سکتا تھا۔۔
تقی کی جلد بازی۔۔ اس کی خود غرضی۔۔ نے اسے اس موڑ پر لا کھڑا کیا تھا کہ جہاں صرف اس کو اذیت ملنی تھی۔۔
جہاں صرف اس کی پرسکون زندگی میں بےقراری، تا دم آخر برقرار رہنی تھی۔
کیا ہوتا کہ وہ اگر، تھوڑا صبر سے کام لیتا۔۔ عمیر کی اصلیت سب کو پہلے بتادیتا۔۔ ایسے میں کم سے کم ، گھر والے اس کی شادی منیب سے کرنے کا تو نہ سوچتے ناں!!
وہ کسی اور ، کسی معقول بندے کے ساتھ اسے رخصت کر دیتے۔۔ اس سب میں۔۔ بس تھوڑا وقت لگنا تھا۔۔ تھوڑا صبر چاہیے تھا۔۔ پر تقی۔۔ وہ تو نہ اس وقت کا انتظار کرنے پر راضی تھا اور نہ ہی صبر سے کام لینے پر۔۔
اب حال یہ تھا کہ عمر بھر کی بے قراری۔۔ اس کے مقدر میں لکھ دی گئی تھی۔۔
سب کی نظروں سے گر جانے کی تکلیف، نداحل کی بے انتہا بدگمانی، علیحدہ۔۔ اسے ستانے والی تھی۔۔!!
اس سب بحث و مباحثے کے ختم ہوتے ہی انیلہ بیگم اور تقی کی والدہ۔۔ دونوں نداحل کے پاس گئیں۔۔ ساری صورتحال نداحل کے سامنے تھی۔۔ اس لیے ان دونوں خواتین کو اسے سمجھانے میں زیادہ مشکل نہیں ہوئی۔۔
وہ بغیر کسی مزاحمت کے۔۔ با آسانی ان کے فیصلے پر راضی ہوگئی۔
بس ایک چیز تھی۔۔ جو وہ کنٹرول نہیں کر پائی۔۔ اور وہ تھے اس کے آنسو۔۔!!
اسے تکلیف ہوئی تھی۔۔ اسے تقی ہی حرکت نے بہت مایوس کیا تھا۔۔ وہ اسے کتنا پرخلوص انسان سمجھتی تھی۔۔!!
پر وہ کیا نکلا۔۔!! ایک خود غرض انسان۔۔!!
قصور اس کا بھی نہیں تھا۔۔ یہ نداحل کی غلطی تھی کے وہ کسی غیر مرد سے اپنے لیے خلوص کی توقع کر بیٹھی تھی۔۔ وہ اس پر اعتبار کر بیٹھی تھی۔
کیوں کہ حقیقت تو یہ ہے عورت کی زندگی میں اس کے باپ، بھائی، شوہر اور بیٹے کے علاؤہ کوئی مرد اعتبار کے قابل نہیں ہوتا۔۔ ان چار کے علاؤہ، کسی سے خلوص کی توقع رکھنا بے وقوفی ہی تو ہے۔
دوسری طرف۔۔ منیب کو بھی شاہ میر۔۔ اس کے والد اور اس کی والدہ، تینوں نے مل کر ، اسے سب صورتحال بتائی۔۔ وہ بھی تھوڑے۔۔ تردد اور بار بار کے کمزور سے انکار کے بعد ، بالاآخر، نکاح کے لیے مان گیا۔۔
اس کے بعد شاہ میر نے بذات خود، فوری طور پر نکاح خواں کا انتظام کیا۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: