Kisi Aur Ka Hun Filhal Novel By Suhaira Awais – Episode 18

0
کسی اور کا ہوں فی الحال از سہیرا اویس – قسط نمبر 18

–**–**–

اگر یہ اس کو جانتا تھا تو
اس کے بعد شاہ میر نے بذات خود، فوری طور پر نکاح خواں کا انتظام کیا۔۔۔
سب لوگ ڈرائنگ روم میں اس کار خیر کی انجام دہی کے لیے جمع تھے۔۔
سب کے دل تھوڑے بہت لرزنے لگے تھے۔۔
کیونکہ اب تو وہ سب ملک عمیر کی اصلیت جان چکے تھے ناں۔۔
اب تو انہیں پتہ تھا۔۔ کہ اس بدمعاش آدمی سے۔۔ کسی خیر۔۔ کسی بھلائی کی امید نہیں رکھی جا سکتی۔۔
اب تو انہیں اندازہ تھا کہ وہ ان کے اس عمل پر بہت برا ری ایکٹ کر سکتا ہے۔۔۔!!
وہ جہاں اس سے خوفزدہ تھے۔۔ وہیں۔۔ اس کے ردعمل کا سامنا کرنے کے لیے بھی خود کو تیار کررہے تھے۔۔
آمنہ، نداحل کو ڈرائنگ روم تک لائی۔۔۔
وہ بھی اس فیصلے پر بہت ناخوش۔۔ اور بہت دکھی تھی۔۔ آخر وہ بھی تو نداحل کو اس گھر سے دور بھیجنا چاہتی تھی۔۔
منیب اور نداحل ایک دوسرے کے ساتھ ہی بیٹھے تھے،
منیب نظریں جھکائے۔۔ چہرے پر ایک ناگواری سجائے۔۔ بہت اکتایا ہوا سا بیٹھا تھا۔۔ آخر اس نے کب سوچا تھا کہ اسے کسی سے ایسے شادی کرنا پڑے گی۔۔!!
اور نداحل۔۔ وہ تو جیسے تیسے اپنے سبھی آنسو پی چکی تھی۔۔ پر درد۔۔ درد تو اسے ابھی بھی ہورہا تھا۔۔
وہ اس وقت بہت ڈیپریسڈ تھی۔۔ اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ اس کے ساتھ ایسا کچھ ہوگا۔۔
اس کا دماغ تھا۔۔ کہ پھٹنے کو تیار تھا۔۔!!
پر اس کی ، خود کو قابو کرنے کی کوشش جاری تھی۔۔
مولوی صاحب نے وہاں بیٹھے، سبھی نفوس سے، نکاح شروع کرانے کی اجازت طلب کی۔۔ اور نکاح پڑھانا شروع کیا۔۔
ابھی منیب نے پہلی بار ہی “قبول ہے” بولا تھا کہ وہ شیطان۔۔ یعنی ملک عمیر آ ٹپکا۔۔
باہر کھڑے واچ مین کو اندر ہوتی کارروائی کی کوئی خبر نہیں تھی۔۔ اس لیے اس نے بھی اندر آنے سے نہیں روکا۔۔
کیونکہ شاہ میر جس وقت مولوی صاحب کو لایا تھا۔۔ اس وقت واچ مین گیٹ پر نہیں تھا۔۔ وہ کسی کام سے اپنے کوارٹر گیا تھا۔۔ اور گھر والوں میں سے بھی کسی کو خیال نہیں آیا کہ وہ اسے ، ملک عمیر کو گیٹ پر روکنے کی ہدایات دے دیتے۔۔۔!!
اب، ان کی اتنی سی لاپرواہی کا نتیجہ ان سب کے سامنے تھا۔۔
اس وقت وہ۔۔ نداحل کی مہندی کا سامان یعنی، ڈریس،شوز،جیولری وغیرہ دینے آیا تھا۔
اور ڈرائنگ روم کا منظر دیکھ کر۔۔ اسے بھرپور طیش آیا۔۔
وہ اندھا اور بےعقل تو تھا نہیں۔۔ اس لیے لمحہ لگائے بغیر۔۔ وہ پورا معاملہ ، بہت اچھے سے سمجھ گیا۔
“اوہ۔۔ تو یہاں نکاح پڑھوایا جا رہا ہے۔۔!” اس نے زہرخند مسکراہٹ کے ساتھ۔۔ سب کو کھا جانے والی نظروں سے گھورا۔۔
اور آگے بڑھ کر۔۔ ایک جھٹکے سے۔۔ منیب کو گریبان سے پکڑ کر صوفے سے اٹھایا۔۔ سائیڈ پہ کیا۔۔ اور خود بڑے ٹھاٹھ سے۔۔ وہاں بیٹھا۔۔
“مولوی صاحب نکاح ، دوبارہ شروع کریں۔۔ اصلی دولہا میں ہوں۔۔ ملک عمیر ولد ملک سبحان۔۔ چلیں شروع کریں نکاح۔۔” اس کے لہجے کی سختی۔۔ رعب اور دبدبہ۔۔ ہر کسی کو دہلا گیا۔۔
وہ اب اپنی اصلی حالت میں۔۔ بغیر کوئی ڈرامہ رچائے۔۔ سب کے سامنے تھا۔۔
اس کے تیور دیکھ کر۔۔ منیب کے تو ویسے ہی ہاتھ پاؤں پھول گئے۔۔ وہ تو بالکل میدان چھوڑ کر بھاگنے والوں جیسا ہوگیا۔۔
باقی تقی کو عمیر کی اس حرکت پر تاؤ آیا تھا۔۔
“یہ کیا بدتمیزی ہے۔۔ دیکھ نہیں رہے۔۔ کس کس کا نکاح ہو رہا ہے۔۔ تم دولہا بن کر کہاں گھس رہے ہو۔۔” تقی نے بھی اسی طرح گریبان سے پکڑ کر اسے اٹھایا۔۔
عمیر بھلے ہی جتنا بڑا ڈون ہو۔۔!! پر تقی۔۔ جسمانی طاقت کے لحاظ سے اس سے بڑھ کر تھا۔۔۔
عمیر کو تقی کی اس حرکت پر بہت غصہ آیا۔۔
اس نے بھی جوابی کارروائی کی۔۔
اور اسی انداز میں اسے گریبان سے جکڑ کر۔۔ بری طرح دھاڑا۔۔
“بدتمیزی میں کر رہا ہوں یا تم لوگوں نے کی۔۔!!
اس لڑکی کا نکاح تو کل مجھ سے ہونے والا تھا ناں۔۔
پھر اب تم لوگ۔۔نداحل کو اس چھچھوندر کے ساتھ بٹھا کر کون سا وظیفہ کروا رہے تھے۔۔”
اس نے اپنی بات مکمل ہی کی تھی کہ شاہ میر اور نداحل کے پاپا نے آگے بڑھ کر ان دونوں کو ایک دوسرے سے دور کیا۔۔
“بیٹا۔۔ ٹھنڈے ہو جاؤ۔۔ بیٹھ کر بات کرتے ہیں۔۔” جاوید صاحب ملتجی ہوئے۔
“نہیں انکل۔۔ بیٹھ کر کوئی بات نہیں ہوگی۔۔!!
میں آپ کی بیٹی سے نکاح کروں گا۔۔!!
اور وہ بھی ابھی اور اسی وقت۔۔!!
سمجھے آپ۔۔!!” وہ بہت بدلحاظ ہوکر چیخا تھا۔۔
“نہیں لڑکے۔۔!! ہم کسی صورت۔۔ اپنی بچی کی شادی تم سے نہیں کروا سکتے۔۔!!” تقی کے والد نے اس کے تیوروں سے بالکل۔۔ کوئی خوف نہیں کھایا۔۔۔
“کیوں نہیں کرا سکتے۔۔؟؟۔ کیا کیا ہے میں نے۔۔؟؟؟” وہ اور بھی بگڑ کر بولا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  سات پریوں کی کہانی از زاہد حسن

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: