Kisi Aur Ka Hun Filhal Novel By Suhaira Awais – Episode 2

0
کسی اور کا ہوں فی الحال از سہیرا اویس – قسط نمبر 2

–**–**–

اور قیامت تو یہ تھی کہ وہ ۔۔۔ اپنے ہی حال دل سے آشنا نہیں تھی۔۔
ایک ہفتے کے اندر اندر شفٹنگ کا کام مکمل ہوا۔
نداحل کبھی بھی اپنی زندگی میں اتنی خوش نہیں ہوئی جتنی کہ آج کل رہنے لگی تھی،
دن میں ہر وقت ہر لمحہ تقی کے خیالات اسے سرشار کیے رکھتے تھے،
آج کل وہ فری تھی سو کرنے کے لیے کوئی خاص کام نہیں ہوتا تھا،
اس لیے اس نے تقی کی سوچوں کو اپنا قبلہ بنایا ہوا تھا۔
جب تقی اپنی جاب سے واپس گھر آتا تو، نداحل کی خوشی دیدنی ہوتی تھی،
وہ ہر وقت اس کے آگے پیچھے گھومتی اور اس کا ہر کام دل و جان سے کرتی،
تقی کی خاطر تو اس نے ، اس کی ساری فیورٹ ڈشز بھی بنانا سیکھ لی تھیں،
ایک اور عجیب معاملہ تھا کہ نداحل تقی کی بیوی سے بالکل جیلس نہیں ہوتی تھی۔۔
بلکہ اس کی اور آمنہ کی آپس میں بہت اچھی دوستی بھی ہوچکی تھی،
اور امامہ۔۔وہ تو نداحل کی جان بن چکی تھی۔۔
نداحل کا خیال تھا کہ وہ صرف تقی کی اچھی نیچر اور حسن اخلاق کی وجہ سے اس سے متاثر ہے۔۔ اس لیے اس نے اپنے دل و دماغ میں۔۔ تقی سے اپنی جذباتی وابستگی کے متعلق گہرائی سے نہیں سوچا۔۔
وہ تقی بھائی! تقی بھائی! کہتے کہتے ہی ، غیر ارادی طور پر اندر سے خود میں اس کے لیے کوئی اور ہی جذبے پالنے لگی تھی،
اس کے دن بہت آرام و سکون سے گزر رہے تھے کہ اس کی چھٹیاں ختم ہوئیں،
تقی نے اس کا ایڈمیشن اسی یونیورسٹی میں کروایا جہاں وہ سینیر پروفیسر کے طور پر اپنے تدریسی فرائض انجام دے رہا تھا۔
تقی کا وہ حد سے زیادہ caring اور سویٹ behavior نداحل کو بار بار اپنی طرف مائل کرتا تھا۔
نداحل کے لیے تو سونے پر سہاگہ ہوگیا تھا کہ اس کی پک اینڈ ڈراپ کی ذمے داری، تایا نے تقی کو سونپی تھی،
اور اگر تایا نہ بھی سونپتے تو وہ خود اتنے اچھے دل کا مالک تھا کہ اپنے ہوتے ہوئے،نداحل کی زمہ داری کسی اور کو نہ سونپتا۔
بہر حال، نداحل صبح جلدی سے ہی اٹھ کر بیٹھ جاتی تھی اور جب سے اس کی یونیورسٹی کی کلاسز شروع ہوئیں تھیں ۔۔۔ اس نے ایک دن بھی تقی کے ساتھ ناشتہ miss نہیں کیا تھا،
اسے ایک ہفتہ ہی ہوا تھا یونیورسٹی آتے ہوئے۔۔
اس عرصے میں اس نے اپنی بہت اچھی سہیلیاں بھی بنا لی تھیں،
عائشہ اور مہرین۔۔
باقی سب تو ٹھیک تھا۔۔
اور وہ دونوں لڑکیاں اچھی بھی بہت تھیں۔۔
لیکن ان دونوں لڑکیوں میں ایک بری عادت تھی کہ وہ ہمیشہ فارغ وقت میں بیٹھ کر یونیورسٹی میں موجود کپلز کے متعلق محو گفتگو رہتی تھیں۔۔
ہر وقت بیہودہ bf,gf ، پیار محبت اور اس قسم کی فضول گفتگو نے نداحل کی شخصیت پر بھی اثر ڈالا تھا۔۔
اب اس کی سوچ بدلنے لگی تھی۔۔
وہ تقی کے لیے اپنے دل کی زمین میں دفن جذبات پر سے مٹی کھرچنے لگی تھی،
اس کی بدلتی سوچ کے ساتھ، اسے اپنے اندر چھپے راز معلوم ہونے لگے۔۔
آہستہ آہستہ۔۔ اس کا سکون بے چینی میں بدل گیا۔۔
ہر وقت کے اضطراب نے اسے بے بس کر کے رکھ دیا تھا،
اور اس کی بڑھتی حیرت کے لیے اتنا کافی تھا کہ اس پر، تقی کی محبت کا راز کھل چکا تھا،
وہ رات کو۔۔اپنے کمرے میں، بلینکٹ میں دبک کر لیٹی تھی۔۔اور حسب معمول تقی اس کے حواسوں پر قابض تھا۔۔
ایسا پہلی مرتبہ ہوا تھا کہ اسے تقی کے متعلق سوچتے ہوئے۔۔ خوف آرہا تھا۔۔
وہ اپنے آپ سے بھی ڈرنے لگی تھی۔۔
اس کے دل کی جسارت نے اس کا سکون غارت کر دیا تھا۔
اف اللّٰه۔۔وہ تقی سے محبت کرنے لگی تھی۔۔!!
یہ احساس اسے کھل کر سانس بھی نہیں لینے دے رہا تھا۔
وہ اپنے آپ سے بہت شرمندہ تھی،
تقی اسے بہن مانتا تھا اور وہ اسے کچھ اور ہی مان چکی تھی۔۔
اس نے اپنے خیالات کو لاکھ جھٹکنا چاہا۔۔
اس نے اپنے آپ کو جھوٹے دلاسے دینا چاہے کہ وہ اس سے محبت نہیں کرتی۔۔
پر دلاسے جھوٹے تھے۔۔ وہ کب اسے بہلا سکتے تھے۔۔
اسے بے تحاشہ رونا آیا کہ وہ کس بندے کو دل دے بیٹھی تھی۔۔!!
ایسا شخص جو عمر میں اس سے چودہ سال بڑا تھا۔۔
ایسا شخص کو شادی شدہ تھا اور اپنی بیوی سے بے انتہا محبت کرتا تھا۔۔
ایسا شخص جس کی ایک عدد بیٹی بھی تھی۔۔
بھلا وہ کس امید ۔۔ کس یقین ۔۔ کس گمان کے تحت اس کے حصول کی خواہش کرتی۔۔
اس کی مشکل بڑھتی جا رہی تھی۔۔
اس کی الجھنوں میں اضافہ ہورہا تھا۔۔
وہ یوں ہی مضطرب سی۔۔اپنے خیالوں۔۔ اپنی سوچوں سے جنگ لڑتے لڑتے گہری نیند میں چلی گئی۔۔
پر یہ نیند اسے بہت دیر سے آئی تھی۔۔
آج وہ صبح اٹھی تو اس کا سر بھاری ہورہا تھا۔
اب تک کے عرصے میں پہلی مرتبہ اس نے تقی کے ساتھ ناشتہ نہیں کیا تھا۔۔
آج اس نے یونیورسٹی تک کے راستے میں بھی اس سے کوئی بات نہیں کی تھی۔۔
اس کے اندر ایک احساس جرم پیدا ہوگیا تھا۔۔
وہ اپنے دل کی بات کسی سے شئیر کرنا چاہتی تھی،
وہ اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرنا چاہتی تھی۔۔
اس کے لیے اسے بس یونیورسٹی پہنچنا تھا۔۔
اور جلد از جلد پہنچنا تھا۔۔
اسے اپنی تمام روداد اپنی سہیلیوں کو سنانی تھی۔۔
وہ ابھی اپنے خیالوں میں گم تھی کی تقی کی آواز نے اسے اس کی یہاں وہاں بھٹکتی سوچوں کے چکر سے باہر نکالا۔۔
“نداحل۔۔کوئی پریشانی ہے کیا؟؟” تقی اس کی بے چینی بھانپ گیا تھا۔۔
“ن ن نہیں تو۔۔” نداحل نے کار کی ونڈو کی طرف چہرہ کیے ٹوٹا پھوٹا سا انکار کیا۔۔
نوبت یہاں تک آگئی تھی کہ اس کا تقی سے نظریں ملانا محال ہوگیا تھا۔۔
ابھی تو تقی اس کے حال دل سے واقف نہیں تھا تو تب یہ حال تھا۔۔
تقی کو اس کا ، اس کی طرف دیکھنے سے احتراز برتنا کھٹک رہا تھا۔۔
“تو پھر کیا بات ہے۔۔؟؟ مجھ سے ناراض ہو؟؟ میری کوئی بات بری لگی ہے کیا۔۔؟؟” تقی نے پریشانی سے پوچھا،
نداحل کا کوئی جواب نہ پا کر وہ پھر سے بولا “اگر ایسا ہے تو میں اپنی گڑیا کے سامنے فوراً کان پکڑ کر معافی مانگنے کو تیار ہوں۔۔”
نداحل تھی کہ شرمندہ پہ شرمندہ ہوئی جا رہی تھی۔۔
“نہیں تقی بھائی ایسی تو کوئی بات نہیں۔۔ میں نے بھلا آپ سے کیوں ناراض ہونا ہے۔۔!! اور میں تو کیا۔۔آپ سے تو کوئی بھی ناراض نہیں ہوسکتا۔۔ آخر اتنے سویٹ جو ہیں آپ۔۔” نداحل نے دل کو قابو کر کے۔۔ خود کو کمپوز کرتے ہوئے ۔۔ خوش دلی سے کہنا چاہا۔
پہلی دفع ۔۔!! تقی کے لیے “بھائی” کا لاحقہ بہت مشکل سے اس کے حلق سے برآمد ہوا تھا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: