Kisi Aur Ka Hun Filhal Novel By Suhaira Awais – Episode 3

0
کسی اور کا ہوں فی الحال از سہیرا اویس – قسط نمبر 3

–**–**–

پہلی دفع ۔۔!! تقی کے لیے “بھائی” کا لاحقہ بہت مشکل سے اس کے حلق سے برآمد ہوا تھا۔
شکر تھا کہ وہ لوگ یونیورسٹی پہنچ گئے تھے اور وہ مزید سوالات سے بچ گئی تھی،
تقی کو بھی کوئی ضروری کام یاد آیا تھا اس لیے اس نے بھی نداحل کو آڑے ہاتھوں لینے کا ارادہ ترک کردیا، اور اسے خاموشی سے جانے دیا،
نداحل یونیورسٹی پہنچتے ہی ادھر ادھر نظریں دوڑاتی عائشہ اور مہرین کو ڈھونڈنے لگی۔۔
پر وہ اسے وہاں کیسے نظر آتیں۔۔ کیوں کہ وہ تو ہمیشہ لیٹ آتی تھی،
خیر بیس منٹ انتظار کے بعد جب وہ دونوں اسے سامنے سے آتی نظر آئیں تو اس نے انہیں ریسیو کر کے محض سلام دعا کی۔۔ کیوں کہ کلاس کا ٹائم ہوچکا
تھا،
لیکچر کے دوران بھی وہ غائب دماغ رہی،
وہ نہ concentrate کر پارہی تھی نہ اس کا دھیان لگ رہا تھا۔۔
ایک عجیب پریشانی۔۔ عجیب خوف اور عجیب سا بوجھ محسوس ہورہا تھا اسے خود پر،
اللّٰه اللّٰه کر کے لیکچرز گزرے اور وہ لوگ فری ہوئے ہوئے تو وہ جلدی سے اپنی دونوں دوستوں کے ساتھ کیفے ٹیریا کی طرف گئی۔۔
عائشہ اور مہرین کو بھی اس کے رویے میں تبدیلی نظر آرہی تھی،
“کچھ عجیب سا نہیں ایکٹ کر رہی تم آج؟؟ آئی مین۔۔کوئی مسئلہ ہے تو ڈسکس کرو۔۔ شاید ہم تمہاری کچھ ہیلپ کر سکیں،” عائشہ نے اس کے چہرے کا اضطراب بھانپتے ہوئے بات شروع کی۔۔
نداحل خاموشی سے نظریں جھکائے۔۔ ٹیبل پر رکھے۔۔اپنے ہاتھوں کی ہتھیلیوں کو گھور رہی تھی،
اسے سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کہ کیا جواب دے۔۔
“یار اب تو مجھے ٹینشن ہورہی ہے۔۔!! پکا کوئی مسئلہ ہے تمہارے ساتھ۔۔ بتاؤ تو سہی۔۔ جب تک کچھ بتاؤ گی نہیں تب تک ہمیں تمہاری پرابلم کیسے پتہ چلے گی۔۔ ہاں۔۔بولو؟؟” مہرین نے اسے ایسے خاموش پا کر پریشانی سے پوچھا،
نداحل کو بھی اپنے دل کا بوجھ تو ہلکا کرنا ہی تھا۔۔
اس لیے اس نے بالآخر اپنی زبان کھولی۔۔۔”یار۔۔مجھے لگتا ہے کہ مجھے۔۔ مجھے محبت ہوگئی ہے۔۔” نداحل کا خوف دیکھنے والا تھا،
اس سے پورا جملہ بھی آرام سے نہیں بولا گیا۔۔
لہجے میں کپکپاہٹ صاف ظاہر تھی۔۔
اس کے برعکس اس کی دوستوں کو خوشگوار حیرت ہوئی۔۔
“تو یار۔۔ اس میں اتنا گھبرانے والی کیا بات ہے۔۔؟؟ محبت ہوئی ہے۔۔!! کسی کا قتل تو نہیں کیا ناں۔۔ جو ایسے گھبرا رہی ہو!! ” عائشہ نے ہنستے ہوئے کہا،
اسے نداحل کی situation پر ہنسی آ رہی تھی،
وہ اسے بے وقوف سمجھ رہی تھیں۔۔
پر انہیں نداحل کی تکلیف کا کب اندازہ تھا۔۔!!
“تم پوچھو گی نہیں کس سے ہوئی ہے۔۔؟؟” نداحل کا لہجہ بہت شکستہ ، بہت ہارا ہوا تھا۔۔
“ہاں یار بتاؤ۔۔” مہرین ذرا آگے کو جھک کر، اپنا پورا انہماکshow کررہی تھی،
“تقی بھائی سے۔۔” نداحل جانتی تھی۔۔کہ وہ یہ بات کیسے اپنی زبان تک لائی۔۔!
اب حیرت کا جھٹکا تو اس کی دوستوں بھی لگا تھا۔۔
پر انہیں تو ایسی چٹپٹی لو اسٹوریز کا پہلے سے ہی اتنا شوق تھا کہ وہ نداحل کو کوئی اچھا اور ستھرا مشورہ دینے کی بجائے اسے بہکانے لگیں۔۔
انہیں چاہیے تھا، اسے سمجاتیں کہ اپنے جذبات پر بند باندھے۔۔ نہیں تو اس کے لیے بہت مشکل ہو جائے گی،
پر وہ دونوں تھیں الٹی کھوپڑیاں۔۔!!
اب ذرا انکے مشورے پڑھیں۔۔
“یار کوئی نہیں۔۔اس میں اتنی ٹینشن لینے والی کونسی بات ہے۔۔ محبت ہوگئی تو ہوگئی۔۔ اب خود کو اسٹرانگ کرو۔۔اور جا کر انہیں بتادو۔۔” یہ عائشہ صاحبہ کے الفاظ تھے۔۔
نداحل نے تو حیرت سے آنکھیں پھاڑ کر انہیں دیکھا۔۔
“یار۔۔یہ کیا بک رہی ہو۔۔؟؟ تمہیں پتہ بھی ہے کہ وہ میرڈ ہیں۔۔بچی کے باپ ہیں۔۔اور مجھ سے عمر میں پورے چودہ سال بڑے ہیں۔۔ مجھے بہن سمجھتے ہیں۔۔میں کیسے انہیں یہ سب کہوں گی۔۔!!” اس کے مشورے پر۔۔نداحل کا تو پارا ہائی ہوگیا تھا۔۔!!
“Calm down girl!!
ایک تو تمہیں تمہاری پریشانی کا حل بتارہی ہے وہ اور اوپر سے تم اسی پر بھڑک رہی ہو۔۔!!
کچھ تو لحاظ کرو۔۔!!
اور یہ ساری باتیں جو تم اب گنوا رہی ہو۔۔
یہ اس وقت نہیں سوچیں جب تم اپنا دل ہارنے لگی تھیں۔۔ہاں؟؟” مہرین بھی گویا، عائشہ کی بات سے متفق تھی۔۔
“جو بھی ہو۔۔ میں تقی بھائی سے ایسا ویسا کچھ نہیں کہوں گی۔۔” نداحل نے دو ٹوک جواب دیا،
ایسی لڑکیوں کو کوئی پرواہ نہیں ہوتی کہ زندگی میں ان فضول محبتوں کے علاوہ بھی بہت سے مسائل ہوتے ہیں۔۔ زندگی کے حقائق ہوتے ہیں۔۔ ہمارا ،ہم سے منسلک لوگوں کے ساتھ رشتہ کس نوعیت کا اور کس حد تک نازک ہو سکتا ہے۔۔!! ان باتوں کی یہ مہرین اور عائشہ جیسی لڑکیوں کو۔۔بھلا کیا سمجھ!!
نداحل کا بوجھ ہلکا ہونے کے بجائے مزید بڑھ گیا تھا۔۔
وہ پر سکون ہونے کی بجائے مزید مضطرب ہو گئی تھی۔۔!!
“مت کہو کچھ بھی۔۔ ساری زندگی تڑپتی رہنا اسے اس کی بیوی کے ساتھ دیکھ دیکھ کر۔۔!!
جانی۔۔!! اب اس پر تمہارا حق ہے۔۔ تم چاہنے لگی ہو اس کو۔۔
اور دیکھو۔۔ اس کا میرڈ ہونا۔۔ بچی کا پاپ ہونا، تم سے ایج میں بڑا ہونا۔۔ یہ سب چیزیں محبت کے آگے matter نہیں کرتیں۔۔” مہرین نے اپنی طرف سے ، بھرپور مخلصانہ suggestion دی،
“ہاں۔۔یار۔۔ تم موقع ملتے ہی تقی کو پروپوز کردو۔۔ بول دو کہ تمہیں اس سے شادی کرنی ہے۔۔ اور تمہیں اس کی کسی چیز سے مسئلہ نہیں۔۔ تمہیں صرف اس کا ساتھ چاہیے۔۔” عائشہ بھی فکرمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے، اپنی صلاح پیش کی۔۔!!
“حد ہے۔۔!! فضول گوئی کی بھی۔۔!! یہ سب باتیں تو میں نے بھی نہیں سوچیں۔۔جا رہی ہوں میں تم لوگوں کے پاس سے۔۔!! میری غلطی تھی کہ میں نے تم لوگوں سے کسی اچھی تجویز کی توقع کی۔۔!!” وہ یہ کہتی ان کے پاس سے اٹھ کر چلی گئی۔۔
یونیورسٹی سے واپسی پر اس نے خود کو نارمل رکھنے کی کوشش کی۔۔ تاکہ تقی پھر سے کوئی سوال نہ کرے۔۔!!
ایک ہفتہ گزر چکا تھا۔۔ اسے ایسے خود سے جنگ لڑتے لڑتے۔۔
اور اوپر سے اس کی دوستوں کی ریگولرbasis ہر برین واشنگ۔۔!!
اس کا تذبذب۔۔ اس کی بدحواسی بڑھتی جا رہی تھی۔۔!!
اب تو اسے اپنی دونوں دوستوں کی باتیں بھی معقول لگنے لگی تھیں۔۔
اس کی ہر دم بڑھتی بے کلی۔۔ عائشہ اور مہرین کے سنجیدہ مگر بھونڈے مشورے۔۔۔!! اس سب نے نداحل کو وہ کہنے پر مجبور کر دیا جو وہ کبھی کہنا نہیں چاہتی تھی۔۔!!
آج اسے موقع مل گیا تھا۔۔
گھر والے کسی شادی کی تقریب میں گئے ہوئے تھے،
تقی کے دونوں بھائی بھی گھر پر نہیں تھے۔۔
اور آمنہ وہ امامہ کو سلانے گئی تھی۔۔
تقی لاؤنج میں بیٹھا تھا۔۔
اس نے اپنے روم میں ہی بیٹھے بیٹھے۔۔ تقی کو واٹس ایپ پر ٹیکسٹ کیا۔۔” میں نے آپ سے ایک ضروری بات کرنی ہے ۔۔”
تقی۔۔ سدا کا معصوم۔۔ اسے تو پہلے ہی اندازہ تھا کہ نداحل کے ساتھ کوئی مسئلہ چل رہا ہے۔۔ پر وہ انتظار میں تھا کہ وہ اس سے اپنی بات، کب شئیر کر گی۔۔!!
اس نے ٹیکسٹ کا جواب دینے کی بھی دیر نہیں کی۔۔
تقی جانتا تھا کہ اس وقت وہ اپنے روم میں ہوگی۔۔ اس لیے۔۔ وہ اٹھ کر سیدھا اس کے روم کی جانب بڑھ گیا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Yaaram by Sumaira Hameed – Episode 6

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: